(بعض اہل حق:حصہ دوم)
(زید بن عمرو بن نفیل، امیہ بن ابی صلت و اسعد ابو کرب الحمیری)
عہد جاہلیت میں اہل عرب نے جس قسم کے عقائد باطلہ کو اپنا رکھا تھا اس کا سرسری جائزہ آپ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے لیکن اس دور میں جب کہ ہر طرف کفر و شرک اور فسق و فجور کی کالی رات چھائی ہوئی تھی بعض ایسے نفوس قدسیہ بھی تھے جو اگرچہ تعداد میں بہت کم تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی توحید پر ان کا یقین محکم اور اس کی صفات کمال پر ان کا ایمان پختہ تھا۔ معبودان باطل سے وہ قطعا بیزار تھے۔ شب دیجور میں آسمان پر جس طرح ستارے چمک رہے ہوتے ہیں اسی طرح ان بھیانک اندھیروں میں ان کا وجود منبع انوار تھا۔ ان میں سے چند بر گزیدہ ہستیوں کے عقائد اور اطوار کے بارے میں مختصرا تحریر کیا جاتا ہے۔
قُس بن ساعده اِلاِیّٰادی: ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے طویل عمر پائی ابی حاتم السجستانی نے اپنی تصنیف “کتاب المعمرین” میں لکھا ہے کہ ان کی عمر 380سال تھی انہوں نے ہمارے نبی کریمﷺکا زمانہ پایا۔ حضورﷺ کے ارشادات سنے، عہد جاہلیت میں یہ پہلے شخص تھے جو قیامت پر ایمان لے آئے۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 246)
امام ذہبی ، علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہما اور دیگر علماء نے ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے لیکن ابن سکن نے صراحت سے لکھا ہے کہ قس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے قبل وفات پائی۔ ابن سید الناس نے اپنی تصنیف “السیرۃ ” میں ایک واقعہ لکھا ہے جو انہوں نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا جارود بن عبداللہ جو اپنی قوم کے سردار تھے رسول کریمﷺ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے تورات میں حضورﷺ کی صفت پڑھی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے آپﷺ کی آمد کی بشارت دی ہے۔ “فَاَنَّی اَشۡهَدُ اَنۡ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّكَ مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللهِﷺ” ترجمہ: پس میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے اور آپ محمد رسول اللہﷺ ہیں۔
چنانچہ جارود بھی ایمان لایا اور اس کی قوم بھی مشرف بہ سلام ہوئی۔ حضور نبی کریمﷺ کو اس سے انتہائی مسرت ہوئی۔ حضورﷺ نے پوچھا اے جارود! وفد عبد القیس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہے جو ہمیں قس کا تعارف کرائے ۔ اور اس کے حالات سے آگاہ کرے۔ جارود نے کہا یا رسول اللہﷺ! ہم سب اس کو جانتے ہیں اور میں تو وہ شخص ہوں جو اس کے پیچھے پیچھے چلا کرتا تھا۔ وہ عرب کے ایک شریف قبیلہ کا ایک شریف فرد تھا اس کی فصاحت مسلمہ تھی۔ اس کی عمر سات سو سال تھی اور اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے سمعان کی صحبت کا شرف حاصل کیا۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی، میں گویا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہے۔ “لَيَبْلُغَنَّ الۡكِتٰبُ اَجَلَهٗ وَ لَيُوَفِّيَنَّ كُلُّ عَامِلٍ عَمَلَهٗ” ترجمہ: يقينا کتاب اپنی مقررہ مدت کو پہنچے گی اور ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے گی۔
نبی کریمﷺنے فرمایا جارود! اب تم صبر کرو میں اس کو فراموش نہیں کر سکتا میں نے اس کو سوق عكاظ میں خاکستری رنگ کے اونٹ پر بیٹھے دیکھا وہ گفتگو کر رہا تھا جو شائد مجھے پوری طرح محفوظ (ذہن نشین) نہیں۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! میں اس دن سوق عكاظ میں موجود تھا اور جو خطبہ اس روز اس نے دیا وہ مجھے پوری طرح یاد ہے آپ رضی اللہ عنہ نے وہ خطبہ بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کیا جس میں عقیدہ توحید اور روز قیامت کے بارے میں قس نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
آخر میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے قس کے چند اشعار بھی پڑھ کر سنائے ۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
فِي الذَّاهِبِيۡنَ الْاَوَّلِيۡنَ
مِنَ الْقُرُوۡنِ لَنَا بَصَائِرُ
گزشتہ صدیوں میں جو لوگ ہم سے پہلے چلے گئے ہیں ان کے حالات میں ہمارے لئے عبرتیں ہیں۔
لَمَّا رَاَيْتُ مَوَارِدًا
لِلْمَوْتِ لَيْسَ لَهَا مَصَادِرُ
میں نے موت کے ورود کی جگہیں تو دیکھی ہیں موت سے واپسی کے راستے مجھے نظر نہیں آئے۔
وَرَاَيْتُ قَوْمِيۡ نَحْوَهَا
يَسْعَى الْاَكَابِرُ وَ الْاَصَاغِرُ
میں نے اپنی قوم کو دیکھا ہے کہ ان کے بڑے اور چھوٹے سب اس کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
لَا يَرْجِعُ الْمَاضِيۡ اِلٰى
وَلَا مِنَ الْبَاقِيۡنَ غَابِرُ
جو گزر گئے ہیں وہ واپس نہیں لوٹتے اور جو باقی رہ گئے ہیں وہ بھی ہمیشہ یہاں نہیں رہیں گے ۔
اَيْقَنْتُ اَنِّيۡ لَا مَحَالَةَ
حَيْثُ صَارَ الْقَوْمُ صَائِرُ
ان حالات کو دیکھ کر میں نے یقین کر لیا کہ جدھر میری قوم چلی گئی ہے مجھے بھی ادھر ہی لا محالہ جانا ہے ۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 244 تا 246)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