(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ نہم)
(اہل عرب کی غیرت و حمیت:حصہ دوم آخری حصہ)
عوف بن معلم ایک عرب سردار تھا ریاست کندہ کے بادشاہ حارث بن عمرو نے اس کی لڑکی کی بہت تعریف سنی اس نے ایک دانا اور تجربہ کار عصام نامی عورت کو عوف کی بچی کو دیکھنے کے لئے بھیجا عصام نے واپس آکر اس بچی کا سراپا جس انداز سے بیان کیا اور اس کے خصائل و شمائل کا جامع تذکرہ کیا وہ بھی عربی ادب کا ایک شاہکار ہے رشتہ طے ہو گیا۔ رسم نکاح کے بعد ماں نے اپنی لخت جگر کو رخصت کرتے وقت جو نصیحت کی اس کا متن مع ترجمہ آپ کی توجہ کے لئے پیش خدمت ہے۔
“اَيۡ بُنَيَّۃُ”
ترجمہ: اے میری پیاری بچی!
“اِنَّ الْوَصِيَّةَ لَوْ تُرِكَتْ بِفَضْلِ اَدَبٍ تَرَكْتُ لِذٰلِكَ مِنْكِ”
ترجمہ: اگر وصیت کو اس لئے ترک کر دینا روا ہوتا کہ جس کو وصیت کی جا رہی ہے وہ خود عقلمند اور زیرک ہے تو میں تجھے وصیت نہ کرتی۔
“وَلٰكِنَّهَا تَذْكِرَةٌ لِلْغَافِلِ وَمُعَوَّلَةٌ لِلْعَاقِلِ”
ترجمہ: لیکن وصیت غافل کے لئے یاداشت اور عقلمند کے لئے ایک ضرورت ہے۔
“وَلَوْ اَنَّ اِمْرَءَةً اِسْتَغْنَتْ عَنِ الزَّوْجِ لِغِنٰى اَبَوَيْهَا وَشِدَّةِ حَاجَتِهِمَا اِلَيْهَا كُنۡتِ اَغْنَى النَّاسِ عَنْهُ”
ترجمہ: اگر کوئی عورت اپنے خاوند سے اس لئے مستغنی ہو سکتی کہ اس کے والدین بڑے دولتمند ہیں اور وہ اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں تو تو سب سے زیادہ اس بات کی مستحق تھی کہ اپنے خاوند سے مستغنی ہو جائے ۔
“وَلٰكِنَّ النِّسَاءَ لِلرِّجَالِ خُلِقْنَ وَلَهُنَّ خُلِقَ الرِّجَالُ”
ترجمہ: لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتیں مردوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور مرد عورتوں کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔
“اَيْ بُنَيَّۃُ اِنَّكِ فَارَقْتِ الْجَوَّ الَّذِيۡ خَرَجۡتِ”
ترجمہ:اے میری نور نظر ! آج تو اس فضا کو الوداع کہہ رہی ہے جس میں تو پیدا ہوئی۔
“وَخَلَفْتِ الْعُشَّ الَّذِيۡ فِيۡهِ دَرَجۡتِ”
ترجمہ: آج تو اس نشیمن کو پیچھے چھوڑ رہی ہے جس میں تو نے نشو و نما پائی۔
“اِلٰى وَكْرٍ لَمْ تَعْرِ فِيۡهِ”
ترجمہ: ایک ایسے آشیانے کی طرف جا رہی ہے جسے تو نہیں جانتی۔
“وَقَرِيۡنٍ لَمْ تَاْلِفِيۡهِ”
ترجمہ: اور ایک ایسے ساتھی کی طرف کوچ کر رہی ہے جس کو تو نہیں پہچانتی۔
“فَاَصْبَحَ بِمِلْكِهٖ عَلَيْكِ رَقِيۡبًا وَمَلِيۡكًا”
ترجمہ: پس وہ تجھے اپنے نکاح میں لینے سے تیرا نگہبان اور مالک بن گیا ہے۔
“فَكُوۡنِيۡ لَهٗ اَمَةً يَكُنْ لَكِ عَبْدًا وَشِيْکًا”
ترجمہ: تو اس کے لئے فرمانبردار کنیز بن جا، وہ تیرا وفادار غلام بن جائے گا۔
“يَا بُنَيَّةُ !اِحْمِلِيۡ عَنِّىۡ عَشْرَ خِصَالٍ يَكُنَّ لَكِ ذُخْرًا وَّذِكْرًا”
ترجمہ: اے میری لخت جگر ! اپنی ماں سے دس باتیں یاد کر لے یہ تیرے لئے قیمتی سرمایہ اور مفید یاداشت ثابت ہوں گی۔
“اَلصُّحْبَةُ بِالْقَنَاعَةِ وَالْمُعَاشَرَةُ بِحُسْنِ السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ”
