{جزیرہ عرب : حصہ نہم}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ سوم)
(مملکت سبا:حصہ دوم)
مملکت سبا کی اخلاقی حالت: اپنے خالق حقیقی سے ان کی عبودیت کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا، وہ متعدد باطل معبودوں کی پرستش میں اپنا قیمتی وقت بھی برباد کیا کرتے اور اپنے شرف انسانیت کی قبا کی دھجیاں بھی بکھیرا کرتے پھر دولت کی فراوانی نے تمام اخلاقی بندشوں کو توڑ کر رکھ دیا ان کے شہر اور ان کی آبادیاں فسق و فجور کا مرکز بن کر رہ گئیں ایک عورت کئی مردوں کے ساتھ شادی کرتی تھی اور اہل خانہ میں باہمی فسق و فجور کا بازار گرم رہتا تھا اور اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ بد کاری کرنے کا عام رواج تھا شراب پانی کی طرح پی جاتی تھی یہ لوگ عام طور پر کھجوروں سے شراب کشید کرتے تھے۔
(تاریخ العرب از حِتی صفحہ ۲۱)
بعض مورخین نے یہ لکھا ہے کہ سبا کی مملکت کو جنگ و جدل سے کوئی دلچسپی نہ تھی ان کی ساری مساعی اور کوششیں اپنے کاروبار کو فروغ دینے میں اور اس کے دائرہ کار کو وسیع سے وسیع تر کرنے میں صرف ہو رہی تھی لیکن المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام کے مصنف دكتور جواد علی نے متعدد مقامات پر ان کی جنگی معرکہ آرائیوں کا ذکر کیا ہے بعض جنگیں تو ایسی تباہ کن نوعیت کی تھیں جن میں مقتولین کی تعداد نصف لاکھ سے بھی بڑھ گئی انہوں نے جا بجا اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اہل سبا نے گرد و نواح کی حکومتوں پر حملے کر کے ان کو فتح کیا بہر حال اس میں کلام نہیں کہ ان کا محبوب ترین پیشہ تجارت تھا۔ وہ نہ صرف اپنے ملک کی پیداوار کو مشرق سے مغربی ممالک کی طرف لے جاتے بلکہ ہندوستان کی مصنوعات اور مشرق بعید کے گرم مصالحہ جات کو بھی یمن سے مغربی ممالک میں پہنچانے کا ذریعہ تھے ان کا ایک تجارتی بحری بیڑا بھی تھا جس میں وہ اپنی مصنوعات لاد کر ان مغربی ممالک میں پہنچاتے تھے خصوصاً مصری ہیکلوں میں جلانے کے لئے بخور کی بہت بڑی مقدار یہ لوگ اپنے بحری بیڑہ کے ذریعہ وہاں پہنچایا کرتے اور گراں قیمت پر اس کو وہاں فروخت کرتے بحری سفر چونکہ خطرناک تھا بسا اوقات طوفان کی وجہ سے کئی کشتیاں سامان سمیت غرق ہو جاتی تھیں نیز برسات کے موسم میں بحر احمر میں کشتی رانی ممکن نہ رہتی تو بحری بیڑا کے ذریعہ سامان تجارت ادھر سے اُدھر لے جانے کا یہ سلسلہ منقطع ہو جاتا اس لئے انہوں نے خشکی کا ایک راستہ بھی تلاش کر لیا تھا جس کے ذریعہ وہ بارہ مہینے اپنی تجارت کو جاری رکھتے تھے۔ یہ تجارتی شاہراہ بحر احمر کے مشرقی کنارہ باب المندب سے شروع ہوتی اور مصر کے ساحل کے وسط تک وادی الحمامات تک چلی جاتی۔
(المفصل فی احوال العرب، جلد دوم، صفحه ۲۸۳ – ۲۸۷ – ۲۸۸)
