Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر125 طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ: (حصہ سوم )
(ولادت سرور عالمﷺ : حصہ دوم)

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ محسن انسانیتﷺ کا یوم میلاد دو شنبہ کا دن تھا۔ اس پر بھی علماء امت کا تقریباً اتفاق ہے کہ ربیع الاول کا با برکت مہینہ تھا۔ ماہ رمضان اور ماہ محرم کے اقوال کو اہل تحقیق نے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا۔ البتہ ماہ ربیع الاول کی کون سی تاریخ تھی جب مہتاب رشد و ہدایتﷺ نے جلوہ بار ہو کر ظلمت کدہ عالم کو منور فرمایا اس بارے میں علماء کرام کے متعدد اقوال ہیں ہم یہاں علماء محققین کی آراء ناظرین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جن کے مطالعہ سے وہ بآسانی صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں گے۔

1) امام ابن جریر طبری علیہ الرحمۃ جو فقید المثال مفسر، بالغ نظر مورخ بھی ہیں وہ اس بارے میں لکھتے ہیں۔
“وُلِدَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ يَوْمَ الۡاِثْنَيْنِ عَامَ الْفِيۡلِ لِاِثْنَتَىۡ عَشَرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ”
ترجمہ: رسول کریمﷺ کی ولادت سوموار کے دن ربیع الاول شریف کی بارہویں تاریخ کو عام الفیل میں ہوئی۔
(تاریخ طبری، جلد دوم، صفحہ 125)

2) علامہ ابن خلدون علیہ الرحمۃ جو علم تاریخ اور فلسفہ تاریخ میں امام تسلیم کئے جاتے ہیں بلکہ فلسفہ تاریخ کے موجد بھی ہیں وہ لکھتے ہیں۔
“وُلِدَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيۡلِ لِاِثْنَتَىۡ عَشَرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ لِاَرْبَعِيۡنَ سَنَةً مِّنْ مُّلْكِ كِسْرٰى اَنَوۡ شِيۡرَوَانَ”
ترجمہ: رسول اللہﷺ کی ولادت با سعادت عام الفیل کو ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو ہوئی۔جب نوشیرواں کی حکمرانی کا چالیسواں سال تھا۔
(تاریخ ابن خلدون، جلد دوم، صفحہ 710)

3) مشہور سیرت نگار علامہ ابن ہشام علیہ الرحمۃ ( متوفی 213ھ ) عالم اسلام کے سب سے پہلے سیرت نگار امام محمد بن اسحاق علیہ الرحمۃ سے اپنی “السیرۃ النبویۃ “میں رقمطراز ہیں۔
“وُلِدَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْاَثْنَيْنِ لِاِثۡنَتَىۡ عَشَرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ عَامَ الۡفِيۡلِ”
ترجمہ: رسول کریم ﷺ سوموار بارہ ربیع الاول کو عام الفیل میں پیدا ہوئے ۔
(السیرۃ النبویۃ ابن ہشام ، جلد اول، صفحہ 171)

4) علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی علیہ الرحمۃ ، جو علم سیاستِ اسلامیہ کے ماہرین میں سے ہیں اور جن کی کتاب “الاحکام السلطانیہ” آج بھی علم سیاست کے طلبہ کے لئے بہترین ماخذ ہے۔ اپنی کتاب “اعلام النبوۃ” میں ارشاد فرماتے ہیں۔
“لِاَنَّهٗ وُلِدَ بَعْدَ خَمْسِيۡنَ يَوْمًا مِّنَ الْفِيۡلِ وَبَعْدَ مَوْتِ اَبِيۡهِ فِيۡ يَوْمِ الۡاِثْنَيْنِ اَلثَّانِيۡ عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ”
ترجمہ: واقعہ اصحاب فیل کے پچاس روز بعد اور آپﷺ کے والد ماجد کے انتقال کے بعد حضورﷺ بروز سوموار بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔
(اعلام النبوة، صفحہ 192)

علوم قرآن و سنت اور فن تاریخ کے یہ وہ جلیل القدر علماء ہیں جنہوں نے بارہ ربیع الاول کو یوم میلاد مصطفیٰﷺ تحریر کیا ہے اور دیگر اقوال کا ذکر تک نہیں کیا۔ جواس بات کی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک صحیح اور معتمد علیہ قول یہی ہے۔

