Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 137نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ دوم)

(حضرت ابو طالب کے ہمراء سفر شام:حصہ دوم)


جب قافلے والے کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے سب کو رخصت کر دیا اور خود حضورﷺ کے قریب آیا اور آزمانے کے لئے کہنے لگا۔ “اَسْئَلُكَ بِحَقِّ اللَّاتِ وَ الْعُزّٰىٰ اِلَّا مَا اَخْبَرْتَنِيۡ عَمَّا اَسْاَلُكَ عَنْهُ”
ترجمہ: میں تم سے لات و عزیٰ کے حق کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں کہ جس بارے میں میں آپﷺ سے پوچھوں آپﷺ مجھے اس کا جواب دیں۔
اس نے حضورﷺ کو آزمانے کے لئے لات و عزیٰ کی قسم کھائی تھی حضورﷺ نے فرمایا۔
“لَا تَسْئَلۡنِيۡ بِاللَّاتِ وَ الْعُزّٰىٰ شَيْئًا فَوَاللَّهِ مَا اُبْغِضُ شَيْئًا قَطُّ بُغْضَهَا”
ترجمہ: مجھ سے لات و عزیٰ کے واسطہ سے کوئی بات مت پوچھو بخدا جتنی مجھے ان سے نفرت ہے اتنی اور کسی چیز سے نہیں۔
بحیریٰ نے کہا۔
“فَبِاللَّهِ اِلَّا مَا اَخْبَرۡتَنِيۡ عَمَّا اَسْاَلُكَ عَنْهُ”
ترجمہ:تو میں اللہ کے واسطہ سے عرض کرتا ہوں کہ جو میں آپﷺ سے پوچھوں اس کا جواب آپﷺ مجھے مرحمت فرمائیں۔
“فَقَالَ لَهٗ سَلۡنِيۡ مَا بَدَا لَكَ”
ترجمہ: حضورﷺ نے فرمایا۔ اب جو تمہارا جی چاہے پوچھو میں اس کا صحیح صحیح جواب دوں گا۔

وہ حضورﷺ سے آپﷺ کی نیند و بیداری وغیرہ کی کیفیات کے بارے میں دریافت کرتا رہا۔ حضورﷺ جواب ارشاد فرماتے رہے۔ حضورﷺ جو حالات اسے بتاتے اس سے ان صفات کی تصدیق ہوتی جاتی تھی جو نبی آخر الزمان کے بارے میں اس کے پاس تھیں۔ آخر میں اس نے پشت مبارک سے کپڑا اٹھایا وہاں اس نے خاتم نبوت (نبوت کی مُہر) کو بعینہ اس صورت میں دیکھا جو اس کے پاس تھی۔ بے ساختہ اس نے جھک کر خاتم نبوۃ کو چوم لیا جن قافلہ والوں نے یہ منظر دیکھا وہ کہنے لگے کہ اس راہب کے دل میں محمدﷺ معصوم کی بڑی قدر و منزلت ہے۔

جب بحیریٰ اس سے فارغ ہوا تو حضرت ابو طالب کی طرف متوجہ ہوا اور پوچھا۔
“مَا هٰذَا الْغُلَامُ مِنْكَ” ترجمہ: اس بچے کا آپ سے کیا رشتہ ہے؟
آپ نے کہا یہ میرا بیٹا ہے۔
بحیریٰ نے کہا۔
“مَا هُوَ اِبْنُكَ وَمَا يَنْبَغِيۡ لِهٰذَا الْغُلَامِ اَنْ يَّكُوۡنَ اَبُوۡهُ حَيًّا”
ترجمہ: یہ آپ کا بیٹا نہیں اور نہ اس بچے کے والد زندہ موجود ہو سکتے ہیں۔
حضرت ابو طالب نے کہا: یہ میرا بھتیجا ہے۔ اس نے پوچھا ۔ ان کے والد کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا:
“مَاتَ وَاُمُّهٗ حُبۡلٰی” ترجمہ: کہ ان کا انتقال ہو گیا جب کہ ابھی یہ شکم مادر میں تھے۔
اس نے کہا : اب آپ نے سچی بات کہی ہے پھر ان کی ماں کہاں ہے؟ آپ نے بتایا: تھوڑی مدت گزری وہ بھی انتقال کر گئی ہیں۔
پھر اس نے حضرت ابو طالب کو کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو لے کر وطن لوٹ جائیں اور یہودیوں سے ہر وقت ہوشیار رہیں اگر انہوں نے دیکھ لیا اور اُن کو ان حالات کا علم ہو گیا جن کا مجھے علم ہوا ہے تو وہ انہیں ضرر پہنچانے سے باز نہیں آئیں گے آپ کے بھتیجے کی بڑی شان ہو گی یہ چیز ہماری کتابوں میں مکتوب ہے اور ہمیں اپنے آباؤ اجداد نے یہی بتایا ہے دیکھو میں نے آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کرنے کا فرض ادا کر دیا انہیں جلدی اپنے وطن واپس لے جاؤ ۔ ایک روایت میں ہے کہ بحیریٰ نے صراحۃً انہیں بتا دیا۔
“هٰذَا سَيِّدُ الْعٰلَمِيۡنَ هٰذَا رَسُوۡلُ رَبِّ الْعٰلَمِيۡنَ هٰذَا يَبْعَثُهُ اللهُ رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيۡنَ”
ترجمہ: یہ سارے جہانوں کے سردار ہیں یہ رب العالمین کے رسول ﷺہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنا کر مبعوث فرما ہے۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 98 – 100)

بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابو طالب وہیں سے حضورﷺ کو لے کر واپس مکہ آ گئے لیکن دوسری روایت میں ہے آپ قافلہ کے ساتھ شام گئے جلدی جلدی کاروبار سے فراغت پا کر مکہ لوٹ گئے۔
“فَخَرَجَ بِهٖ عَمُّهٗ سَرِيۡعًا حَتّٰى اَقْدَمَهٗ مَكَّةَ حِيۡنَ فَرَغَ مِنْ تِجَارَتِہٖ بِالشَّامِ”
ترجمہ: آپﷺ کے چچا آپﷺ کو لے کر وہاں سے جلدی نکلے شام پہنچے اپنے کاروبار سے فارغ ہو کر آپﷺ کو لے کر مکہ واپس آئے۔
(الروض الانف صفحہ207)

ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی اس قافلہ میں شریک تھے اور جب راہب نے تاکید کی کہ آپﷺ کو فوراً اپنے وطن واپس بھیج دیا جائے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپﷺ کو اپنے ہمراہ مکہ واپس لے آئے۔ لیکن حافظ ابن حجر علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ اس سفر میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ شریک سفر نہ تھے اور نہ اُس وقت ان کی عمر اتنی تھی کہ وہ حضورﷺ کو اپنی نگرانی میں مکہ واپس لے آتے۔ بلکہ ایک دوسرے سفر میں آپ رضی اللہ عنہ حضورﷺ کے ہم کاب تھے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال میں تجارت کی غرض سے ان کے غلام میسرہ کی معیت میں کیا گیا تھا۔ اس سفر میں بھی ایک راہب سے بُصرہ کے مقام پر ملاقات ہوئی تھی لیکن وہ راہب بحیریٰ نہیں تھا بلکہ اس کا نام ”نَسۡطُوۡرَا“ تھا۔ بعض مورخین نے ان دونوں واقعات کو ایک واقعہ تصور کیا ہے اس لئے اس کے بیان کرنے میں خلط ملط ہو گیا ہے۔
(سیرت ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 243 – 245، السيرة النبویۃ دحلان، جلد اول، صفحہ 100)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top