Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر141نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ ششم}

(حربِ فجار:حصہ دوم)

1980ء میں جب طائف کی زیارت کا شرف نصیب ہوا تو میں اپنے احباب کے ہمراہ عکاظ بھی گیا۔ یہ ایک وسیع و عریض میدان ہے۔ جہاں اس وقت اگرچہ کوئی آبادی نہیں لیکن مکانوں کی بنیادیں اب بھی موجود ہیں۔ اس کی ایک جانب ایک پہاڑی ٹیلہ ہے۔ وہاں بھی ایک عمارت کے کھنڈر تھے بتایا گیا کہ یہاں ان کی ادبی محفل منعقد ہوتی تھی۔ میرے لئے اس میں دلچسپی کی یہ چیز تھی کہ یہی وہ میدان ہے جہاں اللہ تعالیٰ کا محبوبﷺ اپنے خالق اور مالک کی توحید کی دعوت دینے کے لئے تشریف لایا کرتا تھا۔ اور جب یہ صدائے حق بلند ہوتی تھی تو چاروں طرف سے طعن و تشنیع کے تیروں کی بارش برسنے لگتی تھی لیکن حبیب کبریاءﷺ ہر چیز سے بے نیاز اپنے فریضہ نبوت کو ادا کرنے میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے وہ جھاڑیاں ، وہ پگڈنڈیاں، وہ گری ہوئی دیواریں اس ماضی کے دھندلے نقوش کو تازہ کرنے کا باعث بنی تھیں۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 142نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ ہفتم)

(حربِ فجار:حصہ سوم :آخری حصہ)

حربِ فجار کی وجہ تسمیہ: شیخ محمد ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
“اَلۡفِجَارُ، مَصۡدَرُ فَاجَرَ فَمَصْدَرُ مَفَاعَلَۃً فِعَالًا اَوْ مُفَاعَلَةَ كَقِتَالٍ اَوْ مُقَاتَلَةٍ وَنِقَاشٍ وَمُنَاقِشَةٍ وَالْفِجَارُ مَعْنَاهُ تَبَادُلُ الْفُجُوۡرِ”
ترجمہ:فجار ، فاجر کا مصدر ہے اور باب مفاعلہ کا مصدر فعال اور مفاعلہ کے وزن پر آتا ہے جیسے قاتل کا مصدر قتال و مقاتلہ اور ناقش کا مصدر نقاش و مناقشہ ہے۔ فجار کا معنی ہے دو فریقوں کا فجور کا ارتکاب کرنا۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ ، جلد اول، صفحہ 149 )

اس جنگ کو حربِ فجار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جنگ کے دونوں فریقوں نے ان مہینوں میں ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کی جن میں جنگ کرنا عہدِ جاہلیت میں بھی حرام سمجھا جاتا تھا۔ یہ شریعت ابراہیمی کا ایک حکم تھا۔ جس پر عرب معاشرہ میں اس وقت بھی سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ حرمت والے مہینے یہ تھے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 143نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ ہشتم)

(حلف الفضول: حصہ اول)

جزیرہ عرب میں کوئی منظم حکومت نہ تھی نہ وہاں با قاعدہ عدالتیں تھیں تاکہ مظلوم داد رسی کے لئے ان کا دروازہ کھٹکھٹا سکے ۔ سارا عرب معاشرہ قبائلی نظام میں جکڑا ہوا تھا۔ اگر کسی قبیلے کا کوئی فرد دوسرے قبیلے کے کسی فرد کو قتل کر دیتا تو مقتول کا قبیلہ صرف اس قاتل سے باز پرس نہ کرتا بلکہ قاتل کے سارے قبیلہ کو اپنے انتقام کا ہدف بناتا لیکن کمزور قبائل کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ طاقتور قبیلہ سے اپنے مقتول کا بدلہ لے سکیں اسی طرح اگر کوئی مسافر کسی شہر میں آ جاتا اور اس شہر کا کوئی باشندہ اس پر ظلم اور زیادتی کرتا تو اس کی فریاد سننے والا وہاں کوئی نہ ہوتا۔ مکہ مکرمہ میں قریش کے دس قبائل آباد تھے جو دیگر عربی قبائل کے مقابلہ میں ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ اگر کوئی عربی قبیلہ کسی ایک قریشی قبیلہ پر حملہ کرتا تو سارے قریشی قبائل اس قبیلہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر حملہ آور قبیلہ کا مقابلہ کرتے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 144نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ نہم)

(حلف الفضول :حصہ دوم آخری حصہ)

یہ معاہدہ مدتوں نافذ العمل رہا۔ جب کسی مظلوم نے اس معاہدہ کا واسطہ دے کر فریاد کی تو لوگ بے تامل تلواریں بے نیام کئے اس فریادی کی مدد کے لئے دوڑ کر آئے۔ رومانیہ کے وزیر خارجہ “کونستانس جیور جیو” نے حضورﷺ کی سیرت طیبہ پر ایک کتاب لکھی۔ ہے جس کا نام ہے “نظرة جديدة فی سيرة رسول اللہﷺ ” جس کا عربی ترجمہ پروفیسر ڈاکٹر محمد التونجی نے کیا ہے جو حلب یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ اس میں مصنف مذکور نے حلف الفضول کے بارے میں اپنی تحقیقات کا اضافہ کیا ہے۔ اِس سے اُس حلف کو ایک منظم اور طاقتور بنانے میں سرکار دو عالم ﷺ کی مساعی جمیلہ پر روشنی پڑتی ہے اس لئے ہم اس کتاب کے حوالے سے چند چیزیں ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔ وہ حلف الفضول کے عنوان کے ضمن میں ہی ہیں۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 145نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ دہم)

(شام کی طرف دوسرا سفر :حصہ اول)

جزیرہ عرب کا بیشتر حصہ لق و دق صحراؤں اور خشک پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ اس زمانہ میں یہاں کے باشندے بھیڑ بکریوں کے ریوڑ چرا کر گزر اوقات کیا کرتے تھے جہاں کہیں پانی دستیاب ہوتا وہاں چھوٹے چھوٹے نخلستان اور تھوڑی بہت کھیتی باڑی ہو جاتی ۔ البتہ اہل مکہ تجارت پیشہ تھے۔ مشرق اور مشرق بعید کے ممالک سے درآمد کی ہوئی اجناس گرم مصالحہ اور مصنوعات باد بانی کشتیوں کے ذریعے یمن کی بندر گاہوں تک پہنچتیں۔ یہاں مکہ کے قریشی تاجر ان کو خرید لیتے اور اپنے اونٹوں پر لاد کر بحیرہ روم کی بندر گاہوں اور شام کے شہروں تک لے جاتے وہاں انہیں فروخت کرتے اور یہاں سے مغربی ممالک سے درآمد شدہ اشیاء خرید کر یمن کی بندر گاہوں اور شہروں تک پہنچاتے جو لوگ سرمایہ کی کمی کے باعث تجارت کی سکت نہ رکھتے وہ اپنے اونٹوں کے ذریعہ مال برداری کر کے کافی اجرت کما لیتے۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 146 نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ گیارہواں آخری حصہ)

(شام کی طرف دوسرا سفر :حصہ اول)

چند روز کی کٹھن مسافت طے کرنے کے بعد قافلہ شام کے شہر بصریٰ میں جا اترا۔ اور ایک خانقاہ کے قریب ایک سایہ دار درخت کے نیچے پڑاؤ کیا۔ حضورﷺ اپنے پہلے سفر شام میں بھی بصریٰ آئے تھے اور اسی صومعہ ( خانقاہ ) کے قریب قیام کیا تھا۔ اور یہاں ایک راہب سے ملاقات بھی ہوئی تھی جسکا نام بحیرہ تھا۔ اور موجودہ راہب جس سے ملاقات ہوئی یہ دوسرا شخص تھا جس کا نام “نسطورا ” تھا۔ دونوں سفروں کے درمیان میں تیرہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ حضورﷺ کی عمر مبارک اُس وقت بارہ سال اور اب پچیس سال تھی۔ ممکن ہے اس اثنا میں پہلا راہب فوت ہو گیا ہو۔ اور یہ بھی بعید نہیں کہ وہ یہاں سے نقل مکانی کر کے کسی دوسری خانقاہ میں چلا گیا ہو۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 147(نبی کریمﷺ کی ازدواجی زندگی کا آغاز : حصہ دوم آخری حصہ)

(حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح :حصہ دوم آخری حصہ)

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے حضورﷺ کے نکاح کا واقعہ معتبر کتب سیرت و تاریخ کے حوالہ سے ہم بیان کر چکے ہیں وہاں یہ وضاحت سے بتا دیا گیا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمرو بن اسد نے ان کی طرف سے وکالت کا فریضہ انجام دیا۔ کیونکہ ان کے والد خویلد ، حرب فجار سے بھی پہلے وفات پا چکے تھے۔ لیکن ابن اسحاق رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ وہ زندہ تھے۔ نکاح کی تقریب سے پہلے انہیں شراب پلا دی گئی۔ وہ مدہوش ہو گئے اس حالت میں ان سے نکاح کی اجازت لی گئی نکاح کے بعد انہیں نیا لباس پہنایا گیا اور کستوری لگائی گئی۔ جب انہیں ہوش آیا تو پوچھا۔
“مَا هٰذَا الْعَقِيْرُ وَمَا هٰذَا الْعَبِيْرُ وَمَا هٰذَا الْخَبِيْرُ، قَالَتْ زَوَّجْتَنِيْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ﷺ قَالَ مَا فَعَلْتُ اَنّٰى اَفْعَلُ قَدْ خَطَبَكِ اَكَابِرُ قُرَيْشٍ فَلَمْ اَفْعَلْ”

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 148نبی کریمﷺکی ازدواجی زندگی کا آغاز: حصہ اول)

(حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح :حصہ اول)

اس سے پیشتر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی دو مرتبہ شادی ہو چکی تھی۔ اور آپ رضی اللہ عنہا کے دونوں شوہر فوت ہو گئے تھے۔ ان سے آپ رضی اللہ عنہا کی اولاد بھی تھی۔ اس کے بعد بڑے بڑے امراء اور رؤسا نے کوشش کی کہ وہ انہیں رشتہ ازدواج میں قبول کریں لیکن حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کسی کی طرف التفات نہ کیا۔ سرور عالمﷺ کے ظاہری اور باطنی کمالات کو دیکھ کر انہوں نے ایک زیرک اور دور اندیش خاتون کی طرح فیصلہ کیا کہ وہ حضورﷺ سے عقد کریں گی۔ حضورﷺ کی مرضی دریافت کرنے کے لئے اپنی ایک ہم راز سہیلی نفیسہ بنت منیہ کو کہا کہ وہ کسی طرح حضورﷺ کی رائے اس بارے میں معلوم کرے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 149کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو: حصہ اول)

سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمان الہیٰ کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور اپنے شیر خوار شہزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو شام کے لالہ زاروں سے لا کر حجاز کے بے آب و گیاہ ریگستان میں وہاں آ کر چھوڑ دیا جہاں اب حرم کعبہ ہے۔ جب کھجوروں کا تھیلا اور پانی کا مشکیزہ ختم ہو گیا اور بچہ پیاس کی شدت سے تڑپنے لگا تو حضرت ہاجرہ علیہا السلام بے تاب ہو گئیں۔ قریب ہی دو پہاڑیاں تھیں صفا اور مردہ ، کبھی وہ ایک پہاڑی پر چڑھ جاتیں اور کبھی دوسری پر اور وہاں کھڑی ہو کر دور دور تک نگاہ دوڑائیں ۔ شائد کہیں کوئی انسان نظر آ جائے یا کسی انسانی آبادی کا سراغ مل جائے اس اضطراب میں انہوں نے صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے اچانک اپنے بچے کی طرف مڑ کر دیکھا تو ان کی حیرت کی حد نہ رہی کہ قدرت الہیٰ سے وہاں ایک چشمہ ابل پڑا تھا یہ سارے واقعات بڑی تفصیل سے آپ پہلے پڑھ چکے ہیں

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 150کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو: حصہ دوم)

جب قریش نے کعبہ کی اس شکستہ عمارت کو گرا کر نئی عمارت تعمیر کرنے کا عزم مصمم کر لیا تو ان میں سے ایک بزرگ ابو وہب نے کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا: “يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَا تُدْخِلُوۡا فِيۡ بِنَآءِهَا مِنْ كَسْبِكُمۡ اِلَّا طَيِّبًا وَّلَا يُدْخَلُ فِيۡهَا مَهْرُ بَغِيٍّ وَلَا بَيْعُ رِبًا وَلَا مُظْلَمَةُ اَحَدٍ مِّنَ النَّاسِ”
ترجمہ:اے گروہ قریش! کان کھول کر سن لو۔ کعبہ کی تعمیر میں اپنی پاک اور حلال کمائی کے سوا کوئی چیز داخل نہ کرنا۔ کسی بدکارہ کی آمدنی، کوئی سود، کسی آدمی پر ظلم سے حاصل کی ہوئی دولت اس فنڈ میں ہرگز شامل نہ کرنا۔
(السيرة النبویہ ، ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 277 و جملہ کتب سیرت)

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 151کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو: حصہ سوم)

سارے قبائل اپنے اپنے مقررہ حصہ کی تعمیر میں مشغول ہو گئے کام کی رفتار تسلی بخش تھی محبت و پیار کی فضا میں ہر چیز حسن و خوبی سے سر انجام پا رہی تھی۔ لیکن جب حجر اسود رکھنے کا وقت آیا تو اچانک اندھی عصبیت کے سوئے ہوئے فتنے انگڑائی لینے لگے دیوار کعبہ میں حجر اسود نصب کرنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ ہر قبیلہ کی یہ خواہش تھی کہ یہ اعزاز اُسے حاصل ہو دوسرے قبائل اگر خوشی سے اس کے حق میں دستبردار ہونے پر آمادہ نہ ہوں تو وہ بزور شمشیر بھی یہ اعزاز حاصل کر کے رہے گا۔ بنو عبدالدار نے اپنے قبیلہ کے قابل ذکر افراد اور اپنے حلفاء کو مشورہ کے لئے جمع کیا انہوں نے اجتماعی طور پر یہی فیصلہ کیا کہ حجر اسود، دیوار کعبہ میں وہی نصب کریں گے اس عہد و پیمان کو مزید پختہ کرنے کے لئے خون کا بھرا ہوا پیالہ محفل میں لایا گیا انہوں نے اور ان کے حلیفوں نے اس خون میں ہاتھ ڈبو کر اس عہد پر ثابت قدم رہنے کی قسمیں اٹھائیں کہ وہ جان دے دیں گے لیکن کسی دوسرے قبیلہ کو یہ اعزاز حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مسلسل چار پانچ روز تک حالات بڑے کشیدہ رہے ہر لحظہ لڑائی چھڑ جانے کا خطرہ بڑھتا جا رہا تھا 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 152کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو: حصہ چہارم)

