( اہل عرب کی عبادات)
جزیرہ عرب کے تمام باشندے اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے اور اس نسب پر فخر کرتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد تین ہزار سال تک جزیرہ عرب میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا اسے زمانہ فترت کہتے ہیں جب کہ وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ اس زمانہ میں بھی دین حنیف کی بہت سی عبادات ان میں باقی رہیں لیکن انہوں نے ان عبادات کو ایسا رنگ دے دیا تھا اور ان کے لئے ایسی شرائط اور قیود مقرر کر دی تھیں جن کے باعث ان عبادات کی روح فنا ہو گئی تھی دین ابراہیمی کے مطابق وہ اپنے مردوں کو غسل دیتے تھے کفن پہناتے تھے ان کی نماز جنازہ پڑھتے تھے اور سنت ابراہیمی کے مطابق ان کو قبروں میں دفن کرتے لیکن ان کی نماز جنازہ میں نہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا تھی، نہ ہی اس میت کے لئے اللہ تعالیٰ کی جناب میں مغفرت کی دعائیں مانگی جاتی تھیں، بلکہ میت کو غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد جب دفن کرنے کے لئے لے جاتے تو اس میت کا کوئی قریبی رشتہ دار آگے کھڑا ہو جاتا اور اس میت کے محاسن اور کمالات بیان کرتا اور اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیا کرتا ان کے اس طرز عمل نے نماز جنازہ کی روح کو ختم کر دیا اور جس مقصد کے لئے یہ نماز ادا کی جاتی تھی وہ مقصد ان کی خود ستائی کے شوق کی نذر ہو گیا۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 288)
اس طرح وہ حج اور عمرہ بھی ادا کیا کرتے اور تلبیہ بھی کہا کرتے لیکن بعض قبائل نے اس تلبیہ میں ایسے الفاظ اپنی طرف سے بڑھا دیئے جس سے عقیدہ توحید مسخ ہو کر رہ گیا اور شرک کی عفونت سے دماغ پھٹنے لگے وہ کہتے ۔
“لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيۡكَ لَكَ اِلَّا شَرِيۡكَ هُوَ لَكَ تَمْلِكُہٗ وَمَا مُلْكَ”
ترجمہ: حاضر ہیں ہم اے اللہ ! حاضر ہیں ہم تیرا کوئی شریک نہیں ہے بجز اس شریک کے جس کا تو مالک ہے اور اس کی ہر چیز تیری ملکیت میں ہے۔
فریضہ حج ادا کرنے کے لئے بھی انہوں نے نئی نئی شرطیں عائد کر رکھی تھی اور ان میں سے بیشتر کا مقصد یہ تھا کہ عرب کے تمام قبائل پر اپنی برتری اور تفوق قائم کر سکیں۔ حج کے دوران وہ ان تمام مواقف (کھڑے ہونے اور حاضر ہونے کی جگہ ) پر کھڑے ہوتے۔ جہاں کھڑے ہونے اور حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے وہ قربانی کے جانور بھی ساتھ لے آتے، وہ رمی جمار بھی کرتے اہل جاہلیت جب دور دراز علاقوں سے حج کی نیت سے روانہ ہوتے تو اپنے قربانی کے جانوروں کے گلوں میں بالوں سے بنا ہوا قلادہ ڈال دیتے، اس قلادہ کے باعث کوئی راہ زن ، کوئی ڈاکو نہ ان پر حملہ کرتا اور نہ ان کا مال و متاع اڑا کر لے جاتا۔ مسافر حرم کے لئے انہوں نے ہر طرح کی امان دے رکھی تھی حرمت والے چار مہینوں میں وہ ملکی سطح پر جنگ و جدال، لوٹ مار ، چوری اور ڈاکہ ان تمام حرکتوں سے کلی اجتناب کرتے ملک میں ہر طرح کا امن و امان قائم ہو جاتا۔ ان مہینوں میں تجارتی کارواں بڑی آزادی اور اطمینان سے ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں تجارتی مال لے کر جاتے، کاروبار کرتے، نفع حاصل کرتے اور ان سے کوئی تعرض نہ کرتا۔ حج کے جملہ ارکان کو پابندی کے ساتھ ادا کرتے بایں ہمہ ان میں جہالت کی وجہ سے چند خرافات بھی رواج پا چکی تھیں اہل مکہ اپنے آپ کو دوسرے عرب قبائل سے اعلیٰ اور افضل سمجھتے ۔ وہ کہتے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں، حرم شریف کے باشندے ہیں، بیت اللہ شریف کے متولی ہیں، مکہ کے رہنے والے ہیں جو حقوق اور امتیازات ہمیں حاصل ہیں وہ اور کسی عرب کو حاصل نہیں۔ ہم صرف ان چیزوں کی تعظیم بجا لائیں گے جو حرم کے اندر ہیں جو مشاعر اور مواقف حرم سے باہر ہیں دوسرے اہل عرب کے لئے تو لازم ہے کہ وہاں حاضری دیں اور ان کی تعظیم بجا لائیں، لیکن ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اہل حرم ہوتے ہوئے ہم حرم سے باہر کی چیزوں کی تعظیم و تکریم کریں ورنہ ہمارے درمیان اور دوسرے قبائل کے درمیان وجہ امتیاز کیا باقی رہے گی ، اس لئے اہل مکہ نے عرفہ کے میدان میں قیام ترک کر دیا تھا۔ اور افاضہ کا طواف بھی انہوں نے چھوڑ دیا تھا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے لئے ایک خاص اصطلاح وضع کرلی تھی وہ اپنے آپ کو کہتے۔ “نَحۡنُ الۡحَمۡسٌ” ترجمہ: ہم حمس ہیں۔ الحمس کا معنی اہل الحرم ہے یعنی حرم کے اندر رہنے والے۔
ان کے بعد عرب کے وہ لوگ جو حرم میں پیدا ہوئے تھے ان کو بھی حرم میں ولادت کی وجہ سے یہ حقوق حاصل ہو گئے تھے۔ اسی طرح انہوں نے اپنے اوپر یہ پابندی بھی عائد کر لی تھی کہ ہم اہل حرم ہیں ہمارے لئے یہ جائز نہیں کہ حالت احرام میں پنیر کھائیں یا گھی استعمال کریں یا اون کے بنے ہوئے خیموں میں داخل ہوں یا کسی سائے میں بیٹھیں۔ حالت احرام میں صرف ان خیموں میں وہ بسر اوقات کرتے اور سائے کے نیچے بیٹھتے جو خیمے چمڑے کے بنے ہوئے ہوتے۔ پھر انہوں نے یہ پابندی لگا دی کہ اہل حل ( حدود حرم سے باہر رہنے والے لوگ ) جب وہ حج یا عمرہ ادا کر نے کے لئے مکہ میں آئیں تو ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کھانا کھائیں جو اپنے ساتھ لے آئے ہیں اس طرح ان کے لئے یہ چیز بھی ناجائز قرار دی گئی کہ وہ ان کپڑوں میں کعبہ شریف کا پہلا طواف کریں جو وہ اپنے گھر سے پہن کر آئے ہیں انہیں چاہئے کہ کعبہ کا طواف کرتے وقت اہل حرم سے کپڑے مستعار لے کر پہنیں اور اگر ان کے ہاں کپڑے دستیاب نہ ہوں تو وہ برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کریں۔ اگر کوئی مرد یا عورت انہیں کپڑوں میں طواف کرے جو وہ گھر سے پہن کر آیا تھا تو طواف سے فارغ ہونے کے بعد اس پر لازم ہے کہ وہ ان کپڑوں کو اتار کر پھینک دے نہ خود ان کو پہنے اور نہ کوئی اور انہیں استعمال کرے اہل مکہ نے اہل عرب کو ان احکام کی پابندی کا حکم دیا اور انہوں نے بلا چون و چرا ان احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ وہ لوگ عرفات میں قیام کرتے وہاں سے طواف افاضہ کرنے کے لئے مکہ آتے۔ خانہ کعبہ شریف کا طواف برہنہ ہو کر کرتے عورتیں بھی تمام کپڑے اتار دیتیں۔ ایک چھوٹی سی کھلی قمیص ان کے بدن پر ہوتی اس طرح کی قیود و شرائط سے انہوں نے حج و عمرہ جیسی عبادات کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا بجائے اس کے کہ ان ارکان کی ادائیگی سے ان میں تقویٰ اور پارسائی کا شعور بیدار ہوتا الٹا برہنگی اور عریانی کو پذیرائی نصیب ہونے لگی۔ جب اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کے ارد گرد طواف کرتے ہوئے مرد و زن بے حیائی کا ایسا شرمناک مظاہرہ کرنا اپنے اوپر ضروری قرار دے دیں تو پھر اور کون سا مقام ہے جہاں ان سے عفت قلب و نگاہ کی توقع کی جا سکتی ہے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