انہوں نے ایک اور تجارتی شاہراہ بھی دریافت کر لی تھی جس کے ذریعہ قافلے جو یمن سے شام کی طرف جاتے وہ مکہ اور بترا سے گزرتے ہوئے دو حصوں میں بٹ جاتے ایک شاہراہ مصر کی طرف اور دوسری سڑک شام کی طرف لے جاتی ۔ جو شاہراہ شام کی طرف جاتی وہ غزا پر جا کر ختم ہوتی انہوں نے اس شاہراہ کے آس پاس کئی تجارتی نو آبادیاں قائم کر لی تھیں جن کے ذریعہ وہ عرب کے درمیانی علاقوں کو سامان تجارت پہنچاتے اور ان سے نفع کثیر حاصل کرتے۔ ان کی مملکت کے دو مشہور دور ہیں۔ پہلا دور نو سو پچاس قبل مسیح سے شروع ہو کر چھ سو پچاس قبل مسیح تک ختم ہو جاتا ہے اس وقت سبا کے حکمران کو ”مکرب سبا ” کہا جاتا تھا۔ اس دور کے بادشاہوں کی تعداد جو مختلف کتبوں سے معلوم ہوئی ہے۔ سترہ ہے اس دور میں ان کا دارالسلطنت صرواح تھا جو مارب سے مغرب کی طرف ایک دن کی مسافت پر ہے آج کل یہ کھنڈرات کا ڈھیر ہے۔ ان کے دوسرے دور کا آغاز چھ سو پچاس سے اور اختتام ایک سو پندرہ قبل مسیح میں ہوتا ہے اس وقت ان کے حکمران کو ”ملک سبا” کہا جاتا ان کا دار الحکومت مارب تھا۔ بعض کا یہ خیال ہے کہ سبا اور مارب دونوں ایک شہر کے نام ہیں لیکن محققین کی رائے یہ ہے کہ سبا اس علاقہ کا نام تھا اور جو لوگ اس میں آباد تھے وہ اس نام سے موسوم تھے اور ان کا دار الحکومت مارب تھا جس کو نریابہ بھی کہا جاتا ہے مارب ، جوف اسفل سے جنوب کی طرف تيس میل کے فاصلے پر اور صنعاء سے شمال کی طرف پچپن میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ میبوہر سیاح نے 1772ء میں اس کی سیاحت کی اور اس نے کہا کہ یہ اب چند کھنڈرات کا نام ہے سوائے ایک چھوٹے سے شہر کے جو ایک ٹیلہ پر نیا آباد کیا گیا ہے کھنڈرات میں سنگ مر مر کے بے شمار ستون پائے گئے ہیں یہ سد مارب سے دو تین گھنٹے کی مسافت پر مغرب کی جانب واقع ہے اور اس ڈیم کے جو آثار باقی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس کو بڑی مہارت اور فن ہندسہ میں حد درجہ کے کمال سے تعمیر کیا گیا تھا یہاں کھڑے ہو کر جنوب مغرب کی طرف نظر دوڑائی جائے تو بڑے بڑے اونچے کھنڈرات نظر آتے ہیں جو بڑی بڑی چٹانوں کو تراش کر بڑی مہارت سے بنائے گئے تھے اس کے سامنے ایک بہت بڑی چٹان ہے اس مقام پر وہ مشہور عالم ڈیم تھا جو مملکت سبا کے ماہرین نے اپنے ملک کو سیراب کرنے کے لئے تعمیر کیا تھا۔
یمن ایک پہاڑی علاقہ ہے جس میں کوئی دریا نہیں البتہ جنوبی سمندروں سے اٹھنے والے بادل یہاں آ کر برستے ہیں اس زمانہ میں برسات کے موسم میں جو فصلیں ہوتیں وہ تو بارش کے پانی سے سیراب ہو جاتیں لیکن فالتو پانی وادیوں اور گھاٹیوں کے نالوں میں بہ کر سمندر میں جا گرتا اور ضائع ہو جاتا سال کا بقیہ حصہ وہاں کے کھیت اور باغات ایک ایک بوند پانی کے لئے ترستے رہتے۔ کہتے ہیں کہ ملکہ بلقیس نے یہ ڈیم تعمیر کیا بعض نے اس کی تعمیر کو دوسرے بادشاہوں کی طرف منسوب کیا ہے ہمیں اس سے غرض نہیں کہ اس کو کس بادشاہ کے عہد میں تعمیر کیا گیا لیکن علم ہندسہ کے جن ماہرین نے اس کو تعمیر کیا آج بھی ان کی مہارت اور ان کے عالی ظرفی کو خراج تحسین پیش کرنے پر انسان مجبور ہو جاتا ہے۔ یمن کے پہاڑی سلسلہ میں ایک ایسی وادی منتخب کی گئی جس کا پتھر گرینیٹ قسم کا تھا۔ اس کے سامنے گرینیٹ کے پتھروں کا ایک بہت بڑا بند تعمیر کیا گیا اور اس میں پانی نکلنے کے اوپر نیچے تین راستے بنائے گئے اس کے بالکل سامنے بہت بڑا وسیع و عریض تالاب تعمیر کیا گیا جب بارشیں برستیں اور وادیوں میں پہاڑوں کی ڈھلوانوں سے پانی بہ کر اس ڈیم میں جمع ہو جاتا اور وہ ڈیم بھر جاتا تو سب سے اوپر پانی نکلنے کے جو راستے تھے ان کو کھول دیا جاتا۔ وہاں سے پانی گر کر اس حوض میں جمع ہو جاتا اس حوض سے بارہ نہریں نکالی گئی تھیں جو یمن کے وسیع و عریض علاقوں کو سیراب کرتی تھیں جب پانی کی سطح نیچے ہو جاتی تو پانی کے اخراج کے درمیانی راستہ کو کھول دیا جاتا۔ اور اگر اس سے بھی پانی کی سطح نیچے ہو جاتی تو سب سے نیچے والے راستوں کو کھول دیا جاتا۔ اس طرح آج سے کئی ہزار سال قبل یمن کے ماہر انجینئروں نے وہ کارنامہ انجام دیا جسے دیکھ کر آج کے ترقی یافتہ دور کے انجینئر بھی انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں اس ڈیم کی برکت سے سال بھر زراعت کے لئے پانی فراوانی سے دستیاب ہونے لگا۔ ساری زمین میں سرسبز و شاداب کھیت لہلہانے لگے باغات پر وہ جوبن آیا کہ دیکھ کر زبان بے ساختہ سبحان اللہ سبحان اللہ کا ورد کرنے لگتی باغات کا یہ سلسلہ میلوں تک چلا جاتا تھا۔ اس سبز زرعی انقلاب نے یمن کی کایا پلٹ کر رکھ دی حکومت تجارت میں بھی بڑی دلچسپی لیتی تھی زرعی انقلاب نے ان کو اپنی ضروریات زندگی کے لئے خود کفیل بنا دیا آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک کی شادابی اور اس کے باشندوں کی خوشحالی کا کیا عالم ہوگا۔ قرآن کریم نے اس کا نقشہ یوں بیان کیا ہے۔
“لَقَدْ كَانَ لِسَبَاِِ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتٰنِ عَنْ يَمِينِِ وَشِمَالِِ كُلُوا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةُ طَيِّبَةُْ وَرَبُّ غَفُورٌ○
قوم سبا کے لئے ان کے مسکن میں رحمت الہی کی نشانی تھی۔ دو باغ تھے جن کے سلسلے دائیں اور بائیں دُور تک چلے گئے تھے اور انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اپنے رب کے دیئے ہوئے رزق سے کھاؤ اور اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔ کتنا پاکیزہ ملک ہے جو تمہیں عطا کیا گیا ہے اور اس رب کی شان مغفرت کا کون اندازہ لگا سکتا ہے۔ “
( السبا: ۱۵)
