سیرت النبیﷺ کی اقساط
قسط نمبر 71 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
(حصہ: اڑسٹھ)
{ہندوستان : حصہ اٹھارہواں}
فرقہ بازی:
قسط نمبر 72 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{ہندوستان : حصہ انیسواں}
برہمنوں کا دوبارہ عروج اور اس کے اثرات:
قسط نمبر 73 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{ہندوستان : حصہ بیسواں}
(سیاسی حالات)
قسط نمبر 74 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{ہندوستان : حصہ اکیسواں}
(اخلاقی اور معاشی حالات)
خلاقی حالت: آپ گزشتہ صفحات میں پڑھ آئے ہیں کہ”سوما” کے پودے کو تمام پودوں کا بادشاہ کہا جاتا اور اس سے کشید کی ہوئی شراب کو پجاری پی کر پوجا کیا کرتے۔ سوما، خود بھی ان کے دیوتاؤں میں سے ایک دیوتا تھا جس کی پوجا کی جاتی تھی کیونکہ اس سے ایسی عمدہ اور نشہ آور شراب بنتی تھی جسے پی کر انسان سرمست و مخمور ہو جاتا۔ یہ بھی آپ پڑھ آئے ہیں کہ بڑے بڑے مندروں میں دیوداسیوں کے طائفے ہوتے تھے جو ان مورتیوں کے سامنے رقص کیا کرتیں اور گیت گایا کرتیں اور مندر کے پروہت کو اختیار تھا کہ وہ کسی پجاری کو شاد کام کرنے کے لئے کسی دیوداسی کو اس کے پاس شب بسری کے لئے بھیج دے۔ علامہ بیرونی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے مسٹر ویدیا، جو ہندو مورخ ہیں وہ لکھتے ہیں: اس میں شک نہیں کہ تمام مندروں میں پیشہ ور عورتیں ناچنے کے لئے اپنی زندگی کو وقف کئے ہوئے تھیں۔ خاص کر شیو جی کے مندروں میں یہ رسم عام تھی اور راجے ان مندروں سے خاص آمدنی حاصل کرتے تھے۔
قسط نمبر 75 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین : حصہ اول}
قسط نمبر 76 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین : حصہ دوم}
(چین سیاسی حالات، معاشرہ اور مذہب)
قسط نمبر 77 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین : حصہ سوم}
(کانفیوشس : حصہ اول)
قسط نمبر 78 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین :حصہ چہارم}
(کانفیوشس : حصہ دوم)
قسط نمبر 79 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین : حصہ پنجم آخری حصہ}
(کانفیوشس : حصہ سوم آخری حصہ)
قسط نمبر 80 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{جزیرہ عرب : حصہ اول}
قسط نمبر 81 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{جزیرہ عرب : حصہ دوم}
(جزیرہ عرب کی تقسیم)
قسط نمبر 82 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{جزیرہ عرب : حصہ سوم}
کیا سارا جزیرہ عرب بنجر اور بے آب و گیاہ ریگستان ہے؟
قسط نمبر 83 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{جزیرہ عرب : حصہ چہارم}
(عربی قبائل : حصہ اول)
جزیرہ عرب کا حدود اربعہ اور اس کی طبعی تقسیمات کے بیان کے بعد اب ہم اختصار کے ساتھ عرب کے قبائل اور اس کے باشندوں کے بارے میں کچھ تفصیلات پیش کرتے ہیں۔ عرب کے مورخین نے اہل عرب کو ابتداء میں دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے جو العرب البائدہ اور العرب الباقیہ کے نام سے موسوم ہیں۔
