(بعض اہل حق:حصہ چہارم آخری حصہ)
(ورقہ بن نوفل القرشی و خالد بن سنان بن غیث العبسی)
ورقہ بن نوفل القرشی: ورقہ بن نوفل ابن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کا سلسلہ نسب قصی میں حضور نبی کریمﷺ کے سلسلہ نسب کے ساتھ مل جاتا ہے ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا ورقہ کے چچا خویلد بن اسد کی صاحب زادی تھیں ابو الحسن البقاعی نے آپ کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں آپ کا صحابی ہونا ثابت کیا ہے ورقہ بن نوفل، ان سعادت مند افراد سے تھے جو زمانہ جاہلیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے تھے قریش اور دیگر بت پرست عرب قبائل سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا۔ آپ نے اپنی عقل سلیم سے ہی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ عرب کے بت پرست دین ابراہیمی سے بھٹک گئے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس تلاش میں رہتے کہ انہیں وہ طریقہ معلوم ہو جائے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر سکیں اس مقصد کے لئے انہوں نے کئی ملکوں کا سفر بھی اختیار کیا متعدد اہل علم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو ان آسمانی صحیفوں کے امین تھے جو اللہ تعالیٰ نے مختلف زمانوں میں مختلف انبیاء علیہ السلام پر نازل کئے تھے اس تلاش و جستجو کے باعث وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ آخری دین، دین نصرانیت ہے انہوں نے عیسائیوں کے ان عقائد کی اتباع نہیں کی جن میں انہوں نے اپنے نبی کی واضح تعلیمات سے انحراف کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبدیت پر ان کا پختہ عقیدہ تھا۔ اسی اثناء میں وہ اس نبی کے بارے میں بھی تجسس کرتے رہے جس کی آمد کی بشارت حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور دیگر انبیاء علیہم السلام نے دی تھی۔ جب آپ کی چچا زاد بہن حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے حضورﷺ کے بارے میں بتایا تو آپ کو یقین ہو گیا کہ آپﷺ کی ذات ہی وہ نبی ہے جن کا انہیں شدت سے انتظار تھا۔ حضرت ورقہ کی خوشی کی حد نہ رہی کہ ان کی زندگی میں ہی وہ نبی مکرمﷺ تشریف لے آئے انہوں نے برملا اعلان کر دیا۔
“وَشَهِدَ اَنَّهٗ اَتَاهُ النَّامُوۡسُ الْاَكْبَرُ وَالَّذِيۡ كَانَ يَاْتِي الْاَنْبِيَآءَ قَبْلَهٗ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ وَشَهِدَ اَنَّهُ الَّذِيۡ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَلَامُ اللَّهِ وَشَهِدَ اَنَّهٗ نَبِيُّ هٰذِهِ الْاُمَّةِ وَتَمَنّٰى اَنْ يَّعِيۡشَ اِلٰى اَنْ يُّجَاهِدَ مَعَهٗ”
ترجمہ: انہوں نے گواہی دی کہ ان کے پاس وہ عظیم فرشتہ آیا ہے جو ان سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس وحی لے کر آیا کرتا تھا اور گواہی دی کہ آپﷺ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل کیا گیا ہے اور گواہی دی کہ آپﷺ اس امت کے نبی ہیں۔ اور اس تمنا کا اظہار کیا کہ کاش ! وہ اس وقت تک زندہ رہیں کہ ان کی معیت میں جہاد میں شرکت کر سکیں۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 273)
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں حضرت ورقہ کا قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔
“وَقَالَ لَهٗ وَرَقَۃُٗ هٰذَا النَّامُوۡسُ الَّذِيۡ نَزَّلَ اللہُ عَلٰى مُوۡسٰى يٰلَيْتَنِيۡ فِيۡهَا جَذْعٌ لَيْتَنِيۡ اَكُوۡنُ حَيًّا اِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ وَ قَالَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟ قَالَ نَعَمْ لَمْ يَاْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهٖ اِلَّا عُوۡدِيَ وَاِنْ يُّدْرِكْنِيۡ يَوْمُكَ اَنْصُرۡكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبَّ وَرۡقَۃُ اَنْ تُوَفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحۡىُ”