یہ عمارت عہد رسالتﷺ اور عہد خلافت راشدہ بلکہ اس کے بعد بھی کچھ عرصہ تک جوں کی توں قائم رہی۔ 64ھ میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا قبضہ حرم مکہ پر مکمل ہو گیا۔ یزید نے اپنا لشکر حصین بن نمیر کی قیادت میں آپ رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لئے مکہ بھیجا اس نے حرم شریف کا محاصرہ کر لیا اور منجنیقوں (توپوں) کے ذریعہ پتھر برسائے اس سنگ باری سے عمارت کعبہ میں جگہ جگہ شگاف پڑ گئے۔ وہ ظالم اللہ کے گھر پر ابھی پتھر برسا رہا تھا کہ یزید کی موت کی اسے اطلاع ملی ۔ اور اسے اپنا محاصرہ اٹھا کر بے نیل مرام (مقصد حاصل کیے بغیر) لوٹنا پڑا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس خستہ عمارت کو گرا کر ان بنیادوں پر کعبہ مقدسہ کی از سر نو تعمیر کی جن پر حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی تھی۔ دو سطح زمین کے برابر رکھے ایک مشرقی سمت دوسرا مغربی سمت میں ایک داخل ہونے کے لئے دوسرا باہر نکلنے کے لئے لیکن حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا اقتدار زیادہ عرصہ برقرار نہ رہا۔ حجاج نے مکہ پر حملہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ حجاج کو مکہ کا گورنر مقرر کیا گیا اس نے اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کو کعبہ کی تعمیر کے بارے میں لکھا 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 153کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو : حصہ پنجم)

یہ قافلہ جب اپنے وطن واپس پہنچا انہوں نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد کو حضرت زید رضی اللہ عنہ کا پیغام پہنچایا حارثہ اپنے بھائی کعب کو لے کر مکہ آیا حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا اور عرض کی اے عبدالمطلب کے فرزند ! اے ہاشم کے نور نظر اے اپنی قوم کے سردار کے لخت جگر ۔ ہم اپنے بیٹے کے بارے میں آپﷺ کے پاس حاضر ہوئے ہیں ہم پر احسان کیجئے ہم فدیہ ادا کرنے کے لئے تیار ہیں آپﷺ اسے آزاد فرما دیجئے۔ حضور ﷺ نے اپنے من موہنے انداز میں فرمایا کہ اس کے علاوہ تمہاری اور بھی کوئی خواہش ہے؟ انہوں نے عرض کی نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا اپنے بیٹے کو بلاؤ اور اس کو اختیار دے دو اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو میں اسے فدیہ لئے بغیر تمہارے ساتھ جانے کی اجازت دے دوں گا۔ لیکن اگر وہ تمہارے ساتھ جانے کے بجائے میرے پاس رہنے کو پسند کرے پھر تمہیں بھی اسے مجبور نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا آپﷺ نے یہ فرما کر صرف ہمارے ساتھ انصاف ہی نہیں کیا بلکہ لطف و احسان کی انتہا کر دی ہے۔ ہمیں یہ تجویز منظور ہے۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 154کعبہ مشرفہ کی تعمیر نو: حصہ ششم آخری حصہ)

قریش مکہ کو بلا شبہ یہ شرف حاصل تھا کہ وہ کعبہ مقدسہ کے خادم اور ہمسائے تھے۔ لیکن اس خدا داد شرف نے ان میں غرور و نخوت اس حد تک پیدا کر دی تھی کہ وہ عرب کے دوسرے باشندوں سے اپنے آپ کو بالا تر مخلوق سمجھنے لگے تھے اپنی جھوٹی برتری کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے دین ابراہیمی میں ایسے قبیح اور شرمناک امور کا اضافہ کر دیا تھا جن کے ذکر سے ہی جبین حیا عرق آلود ہو جاتی ہے۔ اپنے بارے میں ان کا کہنا یہ تھا کہ:
“نَحْنُ بَنُوۡ اِبْرَاهِيۡمَ وَاَهْلُ الْحُرۡمَةِ وُلَاةُ الْبَيْتِ وَقَطَّانُ مَكَّةَ وَسَاكِنُهَا وَلَيْسَ لِاَحَدٍ مِّنَ الْعَرَبِ مِثْلُ حَقِّنَا وَلَا مِثْلُ مَنْزِلَتِنَا”
ترجمہ: یعنی ہم ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ ہم عزت و حرمت والے ہیں بیت اللہ کے نگران ہیں مکہ کے باشندے ہیں۔ جو ہمارے حقوق ہیں جزیرہ عرب کے کسی دوسرے آدمی کے وہ حقوق نہیں جو مقام و مرتبہ ہمیں حاصل ہے وہ اور کسی کو نصیب نہیں۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 155جسد اطہرﷺ کی جمال آرائیاں: حصہ اول)

رحمت الہی، جس ہستی کے سر پر ختم نبوت کا تاج سجا کر ، رحمت للعالمینی کی خلعت فاخرہ پہنا کر ، آخری صحیفہ آسمانی کا امین بنا کر، کاروان انسانیت کا تا ابد خضر راہ بنا رہی ہے۔ آئیے دیکھیں۔ محمد رسول اللہﷺ سے پہلے حضرت محمد بن عبداللہﷺ کی حیثیت سے ان کے جمال ظاہری اور کمال باطنی کی شان کیا ہے۔ وہ جسد اطہر، جس نے حضورﷺ کے روح اقدس کا گہوارہ بننا ہے اس کی توانائیوں اور دلربائیوں کا عالم کیا ہے۔ وہ روح اقدس، جس نے انوار الہی اور اسرار ربانی کی جلوہ گاہ بننا ہے اس کی عظمتوں اور اس کی لطافتوں کی کیفیت کیا ہے ۔ اس قلب منیر کی ہمت و عزیمت کا مقام کیا ہے ۔جس نے اس امانت عظمی کا بار گراں اٹھانا ہے اور اس کا حق ادا کرنا ہے، جس کو اٹھانے سے آسمانوں نے، زمین نے اور فلک بوس کوہساروں نے اظہار عجز کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اپنے ہر نبی اور رسول کو جسمانی عیوب سے منزہ پیدا فرماتا ہے

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 156جسد اطہرﷺ کی جمال آرائیاں: حصہ دوم)

ابو ہالہ، حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے پہلے خاوند تھے حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے بطن سے ابو ہالہ کے ایک لڑکے تولد ہوئے جن کا نام ”ہند“ تھا۔ انہوں نے عہد رسالتﷺ پایا اور نعمت ایمان سے مشرف ہوئے انہیں اللہ تعالیٰ نے گہرائی میں اتر جانے والی عقل اور حقیقت شناس آنکھ مرحمت فرمائی تھی جس چیز کو دیکھتے سطحی طور پر نہ دیکھتے بلکہ اس کے ظاہر و باطن میں اترتے چلے جاتے۔ انہوں نے جن واقعات جن شخصیات اور جن امور کے بارے میں اظہار خیال کیا وہ اس طرح سیر حاصل، جامع اور مبنی بر حقیقت ہوتا کہ پوچھنے والے کو اس کے بعد اس کے بارے میں مزید کسی استفسار کی حاجت نہ رہتی۔ جب عام واقعات و حالات کے بارے میں ان کے تجزیے اور تبصرے اس طرح بھر پور ہوا کرتے تو آپ خود اندازہ لگائیے کہ اپنے ہادی و مرشدﷺ کے بارے میں ان کا تبصرہ کتنا جامع اور مبنی بر حقیقت ہو گا۔ اختصار کا تقاضا تو یہ ہے

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 157جسد اطہرﷺ کی جمال آرائیاں: حصہ سوم)

م معبد: سفر ہجرت در پیش ہے حضورﷺ مکہ سے سکونت ترک کر کے یثرب کے بخت خفتہ کو جگانے کے لئے اور اس غیر معروف بستی کو شہرت و بقائے دوام بخشنے کے لئے صحرائی علاقہ کو عبور کر رہے ہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ ﷺکے غلام حضرت عامر بن فہیرہ کو ہمرکابی کا شرف حاصل ہے۔ ایک بدو عورت کے خیمہ کے پاس سے گزر ہوا۔ جس کا نام ام معبد ہے ان اجنبی راہروؤں نے اس عورت کو کہا۔ اگر تمہارے پاس کچھ دودھ یا گوشت ہو تو وہ اسے ہم قیمتًا خریدنے کے لئے تیار ہیں۔ ام معبد نے کہا اگر میرے پاس کھانے کی کوئی چیز ہوتی تو میں بصد مسرت تمہاری میزبانی کی سعادت حاصل کرتی ہمیں تو قحط سالی نے دانے دانے کا محتاج بنا دیا ہے۔ حضور ﷺ نے اس کے خیمہ کے ایک گوشہ میں ایک بکری دیکھی حضورﷺ نے پوچھا اے ام معبد ! یہ بکری کیسی ہے ؟ اس نے کہا ضعف اور کمزوری کی وجہ سے چلنے سے قاصر ہے اس لئے ریوڑ کے ساتھ چرنے کے لئے نہیں جا سکی

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 158جسد اطہرﷺ کی جمال آرائیاں: حصہ چہارم آخری حصہ)

طہارت و نظافت اور بلند کردار

جسم کتنا حسین و جمیل ہو اگر وہ نظیف نہ ہو۔ اس سے بدبو آ رہی ہو۔ تو اس کا سارا حسن و جمال غارت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو پیکر رعنا ارزانی فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی نظافت اور لطافت کا اہتمام بھی خود ہی فرما دیا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
“مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ وَلَا مِسْكًا وَلَا شَيْئًا اَطْيَبَ مِنْ رِيۡحِ رَسُوۡلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”
ترجمہ:کہ میں نے کوئی مشک اور عنبر ایسا نہیں سونگھا جس کی خوشبو حضور ﷺ کی مہک سے زیادہ عطر بیز ہو۔

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔
“اَنَّهٗ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ مَسَحَ خَدَّہٗ فَوَجَدۡتُّ لِيَدِهٖ بَرۡدًا وَ رِيۡحًا كَاَنَّمَا اَخْرَجَهَا مِنْ جُوۡنَةِ عَطَّارٍ”
ترجمہ:حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا۔ میں نے اس کی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا ابھی حضورﷺ نے اپنے دست مبارک کو عطار کی عطر دانی سے باہر نکالا ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 159بعثت مبارکہ: حصہ اول)

(آثار بعثت کا ظہور: حصہ اول)

بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی قدرت بے پایاں ہے۔ لمحہ بھر میں جو چاہے وہ ظہور پذیر ہو جاتا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی شان ربوبیت کا ظہور آہستہ آہستہ ہو۔ حیات طیبہ کے چالیس سال پورے ہونے والے ہیں۔ جسمانی نشو و نما معراج کمال کو پہنچ چکی ہے۔ ذہنی قوتوں پر شباب کا عالم ہے اخلاق کی بلندی، کردار کی پختگی اور سیرت کی پاکیزگی۔ اپنوں اور بیگانوں کو اپنا گرویدہ بنا رہی ہے جس معاشرہ میں حضورﷺ نے اپنی زندگی کی یہ منزلیں طے کی ہیں بڑا پُر آشوب ہے۔ سیاہ کاری، اخلاق باختگی، ذہنی آوارگی، اور کفر و شرک کی عفونتوں سے دماغ پھٹ رہا ہے اس نا گفتہ بہ اور شرمناک ماحول میں پروان چڑھنے والا یہ جوانِ رعنا، شبنم کی طرح پاکیزہ ، گلاب کے پھول کی طرح شگفتہ و شاداب اور چودہویں کے چاند کی طرح تابناک اور ضیاء بار ہے اب وہ ساعت ہمایوں قریب آ پہنچی ہے جب اسے وہ امانت عظمیٰ تفویض کی جائے گی جس کی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینے کے لئے قدرت الہیٰ کی رافتوں اور رحمتوں نے اس در یتیم کو اتنے اہتمام سے اپنے آغوش لطف و کرم میں لیا

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 160بعثت مبارکہ: حصہ دوم)

(آثار بعثت کا ظہور:حصہ دوم)

بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حضورﷺ صرف رمضان شریف کا پورا مہینہ یہاں گزارتے تھے۔ لیکن احادیث صحیحہ کے مطالعہ سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ حضورﷺ رمضان المبارک کا پورا مہینہ یہاں گزارتے تھے لیکن اس کے علاوہ بھی بکثرت یہاں تشریف لایا کرتے تھے۔

اس روایت کے الفاظ بھی اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔
“وَهُوَ التَّعْبُدُ اللَّيَالِيْ ذَوَاتَ الْعَدَدِ قَبْلَ اَنْ يَّنْزِعَ اِلٰى اَهْلِهٖ وَيَتَزَوَّدُ لِذٰلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ اِلٰى خَدِيْجَةَ وَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتّٰى جَآءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِيْ غَارِ حِرَا”
ترجمہ: حضورﷺ چند روز کے لئے خورد و نوش کا سامان لے کر غار حراء میں تشریف لے جاتے جب یہ راشن ختم ہو جاتا تو پھر ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے چند روز قیام فرماتے خورد و نوش کا سامان لے کر پھر اس غار میں اپنے رب کو یاد کرنے کے لئے فروکش ہو جاتے۔ اسی حالت میں وحی کا آغاز ہوا۔
حضور سرور عالمﷺ اس غار میں آ کر کیا کرتے تھے؟

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 161بعثت مبارکہ: حصہ سوم)

(آثار بعثت کا ظہور:حصہ سوم)

جب تک حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے صرف اِقْرَاْ کہا تو جواب ملا: مَا اَنَا بِقَارِيٍ ( میں پڑھنے والا نہیں ہوں )
جب چوتھی بار انہوں نے اللہ تعالیٰ کا نام ساتھ ملا کر کہا:
“اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ”
ترجمہ:اے مصطفی کریمﷺ ! اپنے رب کا نام لے کر پڑھیے جس نے ساری کائنات کو پیدا فرمایا ہے وہی آپﷺ کے سینہ کو علم و معرفت کے انوار سے منور کرنے والا ہے وہی آپ ﷺکے اُمتی ہونے کے باوجود آپﷺ کی زبان اقدس پر کلمات حکمت کو جاری کرنے والا ہے اس کے نام سے پڑھیے تو پھر حضورﷺ نے پڑھنے سے انکار نہیں کیا بلکہ فوراً آیات طیبات کی تلاوت شروع کر دی۔