العرب البائدہ: سے مراد وہ قبیلے اور خاندان ہیں جنہیں گردش لیل و نہار نے فنا کر دیا ہے ان کے بارے میں نہ صحیح تاریخی معلومات ہمارے پاس موجود ہیں اور نہ ان کے ایسے اثار موجود ہیں جن سے ان کی عظمت اور اقبال مندی کے بارے میں کچھ اندازہ لگایا جا سکے اب ان کی یادگار صرف ان کے نام رہ گئے ہیں جو آسمانی کتابوں میں یا عرب شعراء کے کلام میں کہیں کہیں موجود ہیں ان فنا ہو جانے والوں میں سے مشہور قبائل یہ ہیں عاد ، ثمود، طسم ، جدیس ، جرہم الاولیٰ ۔ لیکن بعض مورخین کا یہ خیال ہے
قسط نمبر 84 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{جزیرہ عرب : حصہ پنجم}
(عربی قبائل : حصہ دوم)
قسط نمبر 85 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{جزیرہ عرب : حصہ ششم}
(عربی قبائل :حصہ سوم ~ آخری حصہ)
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ دوم)
(مملکت سبا:حصہ اول)
{جزیرہ عرب : حصہ نہم}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ سوم)
(مملکت سبا:حصہ دوم)
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ چہارم)
(مملکت حمیر:حصہ اول)
قسط نمبر90 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستاسی )
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ پنجم)
(مملکت حمیر:حصہ دوم)
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ ششم)
(مملکت حیرہ: حصہ اول)
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ ہفتم)
(مملکت حیرہ:حصہ دوم)
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ ہشتم آخری حصہ)
قسط نمبر94 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ ( حصہ: اکانوے )
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ اول)
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ دوم)
قسط نمبر 96 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ترانوے)
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ سوم)
(اہل عرب کی سخاوت و فیاضی:حصہ اول)
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ چہارم)
(اہل عرب کی سخاوت و فیاضی:حصہ دوم آخری حصہ)
ایک اور شاعر اپنے ممدوح کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے۔
سَاَشْكُرُ عُمۡرََوا اِنۡ تَرَافَتْ مَنِيَّتِيۡ
اَبَادِيۡ لَمْ تُمْنُنْ وَاِنْ مَعِيَ جَلَّتٖ
اگر موت نے مجھے مہلت دی تو میں عمرو کا ان نعمتوں پر شکریہ ادا کروں گا جو اگرچہ جلیل القدر ہیں لیکن اس نے کبھی مجھ پر ان کا احسان نہیں جتلایا۔
فَتًی غَيۡرُ مَحۡجُوۡبِ الۡغِنٰى عَنْ صَدِيۡقِهٖ
وَلَا مُظۡهِرِ الشِّكۡوٰى اِذَ النَّعْلُ زَلَّتٖ
وہ ایسا جوان ہے کہ اپنے دوست سے اپنی دولت کو چھپا کر نہیں رکھتا اور اگر اس کا پاؤں پھسل جائے تو اس پر شکوہ سنج نہیں ہوتا۔
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ پنجم)
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ ششم)
(اہل عرب کی وفائے عہد کی شان: حصہ اول)
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ ہفتم)
(اہل عرب کی وفائے عہد کی شان:حصہ دوم)
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ ہشتم)
(اہل عرب کی غیرت و حمیت:حصہ اول)
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ نہم)