ترجمہ: جب ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضورﷺ کو لے کر حضرت ورقہ کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا یہ وہ فرشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا۔ اے کاش! میں اس وقت نوجوان ہوتا! اے کاش! میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپﷺ کی قوم آپﷺ کو یہاں سے جلا وطن کرے گی۔ رسول اللہﷺنے پوچھا کہ کیا وہ مجھے یہاں سے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ہاں! کوئی آدمی بھی آج تک وہ امانت لے کر نہیں آیا جو لے کر آپﷺ آئے ہیں مگر یہ کہ اس کے ساتھ عداوت کی گئی اگر آپﷺ کا وہ دن مجھے پا لے تو میں آپﷺ کی بھر پور مدد کروں گا پھر قلیل مدت کے بعد ورقہ وفات پا گئے۔
آپ کے بہت سے اشعار ہیں جس میں آپ نے حضورﷺ کی نبوت و رسالت کا اعلان کیا اور یہی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام انہیں وحی الہی سے باخبر کرتے ہیں۔ چند شعر ملاحظہ فرمائیں۔
وَاِنْ يَّكُ حَقًّا يَا خَدِيۡجَةُ فَاعۡلَمِىۡ
حَدِيۡثُكِ اِيَّاهَا فَاَحْمَدُ مُرْسَلٗ
اگریہ سچ ہے اے خدیجہ ! تو یقین کر کہ احمدﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔
وَ جِبْرِيۡلُ يَاْتِيۡهِ وَمِيۡكَالُ فَاعْلَمِىۡ
مِنَ اللَّهِ وَحۡىٌ يَشْرَحُ الصَّدۡرَ مُنۡزَلٗ
حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل علیہما السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر ان کے پاس آتے ہیں اور اے خدیجہ! جان لو اس وحی سے سینہ منشرح ہو جاتا ہے۔
يَفُوۡزُ بِهٖ مَنْ فَازَ طفِيۡهَا بِتَوْبَةٍ
وَيَسْقٰى بِهِ الْعَانِي الْغَدِيۡرُ الْمُضَلِّلٗ
جو توبہ کر کے رجوع کرتا ہے وہ کامیاب و کامران ہو جاتا ہے اور جو سرکشی کرتا ہے، تکبر کرتا ہے، گمراہی اختیار کرتا ہے، تو وہ بد بخت ہو جاتا ہے۔(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 275)
خالد بن سنان بن غيث العبسی: خالد بن سنان بھی اللہ تعالیٰ کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت پر محکم یقین رکھتے تھے ان کا طریقہ کار وہی تھا جو ملت حنیفہ کا تھا۔ بعض مورخین کا یہ خیال ہے کہ یہ نبی تھے بلوغ الارب میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے جس میں مذکور ہے: “ذَاکَ نَبِیُّ اَضَاعَہٗ قَوۡمَہٗ” ترجمہ: یہ نبی تھے جن کو ان کی قوم نے ضائع کر دیا۔ ضائع کرنے کی صورت یوں بیان کی گئی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنی قوم کو وصیت کی کہ مجھے دفن کر دینا تیسرے دن ایک ہرنی آئے گی جب وہ ہرنی آئے تو مجھے قبر سے نکال لینا میں تمہیں بتاؤں گا کہ اس مدت میں مجھے اللہ تعالیٰ نے کیا حکم دیا ہے۔ آپ کے ارشاد کے مطابق تیسرے دن ہرنی آئی لیکن قوم نے ان کو قبر سے نہ نکالا۔ اور کہا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو سارے عرب کہیں گے ہم نے اپنے مردے کو قبر سے نکالا ہے ۔ خالد بن سنان کی ایک بیٹی حضور نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے حضورﷺ کو سورہ اخلاص کی تلاوت کرتے سنا عرض کرنے لگی۔ میرا باپ بھی یہ سورت پڑھا کرتا تھا۔ مورخین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ خالد کا کون سا زمانہ تھا۔ بعض انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد زمانہ فترت کا شخص کہتے ہیں بعض کی رائے یہ ہے کہ ان کا زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے پہلے کا تھا۔ اگر دوسرا قول صحیح ہو تو بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہونے والی لڑکی خالد کی صلبی لڑکی نہ تھی بلکہ ان کی نسل سے کوئی خاتون تھی۔ ان حضرات کے علاوہ اور بھی کئی ایسے سعادت مند نفوس قدسیہ تھے جنہوں نے کفر و شرک کے اس تاریک دور میں بھی توحید کی شمع کو فروزاں رکھا، اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ آمین
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