5) دور حاضر کے سیرت نگار محمد الصادق ابراہیم عرجون ، جو جامعہ ازہر مصر کے کلیہ اصول الدین کے عمید رہے ہیں۔ اپنی کتاب ” محمد رسول اللہﷺ” میں تحریر فرماتے ہیں۔
“وَقَدْ صَحَّ مِنْ طُرُقٍ كَثِيۡرَةٍ اَنَّ مُحَمَّدًا عَلَيْهِ السَّلَامُ وُلِدَ يَوْمَ الۡاِثْنَيْنِ لِاِثْنَتَىۡ عَشَرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ عَامَ الْفِيۡلِ فِيۡ زَمَنِ كِسْرٰى اَنَوْشِيۡرَوَانَ وَيَقُوۡلُ اَصْحٰبُ التَّوْفِيۡقَاتِ التَّارِيۡخِيَّةِ اَنَّ ذٰلِكَ يُوَافِقُ الْيَوْمَ الْمُكَمِّلَ لِلْعِشْرِيۡنَ مِنْ شَهۡرِ اَغُسۡطُسۡ سَنَۃٍ 570م بَعْدَ مِيۡلَادِ الْمَسِيۡحِ عَلَيْهِ السَّلَامِ”
ترجمہ: کثیر التعداد ذرائع سے یہ بات صحیح ثابت ہو چکی ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ بروز دو شنبہ، بارہ ربیع الاول، عام الفیل، کسرٰی نوشیرواں کے عہد حکومت میں تولد ہوئے۔ اور ان علماء کے نزدیک جو مختلف سمتوں کی آپس میں تطبیق کرتے ہیں انہوں نے عیسوی تاریخ میں20 اگست 570ء بیان کی ہے۔
(محمد رسول الله، جلد اول، صفحہ 102)

6) ان کے علاوہ علامہ محمد رضا جو قاہرہ یونیورسٹی کی لائبریری کے امین تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب” محمد رسول اللہﷺ” میں لکھا ہے۔
“وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ فِيۡ فَجْرِ يَوْمِ الۡاِثْنَيْنِ لِاِثۡنَتَىۡ عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ عِشْرِيۡنَ اَغُسۡطُسۡ 750م وَاَهْلُ مَكَّةَ يَزُوۡرُوۡنَ مَوْضِعَ مَوۡلِدِہٖ فِيۡ هٰذَا الْوَقْتِ”
ترجمہ: حضور نبی کریمﷺ سوموار کے دن فجر کے وقت ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو بمطابق 20 اگست 570 عیسوی پیدا ہوئے اہل مکہ سرکار دو عالمﷺ کے مقام ولادت کی زیارت کے لئے اسی تاریخ کو جایا کرتے ہیں۔
(محمد رسول الله، جلد دوم، صفحہ 19)

اب ہم چند دوسرے حوالے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
علامہ ابن جوزی علیہ الرحمۃ ، میلاد مصطفیٰﷺ کی تاریخ کے بارے میں اپنی تحقیق یوں قلمبند فرماتے ہیں۔
“وُلِدَ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الۡاِثۡنَيْنِ لِعَشْرٍ خَلَوۡنَ مِنْ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ عَامَ الْفِيۡلِ وَقِيۡلَ لِلَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْهُ قَالَ ابْنُ اِسْحَاقَ وُلِدَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الۡاِثْنَيْنِ عَامَ الْفِيۡلِ لِاِثْنَتَىۡ عَشَرَةَ لَيْلَةً مَّضَتْ مِنْ شَھۡرِ رَبِيۡعِ الۡاَوَّلِ”
ترجمہ: حضور نبی کریم ﷺ کی ولادت با سعادت بروز سوموار دس ربیع الاول کو عام الفیل میں ہوئی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ربیع الاول کی دوسری تاریخ تھی اور امام ابن اسحاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں رسول اللہﷺ کی ولادت مبارکہ بروز دو شنبہ بارہ ربیع الاول عام الفیل کو ہوئی ۔
(الوفالابن جوزی، صفحہ 90)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top