(اہل عرب کی غیرت و حمیت:حصہ دوم آخری حصہ)
(اہل عرب کی زندگی کا تاریک پہلو: حصہ اول)
(اہل عرب کی زندگی کا تاریک پہلو: حصہ دوم آخری حصہ)
(بتوں کے بارے میں کفار کا عقیدہ:حصہ اول)
(بتوں کے بارے میں کفار کا عقیدہ:حصہ دوم آخری حصہ)
(بتوں کے بارے میں ان کا رویہ:حصہ اول)
{جزیرہ عرب : حصہ انتیسواں}
(بتوں کے بارے میں کفار کا رویہ:حصہ دوم آخری حصہ)
زنادقہ: قریش میں سے ایک گروہ زندیقوں کا بھی تھا۔ ابن قتیبہ نے “کتاب المعارف” میں جہاں عرب کے زمانہ جاہلیت کے ادیان کا ذکر کیا ہے وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ قریش کے زندیقوں نے اس مسلک کو حیرہ سے اخذ کیا تھا۔
(کتاب المعارف لابن قتیبہ، صفحہ 266)
اہل حیرہ کائنات کے دو اصلوں کے قائل تھے نور اور ظلمت، نور خیر کا کرنے والا تھا۔ اور ظلمت ، شر کی فاعل تھی یہ دونوں اصل ازلی اور ابدی تھے سمع، بصر اور ادراک کی صفت سے متصف تھے نفس اور صورت میں مختلف تھے۔ ان کے افعال اور تدابیر میں تضاد تھا۔ نور، خوبصورت اور خوشبودار تھا۔ اس کا نفس کریم، حکیم اور نفع بخش تھا۔ ہر قسم کی بھلائیاں، خوشیاں اور اصلاحی کام اس سے صادر ہوتے تھے اور ظلمت اس کے بر عکس تھی۔
(بعض اہل حق:حصہ دوم)
(زید بن عمرو بن نفیل، امیہ بن ابی صلت و اسعد ابو کرب الحمیری)
(بعض اہل حق:حصہ دوم)
(زید بن عمرو بن نفیل، امیہ بن ابی صلت و اسعد ابو کرب الحمیری)
(بعض اہل حق:حصہ سوم)
(سیف بن ذی یزن)
(بعض اہل حق:حصہ چہارم آخری حصہ)
(ورقہ بن نوفل القرشی و خالد بن سنان بن غیث العبسی)
( اہل عرب کی عبادات)
( اہل عرب کی لغو عادات:حصہ دوم)
ان کی جاہلانہ رسوم میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ جب بارش برسنا بند ہو جاتی اور قحط سالی کا دور دورہ ہوتا تو وہ سلع اور عشر ( دو درختوں کے نام ) کی ٹہنیاں کاٹ کر ایک گائے کی دم کے ساتھ باندھ دیتے ان شاخوں کو آگ لگا دیتے اور اس گائے کو دشوار گزار پہاڑیوں میں لٹھ مار کر بھگا دیتے اور یہ خیال کرتے کہ ان کے اس طریقہ سے بادل امڈ کر آئیں گے بجلی چمکے گی اور موسلا دھار بارش برسے گی۔ ایک اعرابی اس لغو حرکت پر اظہار نفرین کرتے ہوئے کہتا ہے۔
شَفَعْنَا بِبَيْقُوۡرٍ اِلٰى هَاطِلِ الْحَيَا
فَلَمْ يُغْنِ عَنَّا ذَاكَ بَلْ زَادَنَا جَدْیَا
ہم نے اس گائے سے شفاعت طلب کی جس کی دم سے وہ شاخیں باندھ کر آگ لگا دی گئی تھی تاکہ موسلا دھار بارش برسے۔ لیکن اس چیز نے ہمیں کوئی نفع نہ پہنچایا بلکہ خشک سالی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ دوم)
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ سوم)
(مقتول کی دیت و معاقرہ)
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ چہارم)
(چرا گاہوں پر اجارہ داری، بحیرہ و سائبہ)
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ چہارم)
(چرا گاہوں پر اجارہ داری، بحیرہ و سائبہ)
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ پنجم)
(اہل عرب میں شادی بیاہ کے مروّج طریقے)
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ ششم آخری حصہ)
(بچیوں کو زندہ درگور کرنا)
قسط نمبر120 زم زم کی کھدائی
