Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 84 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: اکاسی)
{جزیرہ عرب : حصہ پنجم}
(عربی قبائل : حصہ دوم)

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارہ فرزند تھے، جن کی نسل میں اللہ تعالیٰ نے برکت دی اور وہ بے شمار قبائل میں منقسم ہو کر جزیرہ عرب کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہو گئے آپ کی اولاد میں سے ایک مشہور شخصیت جو بعد میں آنے والی اولاد اسماعیل کا سنگم قرار پائی اس کا نام عدنان ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ عدنان ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذریت سے ہیں لیکن آپ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی کون سی پشت میں سے ہیں اس میں بہت اختلاف ہے۔ جرجی زیدان اس سلسلہ میں لکھتے ہیں: عرب مورخین میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ عدنان اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے درمیان کتنی پشتیں گزری ہیں بعض کا خیال ہے کہ عدنان حضرت اسماعیل علیہ السلام کی چالیسویں پشت سے تھے بعض آپ کو بیسویں، بعض پندرہویں پشت میں شمار کرتے ہیں لیکن اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد عدنان سے پھیلی عدنان کے دو بیٹے تھے” عُک” اور “معد ” آخر الذکر عدنانی یا اسماعیلی قبائل کا جد اعلیٰ تھا۔
(العرب قبل الاسلام ،صفحہ 223)

جرجی زیدان نے تحریر کیا ہے۔ عدنانی عرب صحرا نشین تھے انہوں نے تہامہ، حجاز اور نجد میں اپنی رہائش اختیار کی تھی قریش کا قبیلہ مکہ شہر میں اقامت گزین ہو گیا عدنان کے دو بیٹے تھے عک اور معد۔عک کی اولاد تہامہ کے جنوب میں زبید اور اردگرد اقامت گزیں ہوئی اور اسلام کے آنے تک یہی سکونت پذیر رہی انہوں نے اس طویل عرصہ میں کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا جسے تاریخ محفوظ رکھتی البتہ ان کے چھوٹے بھائی معد کو تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے اس کی نسل سے ایسے نابغہ روزگار افراد پیدا ہوئے جنہوں نے انسانی تاریخ کے صفحات پر انمٹ نقوش چھوڑے اب جب معد کا لفظ ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے ایک ذات مراد نہیں ہوتی بلکہ سارا قبیلہ ” معد ” مراد ہوتا ہے چھٹی صدی قبل مسیح میں اس قبیلہ نے اپنی افرادی کثرت اور مادی وسائل کی بنا پر بڑی اہمیت حاصل کر لی تھی معد کے دو لڑکے تھے ایک کا نام “نزار ” اور دوسرے کا نام “قنص ” تھا۔ نزار کی اولاد سے پانچ شاخوں نے بڑی شہرت حاصل کی قضاعہ، مضر، ربیعہ ، ایاد ، انمار ۔ ان خاندانوں کی رہائش گاہیں تہامہ، حجاز اور نجد میں تھیں جن کی تفصیل مورخ البکری نے یوں بیان کی ہے۔

بنی قضاعہ: کے مساکن اور ان کے ریوڑوں کی چراگاہیں بحر احمر کے ساحل جدہ کے ساتھ ساتھ مشرق کی طرف ذات عرق تک پھیلی ہوئی تھیں۔

مضر: کے قبائل حرم مکہ کے پڑوس میں سروات تک اور اس کے اردگرد کے علاقہ میں خیمہ زن تھے۔

ربیعہ: غمرزی کندہ کے پہاڑ سے اور ذات عرق کے نشیب اور نجد کے پست علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے۔

ایاد اور انمار: مصر اور نجران کے درمیانی علاقہ میں اکٹھے آباد ہو گئے اور ان کے چچا “فنس ” کی اولاد سر زمین مکہ میں سکونت پذیر ہو گئی اس علاقہ کی وادیاں اور گھاٹیاں اور گرد و نواح کا علاقہ ان کے قبضہ میں تھا۔