علامہ سہیلی علیہ الرحمۃ نے الروض الانف میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ شیخ محمد ابراہیم العرجوان علیہ الرحمۃ نے بڑی پیاری بات کہی ہے۔
“لُبَابُ الْمَعْنَى كُنْ قارِئًا اِعْجَازًا وَلَوْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْقَارِئِيْنَ تَعَلُّمًا اِقْرَاْ مُسْتَعِیْنًا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ اَعَدَّکَ بِتَرْبِیَّتِہٖ مُعَلِّمًا لِلدُّنْیَا”

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 162بعثت مبارکہ: حصہ چہارم)

(آثار بعثت کا ظہور:حصہ چہارم آخری حصہ)

حق تو یہ ہے کہ ان حالات میں خوف و ہراس، بے چینی و اضطراب کا پیدا ہونا باعث حیرت نہیں بلکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو باعث صد حیرت و تعجب ہوتا۔ چنانچہ علماء محققین نے اس حدیث کے ان کلمات لَقَدْ خَشِيْتُ عَلٰىٰ نَفْسِیْ کی متعدد توجیہات پیش کی ہیں جو توجیہ ہمیں سب سے زیادہ بہتر لگی وہ علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ کی ہے جسے بایں الفاظ بیان کیا جاتا ہے۔
“خَافَ اَنْ لَّا يَقْوِىْ عَلٰى مُقَاوَمَةِ هٰذَا الْاَمْرِ وَلَا يَطِيْقُ حَمْلَ اَعْبَآءِ الْوَحْيِ”
ترجمہ:حضورﷺ کو اس بات پر اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس امر عظیم کی ذمہ داریوں کو آپ ﷺپوری طرح سے سر انجام نہ دے سکیں اور وحی کے اس بارِ گراں کے متحمل نہ ہو سکیں۔ (عمدۃ القاری طبع البابی الحلبی، جلد اول، صفحہ 78)

علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ نے بھی اسی توجیہ کو بایں الفاظ بیان کیا ہے۔
“اَلْعَجْزُ عَنْ حَمْلِ اَعْبَآءِ النُّبُوَّةِ”
ترجمہ: مبادا میں نبوت کے اس بار گراں کو اٹھا نہ سکوں ۔ (فتح الباری، جلد اول، صفحہ 20)

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 163بعثت مبارکہ: حصہ پنجم)

(الوحی)

کلمہ وحی کی ایسی تشریح جس سے اس کا لغوی اور اصطلاحی معنی واضح ہو جائے اور ذہن میں کسی قسم کی خلش باقی نہ رہے اس کے لئے تفسیر “المنار ” کی مندرجہ ذیل عبارت غور و فکر کے لئے قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔
الشیخ رشید رضا علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔

اَلْوَحْىُ فِي اللُّغَةِ : يُطْلَقُ عَلَى الْاِشَارَةِ وَالْاِيْمَاءِ وَمِنْهُ قَوْلُهٗ تَعَالٰى فَاَوْحٰى اِلَيْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا○ (سورۃ مريم،آیۃ : 11)

وَعَلَى الْاِلْهَامِ الَّذِيْ يَقَعُ فِي النَّفْسِ وَهُوَ اَخْفٰى مِنَ الْاِيْمَاءِ وَمِنْهُ قَوْلُهٗ تَعَالٰى وَاَوْحَيْنَا اِلٰى اُمِّ مُوْسٰى○ (سورۃالقصص،آیۃ :22)

وَيَظْهَرُ اَنَّ هٰذَا بِعِنَايَةٍ خَاصَّةٍ مَّا مِنَ اللَّهِ تَعَالٰى وَعَلٰى مَا يَكُوْنُ غَرِيْزِيَّةً دَآئِمَةً مِّنْهُ قَوْلُهٗ تَعَالٰى وَاَوْحٰى رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ○
(سورۃ النحل،آیۃ :28)

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 164بعثت مبارکہ: حصہ ششم)

(وحی الہیٰ کے مراتب)

وحی الہیٰ جو انبیاء کرام کے ساتھ مخصوص ہے اس کے متعدد مراتب و انواع ہیں۔
(1) رؤیا صادقہ (سچے خواب): حضور نبی کریمﷺ کی طرف وحی کا آغاز رؤیا صادقہ سے ہوا۔ حضورﷺ جو خواب دیکھا کرتے اس کی تعبیر دوسرے روز ہو بہو صبح کے اجالے کی طرح نمودار ہو جاتی۔
(2) وحی کا دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ فرشتہ دکھائی دیئے بغیر حضورﷺ کے قلب مبارک میں القا کر دیا کرتا تھا۔ ارشاد رسالت مآب ﷺ ہے۔
“اِنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِيْ روْعِىْ اَنَّهٗ لَنْ تَمُوْتَ نَفْسٌ حَتّٰى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاجْمِلُوْا فِي الطَّلْبِ وَلَا يَحْمِلَنَّكُمْ اِسْتِبْطَآءُ الرِّزْقِ عَلٰى اَنْ تَطْلُبُوْهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ فَاِنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ لَا يَنَالُ اِلَّا بِطَاعَتِهٖ”
ترجمہ:روح القدس حضرت ( جبرائیل ) علیہ السلام نے میرے دل میں یہ بات ڈال دی کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مر سکتا جب تک وہ اپنا رزق مکمل نہ کر لے اس لئے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور طلب رزق میں خوبصورت طریقے اختیار کرو۔ رزق کے ملنے میں اگر دیر ہو جائے تو اس کو خدا کی نا فرمانی سے مت طلب کرو کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس کی اطاعت سے ہی مل سکتی ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 165 بعثت مبارکہ: حصہ ہفتم)

(النبی و الرسول)

تفسیر ضیاء القرآن کے حوالہ سے اس کی تشریح اور معانی کی تحقیق پیش خدمت ہے۔ صاحب لسان العرب لفظ نبی کی تحقیق کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔ اس کے ماخذ اشتقاق کے متعلق اہل لغت کے تین قول ہیں۔
1) یہ نَبَاءٌ سے مشتق ہے۔
2) یہ نَبُوَّۃٌ سے مشتق ہے۔
3) یہ نَبَاوَۃٌ سے مشتق ہے۔
پہلے قول کے مطابق نَبِیٌّ بروزن فَعِیْلٌ بمعنی ُمفْعِلُٗ مُخْبِرُٗ ہو گا یعنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا ہو ۔

علامہ جوہری اور فراء علیہما الرحمۃ دونوں کی یہ رائے ہے کہ نَبَاءٌ سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے والا ۔
“اَلْجُوْهَرِيُّ : وَالنَّبِيُّ الْمُخْبِرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِاَنَّهُ اَنْبَاَ عَنْہُ وَ هُوَ فَعِيْلٌ بِمَعْنَيْ مُفْعِلُٗ، قَالَ الْفَرَّاءُ : اَلنَّبِيُّ هُوَ مَنْ اَنْبَاَ عَنِ اللَّهِ وَتُرِكَ هَمْزَتُهٗ وَاِنْ اُخِذَ مِنَ النُّبُوَّةِ وَالنَّبَاوَةِ وَهِيَ الْاِرْتِفَاعُ عَنِ الْاَرْضِ اَوْ هِيَ الشَّیْئُ الْمُرْتَفِعُ اَيْ اَنَّهٗ اَشْرَفُ عَلٰى سَائِرِ الْخَلْقِ “

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 166بعثت مبارکہ: حصہ ہشتم}

(حقیقت نبوت)

اگرچہ نبوت و رسالت کی حقیقت کو سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں اس کی ماہیت کو کما حقہ وہی نفوس قدسیہ سمجھ سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس منصب رفیع پر فائز فرمایا ہے۔ لیکن حجۃ الاسلام امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے مفہوم کو ہمارے اذہان کے قریب تر کرنے کی سعی مشکور کی ہے اس کے مطالعہ سے مقام نبوت سے کچھ نہ کچھ تعارف ضرور ہو جاتا ہے۔ اتنا تعارف بھی ایک عام قاری کے لئے از بس مفید ہے۔ حجۃ الاسلام کی تصنیف لطیف “اَلْمُنْقِذُ مِنَ الضَّلَالِ” در حقیقت ان کی اپنی آپ بیتی ہے جس میں انہوں نے اپنے سیر روحانی کی کیفیات قلم بند کی ہیں۔ اس کے ضمن میں ” ضرورت نبوت“ کے عنوان پر بحث کرتے ہوئے اپنے قارئین کو حقیقت نبوت سے بھی حتی الامکان روشناس کرانے کی کوشش فرمائی ہے۔ ان کی عبارت کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ان گنت اور بے شمار جہانوں سے وہ بالکل بے خبر ہوتا ہے اس میں سب سے پہلے لمس یعنی چھونے کی حس پیدا کی جاتی ہے۔ اس حس کی تخلیق سے موجودات کے متعدد انواع و اقسام اس پر بے حجاب ہو جاتے ہیں۔ وہ حرارت اور ٹھنڈک، خشکی اور تری ، ملائم اور درشت امور کا ادراک کرنے لگتا ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 167بعثت مبارکہ: حصہ نہم}

(نزول وحی کا آغاز)

جس طرح پہلے بتایا جا چکا ہے کہ وحی کا آغاز سچے خوابوں کے دکھائے جانے سے ہوا۔ علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ رؤیا صادقہ کی مدت چھ ماہ تھی اور اس کی ابتدا ربیع الاول شریف میں ہوئی جب کہ سرور عالمﷺکی عمر مبارک پوری چالیس سال ہو گئی۔ بیداری کی وحی کا آغاز ماہ رمضان المبارک میں ہوا۔
(فتح الباری، جلد اول، صفحہ 22)

لیکن اس بارے میں مورخین کا اختلاف ہے کہ وہ کون سا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو شرف نبوت سے سرفراز فرمایا اور نزول وحی کا آغاز ہوا۔ ایک گروہ کی رائے ہے کہ ماہ ربیع الاول میں یہ شرف بخشا گیا دوسرا گروہ کہتا ہے کہ ماہ رمضان میں ایک قول یہ بھی ہے کہ ماہ رجب میں۔ لیکن نصوص قرآنی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ نزول قرآن کی ابتداء رمضان المبارک کے مہینہ میں ہوئی۔ ارشاد الہیٰ ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 168بعثت مبارکہ: حصہ دہم}

(فترۃ الوحی:حصہ اول)

یہ بات وضاحت سے لکھی جا چکی ہے کہ جب سرور عالمﷺ کی حیات طیبہ کے چالیس سال پورے ہو گئے تو ماہ ربیع الاول میں آثار نبوت کا ظہور سچے خوابوں کی صورت میں شروع ہو گیا۔ چھ ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر رمضان المبارک کے مہینہ میں جب حضور پر نور ﷺ حسب معمول غار حرا کی خلوتوں میں گوشہ نشین تھے عبادت و ذکر الہیٰ اور آیات ربانی میں غور و تدبر میں شب و روز منہمک تھے اس ماہ کی ایک با برکت رات کی ایک سعید ترین ساعت میں نزول وحی کا آغاز ہوا اور حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے حضور ﷺکو آپﷺ کے رب قدوس کا پہلا روح پَرْوَرٗ پیغام پہنچایا۔ “اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ”

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 169 بعثت مبارکہ (حصہ گیارہواں)

(فترۃ الوحی ~ حصہ دوئم آخری حصہ) 

شیخ عرجون فرماتے ہیں کہ سند کے لحاظ سے اس بلاغ کو قابل اعتبار تسلیم کر بھی لیا جائے تو حدیث کی صحت کے لئے اتنا ہی کافی نہیں بلکہ سند کی صحت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کا متن بھی صحیح ہو اور متن کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین کے اصولوں میں سے کسی اصول کے ساتھ ٹکراتا نہ ہو۔ چنانچہ علامہ عرجون علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔ “فَصِحَةُ الْمَتَنِ شَرۡطٌ مَعَ صِحَةِ السَّنَدِ فِيۡ قُبُوۡلِ النَّصِ الْمَسْمُوۡعِ بِمَعْنَىۡ اَنَّ الْحَدِيۡثَ يَجِبُ اَنْ يَّكُوۡنَ صَحِيۡحَ السَّنَدِ مَرۡوِيًّا عَنِ الثِّقَاتِ وَالضَّابِطِيۡنَ وَيَجِبُ مَعَ ذٰلِكَ اَنْ يَّكُوۡنَ صَحِيۡحَ المَتَنِ فَلَا يَتَعَارَضُ مَعَ اَصْلٍ مِّنْ اُصُوۡلِ الْاِيۡمَانِ الْمُتَّفَقُ عَلَيْهَا بَيْنَ اَئِمَّةِ الدِّيۡنِ وَالْعِلْمِ وَلَا يَتَعَارَضُ مَعَ الدَّلَائِلِ الظَّاهِرَةِ الَّتِيۡ تُخَالِفُ مَدْلُوۡلَ النَّصِّ الْمَرْوِيِّ بِالسَّنَدِ الصَّحِيۡحِ”
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 170 بعثت مبارکہ (حصہ بارہواں)

(آغاز رسالت و حکم الٰہی)

آغاز رسالتﷺ: نبوت کا اظہار تو سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کے نزول سے ہو گیا۔ لیکن رسالت کا آغاز اُس وقت ہوا جب سورۃ المدثر کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں۔ ارشاد فرمایا گیا۔
یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿1﴾ قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿2﴾ وَ رَبَّکَ فَکَبِّرۡ ۪﴿3﴾ وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرۡ ۪﴿4﴾وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ5﴾ وَ لَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَکۡثِرْ ۪﴿6﴾ وَ لِرَبِّکَ فَاصۡبِرۡ ؕ﴿7﴾
ترجمہ:اے چادر اوڑھنے والے (حبیب!)۔ اُٹھیں اور (لوگوں کو اللہ کا) ڈر سنائیں۔اور اپنے رب کی بڑائی (اور عظمت) بیان فرمائیں۔اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں۔اور (حسبِ سابق گناہوں اور) بتوں سے الگ رہیں۔اور (اس غرض سے کسی پر) احسان نہ کریں کہ اس سے زیادہ کے طالب ہوں۔اور آپ اپنے رب کے لئے صبر کیا کریں۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 171دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار: حصہ اول}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے:حصہ اول)
《ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا》