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر126(طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ:حصہ چہارم)
(تاریخ ولادت باسعادت سرور عالمﷺ:حصہ دوم)
قسط نمبر127طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ:حصہ پنجم)
(ولادت سرور عالمﷺ:حصہ سوم آخری حصہ)
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر128(مولد مقدس و شکر خداوندی)
مولد مقدس (وہ مقدس مکان جہان ولادت النبیﷺ ہوئی): فرش زمین کا وہ مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے محبوب کریمﷺ کے پائے ناز کو سب سے پہلے بوسہ دے کر عرش پایہ بنا وہ پہلے حضرت عقیل بن ابی طالب اور ان کی اولاد کی ملکیت میں رہا۔ پھر حجاج کے بھائی محمد بن یوسف ثقفی نے ایک لاکھ دینار قیمت ادا کر کے اسے خرید لیا اور اس جگہ کو اپنے مکان کا حصہ بنا لیا۔ کیونکہ یہ مکان سفید چونے سے تعمیر کیا گیا تھا اور اس پر پلستر بھی سفید چونے کا تھا اس لئے اسے ” البیضاء ” کہا جاتا تھا۔ یہ عرصہ تک دار ابن یوسف کے طور پر مشہور رہا۔ ہارون الرشید کے عہد خلافت میں اس کی نیک بخت اور فیض رساں رفیقہ حیات زبیده خاتون فریضہ حج ادا کرنے کے لئے مکہ مکرمہ حاضر ہوئی تو اس نے یہ مکان حاصل کر کے گرا دیا اور اس جگہ مسجد تعمیر کر دی۔ ابن دحیہ کہتے ہیں کہ ہارون الرشید کی والدہ خیزران جب حج کے لئے آئی تو اس نے ابن یوسف کے مکان سے وہ حصہ نکال لیا
(اسم مبارک و کلمہ محمدﷺ کی تشریح)
اسم مبارک: ایک روایت میں یہ مذکور ہے کہ نبی کریمﷺ مختون پیدا ہوئے تھے لیکن دوسری روایات میں یہ ہے کہ ساتویں روز حضرت عبدالمطلب نے تمام قریش کو مدعو کیا اسی روز حضورﷺ کا ختنہ کیا گیا اور جانور ذبح کر کے عقیقہ کیا گیا اور آپ نے اپنے قبیلہ کی پر تکلف دعوت کا اہتمام فرمایا۔ جب وہ کھانا کھا چکے تو انہوں نے کہا۔ اے عبد المطلب! جس بیٹے کے تولد کی خوشی میں آپ نے اس پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا ہے اور ہمیں عزت بخشی ہے یہ تو بتائیے کہ اس فرزند کا نام آپ نے کیا تجویز کیا ہے۔ آپ نے فرمایا میں نے اس کا نام ” محمد” تجویز کیا ہے۔ از راہ حیرت وہ گویا ہوئے۔ آپ نے اپنے اہل بیت میں سے کسی کے نام پر اس کا نام نہیں رکھا۔
(رضاعت :حصہ اول)
سب سے پہلے حضرت سیدہ آمنہ نے اپنے نور نظر اور لخت جگرﷺ کو دودھ پلایا پھر یہ شرف حضرت ثویبہ کو نصیب ہوا۔ حضرت ثویبہ ابو لہب کی کنیز تھی اس نے ہی سب سے پہلے ابو لہب کو حضورﷺ کی ولادت کا مژدہ سنایا اور اس نے اپنے متوفی بھائی حضرت عبداللہ کے ہاں بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں اسے آزاد کر دیا اپنے بھتیجے کی پیدائش پر اس نے جو اظہار مسرت کیا اس کا صلہ چودہ صدیوں سے اسے مل رہا ہے ہر سوموار کو اس ابدی جہنمی کو ٹھنڈا پانی بھی پینے کو مل جاتا ہے اور اس کے عذاب میں بھی اس روز کچھ تخفیف کر دی جاتی ہے اور تا روز حشر ایسا ہوتا رہے گا۔ حضرت ثویبہ کے علاوہ اور متعدد خواتین نے بھی حضورﷺ کو دودھ پلانے کی سعادت حاصل کی حضرت خولہ بنت منذر ،حضرت ام ایمن،حضرت حلیمہ سعدیہ، اور بنی سعد کی ایک اور خاتون ان کے علاوہ ہیں لیکن سب سے زیادہ یہ شرف حضرت حلیمہ کے حصہ میں آیا انہوں نے لگا تار دو سال تک یہ خدمت انجام دی
