Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 213ہجرت حبشہ: حصہ چہارم}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ چہارم}


ایک معمولی سمجھ بوجھ کا انسان جسے حضور نبی اکرمﷺ کے مقام کا کچھ بھی علم ہے وہ تو اس روایت کو سنتے ہی کہہ دے گا کہ یہ جھوٹ کا پلندا ہے اور دشمنان اسلام کی سازش ہے لیکن آئیے علماء محققین کے ارشادات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیں۔ سب سے پہلے ہم علامہ ابن حیان غرناطی علیہ الرحمۃ کے جواب کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جامع ہونے کے ساتھ مختصر بھی ہے۔ ابتداء میں انہوں نے اس آیت کا وہی مطلب بیان کیا ہے جو ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں کہ اس آیت میں کوئی ایسی چیز مذکور نہیں جو رحمت عالمیان ﷺ کی طرف منسوب کی جا سکے بلکہ اس میں صرف پہلے رسولوں اور نبیوں کا ذکر ہے اس لئے اس آیت سے یہ اخذ کرنا کہ حضور ﷺ سے کوئی فعل سرزد ہوا اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی سرے سے ہی غلط ہے۔

ابن عطیہ زمخشری علیہ الرحمۃ اور چند دوسرے لوگوں نے اپنی تفسیروں میں جو روایت یہاں نقل کی ہے یہ بات تو ایک معمولی مسلمان سے بھی سر زد نہیں ہو سکتی، چہ جائیکہ اس کو اس ذات پاک ﷺکی طرف منسوب کیا جائے جو ہر قسم کی غلطی اور خطا سے معصوم ہے نیز اس روایت کے متعلق سیرت کے معتبر ترین سوانح نگار امام محمد بن اسحاق علیہ الرحمۃ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا۔
“هٰذَا مِنْ وَضْعِ الزَّنَادِقَةِ”
ترجمہ:یہ روایت زندیقوں کی گھڑی ہوئی ہے اور اس کے رد میں انہوں نے پوری ایک کتاب تصنیف فرمائی۔

امام بیہقی علیہ الرحمۃ کہتے ہیں .
“هٰذِهِ الْقِصَّةُ غَيْرُ ثَابِتَةُٗ مِّنْ جِهَةِ النَّقۡلِ”
ترجمہ:یہ قصہ صحیح نقل سے ثابت ہی نہیں ہے اور جن راویوں نے اسے نقل کیا ہے سب مطعون (مردود) ہیں۔
صحاح ستہ اور دیگر حدیث کی مشہور کتابوں میں اس کا نام و نشان نہیں ۔
“فَوَجَبَ اِطۡرَاحُهٗ” ترجمہ: اس لئے اس کو ردی چیز کی طرح پھینک دینا ضروری ہے۔

ابن حیان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ اسی لئے میں نے اپنی تفسیر کو اس کے بیان سے آلودہ نہیں کیا مجھے ان لوگوں پر حیرت ہے کہ انہوں نے اپنی تالیفات میں اس واقعہ کو لکھنے کی کیسے جسارت کی حالانکہ قرآن کریم کی ان آیات کو وہ تلاوت کرتے ہیں اس سورہ والنجم کے آغاز میں ہے۔
وَ النَّجۡمِ اِذَا ہَوٰی ۙ﴿1﴾ مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمۡ وَ مَا غَوٰی ۚ﴿2﴾ وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿3﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿4﴾
ترجمہ:قَسم ہے روشن ستارے (محمد ﷺ) کی جب وہ (چشمِ زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر) نیچے اترے۔ تمہیں (اپنی) صحبت سے نوازنے والے (رسول ﷺ جنہوں نے تمہیں اپنا صحابی بنایا) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے۔ اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے۔ اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔ (سورۃ النجم، آیۃ: 1-4 )
ان روشن آیات کی موجودگی میں یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس سورۃ میں ایسے قبیح کلمات زبان پاکﷺ سے نکلے ہوں۔