ترجمہ: سنگت قناعت سے دائمی بنے گی اور باہمی میل جول اس کی بات سننے اور اس کا حکم بجا لانے سے پر مسرت ہو گا۔
“وَالتَّعَہُّدُ لِمَوْقِعِ عَيْنَيْهِ وَالتَّفَقُّدُ لِمَوْضَعِ اَنْفِهٖ فَلَا تقَعُ عَيْنَاهُ مِنْكِ عَلٰى قَبِيۡحٍ وَلَا يَشُمُّ مِنْكِ اِلَّا طِيۡبَ رِيۡحٍ”
ترجمہ: جہاں جہاں اس کی نگاہ پڑتی ہے ان جگہوں کا خاص خیال رکھ اور جہاں جہاں اس کی ناک سونگھ سکتی ہے اس کے بارے میں محتاط رہ تاکہ اس کی نگاہ تیرے جسم اور لباس کے کسی ایسے حصہ پر نہ پڑے جو بد نما اور غلیظ ہو۔ اور تجھ سے اسے بدبو نہ آئے بلکہ خوشبو سونگھے۔ اس بات کا خاص خیال رکھنا۔
“وَالۡكُحۡلُ اَحْسَنُ الْحُسْنِ وَالْمَاءُ اَطۡيَبُ الطِّيۡبِ الْمَفْقُوۡدِ”
ترجمہ: سرمہ حسن کی افزائش کا بہترین ذریعہ ہے اور پانی گمشدہ خوشبو سے بہت زیادہ پاکیزہ ہے۔
“وَالتَّعَهُّدُ لِوَقْتِ طَعَامِهٖ وَالْهَدۡؤُ عَنْهُ حِيۡنَ مَنَامِهٖ فَاِنَّ حَرَارَةَ الْجُوۡعِ مَلْهَبَةٌ وَتَنْغِيۡصُ النَّوْمِ مَبْغَضَةٌ”
ترجمہ: اس کے کھانے کے وقت کا خاص خیال رکھنا اور جب وہ سوئے اس کے آرام میں مخل نہ ہونا۔ کیونکہ بھوک کی حرارت شعلہ بن جایا کرتی ہے اور نیند میں خلل اندازی بغض کا باعث بن جاتی ہے ۔
“وَالۡاِحْتِفَاظُ بِبَيْتِهٖ وَمَالِهٖ وَالْاِرْعَاءُ عَلٰى نَفْسِهٖ وَحَشَمِهٖ وَعَيَالِهٖ”
ترجمہ: اس کے گھر اور مال کی حفاظت کرنا اس کی ذات کی، اس کے نوکروں کی اور اس کے عیال کی ہر طرح خبر گیری کرنا۔
“وَلَا تُفْشِيۡ لَهٗ سِرًّا وَّلَا تَعْصِيۡ لَهٗ اَمْرًا فَاِنَّكِ اِنْ اَفْشَيْتِ سِرَّہٗ لَا تَاْمَنِيۡ غَدْرَہٗ وَ اِنْ عَصَيْتِ اَمْرَہٗ أوْغَرْتِ صَدۡرَہٗ”
ترجمہ: اس کے راز کو افشا مت کرنا۔ اس کی نا فرمانی مت کرنا اگر تو اس کے راز کو فاش کر دے گی تو اس کے غدر سے محفوظ نہیں رہ سکے گی اور اگر تو اس کے حکم کی نا فرمانی کرے گی تو اس کے سینہ میں تیرے بارے میں غیظ و غضب بھر جائے گا۔
“اِتَّقِيۡ مَعَ ذٰلِكَ الْفَرْحَ اِنْ كَانَ طَرْحًا. وَالْاِكْتِئَابَ عِنْدَہٗ اِنْ كَانَ فَرِحًا ؛ فَاِنَّ الْخَصْلَةَ الْاُوۡلٰى مِنَ التَّقْصِيۡرِ وَ الثَّانِيَةَ مِنَ التَّكْدِيۡرِ”
ترجمہ: جب وہ غمزدہ اور افسردہ ہو تو خوشی کے اظہار سے اجتناب کرنا اور جب وہ شاداں و فرحاں ہو تو اس کے سامنے منہ بسور کر مت بیٹھنا۔ پہلی خصلت آداب زوجیت کی ادائیگی میں کوتاہی ہے اور دوسری خصلت دل کو مکدر (نفرت پیدا کرنا) کر دینے والی ہے۔
“وَكُوۡنِيۡ اَشَدَّ مَا تَكُوۡنِيۡنَ لَهٗ اِعْظَامًا يَكُنْ اَشَدَّ مَا يَكُوۡنُ لَكِ اِكْرَامًا”
ترجمہ: جتنا تم سے ہو سکے اس کی تعظیم بجا لانا وہ اسی قدر تمہارا احترام کرے گا۔
“وَاَشَدَّ مَا تَكُوۡنِيۡنَ لَهٗ مَوَافَقَةً اَطْوَلَ مَا تَكُوۡنِيۡنَ لَهٗ مُرَافَقَةً”
ترجمہ: جس قدر تم اس کی ہم نوا رہو گی اتنی قدر ہی وہ تمہیں اپنا رفیق حیات بنائے رکھے گا۔
“وَاعْلَمِىۡ اَنَّكِ لَا تَصِلِيۡنَ اِلٰى مَا تُحِبِّيۡنَ حَتّٰى تُؤْثِرِىۡ رَضَاهُ عَلٰى رَضَاكِ وَهَوَاهُ عَلٰى هَوَاكِ فِيۡمَا اَحْبَبْتِ وَ کَرِھۡتِ”