(رضاعت :حصہ دوم)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حضرت عبد المطلب ملے انہوں نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا میں بنی سعد کی ایک خاتون ہوں انہوں نے نام پوچھا تو میں نے بتایا حلیمہ یہ سن کر حضرت عبدالمطلب فرط مسرت سے مسکرانے لگے اور فرمایا۔
“بَخۡ بَخۡ سَعْدٌ وَّحِلۡمٌ خَصْلَتَانِ فَهُمَا خَيْرُ الدَّهْرِ وَعِزُّ الْاَبَدِ”
ترجمہ: واہ واہ سعد اور حلم، کیا کہنا یہ وہ دو خوبیاں ہیں جن میں زمانہ بھر کی بھلائی اور ابدی عزت ہے۔
پھر فرمایا میرے ہاں ایک یتیم بچہ ہے کسی نے اس کے یتیم ہونے کی وجہ سے اسے قبول نہیں کیا تو اس یتیم بچہ کو گود میں لینے کے لئے تیار ہے؟
“هَلْ لَكِ اَنْ تَرْضَعِيۡهِ عَسٰى اَنْ تَسْعَدِيۡ بِهٖ”
ترجمہ: کیا تو اس کو دودھ پلانے کے لئے تیار ہے ہو سکتا ہے کہ اس کی برکت سے تیرا دامن یمن (برکت) و سعادت سے لبریز ہو جائے۔
(شق صدر کے بارے شکوک اور ان کا ازالہ)
شق صدر کے بارے میں جو روایات کتب حدیث میں موجود ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ خواب کا واقعہ نہیں ہے بلکہ عالم بیداری میں حسی طور پر سینہ مبارک شق کیا گیا قلب انور باہر نکالا گیا اسے چیرا گیا۔ اس میں سے خون کا لوتھڑا کاٹ کر الگ کیا گیا۔ پھر اسے دھویا گیا پھر اسے اپنے مقام پر رکھ کر سینہ مبارک کو سی دیا گیا۔ عرصہ دراز تک اس واقعہ پر یہ اعتراض کیا جا تا رہا کہ ایسا ممکن نہیں اگر دل کو باہر نکالا جائے اس میں سے کوئی ٹکڑا کاٹ لیا جائےتو زندگی کے چراغ کا گل ہو جانا ایک یقینی امر ہے، عقل خود بین کے پرستاروں نے اس بات پر بڑا شور و غل مچایا لیکن انہوں نے اس بات پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہ کی عقل انسانی نے طویل فکر و تدبر اور مسلسل استقرا کی ریاضت سے جو قواعد و ضوابط مرتب کئے ہیں
(حضورﷺ کا والدہ ماجدہ کے ہمراہ سفر یثرب)
حضرت عبد المطلب کے والد گرامی حضرت ہاشم نے یثرب کے بنی نجار خاندان کے رئیس عمرو بن لبید کی صاحب زادی سلمیٰ سے شادی کی جس کے بطن سے شیبہ ( عبد المطلب ) پیدا ہوئے، حضرت ہاشم ایک تجارتی سفر پر فلسطین گئے تھے کہ غزہ کے مقام پر انتقال فرمایا اور یہ بھی کہ حضرت عبداللہ شادی کے بعد کچھ عرصہ مکہ میں رہے، پھر بغرض تجارت شام گئے جب لوٹے تو ان کا گزر یثرب سے ہوا، چند روز کے لئے اپنے والد حضرت عبدالمطلب کے ننہال میں قیام کیا اس اثناء میں وہ بیمار ہو گئے۔ آپ کے دوسرے ساتھیوں نے چند روز انتظار کیا لیکن جب آپ کی طبیعت نہ سنبھلی تو وہ لوگ مکہ روانہ ہو گئے لیکن آپ رک گئے کہ صحت درست ہو تو سفر اختیار کریں۔ لیکن مشیت الہیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آپکی طبیعت بگڑتی چلی گئی یہاں تک کہ آپ نے یثرب میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا۔
(حضورﷺ کا والدہ ماجدہ کے ہمراہ سفر کے بعد مکہ کی جانب واپسی)