یہ تمام قبائل اپنے اپنے علاقہ میں بڑے امن و امان کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے ان میں باہمی الفت و محبت تھی اتحاد و اتفاق کے باعث دوسرے قبیلوں پر ان کی ہیبت بیٹھ گئی۔ یہاں تک کہ ان میں بھی فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی اس کے نتیجہ میں نہ ان کی عزت باقی رہی اور نہ سکون قلب کے ساتھ اپنے اپنے علاقہ میں وہ خوشحالی کی زندگی بسر کرنے کے قابل رہے۔
(العرب قبل الاسلام، خلاصہ صفحہ 227 – 232)

جنگ کی ابتداء ایاد بن معد کی طرف سے ہوئی۔ اس نے اپنے بھائیوں پر حملہ کر دیا مضر اور ربیعہ نے ایاد کے خلاف اپنے چچاؤں کی مدد کی اور اسے شکست دی اور اس کو مجبور کر دیا کہ وہ تہامہ سے نکل جائے۔ ایاد اپنے اقارب اور مدد گاروں کے ساتھ تہامہ سے ترک وطن کر کے پہلے “سواد کوفہ” میں آکر اترا پھر اس نے نہر فرات کو عبور کیا اور سر زمین جزیرہ میں پھیل گئے پھر ان میں سے کچھ لوگ “تکریت ” اور موصل میں جا کر اور بعض حمص اور اطراف شام میں جا کر آباد ہو گئے۔ بعض نے غسانیوں کی اطاعت قبول کرلی ۔ ساتھ ہی ان کا مذہب ( نصرانیت) بھی اختیار کر لیا پھر ان میں سے بہت سے لوگ جبلہ بن ایہم کے ہمراہ ملک روم میں چلے گئے۔ ایاد، قضاعہ ، غسان ، لخم اور جرام کے قبائل سے جو لوگ جبلہ کے ساتھ ترک وطن کر کے روم میں چلے گئے ان کی تعداد چالیس ہزار کے لگ بھگ تھی اسلام کی آمد تک وہ وہیں اقامت گزیں رہے۔ ڈاکٹر حسن ابراہیم لکھتے ہیں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں قیصر روم کے پاس قرآن کریم کے نسخے دے کر قاصد روانہ کئے آپ رضی اللہ عنہ نے قیصر روم کو کہا کہ اہل عرب میں سے جو لوگ تمہارے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں، انہیں قرآن کریم کے نسخے مطالعہ کے لئے دو اور جو شخص اسلام قبول کرے اور ہمارے پاس واپس آنا چاہے اس کے راستہ میں حائل نہ ہو۔ بخدا اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ہمارے ملک میں تیرے جتنے ہم مذہب ہیں ان کو میں تہ تیغ کر دوں گا۔ جب قرآن کریم کے یہ نسخے ان عربی قبائل کے سامنے پیش کئے گئے اور انہوں نے انجیل کے ساتھ اس کا تقابلی مطالعہ کیا تو انہوں نے قرآن اور انجیل میں کلی موافقت پائی اور سب نے اسلام قبول کر لیا۔ ایاد نے جب تہامہ کو الوداع کہا تو اولاد عدنان سے وہاں ربیعہ اور مضر کی اولاد کے بغیر کوئی شخص باقی نہ رہا “معد” کے بعد اس کا بیٹا قنص جانشین ہوا اس نے چاہا کہ اپنے بھائی نزار کو حرم سے نکال دے لیکن اہل مکہ نے متحد ہو کر قنص کو مکہ سے نکال دیا اور نزار کو مکہ اور اس کے گرد و نواح کی سلطانی سپرد کی ان کی اولاد میں سے دو قبیلے ظاہر ہوئے ربیعہ اور مضر، ربیعہ نے غمرزی کندہ میں پہاڑ کے نشیبی اور ذی عرق کے گرد و نواح کے نشیبی علاقہ کو جو نجد سے تہامہ تک پھیلا ہوا تھا اپنا مسکن بنایا اور بنو مضر حجاز میں پھیل گئے ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا یہاں تک کہ نجد کے بہت سے مقامات پر انہوں نے قبضہ کر لیا اور مکہ مکرمہ میں حرم کعبہ کی ریاست انہیں کو تفویض ہوئی۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، جلد اول، خلاصہ صفحہ 12- 13)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top