ترجمہ: اچھی طرح جان لو تم جس چیز کو پسند کرتی ہو اسے نہیں پا سکتی جب تک تم اس کی رضا کو اپنی رضا پر اور اس کی خواہش کو اپنی خواہش پر ترجیح نہ دو خواہ وہ بات تمہیں پسند ہو یا نا پسند۔ “وَاللہُ يُخَيِّرُ لَكِ” ترجمہ: اے بیٹی! اللہ تعالیٰ تیرا بھلا کرے۔ چنانچہ وہ بچی رخصت ہو کر اپنے شوہر کے پاس آئی اپنی ماں کی ان زریں نصائح کو اس نے اپنا حرز جاں بنائے رکھا اور اس نے عزت اور آرام کی قابل رشک زندگی گزاری بادشاہ اس کی بڑی قدر کیا کرتا تھا اور اس کی نسل سے یمن کے سات بادشاہ تولد ہوئے۔
(بلوغ الارب، جلد 2، صفحہ 19)
ہم نے قدرے تفصیل سے اہل عرب کی ان خوبیوں کا تذکرہ کیا ہے جو عرب کے صحرا نشینوں کی فطرت میں قدرت نے ودیعت فرمائی تھیں لیکن یہ خوبیاں صحیح راہنمائی سے محروم تھیں اس لئے ان سے ان مقاصد جلیلہ کی تعمیل نہیں ہوتی تھی اور نہ منازل رفیعہ پر انسان کی رسائی ہو سکتی تھی صحیح راہنمائی کے فقدان کے باعث، شجاعت اکثر اوقات ظلم و تعدی کی صورت اختیار کر لیتی تھی اور اس بکثرت خونریزی کا مقصد کسی فساد کا استحصال یا قوم میں کسی اصلاح کی تکمیل نہیں تھی بلکہ اس سے فقط اس بہادر کی انانیت اور شخصی تہور (غصہ) کی تسکین ہوتی تھی۔ اسی طرح ان کی جود و سخا سے قوم کے معاشی مسائل حل نہیں ہوتے تھے وہ سخاوت کے دریا اس لئے بہاتے تھے کہ لوگ انہیں سخی کہیں۔ ساری قوم میں اس وقت بھی اور آئندہ زمانوں میں بھی ان کی جود و سخا کی دھوم مچی رہے ۔ عدی نے حضورﷺ سے پوچھا یا رسول اللہﷺ! میرا باپ بڑائی اور بڑا با مروت تھا۔ کیا اس کا اجر قیامت کے دن بارگاہ الہی سے اس کو ملے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: “اِنَّ اَبَاكَ اَرَادَ اَمۡرًا فَاَدۡرَکَہٗ یَعۡنِیۡ الذِّکۡرَ”
ترجمہ: کہ اس نے ایک مقصد کے لئے یہ سخاوتیں کی تھیں اور وہ مقصد اس نے پا لیا۔
مقصد یہ تھا کہ دنیا میں اس کی سخاوت کا چرچا ہو چنانچہ قیامت تک اس کا ذکر رہے گا۔ اور سخاوت کے باعث لوگ اس کی توصیف کرتے رہیں گے اسی طرح ان کی فصاحت و بلاغت جس میں دنیا کی کوئی قوم ان کی مماثلت کا دعویٰ نہیں کر سکتی اس کے پیش نظر بھی برائیوں کے خلاف جہاد کرنا نہ تھا اور نہ نیکی کی طرف لوگوں کو دعوت دینا تھا بلکہ وہ اس کمال کو بھی اپنی ذات کو بڑا بنانے کے لئے اور اپنی فصاحت و بلاغت کا سکہ جمانے کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔ ان بے مثال اوصاف و کمالات کی مثال ایسے خزانوں کی تھی جن کے صحیح استعمال سے عالم انسانیت کی تقدیر بدلی جا سکتی تھی۔ لیکن وہ انہیں حقیر مقاصد کے لئے بڑی فیاضی سے لٹا رہے تھے بلکہ انہیں ضائع کر رہے تھے۔ اب ہم اس قوم کے ان پہلوؤں پر نظر ڈالتے ہیں جو مذموم تھے جن کے باعث وہ زوال و انحطاط کی گہری غار میں گرے پڑے تھے جمود نے ان کی قوتوں کو پا بجولاں کر رکھا تھا اور ان سے ایسی گھٹیا حرکتیں سرزد ہوتی تھیں جن کو دیکھ کر اور سن کر خجالت کے مارے سر خم ہو جاتا۔ اور آنکھیں جھک جاتیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