حضرت ام ایمن نے سیدہ آمنہ کو ابواء کے مقام پر دفن کیا یہ مقام مکہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان ہے، قدیم شاہراہ جو مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ جاتی ہے اس پر ایک گاؤں مستورہ کے نام سے سے آتا ہے، جہاں ہوٹل اور قہوہ خانے ہیں آنے جانے والی بسیں اور کاریں یہاں رکتی ہیں مسافر چائے پیتے ہیں کھانا کھاتے ہیں، یہاں سے مدینہ طیبہ جاتے ہوئے دائیں طرف چند میل کے فاصلہ پر ابواء کی بستی ہے۔ بستی سے باہر ایک اونچا ٹیلہ ہے ارد گرد جھاڑیاں اور کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں اس ٹیلہ پر سیدہ آمنہ کا مزار پر انوار ہے۔ مزار کیا ہے کالے پتھر توڑ کر ایک جگہ بے ہنگم سا ڈھیر لگا دیا گیا ہے اس کے ارد گرد چار دیواری ہے وہ بھی کالے پتھروں کو جوڑ کر بنا دی گئی ہے۔ بظاہر وہاں زیب و زینت اور رونق نام کی کوئی چیز نہیں، لیکن قلب و روح کو وہاں ایسا کیف نصیب ہوتا ہے کہ سبحان اللہ۔
(حضورﷺ اور عم محترم ابو طالب)
حضرت عبد المطلب کی وصیت کے مطابق سرور عالمﷺ کی نگہداشت کی سعادت حضرت ابو طالب کے حصہ میں آئی۔ آپ کی مالی حالت اچھی نہ تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے خدمت گزاری کا حق ادا کر دیا آپ اپنے بچوں سے بھی زیادہ حضورﷺ سے پیار کرتے۔ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے رات کو سوتے تو حضورﷺ کو اپنے پہلو میں لٹاتے۔ کھانے کا وقت ہوتا تو اس وقت تک دستر خوان نہ لگایا جاتا، جب تک حضورﷺ تشریف نہ لاتے۔ اگر حضورﷺ موجود نہ ہوتے تو اپنے کسی بچے کو بھیجتے تاکہ حضورﷺ کو ڈھونڈ کر لے آئے حضورﷺ کے آنے کے بعد کھانا شروع کیا جاتا۔ اپنے چچا کے دستر خواں پر جب شریک ہوتے تو اس کی برکتیں بھی ظہور پذیر ہوتیں۔ اگر آپ کے بچے کبھی حضورﷺ کے بغیر کھانا کھاتے تو کھانا پورا نہ ہوتا اور بھوکے اُٹھ آتے لیکن جب حضورﷺ تشریف فرما ہوتے تو سارے خوب سیر ہو کر کھاتے اور کھانا بھی بچ جاتا۔ یہ دیکھ کر ابو طالب کہتے
(حضرت ابو طالب کے ہمراء سفر شام:حصہ اول)
کسب معاش کا دور: حضرت ابو طالب کی مالی حالت تسلی بخش نہ تھی اہل و عیال کی کثرت نے اس کمزوری کو مزید تکلیف دہ بنا دیا تھا اس لئے جب حضورﷺ نو، دس سال کے ہوئے تو آپﷺ نے بعض لوگوں کے ریوڑ اُجرت پر چرانے شروع کر دیئے تاکہ اپنے محترم چچا کا ہاتھ بٹائیں۔
امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اپنی صحیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
“قَالَ قَالَ رَسُوۡلُ اللهِﷺ مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا اِلَّا رَاعِيَ غَنَمٍ وَّ قَالَ لَهٗ اَصْحَابُهٗ وَاَنْتَ يَا رَسُوۡلَ اللهِ ﷺ؟قَالَ وَ اَنَا رَعَيْتُهَا لِاَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيۡطِ”
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا مگر انہوں نے بکریوں کو چرایا ہے۔
(حضرت ابو طالب کے ہمراء سفر شام:حصہ دوم)
جب قافلے والے کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے سب کو رخصت کر دیا اور خود حضورﷺ کے قریب آیا اور آزمانے کے لئے کہنے لگا۔ “اَسْئَلُكَ بِحَقِّ اللَّاتِ وَ الْعُزّٰىٰ اِلَّا مَا اَخْبَرْتَنِيۡ عَمَّا اَسْاَلُكَ عَنْهُ”
ترجمہ: میں تم سے لات و عزیٰ کے حق کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ جس بارے میں میں آپﷺ سے پوچھوں آپﷺ مجھے اس کا جواب دیں۔
اس نے حضورﷺ کو آزمانے کے لئے لات و عزیٰ کی قسم کھائی تھی حضورﷺ نے فرمایا۔