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبﷺ کو یہ اعلان کرنے کا حکم دیا۔
قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَ مَاۤ اَدۡرِیۡ مَا یُفۡعَلُ بِیۡ وَ لَا بِکُمۡ ؕ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ وَ مَاۤ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۹﴾
ترجمہ:آپ فرما دیں کہ میں (انسانوں کی طرف) کوئی پہلا رسول نہیں آیا (کہ مجھ سے قبل رسالت کی کوئی مثال ہی نہ ہو) اور میں اَز خود (یعنی محض اپنی عقل و درایت سے) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور نہ وہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا، (میرا علم تو یہ ہے کہ) میں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے (وہی مجھے ہر شے کا علم عطا کرتی ہے) اور میں تو صرف (اس علم بالوحی کی بنا پر) واضح ڈر سنانے والا ہوں۔(سورۃ الاحقاف، آیۃ: 9 )
اللہ تعالی ٰنے واضح الفاظ میں یہ اعلان کر دیا۔
وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿44﴾ لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ ﴿45﴾ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ ﴿46﴾
ترجمہ:اور اگر وہ ہم پر کوئی (ایک) بات بھی گھڑ کر کہہ دیتے۔ تو یقیناً ہم اُن کو پوری قوت و قدرت کے ساتھ پکڑ لیتے۔ پھر ہم ضرور اُن کی شہ رگ کاٹ دیتے۔
(سورۃ الحاقۃ، آیۃ: 9 )
کیا اس ارشاد کے بعد اس چیز کا گمان بھی کیا ج سکتا ہے ( ان کے علاوہ کئی اور آیات بھی انہوں نے پیش کی ہیں) پھر لکھتے ہیں کہ یہ قرآنی نصوص قطعیہ ہیں جو حضور ﷺ کی عصمت پر دلالت کرتی ہیں۔ پھر فرماتے ہیں عقلی طور پر بھی یہ روایت من گھڑت ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہونا ممکن ہوتا تو تمام احکام، آیات اور سارا دین مشکوک ہو جاتا۔

امام فخرالدین رازی علیہ الرحمۃ نے بھی زور شور سے اس روایت کا رد کیا ہے لکھتے ہیں۔ اگرچہ سطحی قسم کے لوگوں نے اس روایت کو لکھا ہے لیکن علماء محققین کا اس کے متعلق یہ فیصلہ ہے ۔
“هٰذِهِ الرِّوَايَةُ بَاطِلَةٌ مَوْضُوۡعَةً” ترجمہ:یہ روایت جھوٹی ہے گھڑی ہوئی ہے اور ۔
“وَاحۡتَجُّوۡا عَلَیۡہِ بِالۡقُرۡاٰنِ وَالسُّنَّةِ وَالْمَعْقُوۡلِ”
ترجمہ:اور اس کے بطلان اور موضوع ہونے پر ان علماء نے قرآن سنت اور عقلی دلائل پیش کئے ہیں۔
اور اس کے بعد امام موصوف نے مرقومہ بالا آیات ذکر کی ہیں اور امام محمد بن اسحاق علیہ الرحمۃ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ قصہ زندیقوں کا گھڑا ہوا ہے۔ عقلی دلائل پیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں جو شخص کہتا ہے کہ حضور پر نور ﷺ نے بتوں کے بارے میں تعریفی جملے کہے وہ کافر ہے۔ کیونکہ اس طرح تو حضورﷺ کی بعثت کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے نیز شریعت، قرآن اور دین اسلام کی کسی بات پر یقین نہیں رہتا۔ پھر فرماتے ہیں ان دلائل سے روز روشن کی طرح واضح ہو گیا۔
“اِنَّ هٰذِهِ الْقِصَّةُ مَوْضُوۡعَۃٌ” ترجمہ:یہ قصہ موضوع ہے۔
اس کے حق میں زیادہ سے زیادہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بعض مفسروں نے اسے لکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے ۔
“خَبۡرُ الْوَاحِدِ لَا يُعَارِضُ الدَّلَآئِلَ النَّقْلِيَّةَ وَالۡعَقۡلِيَّةَ”
ترجمہ:کہ یہ خبر واحد ہے اور دلائل عقلیہ اور نقلی جو حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہوں ان کے سامنے اس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
اس روایت کے ناقلین نے اس کی جو مختلف تاویلیں کی ہیں۔ امام موصوف نے ان کی دھجیاں بکھیر کر رکھی دی ہیں اور فرمایا ہے کہ اس روایت کی کوئی تاویل درست نہیں۔ اس کا کوئی صحیح محل اور مصداق تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ روایت اپنی تمام تاویلات، احتمالات اور اختلاف الفاظ کے ساتھ مسترد کر دینے کے قابل ہے۔
“فَجَزَآہُ اللَّهُ عَنِ الْاِسْلَامِ وَ عَنِ الْمُسْلِمِيۡنَ اَحۡسَنَ الۡجَزَآءِ”
(خلاصہ تفسیر کبیر)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top