تمام ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ
“خَدِيۡجَةُ اَوَّلُ خَلْقِ اللهِ اَسْلَمَ بِاِجْمَاعِ الْمُسْلِمِيۡنَ لَمْ يَتَقَدَّمۡهَا رَجُلٌ وَّلَا اِمْرَاَةٌ”
ترجمہ: یعنی اللہ کی ساری مخلوق میں سب سے پہلے ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا اسلام لائیں۔ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ کوئی مرد اور کوئی عورت آپ رضی اللہ عنہا سے پہلے اسلام نہیں لایا۔
(الکامل ابن اثیر، جلد دوم، صفحہ 37)

علامہ ابن ہشام علیہ الرحمۃ اپنی سیرت میں رقمطراز ہیں۔
“وَاٰمَنَتْ بِهٖ خَدِيۡجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِِ وَصَدَّقَتْ بِمَا جَآءَهٗ مِنَ اللهِ وَ وَازَرَتْہُ عَلٰٓى اَمْرِهٖ وَكَانَتْ اَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ بِاللَّهِ وَبِرَسُوۡلِہٖ صَدَقَتْ بِمَا جَآءَ مِنْهُ وَخَفَّفَ اللهُ بِذٰلِكَ عَنْ نَبِيِّهٖ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْمَعُ شَيْئًا مِّمَّا يَكْرَهُہٗ مِنْ رَدٍّ عَلَيْهِ وَتَكْذِيۡبٍ لَهٗ فَيَحْزِنَهٗ ذٰلِكَ اِلَّا فَرَّجَ اللہُ عَنْهُ بِهَآ اِذَا رَجَعَ اِلَيْهَا تُثَبِّتُهٗ وَتُخَفِّفُ عَلَيْهِ وَتُصَدِّقُهٗ وَتُهَوِّنُ عَلَيْهِ اَمْرَ النَّاسِ رَحِمَهَا اللهُ تَعَالٰى”

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 172دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: دوم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے: حصہ دوم)
《حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ》

بعثت سے پہلے نبی مکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم تھے ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت، نشست و برخاست، ہر اہم بات پر صلاح مشورہ ، ہر روز کا معمول تھا۔ کئی تجارتی سفر جو بیرون ملک پیش آئے ان میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے ہم سفر رہے طبائع میں کمال یکسانیت کے باعث باہمی انس و محبت بھی درجہ کمال تک پہنچا ہوا تھا۔ اس بے تکلف میل جول کے باعث حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور سرور عالمﷺ کے کمالات و محامد کے عینی شاہد تھے اور دل سے گرویدہ تھے اس عرصہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے کئی خواب دیکھے جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے قلب و ذہن کو حضور ﷺکی محبت اور عقیدت کا گہوارہ بنا دیا تھا۔

شیخ محمد ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ نے الروض الانف کے حوالے سے ایک خواب ذکر کیا ہے جو درج ذیل ہے۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 173دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: سوم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :سوم)
《سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ و جہہ رضی اللہ عنہ》

آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ جناب ابو طالب کثیر العیال تھے۔ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح خوش حال نہ تھے مکہ میں قحط پڑا اس سے ان کی مالی حالت اور زیادہ کمزور ہو گئی۔ رحمت عالمﷺ سے آپ کی یہ تکلیف دیکھی نہ جا سکی حضورﷺ اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ ہمیں مل کر جناب ابو طالب کا بوجھ بانٹ لینا چاہیے ان کا ایک بیٹا میں لے لیتا ہوں ۔ اس کی کفالت میں کروں گا۔ ایک لڑکا آپ رضی اللہ عنہ لے لیں۔ اور اس کی کفالت آپ رضی اللہ عنہ اپنے ذمہ لے لیں اس طرح ان کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا چنانچہ دونوں جناب ابو طالب کے پاس گئے اور اپنی آمد کا مقصد بتایا۔ حضرت ابو طالب کے چار بیٹے تھے۔وہ سب ایک دوسرے سے دس دس سال چھوٹے تھے طالب، عقیل، جعفر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔ انہوں نے کہا کہ عقیل اور طالب کو آپ میرے پاس رہنے دیں اور باقی بچوں کے بارے میں جو آپ لوگوں کی مرضی ہو کریں چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جو سب سے کمسن تھے رحمت عالم ﷺ نے اپنی کفالت میں لے لیا اور جعفر کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعلان نبوت سے پہلے ہی آغوش نبوت میں پہنچا دیا۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 174دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: چہارم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے، حصہ :چہارم)
《سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے ایمان لانے والے: حصہ اول》

سیدنا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور اشاعت اسلام: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو گونا گوں خصائل حمیدہ سے متصف فرمایا تھا۔ نسبی لحاظ سے آپ رضی اللہ عنہ کا خاندان قومِ قریش میں بڑا معزز شمار ہوتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ بڑے کامیاب تاجر تھے کاروبار میں راست بازی، لین دین میں دیانتداری آپ رضی اللہ عنہ کا طرہ امتیاز تھا، غریبوں کی امداد، یتیموں اور بیواؤں کی سر پرستی آپ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا زمانہ جہالت کی آلودگیوں سے آپ رضی اللہ عنہ کا دامن پاک تھا آپ رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا۔
“وَ فِي السِّيۡرَةِ الْحَلْبِيَةِ اَنَّ اَبَا بَكْرِ لَمْ يَسْجُدۡ لِصَنَمٍ قَطُّ”
ترجمہ: سیرت حلبیہ میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا۔
(السيرة النبویہ، احمد بن زینی دحلان، جلد 1، صفحہ 179)

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 175دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار ~ حصہ: پنجم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے: حصہ~ پنجم)
《سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے ایمان لانے والے: حصہ دوم》

امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ: آپ رضی اللہ عنہ خلفاء راشدین میں سے خلیفہ ثالث ہیں۔ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی وہاں سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں مندرجہ ذیل ممالک فتح ہوئے۔ قبرص، اصطخر، خوز، فارس کا آخری حصہ ، طبرستان، دارا بجرد، کرمان ، سجستان، سابور وغیرہ ۔
(السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد 1، صفحہ 187)

حضور ﷺ نے اپنی دو صاحب زادیاں یکے بعد دیگرے آپ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیں اسی لئے ذو النورین کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی خوشحالی کے لئے آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی فیاضی سے اپنی دولت لٹائی آپ رضی اللہ عنہ بڑے کامیاب تاجر تھے آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ بڑا خوبصورت ، جلد ریشم کی طرح نرم ، گھنی داڑھی، گندم گوں رنگ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ذی الحجہ کی اٹھارہ تاریخ بروز جمعہ باغیوں نے شہید کر دیا۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک بیاسی سال تھی آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت 35ھ میں ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ ان دس خوش نصیبوں سے تھے جن کو حضور ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی تھی جنہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 176دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: ششم}
(سب سے پہلے ایمان لانے والے، حصہ :ششم) 《سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے ایمان لانے والے: حصہ سوم》

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ: حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بھی مشرف بہ اسلام ہوئے۔ نوفل بن عدویہ جو اسد قریش کے لقب سے مشہور تھا اسے جب اس بات کا علم ہوا تو وہ غصہ سے بے قابو ہو گیا۔ اس نے دونوں کو یعنی حضرت صدیق اکبر اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک رسی میں جکڑا اور کس کر باندھ دیا۔ یہ دونوں حضرات کراہتے رہے لیکن ابن عدویہ کے قوت اور دبدبہ کے ڈر سے ان کے قبیلہ بنو تیم کے کسی فرد کو ہمت نہ ہوئی کہ انہیں آ کر چھڑا دے۔ حضور ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: “اَللّٰهُمَّ اکۡفِنَا شَرَّ ابْنِ الْعَدَوِيَّةِ” ترجمہ:اے اللہ! عدویہ کے بیٹے کے شر سے ہمیں بچا۔
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بصریٰ کی منڈی میں تجارت کے لیے گئے وہاں خانقاہ میں ایک راہب رہتا تھا اس نےاپنے لوگوں کو کہا کہ دریافت کرو کہ بیرونی تاجروں میں کوئی حرم کا تاجر بھی آیا ہوا ہے۔ میں نے بتایا کہ میں مکہ سے آیا ہوں ۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 177دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: ہفتم}
(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :ہفتم) {سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی جوان مردی}

سلام کی ان ابتدائی شاندار کامیابیوں نے کفر و باطل کے ایوانوں میں ایک کہرام مچا دیا اور انہوں نے حق و صداقت کے اس ابھرتے ہوئے آفتاب کی کرنوں کا راستہ روکنے کے لئے پردے تاننے کی مہم کا آغاز کر دیا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس طرح وہ باطل کے اندھیروں کو حق کی ان رُوپَہْلی اور تابندہ کرنوں کی یلغار سے بچا سکیں گے ۔ جو بالکل نا ممکن تھا۔ ان کے جور و ستم کی مہم کا آغاز ایک چھوٹے سے واقعہ سے ہوا۔ جس کو علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ کے حوالہ سے ہدیہ قارئین کیا جاتا ہے۔

علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ رقمطراز ہیں جب مسلمان مردوں کی تعداد اڑتیس ہو گئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ! اب ہمیں کھل کر میدان میں نکل آنا چاہئے اور تبلیغ اسلام کا فریضہ پوری قوت سے انجام دینا چاہئے۔ حضورﷺ نے فرمایا اے ابو بکر! ابھی ہماری تعداد بہت کم ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اصرار جاری رہا

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 178{دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: ہشتم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :ہشتم)
  حضرت عبداللہ بن مسعود اور خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہما کا ایمان لانا 

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: امام ابو داؤد طیالسی علیہ الرحمۃ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کے ایمان لانے کا واقعہ ان کی زبانی یوں بیان کیا ہے۔
آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنی نو عمری کے زمانہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں مکہ کے گرد و نواح میں چرایا کرتا تھا۔ ایک روز میرے پاس حضور نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور مجھے فرمایا اے نوجوان ! کیا ہمیں دودھ پلاؤ گے؟ میں نے جواب دیا کہ دودھ تو ہے لیکن میں امین ہوں ۔ امانت میں خیانت نہیں کر سکتا اس لئے آپ حضرات کو دودھ پلانے سے معذور ہوں ۔

حضورﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس ایسی پٹھ ہے جس سے کسی نر نے جفتی نہ کی ہو۔ میں نے عرض کی جی ہاں چنانچہ میں ایک پٹھ کو پکڑ کر لے آیا۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 179دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: نہم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے، حصہ :نہم)
{حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ایمان}

وہ نفوس قدسیہ جنہوں نے دعوت اسلامیہ کو ابتدا میں قبول کیا اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا مردانگی سے مقابلہ کیا۔ ان میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا نام سر فہرست ہے آپ رضی اللہ عنہ کا نام جندب بن جنادہ تھا۔آپ رضی اللہ عنہ بنی غفار قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ طبعی طور پر کفر و شرک سے دل برداشتہ تھے بعثت نبوتﷺ سے تین سال قبل آپ رضی اللہ عنہ نماز پڑھا کرتے تھے جدھر اللہ تعالیٰ نے چاہا منہ کر کے کھڑے ہو جاتے اور اپنی عقل و فہم کے مطابق اپنے معبود بر حق کی تسبیح و تحمید کر کے اپنے دل بے قرار کی تسلی کا اہتمام کر لیا کرتے۔ انہیں اطلاع ملی کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے انہوں نے اپنے بھائی حضرت انیس رضی اللہ عنہ کو کہا کہ مکہ جا کر اس شخص سے ملاقات کرو۔ اور اس کی دعوت کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔ اور واپس آ کر مجھے بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 180دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: دہم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے، حصہ :دہم)
(حضرت صہیب، حضرت حصین والد عمران اور عمرو بن عتبہ السلمی رضی اللہ عنہم کا ایمان)

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: ان کے والد کسریٰ کی حکومت میں اعلیٰ افسر تھے۔ جب رومی لشکر نے ایران پر حملہ کیا حضرت صہیب رضی اللہ عنہ جو کہ ابھی چھوٹے بچے تھے قیدی بنا کر لے گئے۔ انہوں نے روم میں ہی نشوو نما پائی۔ یہاں تک کہ جواں ہو گئے پھر عرب کا ایک گروہ روم گیا۔ ان میں سے کسی نے حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو خرید لیا۔ وہ انہیں سوق عكاظ میں لے آیا اور یہاں انہیں فروخت کر دیا۔ پھر عبداللہ بن جدعان نے انہیں خرید لیا جب سرکار دو عالم ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو ایک روز حضرت صہیب رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے کاشانہ اقدس کے ارد گرد چکر لگا رہے تھے۔ وہاں حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے پوچھا حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کدھر کا قصد ہے؟ انہوں نے کہا میں حضورﷺ کی گفتگو سننے کے لئے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہوں ۔حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا میرا بھی یہی ارادہ ہے 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 181دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: گیارہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :گیارہواں)
《سیدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حصہ اول》

اسلام کا نور تاباں آہستہ آہستہ سلیم الفطرت لوگوں کے اذہان و قلوب کو منور کرتا جا رہا تھا اسلام نے اپنے فطری حسن و جمال سے بڑی بڑی جلیل القدر اور نادرہ روز گار ہستیوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ ہر روز کوئی نہ کوئی عظیم شخصیت اسلام قبول کر کے اس کی قوت میں اضافہ کا باعث بن رہی تھی اسلام کے خلاف اگرچہ مشرکین مکہ کا اجتماعی رد عمل ابھی شروع نہیں ہوا تھا لیکن اکا دکا ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے رہتے جس سے اس بغض و عداوت کا اظہار ہوتا رہتا جو اسلام کے بارے میں ان کے دلوں میں سلگ رہا تھا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو جس بے رحمی سے کفار نے زد و کوب کیا اس کے بارے میں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں اسی طرح بے سہارا اور بے آسرا لوگ جو دین حق کو قبول کرتے ان پر ظلم و ستم توڑنے میں وہ قطعا تامل نہ کرتے یہاں تک ان میں سے جو زیادہ شقی القلب تھے انہوں نے محبوب رب العالمینﷺ پر بھی دست تعدی دراز کرنا شروع کر دیا تھا۔
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 182دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: بارہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :بارہواں)
《سیدنا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حصہ دوم آخری حصہ》


آپ رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے سے عالم کفر پر ایک رعب طاری ہو گیا بے آسرا مسلمانوں پر ان کی ستم رانیوں میں بڑی حد تک کمی آ گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اشعار جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان لانے کی خوشی میں بطور شکر و حمد کہے ہیں آپ بھی انہیں پڑھئے اور لطف اٹھائیے۔