“لَا تَسْئَلۡنِيۡ بِاللَّاتِ وَ الْعُزّٰىٰ شَيْئًا فَوَاللَّهِ مَا اُبْغِضُ شَيْئًا قَطُّ بُغْضَهَا”
ترجمہ: مجھ سے لات و عزیٰ کے واسطہ سے کوئی بات مت پوچھو بخدا جتنی مجھے ان سے نفرت ہے اتنی اور کسی چیز سے نہیں۔
(شدید قحط اور بارانِ رحمت)
ابن عساکر علیہ الرحمۃ نے جلہمہ بن عرفطہ علیہ الرحمۃ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں مکہ گیا وہاں شدید قحط سالی تھی۔ عرصہ دراز سے بارش کی ایک بوند بھی نہیں ٹپکی تھی ایک شخص نے اہل مکہ کو کہا چلو لات و عزٰی کے پاس وہاں جا کر فریاد کرو۔ ایک اور بولا منات کے پاس بھی چلو۔ اس وقت ایک شیخ نمودار ہوا جو بڑا خوش اندام اور خوبرو تھا۔ اس کی رائے بھی بہت صائب تھی اس نے کہا کہ تم مارے مارے بھٹکتے پھر رہے ہو۔ جب کہ تمہارے پاس حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے خاندان کی یادگار موجود ہے لوگوں نے کہا۔ تمہارا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابو طالب کے پاس جائیں؟ اس بزرگ نے کہا بے شک ۔ سب لوگ کھڑے ہو گئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہم نے جا کر حضرت ابو طالب کا دروزاہ کھٹکھٹایا آپ باہر نکلے ۔ سب لوگ آپ کی طرف دوڑے عرض کی اے ابو طالب ! قحط سالی نے وادی کو جلا کر رکھ دیا ہے
(عصمت ربانی)
رحمت عالمﷺ فرمایا کرتے جب بھی میں کسی ایسے کام کا ارادہ کرتا جو میری شان کے شایاں نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کے ارتکاب سے مجھے بچا لیتا۔ چند واقعات زبان رسالتﷺ سے سماعت فرمائیے حضورﷺ نے فرمایا۔ ایک روز میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ ہم سب پتھر اُٹھا اُٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا رہے تھے میں نے اپنا تہبند اتار کر اپنے کندھے پر رکھ لیا۔ جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا تو آپ بےبہوش ہر کر گر پڑے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کبھی کسی کے سامنے برہنہ نہیں ہوئے۔ چنانچہ میں نے اپنا تہبند باندھ لیا اور بچوں کے ساتھ پتھر اُٹھانے کے شغل میں پھر مصروف ہو گیا۔ حالانکہ سارے بچوں نے اپنی چادریں اتاری ہوئی تھیں۔
(حربِ فجار:حصہ اول)
عہد جاہلیت میں عرب کے باشندے عقیدہ کی گمراہی، علم سے محرومی کے علاوہ نسلی تفاخر، قبائلی عصبیت، شخصی رعونت اور انانیت کی بیماریوں میں بری طرح مبتلا تھے ذرا ذرا سی بات پر غضب ناک ہو جاتے آپس میں اُلجھ پڑتے تلواریں نیام سے باہر نکل آتیں۔ پھر اپنے بھائی بندوں کو اس بے دردی سے تہ تیغ کرتے کہ خون کے دریا بہنے لگتے اس بے مقصد قتل عام پر انہیں ذرا ندامت نہ ہوتی بلکہ ان کارستانیوں پر فخر کرتے اور اتراتے۔ ان بہادروں کی شان میں قصیدے لکھے جاتے جنہوں نے اپنے عزیزوں کو زیادہ بے دردی سے اور کثیر تعداد میں قتل کیا ہوتا۔ یہاں بطور مثال ایک جنگ کا ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ سرکار دو عالم ﷺ نے بھی اپنے چچاؤں کے ساتھ اس میں شرکت فرمائی تھی ۔ اس جنگ کی تفصیلات میں نے “العقد الفرید ” سے نقل کی ہیں۔ اس کے مطالعہ سے زمانہ جاہلیت کی ساری لڑائیوں کی حقیقت آشکارا ہو جائے گی۔