یعرب کے بعد اس کا بیٹا يشحب جب اس کا جانشین بنا اس کے بعد اس کا بیٹا عبد شمس تخت کا وارث بنا، یہی سبا کے لقب سے ملقب ہے۔ کیونکہ اس نے اپنی جنگی مہموں میں بہت سے لوگوں کو اپنا قیدی بنا لیا تھا۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے مارب کے مقام پر یہ ڈیم تعمیر کیا اس کی تفصیلات آپ ابھی پڑھ آئے ہیں۔ جب سبا نے انتقال کیا تو اس کی اولاد میں سے دو لڑکوں نے بڑی شہرت پائی حمیر اور کلان۔ حمیر، مملکت حمیر کا بانی اول ہے مرور وقت کے ساتھ خاندان سبا کے فرمانرواؤں میں وہ اولوالعزمی ۔ بالغ نظری اور دور اندیشی رفتہ رفتہ مفقود ہوتی گئی وہ اپنے اپنے عشرت کدوں میں یوں محو ہو گئے کہ اس ڈیم کی مرمت اور حفاظت کی طرف توجہ ہی نہ رہی آہستہ آہستہ اس میں ضعف پیدا ہوتا گیا۔ لوگ بھی دولت و ثروت کی کثرت کے باعث یاد الہی سے غافل ہوتے گئے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل میں یوں مگن ہو گئے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے انہوں نے بغاوت شروع کر دی اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کے بجائے وہ کئی خداؤں کو پوجنے لگے شمس و قمر کے خالق کی بجائے کسی نے سورج کو اپنا دیوتا بنا لیا اور کسی نے چاند کو اپنا حاجت روا سمجھ لیا عقائد میں فساد ، اخلاقی پستی کا باعث بنا اخلاق میں انحطاط نے راعی اور رعایا کو اپنے انفرادی اور اجتماعی فرائض کی ادائیگی سے غافل کر دیا اور جب ان کی ناشکری اور سرکشی انتہاء کو پہنچ گئی تو اللہ تعالی کا غضب موسلا دھار بارشوں کی صورت میں رونما ہوا۔ اتنی شدت سے بارشیں ہوئیں اور اس زور سے کوہستانی ندی نالوں میں پانی کے سیلاب امڈے کہ وہ مضبوط اور گرینیٹ کے پتھروں سے بنا ہوا ڈیم جو عرصہ دراز سے اپنے نگرانوں کی بے پروائی کا شکار رہا تھا اس سیل بے درماں کے سامنے نہ ٹھہر سکا۔ اور اس کی پتھر کی بڑی بڑی چٹانیں جن سے اسے تعمیر کیا گیا تھا بارش کا پانی انہیں تنکوں کی طرح بہا کر لے گیا۔ اور ایسی تباہی کا باعث بنا کہ ساری سرسبزی و شادابی قصہ ماضی بن کر رہ گئی جہاں کبھی لذیذ اور خوشبودار رنگ برنگے پھل دعوت نظارہ دے رہے ہوتے تھے وہاں ببول کے خار دار درخت، جھاؤ کی جھاڑیاں ۔ بیری کے درخت اگ آئے جس نے سبا کی سلطنت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں ان کے اس عبرت ناک انجام کا ذکر فرمایا ہے
“فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَى أَكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْ ءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ○ ذلِكَ جَزَيْنٰهُم بِمَا كَفَرُوا وَهَلْ تُجٰزِيْ إِلَّا الْكَفُورَ○
پھر انہوں نے منہ پھیر لیا تو ہم نے ان پر تند و تیز سیلاب بھیج دیا اور ہم نے بدل دیا ان کے دو باغوں کو ایسے دو باغوں سے جن کے پھل ترش اور کڑوے تھے اور ان میں جھاؤ کے بوٹے اور چند بیری کے درخت تھے۔ یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو بوجہ ان کی ناشکری کے اور بجز احسان فراموش کے ہم ایسی سزا دیتے ہیں۔ ( السباء : ۱۶)
(المفصل فی احوال العرب، جلد دوم، صفحہ ۵۱۶ – ۵۱۷)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