حَمِدۡتُ اللهَ حِيۡنَ هَدَى فُؤَادِيۡ
اِلَى الْاِسْلَامِ وَالدِّيۡنِ الۡحَنِيۡفٖ
میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں جب اس نے میرے دل کو ہدایت دی اسلام قبول کرنے کے لئے جو دین حنیف ہے۔

لِدِيۡنٍ جَآءَ مِنْ رَبٍّ عَزِيۡزٍ
خَبِيۡرٍ بِالْعِبَادِ بِهِمْ لَطِيۡفٖ
وہ دین جو رب کریم کی طرف سے آیا ہے، جو عزت والا ہے، جو اپنے بندوں کے حالات سے باخبر اور ان کے ساتھ لطف و احسان فرمانے والا ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 183دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: تیرہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :تیرہواں)
《حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا》

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جیسے شیر دل اور بہادر سردار کے اسلام لانے سے مکہ کی طاغوتی قوتوں پر سکتہ طاری ہو گیا لیکن اسلام کی قلوب و اذھان کو مسخر کرنے والی قوتیں اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز معجزوں کو بروئے کار لانے والی تھیں۔ چند روز میں عالم کفر کی ایک عدیم المثال شخصیت نبی رحمت ﷺ کے حضور دست بسۃ حاضر ہو کر سر تسلیم خم کرنے والی تھی۔

چنانچہ تین چار روز بعد خطاب کے لخت جگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو ایک قوی ہیکل، بلند قامت، بے باک مزاج 26 سالہ نوجوان تھے گوشہ تنہائی میں بیٹھے ہوئے اپنے ارد گرد وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر غور و فکر کر رہے تھے۔ انہیں اس بات پر سخت حیرت تھی کہ تنہا ایک آدمی کی دعوت نے سارے ماحول کو پراگندہ کر کے رکھ دیا ہے مکہ کی پر امن فضا میں عداوت کی چنگاریاں سلگنے لگی ہیں۔ قبائل میں باہمی ہم آہنگی تہہ و بالا ہو رہی ہے۔ خاندانوں کی ایک دوسرے سے محبت نفرت کا رنگ اختیار کرتی جا رہی ہے بلکہ باپ بیٹوں سے، بھائی بھائی سے اور پڑوسی پڑوسی سے بدگمان ہوتا چلا جا رہا ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 184دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: چودہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :چودہواں)
《سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حصہ دوم》

یہ سارا انقلاب خود بخود رونما نہیں ہو رہا تھا۔ بلکہ اس کے پس پردہ محبوب رب العالمینﷺ کی دعا کی تاثیر کار فرما تھی۔ صرف ایک روز پہلے حضور سرور عالمﷺ نے اپنے مولا کریم کی بارگاہ بیکس پناہ میں دست مبارک اٹھا کر التجاء کی تھی۔
“اَللّٰهُمَّ اَعِزَّ الۡاِسْلَامَ بِاَحَبِّ الرَّجُلَيْنِ اِلَيْكَ بِعُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ اَوۡ بِعَمۡرِوۡ بۡنِ هَشَّامٍ”
ترجمہ: اے اللہ! ان دو آدمیوں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عمرو بن ہشام ( ابو جہل) میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے اس سے دین کو عزت عطا فرما۔
اور جو روایت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔
“اَللّٰهُمَّ اَيِّدِ الۡاِسْلَامَ بِعُمَرَ” ترجمہ:اے اللہ ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشرف بہ اسلام کر کے اسلام کی مدد فرما۔
اس روایت میں صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی گئی ہے۔

در حقیقت اس مقبول دعا کی کمند حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے سخت دل کو کشاں کشاں رحمت للعالمین ﷺ کے دربار میں لا رہی تھی۔ حضورﷺ اس وقت دار ارقم میں اپنے جاں نثاروں کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ دروازہ بند تھا،

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 185دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: پندرہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :پندرہواں)
} سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایمان لانا: حصہ سوم آخری حصہ}

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ جو سابقین اولین میں سے ہیں۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بعد کے واقعات یوں روایت کرتے ہیں۔
“وَقَالَ صُهَيْبُ لَمَّا اَسْلَمَ وَ عُمَرُ قَالَ يَا رَسُوۡلَ اللهِ ﷺ! لَا يَنْبَغِيۡ اَنْ يُّكْتَمَ هٰذَا الدِّيۡنُ اَظْهِرۡ دِيۡنَكَ وَ خَرَجَ وَ مَعَهُ الْمُسْلِمُوۡنَ وَ عُمَرَ اَمَامَهُمْ مَعَهٗ سَيْفٌ يُّنَادِيۡ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللهِ ﷺ حَتّٰى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَ قَالَتۡ قُرَيْشٌ لَقَدْ اَتَاكُمْ عُمَرُ مَسْرُوۡرًا مَا وَرَآءَكَ يَا عُمَرُ قَالَ وَرَائِيۡ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوۡلُ اللَّهِ ﷺ فَاِنْ تَحَرَّكَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ لَاُمَکِّنَنَّ سَيْفِىۡ مِنْهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ اَمَامَهٗ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَطُوۡفُ وَيَحْمِيۡهِ حَتّٰى فَرَغَ مِنْ طَوَافِهٖ”
ترجمہ: حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مشرف با اسلام ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! اب یہ مناسب نہیں کہ اس دین کو چھپایا جائے۔ حضورﷺ اپنے دین کو ظاہر فرمائیے۔ حضورﷺ مسلمانوں کی معیت میں دار ارقم سے باہر تشریف لائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لئے آگے آگے چل رہے تھے اور بلند آواز میں “لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَسُوۡلُ اللَّهِ ﷺ” کا ورد کر رہے تھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہوئے قریش نے دیکھ کر کہا آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ بڑے خوش خوش آ رہے ہیں انہوں نے پوچھا اے عمر! کیا خبر ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 186دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: سولہواں}

(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :سولہواں آخری حصہ )

کیا اسلام تلوار سے پھیلا ہے: نبی رحمت ﷺ نے بعثت کے بعد پہلے تین سال اعلانیہ تبلیغ کے بجائے خاص خاص لوگوں تک اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو محدود رکھا۔ اس میں ایسی ایسی ہستیاں مشرف با اسلام ہوئیں جن کے زریں کارناموں سے ملت اسلامیہ کی تاریخ کے صفحات جگمگا رہے ہیں۔ بے مثال خوبیوں اور عظیم صلاحیتوں سے مالا مال شخصیتوں نے ایسے نازک وقت اور مشکل حالات میں حبیب کبریا ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کر کے اسلام کو دل کی گہرائیوں سے قبول کیا جب کہ اسلام کے بیت المال میں ان کو دینے کے لئے ایک درہم بھی نہ تھا۔ مسلمانوں کی بے بسی اور بے کسی کا یہ عالم تھا کہ مشرکین ان پر ظلم کے پہاڑ توڑتے اور یہ اُف تک نہ کر سکتے تھے۔ ان حالات میں اسلام قبول کرنے والے وہ لوگ تھے۔ جو طبعی طور پر بڑے خود دار، غیور اور مستغنی تھے جہاں بھر کے سارے خزانے اگر ان کے قدموں پر ڈھیر کر دیئے جاتے تو وہ کسی ایسے نظریہ کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 187دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: سترہواں}

{دعوت اسلام کا دوسرا دور : حصہ اول}
(قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق دینے کے لیے حکم الہٰی : حصہ اول)

بعثت کے بعد تین سال کا عرصہ خاموشی سے تبلیغ کرنے میں گزرا۔ اس عرصہ میں اسلام نے جن اولو العزم ہستیوں کو اپنے پرچم کے نیچے جمع کر لیا۔ اس کے بارے میں تفصیلات کا آپ مطالعہ کر چکے ہیں۔ ان عظیم لوگوں کا اس دین کو قبول کر لینا حضور پر نور ﷺ کے پُر امن جہاد کی شاندار اور بے مثال فتوحات تھیں۔ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ دعوت توحید کے دائرہ کو مزید وسعت دی جائے۔ چنانچہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام خداوند قدوس کی جانب سے یہ حکم لے کر تشریف لائے۔
وَ اَنۡذِرۡ عَشِیۡرَتَکَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ﴿214﴾ وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿215﴾
ترجمہ:اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے۔اور آپ اپنا بازوئے (رحمت و شفقت) ان مومنوں کے لئے بچھا دیجئے جنہوں نے آپ کی پیروی اختیار کر لی ہے۔ ( سورة الشعرآء،آیۃ 214 – 215)

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 188دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: اٹھارہواں}

{دعوت اسلام کا دوسرا دور : حصہ دوم}
(قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق دینے کے لیے حکم الہٰی : حصہ دوم آخری حصہ)

ب تیسرے اجتماع کا حضورﷺ نے اہتمام فرمایا اس میں قریش کے سارے قبیلوں کو دعوت دی گئی اور صفا کی پہاڑی پر حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر سب حاضرین کو خطاب فرمایا اور آغاز کلام اس سے کیا۔
حاضرین! اگر میں تمہیں کہوں کہ پہاڑ کی دوسری جانب سے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لئے بڑھتا چلا آ رہا ہے کیا تم میری بات تسلیم کرو گے ؟ سب نے جواب دیا بے شک تسلیم کریں گے آج تک آپﷺ کی زبان سے ہم نے کبھی ایسی بات نہیں سنی جو غلط ہو۔ پھر فرمایا اے گروہ قریش! اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ ۔ کیونکہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ میں عذاب شدید سے پہلے تمہیں واضح طور پر بر وقت ڈرانے کے لئے بھیجا گیا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے۔ جیسے ایک شخص ہو جس نے دشمن کو دیکھ لیا ہو۔ پس وہ چل پڑے تا کہ اپنے رشتہ داروں کو دشمن کی آمد سے با خبر کر دے۔ پھر اسے یہ اندیشہ لاحق ہو جائے کہ دشمن کہیں اس سے پہلے ہی نہ پہنچ جائے۔ دور سے ہی زور زور سے یہ اعلان کرنا شروع کر دے۔
“یَا صَبَاحَاهۡ يَاصَبَاحَاهۡ اُتِيۡتُمۡ اُتِيۡتُمۡ” ترجمہ:جاگو ، جاگو، دشمن پہنچ گیا ،دشمن پہنچ گیا۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 189دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: انیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ اول}

کھلی اور عام دعوت: یہ دعوت اسلامیہ کا تیسرا مرحلہ تھا اس کا دائرہ رشتہ داروں سے بڑھا کر سب انسانوں تک بڑھا دیا گیا تھا جب کفار مکہ نے دیکھا کہ اب نبی کریم ﷺ نے بر ملا اپنے دین کی تبلیغ کا کام شروع کر دیا ہے آہستہ آہستہ مختلف قبائل کی اہم شخصیتیں اس نئی دعوت سے متاثر ہو رہی ہیں اور اس کو قبول کر رہی ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اگر نئی تحریک کو روکنے کے لئے انہوں نے کوئی مؤثر اور بر وقت قدم نہ اٹھایا تو سارا معاشرہ ایک ہمہ گیر انقلاب کی زد میں آ جائے گا۔ ان کے معبودوں کے تخت اوندھے کر دیئے جائیں گے ان کی پوجا پاٹ کے لئے ان کے استھانوں پر دور و نزدیک سے آنے والے پجاریوں کی نہ یہ ریل پیل رہے گی نہ نذرانوں کے انبار لگیں گے، ان کی مذہبی چودہراہٹ کا بھی جنازہ نکل جائے گا چنانچہ انہوں نے اسلام اور نبی اسلام ﷺ کے خلاف راست اقدام کا فیصلہ کر لیا لیکن کوئی قدم اٹھانے سے پہلے انہوں نے مناسب سمجھا کہ آپﷺ کے چچا حضرت ابو طالب سے بات کریں اور ان کے ذریعہ حضور ﷺکو اس نئی دعوت سے دست بردار ہونے کی ترغیب دلائیں چنانچہ ایک روز رؤساء قریش کا ایک نمائندہ وفد جو مندرجہ ذیل اکابر قوم پر مشتمل تھا۔ حضرت ابو طالب کے پاس گیا۔ وفد کے ارکان کے نام یہ ہیں۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 190دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: بیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ دوم}
(قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق دینے کے لیے حکم الہٰی : حصہ دوم آخری حصہ)

مطعم بن عدی بن نوفل بن عبد مناف بن قصی بولا ۔ خدا کی قسم! اے ابو طالب تیری قوم نے تیرے ساتھ کمال انصاف کیا ہے اور حتی المقدور کوشش کی ہے کہ اس الجھن سے تمہیں نکالیں جو تم نا پسند کرتے ہو۔ تم نے ان کی یہ منصفانہ پیش کش ٹھکرا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ تم ان سے کسی قیمت پر مفاہمت کرنے کے لئے تیار نہیں حضرت ابو طالب نے فرمایا ۔ اے مطعم ! میری قوم نے ہر گز میرے ساتھ انصاف نہیں کیا البتہ تم نے میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ اور میرے خلاف ساری قوم کی مدد کی ہے یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ دن بدن کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ حالات سنگین سے سنگین تر ہونے لگے عداوت کی آگ تیزی سے بھڑکنے لگی۔ ایک دوسرے کی کھل کر مخالفت ہونے لگی ۔

حضور سرور عالمﷺ کے کئی قریبی رشتہ دار بھی حضورﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے اس تکلیف دہ ماحول سے متاثر ہو کر حضرت ابو طالب نے ایک قصیدہ لکھا جس میں اس طوطا چشمی پر ان رشتہ داروں کو عار دلائی ، اس قصیدہ کے چند شعر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 191دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: اکیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ سوم}
(حضورﷺ کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے دیگر مساعی : حصہ اول)

کفار مکہ کے جتنے وفد حضرت ابو طالب کے پاس گئے وہ نا کام و نا مراد لوٹے۔ لیکن کفار نے اب براہ راست حضور ﷺ سے سلسلہ گفتگو کا آغاز کیا۔ عتبہ بن ربیعہ، رؤساء قریش میں سے ایک سر بر آوردہ رئیس تھا۔ ایک روز صحن حرم میں قریش کی ایک محفل جمی ہوئی تھی۔ یہ بھی اس میں بیٹھا ہوا تھا۔ اور حضور نبی کریم ﷺ دور حرم کے ایک گوشہ میں یاد الہٰی میں مصروف تھے۔ عتبہ بولا۔ اے قریشی بھائیو! کیا میں محمد (روحی فداہ علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے پاس نہ جاؤں اور ان سے گفتگو کروں اور ان کے سامنے چند تجاویز پیش کروں شائد ان میں سے کوئی تجویز وہ مان لیں اور ہماری اس پریشانی کا خاتمہ ہو جائے۔ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نئے نئے مشرف با اسلام ہوئے تھے اور آئے روز مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ سب نے اس بات کی تائید کی اور کہا اے ابو الولید! اٹھئے اور ان سے گفتگو کیجئے۔ عتبہ اٹھا اور حضور ﷺ کے پاس جاکر بیٹھ گیا کچھ دیر سکوت طاری رہا پھر اس نے مہر سکوت توڑی اور یوں گویا ہوا۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 192 دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: بائیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ چہارم}
(حضورﷺ کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے دیگر مساعی : حصہ دوم)

اس قسم کا ایک اور واقعہ بھی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں یہ پیش کش تنہا عتبہ نے کی تھی اور مندرجہ ذیل روایت میں یہی پیش کش پوری قوم کے سر بر آوردہ لوگ اجتماعی طور پر بارگاہ حبیب کبریاء ﷺ میں پیش کرتے ہیں اس کے علاوہ یہاں حضورﷺ کا جواب پہلے جواب سے مختلف ہے نیز حضورﷺ کے اس جواب کے بعد کفار نے شدید قسم کے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ ساری چیزیں پہلی روایت میں نہیں ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں ایک دوسرے واقعہ کو بیان کیا جا رہا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں۔ کہ کفار کی دن بدن صورت حال بگڑتی جا رہی تھی۔ حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے تھے۔ چنانچہ بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے کے لئے سارے قبائل کے سردار جمع ہوتے ہیں جن میں سے چند سر بر آوردہ سرداروں کے نام یہ ہیں۔ عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ ۔ حضرت ابو سفیان بن حرب، نضر بن حرث۔ ابو البختری بن ہشام ، اسود بن مطلب، زمعہ بن اسود، ولید بن مغیرہ ، ابو جہل بن ہشام ، عبداللہ بن ابی امیہ، عاص بن وائل ، نبیہ اور منبہ پسران حجاج ، امیہ بن خلف وغیره۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ315)

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 193 دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: تئیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ پنجم}
(حضورﷺ کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے دیگر مساعی : حصہ سوم)

پھر وہ بولے۔ اگر ان کاموں میں سے کوئی کام آپﷺ نہیں کر سکتے تو چلیے آسمان کا ایک ٹکڑا ہم پر گرا کر ہمارا قصہ پاک کر دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا یہ کام اللہ کی مرضی پر موقوف ہے جو وہ چاہے تمہارے ساتھ کرے۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ315 -317)

ان کے ان مطالبات کو قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ الإسراء کی مندرجہ ذیل آیات میں تقریباً ان کے سارے مطالبات یکجاء کر دیئے گئے ہیں ارشاد خداوندی ہے۔
وَ قَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ یَنۡۢبُوۡعًا ﴿90﴾ اَوۡ تَکُوۡنَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّنۡ نَّخِیۡلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡہٰرَ خِلٰلَہَا تَفۡجِیۡرًا ﴿91﴾ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَ کَمَا زَعَمۡتَ عَلَیۡنَا کِسَفًا اَوۡ تَاۡتِیَ بِاللّٰہِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ قَبِیۡلًا ﴿92﴾ اَوۡ یَکُوۡنَ لَکَ بَیۡتٌ مِّنۡ زُخۡرُفٍ اَوۡ تَرۡقٰی فِی السَّمَآءِ ؕ وَ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیۡنَا کِتٰبًا نَّقۡرَؤُہٗ ؕ قُلۡ سُبۡحَانَ رَبِّیۡ ہَلۡ کُنۡتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوۡلًا ﴿93﴾
ترجمہ: اور وہ (کفّارِ مکّہ) کہتے ہیں کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری کر دیں۔ یا آپ کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو تو آپ اس کے اندر بہتی ہوئی نہریں جاری کر دیں یا جیسا کہ آپ کا خیال ہے ہم پر (ابھی) آسمان کے چند ٹکڑے گرا دیں یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں۔یا آپ کا کوئی سونے کا گھر ہو (جس میں آپ خوب عیش سے رہیں) یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، پھر بھی ہم آپ کے (آسمان میں) چڑھ جانے پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ آپ (وہاں سے) ہمارے اوپر کوئی کتاب اتار لائیں

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 194دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: چوبیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ ششم}
(حضورﷺ کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے دیگر مساعی : حصہ چہارم آخری حصہ)

ایسا کریں ایک سال آپ ہمارے خداؤں لات و عزیٰ وغیرہ کی ہمارے ساتھ مل کر پرستش کریں اور ایک سال ہم سب آپ کے ساتھ مل کر آپ کے خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور اس کا فلسفہ انہوں نے یہ بتایا کہ ایک تو یہ کہ ہماری آپس کی بے اتفاقی اور جنگ و جدال ختم ہو جائے گا دوسرا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یا ہم حق پر ہیں اور جن معبودوں کی عبادت کرتے ہیں وہی سچے خدا ہیں تو ایک سال جب آپ ہمارے ساتھ مل کر ان کی پوجا کریں گے تو ان کی برکتوں سے آپ بھی مالا مال ہو جائیں گے۔ اور اگر ہمارے معبود باطل ہیں اور آپ جس خداوند قدوس کی عبادت کرتے ہیں وہی سچا خدا ہے تو جب ہم ایک سال آپ کے ساتھ مل کر اس کی عبادت کریں گے تو اس کی مہربانی اور نوازشات سے ہماری جھولیاں بھر جائیں گی۔ ہم بھی اس طرح محروم نہیں رہیں گے۔ ان کا یہ شیطانی فلسفہ سن کر رحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری اس تجویز کا جواب اپنے رب سے پوچھ کر دوں گا مجھے اس کی وحی کا انتظار ہے چنانچہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام یہ سورت لے کر نازل ہوئے۔
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ ۙ﴿1﴾ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ ۙ﴿2﴾ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ۚ﴿3﴾ وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدۡتُّمۡ ۙ﴿4﴾ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ؕ﴿5﴾ لَکُمۡ دِیۡنُکُمۡ وَلِیَ دِیۡنِ﴿6﴾ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 195دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: پچیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ ہفتم}
(قرآن کریم کی اثر آفرینی :حصہ اول)

کفار اگرچہ بظاہر ضد اور تعصب کا مظاہرہ کرتے رہتے تھے۔ لیکن ان میں یہ جرأت بھی نہ تھی کہ حضورﷺ کی دعوت حق کو کلیۃ مسترد کر دیں۔ اس پاکیزہ اور رسیلی صدا کی گونج وہ اپنے نہاں خانہ دل میں واضح طور پر محسوس کرتے تھے جب کبھی انہیں خلوت میسر آتی یا رات کے سناٹے میں ان کی آنکھ کھل جاتی وہ اس دعوت کے اثرات کو اپنے آبائی عقائد پر یلغار کرتے ہوئے محسوس کرتے اور اس یلغار کے سامنے انہیں اپنے توہمات کے یہ قلعے ریت کے گھروندے محسوس ہونے لگتے اپنے، دلوں کی اس بے چینی سے نجات پانے کے لئے وہ طرح طرح کے حیلے کرتے لیکن بے چینی اور قلق ان کا پیچھا نہ چھوڑتا، انتہائی ضبط اور احتیاط کے باوجود کفر کے بڑے بڑے سرغنوں کی زبان پر بے ساختہ ایسے فقرے آ جاتے جو اُس کشمکش کا راز فاش کر دیتے جو ان کے قلوب و اذہان میں بڑے زور و شور سے برپا تھی۔ مثال کے طور پر چند واقعات ملاحظہ فرمائیے۔

نضر بن حارث بن علقمہ بن کلدہ بن عبد مناف: نضر قریش کا ایک رئیس تھا۔ پرلے درجے کا بد باطن اور خبیث النفس۔ اس کا شمار شیاطین قریش میں ہوتا تھا۔ اس کا دل حضورﷺ کے بغض اور عناد سے لبریز تھا۔ یہ حیرہ گیا وہاں ایران کے باشاد ہوں اور وہاں کے پہلوانوں، رستم و اسفند یار کے قصے کہانیاں سیکھ کر واپس آیا اور اپنے ساتھ ان کہانیوں کی کتابیں بھی لے آیا۔ حضورﷺ جب اپنے مواعظ حسنہ سے فارغ ہو کر واپس تشریف لے جاتے تو یہ اس مجلس میں آ کر برا جمان ہو جاتا اور لوگوں کو ایران کے بادشاہوں اور پہلوانوں کے عجیب و غریب قصے اور کہانیاں سناتا۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 196دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: چھبیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ ہشتم}
(قرآن کریم کی اثر آفرینی :حصہ دوم آخری حصہ)

قریش کے رئیسوں کا چھپ چھپ کر قرآن پاک سننا: سچ تو یہ ہے کہ بہت سے کافر ایسے تھے۔ جن کے دلوں کو قرآن کے حسن اعجاز نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ وہ یہ مانتے تھے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں لیکن انہیں حسد اور بغض اجازت نہ دیتا تھا کہ وہ اسلام کو قبول کرنے کا اعلان کریں۔ آیات قرآنی کی تلاوت سننے کا شوق صرف معمولی قسم کے لوگوں تک محدود نہ تھا۔ بلکہ وہ لوگ بھی اس کے سننے کے متوالے تھے جو دنیائے کفر کے رکن رکین تھے۔ چنانچہ امام ابن ہشام علیہ الرحمۃ نے اپنی سیرت کی شہرہ آفاق کتاب میں ایک حیران کن واقعہ قلم بند کیا ہے۔

حضور نبی کریمﷺ رات کے وقت تنہائی میں قرآن کریم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ایک رات اس روح پرور تلاوت کو سننے کے شوق میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ آئے اور چپکے سے ایک کونہ میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ پھر ابو جہل رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضورﷺ کی جاں نواز تلاوت کو سننے کے لئے اس مجلس میں آیا اور ایک گوشہ میں چپ کر کے بیٹھ گیا۔ تلاوت قرآن کریم سننے کی کشش ایک اور کافر اخنس بن شریق کو بھی کشاں کشاں اس محفل میں لے آئی وہ بھی دبک کر کہیں بیٹھ گیا، تینوں افراد قرآن سننے کے شوق میں یہاں بیٹھے تھے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 197دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: ستائیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ نہم}
(کفار مکہ اور اہل کتاب سے استفتاء)

حضورﷺ کو اپنے اس تبلیغی مشن سے باز رکھنے کے لئے کفار مکہ نے بڑے جتن کئے لیکن ان کی کوئی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی۔ ان کی پے در پے کوششیں ناکام ہو چکی تھیں لیکن ابھی تک اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کی مخالفت اور عداوت کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک رہی تھی جب ان کی آخری سازش بھی ناکام ہو گئی تو پھر وہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھے۔ نضر بن حارث نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر ہمارا ایک وفد یثرب جائے اور وہاں اہل کتاب کے علماء احبار سے ملاقات کرے اور ان سے ان کے بارے میں پوچھے کیا یہ سچے نبی ہیں یا نہیں۔ ممکن ہے ان کی راہنمائی سے ہم کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ جائیں اور اس مصیبت سے نجات کی کوئی صورت نکل آئے چنانچہ کفار مکہ نے اس مقصد کے لئے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو نامزد کیا اور انہیں کہا کہ آپ یثرب جائیں۔ وہاں کے یہودی علماء اور احبار سے ملاقات کریں اور ان صاحب کے حالات سے ان کو تفصیل سے آگاہ کریں پھر ان سے پوچھیں کیا یہ سچا نبی ہے یا نہیں۔ چونکہ ان کے پاس آسمانی صحیفہ تورات موجود ہے وہی اس عقدہ کو حل کر سکتے ہیں اور ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ دونوں اس مہم پر روانہ ہوئے، لق و دق صحراؤں، بنجر میدانوں، خشک پہاڑوں کو عبور کرتے ہوئے کئی دنوں کے بعد وہ یثرب پہنچے وہاں کے جید علماء سے رابطہ قائم کیا اور انہیں بتایا کہ ہمیں اہل مکہ نے آپ کی خدمت میں ایک خاص مقصد کے لئے روانہ کیا ہے۔
“قَدْ جِئْنَاكُمْ لِتُخْبِرُوۡنَا عَنْ صَاحِبِنَا هٰذَا”

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 198دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: اٹھائیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ دہم}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد : حصہ اول)

ان پُر آشوب حالات میں بغض و عناد کی ان تند آندھیوں میں بھی اللہ تعالیٰ کا محبوب ﷺاپنے رب کریم کی توحید کی دعوت کو عام کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے ہر گھر میں یہ پیغام پہنچا رہے ہیں۔ ہر مجمع میں اس کا اعلان فرما رہے ہیں۔ ہر خلوت میں اس کا ذکر ہے۔ مکہ کے ہر کوچہ و بازار میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا چرچا کر رہے ہیں۔ یہ ساری کوششیں ایک نقطہ پر مرکوز ہیں کہ جزیرہ عرب کے گوشہ گوشہ میں آپﷺ کے خالق قدیر کی یکتائی کا ڈنکا بجنے لگے انسانوں کی پیشانیاں معبودان باطل کے آستانوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف اس حَیٌّ وَ قَیُّوۡمٌ کی بارگاہ بے کس پناہ میں سجدہ ریز ہوں جو ساری کائنات کا سچا اور حقیقی خالق اور مالک ہے۔ ہر شخص جس سے ملاقات ہوتی ہے آزاد ہو یا غلام، کمزور ہو یا توانا، غریب ہو یا امیر، مرد ہو یا عورت سب کو یہی درس دیا جا رہا ہے ۔

“لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ” اس کے علاوہ دنیا کی کسی چیز سے کوئی سرو کار نہیں کفار و مشرکین اذیت رسانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہے لیکن ہر جور و ستم حضورﷺ کے ذوق بندگی اور شوق محبت کو کم کرنے کے بجائے فزوں سے فزوں تر کرتا چلا جاتا ہے۔ اس اذیت رسانی میں حضورﷺ کا چچا ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل، جس کا نام اروی بنت حرب بن امیہ ہے اور جو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بہن ہے سب سے پیش پیش ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 199 دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: انتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ گیارہواں}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد : حصہ دوم)

علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے “دُرّ منثور” میں یہ روایت نقل کی ہے ایک روز حضورﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے وہ آئی اور کہنے لگی یا محمد(ﷺ)! آپ ﷺنے کس بناء پر میری ہجو کی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا بخدا میں نے تیری مذمت نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیری ہجو کی ہے وہ کہنے لگی آپﷺ نے مجھے کبھی ایندھن سر پر اٹھائے دیکھا کہ جو مجھے حَمَّالَةَ الۡحَطَبِ کہا ہے اور کبھی میرے گلے میں کھجور کی چھال کی رسی دیکھی ہے کہ میرے بارے میں کہا: “فِيۡ جِيۡدِ هَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ” اس کے اس قول سے ان مفسرین کے قول کی تائید ہوتی ہے جنہوں نے “حَمَّالَةَ الۡحَطَبِ” کا معنی “چغل خوری کرنے والی” کیا ہے اور اس رسی سے وہ رسی مراد ہے جو آگ سے بنی ہو گی اور ستر گز لمبی ہو گی اور دوزخ میں اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔ اکثر علماء نے اس کا ترجمہ ایندھن اٹھانے والی کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن بھر جنگل میں کانٹے اور خار دار ٹہنیاں چنتی رہتی تھی اور رات کو حضور ﷺ کے راستہ میں پھینک دیتی تھی بعض روایات میں ہے جب سورة لہب نازل ہوئی تو ام جمیل نے سنی غصے سے بے قابو ہو گئی اور اپنے بھائی حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر گئی اور انہیں جا کر کہا اے میرے بہادر بھائی !کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہوا کہ محمد (ﷺ) نے میری ہجو کی ہے، کہنے لگے میں ابھی اس کا بدلہ لیتا ہوں پھر تلوار لے کر بجلی کی سرعت کے ساتھ گھر سے نکل گئے

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 200دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: تیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ بارہواں}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد :حصہ سوم)

ابو لہب کے بارے میں یہی ہے کہ وہ حضورﷺ کو اپنی زبان سے طعن و تشنیع کر کے غمزدہ کیا کرتا باز نہیں آتا تھا۔ لیکن ابو جہل کی عداوت میں نخست اور کمینگی بھی تھی وہ دست تعدّی دراز کرنے سے بھی باز نہیں آتا تھا۔
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں میں ایک دن مسجد میں تھا۔ ابو جہل ملعون آ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی نذر مانی ہے کہ اگر میں محمد ( ﷺ ) کو سجدہ کی حالت میں دیکھوں گا تو اپنا قدم آپﷺ کی گردن پر رکھوں گا۔ یہ سن کر میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے مذموم ارادہ سے آگاہ کیا۔ حضورﷺ غضبناک ہو کر اُٹھے اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے میں نے کہا کہ آج بڑا شر و فساد کا دن ہے۔ حضور ﷺ نے وہاں جا کر سورہ علق کی تلاوت شروع کی جب اس آیت پر پہنچے۔
کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ﴿6﴾ اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی ﴿7﴾
ترجمہ: (مگر) حقیقت یہ ہے کہ (نا فرمان) انسان سر کشی کرتا ہے۔اس بناء پر کہ وہ اپنے آپ کو (دنیا میں ظاہراً) بے نیاز دیکھتا ہے۔
(سورۃ العلق ،آیۃ6 – 7)

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 201دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: اکتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ تیرہواں}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد :حصہ چہارم)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس سلسلہ میں ایک دوسری روایت بھی منقول ہے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ قریش کی حضورﷺ کو اذیت رسانی کا کوئی واقعہ سنائیے تو انہوں نے بتایا ایک روز قریش کے رؤساء حجر میں اکٹھے تھے رسول کریم ﷺ کا ذکر چل نکلا کہنے لگے کہ ہم نے اس شخص کے طرز عمل پر جتنا صبر کیا ہے کبھی ایسا صبر ہم نے نہیں کیا اس نے ہمیں احمق کہا، ہمارے آباء و اجداد کو برا بھلا کہا، ہمارے دین کے عیب نکالے ، ہمارے خداؤں کو گالیاں دیں اور ہمارے قومی اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کر دیا اس نے ہمیں بہت بڑی مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے وہ اس قسم کی گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک حضور پر نور ﷺ دور سے آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ حضورﷺ آہستہ آہستہ کعبہ شریف تک پہنچے حجر اسود کو بوسہ دیا۔ پھر طواف کرنے لگے جب قریش کے مجمع کے پاس سے گزرے۔ تو انہوں نے پھبتیاں کسیں اور نا زیبا جملے کہے جن کو سن کر حضورﷺ کے رخ انور پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے۔ جب دوسری مرتبہ طواف کرتے ہوئے حضورﷺ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر وہی حرکت کی۔ میں نے دیکھ لیا۔ ناراضگی کے اثرات پھر چہرہ اقدس پر نمایاں تھے لیکن حضورﷺ خاموشی سے طواف میں مصروف رہے۔ تیسری مرتبہ طواف کرتے ہوئے جب حضورﷺ کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو انہوں نے پھر وہی نا زیبا حرکت کی۔ تو حضورﷺ رک گئے بڑے غصہ سے فرمایا۔
“اَ تَسْمَعُوۡنَ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ اَمَا وَالَّذِيۡ نَفْسِيۡ بِيَدِهٖ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِالذَّبۡحِ”
ترجمہ: اے گروہ قریش ! میری بات سن رہے ہو ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے پاس تمہارے قتل و ہلاکت کا پیغام لے کر آیا ہوں۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 202دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: بتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ چودہواں}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد : حصہ پنجم آخری حصہ)

زبیدی کا واقعہ: اراشی کے ساتھ جو گزری تھی اسی قسم کا ایک واقعہ زبیدی کو بھی پیش آیا۔ زبید یمن کا ایک شہر ہے۔ وہاں کا ایک آدمی اپنے تین اونٹ فروخت کرنے کے لئے مکہ لے آیا۔ ایک روز وہ حرم شریف میں آیا۔ جہاں جہاں قریش مجلسیں جمائے بیٹھے تھے۔ وہاں گیا ہر جگہ جا کر یہ فریاد کی کہ گروہ قریش ! اب کون تمہارے پاس سامان تجارت لے کر آیا کرے گا۔ کون دور دراز علاقوں سے خور و نوش کی چیزیں اونٹوں پر لاد کر تمہارے لئے آئے گا اور کون سا احمق تاجر ہے جو تمہاری منڈیوں میں اپنا سامان فروخت کرے گا۔ تمہاری یہ حالت ہے کہ تم حرم کا پاس بھی نہیں کرتے۔ جو شخص تمہارے پاس آتا ہے اس پر تم ظلم و تعدی کرنے سے باز نہیں آتے۔ وہ قریش کی تمام مجالس میں گیا لیکن کسی نے اس کی داد رسی کرنے کا دم نہ بھرا۔ سرکار دو جہاںﷺ بھی صحن حرم میں تشریف فرما تھے۔ حضورﷺ کے کئی غلام بھی حاضر خدمت تھے۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر یہاں پہنچا اور اپنی فریاد دہرائی ۔ رحمت عالمﷺ نے پوچھا: “مَنْ ظَلَمَكَ” ترجمہ: تجھ پر کس نے ظلم کیا ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 203دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: تینتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ پندرہواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ اول)

حضور نبی رؤوف و رحیمﷺ کی اپنی ذات، اپنی صفات حمیدہ کے باعث خود بھی بڑی محترم اور معظم تھی خواہ مخواہ دل حضورﷺ سے پیار کرنے پر اور حضورﷺ کی تعظیم بجا لانے پر مجبور ہوتے تھے۔ پھر حضورﷺ کو اپنے محترم چچا حضرت ابو طالب اور سارے خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب کی اس معاملہ میں تائید حاصل تھی کسی کو جرأت نہیں ہوتی تھی کہ حضورﷺ پر حملہ آور ہو سکے ورنہ جوانان بنی ہاشم اور مطلب کی شمشیریں حضورﷺ کے دفاع میں بے نیام ہو جاتیں لیکن آپ نے مطالعہ فرمایا کہ اس شخصی عظمت اور خاندانی سطوت کے باوجود مشرکین مکہ حضور ﷺ کو کس کس طرح ستایا کرتے تھے۔ طعن و تشنیع کے سارے تیر جو ان کی ترکش میں تھے ان کو وہ بے رحمی سے استعمال کرتے تھے جھوٹے الزامات اور بہتانوں کی بارش کرتے تھے۔ راستہ میں کانٹے بچھایا کرتے تھے۔ اپنے گھروں کا کوڑا کرکٹ حضور ﷺکے صحن میں پھینک دیا کرتے تھے۔ غلاظتیں اٹھا کر در اقدس پر ڈھیر کر دیا کرتے تھے، نماز بھی سکون اور اطمینان سے پڑھنے کی فرصت نہیں دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اگر اپنی خصوصی مہربانی سے اپنے حبیبﷺ کی حفاظت کا اہتمام نہ فرماتا تو ابو جہل اور ابو لہب کے ارادے تو بڑے ہی خطرناک تھے جب حضورﷺ سے ان کا یہ معاملہ تھا تو جو لوگ حضور ﷺ پر ایمان لائے تھے ان کے ساتھ ان کے جور و ستم کا کیا عالم ہو گا۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 204دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: چونتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ سولہواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ دوم)
(حضرت بلال رضی اللہ عنہ : حصہ اول)

آپ امیہ بن خلف کے غلام تھے اور ان ازلی سعادت مندوں میں سے تھے جن کا شمار السابقون الاولون میں ہوتا ہے امیہ کی اسلام دشمنی یہ کب برداشت کر سکتی تھی کہ اس کا زر خرید غلام اس کی مرضی کے بغیر اس کے بیشمار خداؤں کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور ایک خداوند حقیقی کی بندگی کا دم بھرنے لگے۔ اسے جب معلوم ہوا کہ اس کا غلام مسلمان ہو گیا ہے تو غصہ سے اس کا خون کھولنے لگا۔ اس نے عزم کر لیا کہ وہ اس جرم کی حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اتنی سخت سزا دے گا کہ اس کا برداشت کرنا ممکن نہ ہو گا۔ وہ مجبوراً اس نئے دین سے اپنا رشتہ توڑ لے گا وہ آپ کے گلے میں رسی ڈال کر آوارہ لڑکوں کے ہاتھوں میں پکڑا دیتا۔ وہ ان کا تمسخر اڑاتے ،مذاق کرتے، مکہ کی گھاٹیوں میں لے کر انہیں گھومتے اور گلیوں میں انہیں گھسیٹتے۔ لیکن میخانہ وحدت کا یہ مستانہ کیف و مستی میں کھویا رہتا۔ اور احد احد کے نعرے لگا لگا کر کفر و شرک کے حواریوں کا منہ چڑاتا رہتا۔ وہ بے شعور بچے، رسی کو اس زور سے کھینچتے کہ ان کی گردن پر گہری خراشیں پڑ جاتیں اور خون بہنے لگتا۔

حضرت حسان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اسلام قبول کرنے سے پہلے حج کرنے کے لئے مکہ آیا میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے گلے میں ایک لمبی رسی تھی جسے بچوں نے پکڑا ہوا تھا اور وہ اسے کھینچ رہے تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 205دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: پینتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ سترہواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ سوم)
(حضرت بلال رضی اللہ عنہ : حصہ دوم آخری حصہ)

علامہ حلبی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی وفات کا جب وقت آیا آپ کی اہلیہ محترمہ آپ کے سرہانے بیٹھی تھیں شدت غم سے ان کی زبان سے نکلا۔ وَا حُزۡنَاہُ. ترجمہ: ہائے میرا رنج و غم ۔
اس نزع کی حالت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ سن کر خاموش نہ رہ سکے ۔ فرمایا یہ مت کہو بلکہ کہو۔
“وَاَطْرَبَاهُ !غَدًا اُلْقِي الْاَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَہٗ وَكَانَ بِلَالُ يَمۡزُجُ مِرَارَةَ الْمَوْتِ بِحَلَاوَةِ اللِّقَآءِ”
ترجمہ:کیا خوشی کی گھڑی ہے کل ہماری اپنے پیاروں سے ملاقات ہو گی ۔ یعنی محمد مصطفیٰﷺ سے اور آپﷺ کے صحابہ سے ۔
گویا یہاں بھی حضرت بلال رضی اللہ عنہ موت کی کڑواہٹ کو ملاقات محبوبﷺ کی مٹھاس سے ملا رہے ہیں۔ آخر اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺ کی خوشخبری کے پورے ہونے کا وقت آ ہی گیا۔ ایک روز آگ کی طرح سلگتی ہوئی ریت پر آپ کو امیہ نے لٹایا ہوا تھا۔ آپ کے سینہ پر بھاری چٹان رکھی تھی کہ وہاں سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا۔ اپنے دینی بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر دل بھر آیا اور امیہ کو فرمایا۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 206 دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: چھتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ اٹھارہواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ چہارم)
(حمامہ رضی اللہ عنہا، عامر بن فہیرہ، ابو فکیھہ، زنیرہ اور اُمّ عُنَیس)

v

حضرت حمامہ رضی الله عنہا: یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں یہ بھی مشرف بہ اسلام ہو گئی تھیں ان کو بھی اس جرم میں ان کا کافر مالک طرح طرح کی سزائیں دیتا تھا اور اذیتیں پہنچایا کرتا انہیں بھی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے خرید کر ان کے بد باطن سنگدل مشرک آقا کے چنگل سے رہائی دلائی۔

حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ: یہ بنی تیم قبیلہ کے ایک شخص کے غلام تھے یہ شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ہم قبیلہ تھا۔ ان کے مسلمان ہو جانے کی وجہ سے وہ انہیں بہت دکھ پہنچایا کرتا وہ ان پر اتنا تشدد کرتا کہ ان پر غشی طاری ہو جاتی۔ اور انہیں پتہ ہی نہ چلتا کہ اس بے ہوشی کے عالم میں ان کی زبان سے کیا نکل رہا ہے۔ یہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وہ قابل اعتماد غلام ہیں کہ جب حضور ﷺ نے ہجرت کے سفر میں غار ثور میں قیام فرمایا تو یہ ریوڑ لے کر شام کو غار کے قریب پہنچ جاتے اور دودھ دوہ کر پیش کیا کرتے تھے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 207دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: سنتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ انیسواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ پنجم)
(النہدیہ اور ان کی بیٹی اور لطیفہ رضی اللہ عنہا)

حضرت النہدیہ اور ان کی بیٹی رضی اللہ عنہما: یہ دونوں ولید بن مغیرہ کی لونڈیاں تھیں۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ نے نعمت ایمان سے مالا مال کر دیا تھا پھر یہ ایک عورت کی ملکیت میں چلی گئیں جب یہ ایمان لے آئی تو یہ بے رحم مالکہ ان کو طرح طرح سے اذیتیں پہنچاتی اور کہتی کہ میں کبھی بھی تمہیں ستانے اور اذیت دینے سے باز نہیں آؤں گی یا جس نے تجھ کو بے دین کیا وہ تمہیں خرید کر آزاد کر دے۔ ایک دن وہ ماں بیٹی اپنی مالکہ کا آٹا پیسنے کے لئے جا رہی تھیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں خریدا اور اسی وقت آزاد کر دیا اس نے جو قیمت مانگی وہی اس کو دے دی اور انہیں کہا اب تم دونوں آزاد ہو۔ اور جو آٹا پیسنے کے لئے جا رہی تھیں اس کے بارے میں فرمایا وہ اس کو واپس کر دو۔ لیکن انہوں نے عرض کی ہم چاہتی ہیں کہ آٹا پیس کر ہم اس کے حوالے کریں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔
“ذَا كَمَا اِنْ شِئْتُمَا” ترجمہ:یہ تمہاری مرضی۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 208دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: اڑتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ بیسواں}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ ششم)

حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ: یہ آزاد ماں باپ کے آزاد فرزند تھے۔ کسی نے ان کو زمانہ جاہلیت میں پکڑ لیا اور اپنا اسیر بنا لیا۔ اور کسی منڈی میں جا کر فروخت کر دیا۔ اُم انمار نے ان کو خرید لیا آہن گری، ان کا پیشہ تھا۔ سرکار دو عالم ﷺ کو ان سے الفت تھی۔ حضورﷺ اکثر ان کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اس صحبت کی برکت سے آپ مشرف بہ اسلام ہو گئے ان کی مالکہ ام انمار کو جب یہ اطلاع ملی ۔ تو اس کی ناراضگی اور برہمی کی کوئی حد نہ رہی۔ وہ سنگ دل لوہے کا ایک ٹکڑا بھٹی میں گرم کرتی جب وہ لال سرخ ہو جاتا تو اسے چمٹے سے اٹھا کر حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھ دیتی۔ اس سے جو اذیت آپ کو پہنچتی ہو گی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک روز اپنے آقا ﷺ کی خدمت میں انہوں نے اپنی اس تکلیف کے بارے میں گزارش کی حضورﷺ نے دعا فرمائی۔
“اَللّٰهُمَّ انۡصُرۡ خُبَابًا” ترجمہ:اے اللہ ! اس آزمائش میں تو خباب کی مدد فرما۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 209دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار, حصہ: انتالیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ اکیسواں آخری حصہ}
(صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی روح فرسا داستانیں :حصہ ہفتم آخری حصہ)

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ: ان کو بھی آگ سے عذاب دیا جاتا تھا۔ ابن جوزی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں بسا اوقات سرکار دو عالمﷺ ایسے اوقات میں تشریف لاتے جب انہیں آگ سے عذاب دیا جا رہا ہوتا۔ حضورﷺ اپنا دست شفقت ان کے سر پر پھیرتے اور فرماتے۔
“یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰی عَمَّارٍ كَمَا كُنْتِ عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ”
ترجمہ:اے آگ ! جس طرح تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے ٹھنڈی اور سلامتی کا باعث تھی اسی طرح عمار کے لئے بھی ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی کا باعث بن جا۔

ایک روز حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے اپنی پشت سے قمیض اٹھائی تو وہاں برص کی طرح سفید داغ تھے۔ در حقیقت یہ آگ کے انگاروں کے جلانے کے نشانات تھے۔ جو برص کے داغوں کی طرح سفید ہو گئے تھے۔ اور انگاروں کا ان کو جلانا، حضورﷺ کی دعا سے پہلے پہلے تھا۔ اس مبارک دعا کے بعد پھر ان انگاروں کی مجال نہ تھی کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو جلاتے اور اذیت دیتے۔
(السيرة الحلبیہ، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 286)

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 210ہجرت حبشہ: حصہ اول}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ اول}

حضور نبی کریم ﷺ کی حفاظت کا وعدہ خود رب العالمین نے فرمایا تھا۔
“وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ” ترجمہ:کہ لوگوں کے شر سے اللہ تعالیٰ آپﷺ کو بچائے گا۔
نیز آپﷺ کے چچا ابو طالب اور خاندان بنو ہاشم کے دیگر لوگ بھی حضور ﷺ کے دفاع کے لئے ہمیشہ مستعد رہا کرتے تھے۔ دیگر اعلیٰ خاندانوں کے افراد جو اسلام لائے تھے ان کے تحفظ کی ضمانت ان کے خاندان والوں نے دی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود کفار جب بھی ان کا بس چلتا۔ سرور عالم ﷺ اور ان با رسوخ صحابہ کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے لیکن اکثریت ان لوگوں کی تھی جو کافر آقاؤں کے غلام تھے۔ یا غریب اور نادار لوگ تھے جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ کفار کا رویہ ان لوگوں کے ساتھ انتہائی سنگدلانہ بلکہ وحشیانہ تھا۔ جن کا مختصر تذکرہ آپ ابھی پڑھ آئے ہیں۔ نیز آپ نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا ہے کہ کفار مکہ نے نضر بن حارث، عقبہ بن ابی معیط کو یثرب بھیجا تھا تا کہ وہاں کے یہودی علماء سے حضور ﷺ کے بارے میں دریافت کریں چنانچہ ان علماء نے حضور ﷺ کی صداقت کو پرکھنے کے لئے انہیں تین سوالات پوچھنے کی تلقین کی۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 211ہجرت حبشہ: حصہ دوم}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ دوم}

ہجرت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ: جب اہل مکہ کو معلوم ہوا کہ اہل اسلام کا ایک قافلہ ہجرت کر کے حبشہ روانہ ہو گیا ہے تو ان کے غیظ و غضب کی کوئی حد نہ رہی۔ پہلے بھی وہ بے کس مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے۔ لیکن اب تو انہوں نے مظالم کی انتہا کر دی۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسے با رسوخ اور متمول تاجر کے لئے بھی مکہ میں رہنا مشکل ہو گیا۔ آپ بھی مجبور ہو گئے کہ اس بستی سے نقل مکانی کر جائیں جس بستی کے رہنے والے ظلم ڈھانے میں درندوں کو بھی مات کر گئے ہیں۔ چنانچہ ایک روز آپ بھی حبشہ جانے کے لئے مکہ سے روانہ ہو گئے ۔ جب آپ “برك الغماد ” ( ایک بستی ) پہنچے جو مکہ سے پانچ دن کی مسافت پر ہے تو آپ کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوئی یہ قبیلہ قارہ کا سردار تھا۔ بنو قارہ بنو زہرہ قبیلہ کے حلیف تھے۔ ابن الدغنہ نے پوچھا اے ابو بکر! آپ کدھر جارہے ہیں آپ نے جواب دیا۔ کہ میری قوم نے مجھے مکہ سے نکال دیا ہے میں اب زمین میں سیر و سیاحت کیا کروں گا۔ اور اپنے رب کی عبادت کروں گا۔اس نے کہا۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 212ہجرت حبشہ: حصہ سوم }

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ سوم}

ماہ رجب بعثت کے پانچویں سال میں مہاجرین کا یہ پہلا کارواں حبشہ روانہ ہوا۔ تین ماہ کا عرصہ انہوں نے بڑے امن و عافیت سے گزارا ایک روز انہیں اطلاع ملی کہ اہل مکہ نے اسلام قبول کر لیا ہے اب وہاں مکمل امن و امان ہے۔ کسی کافر کی مجال نہیں کہ فرزندان اسلام کو اب اذیت پہنچائے ۔ ان مہاجرین نے باہمی مشورہ کیا کہ جس ظلم و تشدد کے خوف سے ہم اپنا وطن عزیز اور اہل و عیال چھوڑ کر آئے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دور ہو گیا ہمیں اب واپس اپنے وطن لوٹ جانا چاہئے ۔چند لوگوں نے واپسی کا فیصلہ کیا۔ دوسرے حضرات نے کہا کہ ابھی کوئی پختہ اطلاع نہیں آئی۔ اس لئے جلدی میں واپسی کا فیصلہ دانش مندانہ نہیں۔ ہمیں صبر کرنا چاہئے یہاں تک کہ حضور کریمﷺ کا کوئی قاصد آئے اور ہمیں اس کے بارے میں بتائے۔ بعض مورخین نے اہل مکہ کے مسلمان ہونے کی افواہ گرم ہونے کی ایک وجہ بیان کی ہے۔ اگرچہ وہ سراسر باطل ہے اور اس لائق نہیں کہ اسے یہاں لکھا جائے لیکن بعض کتب سیرت و تفسیر میں وہ مذکور ہے اس لئے اب اس کا لکھنا ضروری ہے تاکہ اس کے مطالعہ سے کسی کے دل میں کوئی شک و شبہ پیدا ہوا ہو تو اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ وہ بے سر و پا روایت یہ ہے کہ ایک روز نبی کریم ﷺ نے حرم شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت کی۔ 

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 213ہجرت حبشہ: حصہ چہارم}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ چہارم}

ایک معمولی سمجھ بوجھ کا انسان جسے حضور نبی اکرمﷺ کے مقام کا کچھ بھی علم ہے وہ تو اس روایت کو سنتے ہی کہہ دے گا کہ یہ جھوٹ کا پلندا ہے اور دشمنان اسلام کی سازش ہے لیکن آئیے علماء محققین کے ارشادات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیں۔ سب سے پہلے ہم علامہ ابن حیان غرناطی علیہ الرحمۃ کے جواب کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جامع ہونے کے ساتھ مختصر بھی ہے۔ ابتداء میں انہوں نے اس آیت کا وہی مطلب بیان کیا ہے جو ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں کہ اس آیت میں کوئی ایسی چیز مذکور نہیں جو رحمت عالمیان ﷺ کی طرف منسوب کی جا سکے بلکہ اس میں صرف پہلے رسولوں اور نبیوں کا ذکر ہے اس لئے اس آیت سے یہ اخذ کرنا کہ حضور ﷺ سے کوئی فعل سرزد ہوا اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی سرے سے ہی غلط ہے۔

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 214ہجرت حبشہ: حصہ پنجم}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ پنجم}

علامہ ابو عبد الله القرطبی علیہ الرحمۃ نے بھی “احکام القرآن” میں اس روایت کی خوب تردید کی ہے اور ہر ہر سلسلہ روایت پر بحث کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔
“فِیۡ ذٰلِكَ رِوَايَاتٌ كَثِيۡرَةٌ كُلُّهَا بَاطِلٌ لَا اَصْلَ لَہٗ”
ترجمہ: یہ سب کی سب باطل ہیں۔ ان کا کوئی ثبوت نہیں اور کیونکہ یہ روایت ضعیف ہے اس لئے اس کی تاویل کرنے کی بھی قطعا کوئی ضرورت نہیں ۔
“وَضُعۡفُ الْحَدِيۡثِ مُغْنٍي عَنْ كُلِّ تَاۡوِيۡلٍ”
آخر میں فرماتے ہیں کہ اگر اس روایت کی کوئی سند صحیح بھی ثابت ہو جائے تو بھی وہ ضعیف اور نا قابل اعتبار ہوگی کیونکہ آیات قرآنی کے صراحت مخالف ہے اور اب تو یہ روایت آیات قرآنی کے بھی خلاف ہے اور اس کی کوئی صحیح سند بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں اہل نظر کے لئے یہ کب قابل التفات ہو سکتی ہے۔
“وَهٰذَا ضِدُّ مَفْھُوۡمِ الْاٰيَةِ وَهِيَ تُضَعِّفُ الْحَدِيۡثَ لَوصَحَّ فَكَيْفَ وَلَا صِحَّةَ لَهٗ”
علامہ قرطبی علیہ الرحمۃ نے قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔
“اِنَّ الْاُمَّةَ اَجْمَعَتْ فِيۡ مَا طَرِيۡقُهُ الْبَلَاغُ اِنَّهٗ مَعْصُوۡمٌ فِيۡهِ مِنَ الْاِضْمَارِ عَنْ شَيْءٍ بَخِلَافِ مَا هُوَ عَلَيْهِ لَا قَصۡدًا وَّلَا عَمَدًا وَلَا سَهۡوًا وَلَا غَلَطًا”
ترجمہ:یعنی امت کا اس بات پراجماع ہے کہ تبلیغ کلام الہٰی میں حضور ﷺ سے ہرگز غلطی نہیں ہو سکتی نہ قصدا نہ عمدا نہ سہوا اور نہ غلطا۔ اس میں نبی ہر طرح معصوم ہے

عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 215ہجرت حبشہ: حصہ ششم}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ ششم آخری حصہ}
(حبشہ سے واپس آنے والوں پر کیا بیتی)

حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جو مکہ لوٹ آئے تھے اور ولید بن مغیرہ نے انہیں پناہ دی تھی۔ دوسرے حضرات کو بھی کسی نہ کسی رئیس نے پناہ دی اور وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو گئے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کسی نے پناہ نہ دی۔ آپ بغیر کسی پناہ کے مکہ مکرمہ واپس آ گئے قلیل عرصہ یہاں قیام کیا پھر حبشہ چلے گئے۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو ولید بن مغیرہ نے پناہ دی تھی آپ امن و سکون کے ساتھ مکہ میں اپنے دن گزار رہے تھے کوئی کافر آپ کو کچھ نہیں کہتا تھا۔ لیکن آپ دیکھتے تھے کہ ان کے دوسرے دینی بھائیوں پر کفار بڑا تشدد کر رہے ہیں۔ ان کی ایمانی غیرت یہ برداشت نہ کر سکی کہ ان کے دینی بھائیوں پر تو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں اور وہ ایک کافر کی پناہ لے کر عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہوں چنانچہ انہوں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ ولید کی پناہ اس کو لوٹا دیں گے۔ تاکہ کفار ان کو بھی اسی طرح تشدد کا نشانہ بنائیں۔ جس طرح دوسرے مسلمانوں پر وہ جور و ستم کر رہے ہیں آپ رضی اللہ عنہ ولید کے پاس گئے اور کہا اے عبد شمس ! تو نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ لیکن اب میں تمہاری پناہ میں نہیں رہنا چاہتا اس لئے تمہاری پناہ کو واپس کرتا ہوں ۔ اس نے پوچھا بھانجے کیا بات ہے کیا کسی نے تجھ پر کوئی زیادتی کی ہے؟ آپ نے کہا۔

Scroll to Top