(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ دوم)
اہل عرب کی قوت حافظہ: فہم و فراست کی نعمت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کو بلا کی قوت حافظہ ارزانی فرمائی تھی۔ اگرچہ وہ لکھنے اور پڑھنے سے عاری تھے لیکن اپنی یاداشت کے بل بوتے پر انہوں نے اپنی جنگوں اور دیگر اہم واقعات کی تفصیلات کو محفوظ رکھا۔ وہ صرف اپنے سلسلہ نسب سے ہی پوری طرح باخبر نہ تھے بلکہ اپنے گھوڑوں کے نام اور ان کے نسب ناموں کو بھی پوری طرح جانتے تھے جو گھوڑا میدان جنگ میں غیر معمولی شجاعت اور کار کردگی کا مظاہرہ کرتا اس کی نسب سے وہ پوری طرح واقف رہتے تھے ان کے تہواروں میں جو ادبی محفلیں منعقد ہوتیں جن میں دور و نزدیک سے آئے ہوئے فصحاء وبلغاء اپنے قصیدے سناتے یا اپنے خطبات سے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے، سننے والے ایک بار سننے سے وہ پورا قصیدہ اور پورا خطبہ ازبر کر لیتے پھر وہ اس سے آگے روایت کرتے رہتے اگر کسی کی زبان سے فی البدیہ کوئی جملہ نکل جاتا تو وہ ضرب المثل بن جاتا اور جزیرہ عرب کے گوشہ گوشہ میں رواج پا جاتا۔ ضرب المثل کے ساتھ وہ واقعہ بھی اذہان میں نقش ہو جاتا جس کے پس منظر میں کسی کی زبان سے یہ جملہ نکلتا ہر شاعر کا ایک “راویہ” ہوا کرتا جس کا کام یہ تھا کہ شاعر کی زبان سے نکلنے والا ہر شعر وہ یاد کر لیتا۔ ہر راویہ کو شعر کے مختلف اقسام ، رجز، قصیدے وغیرہ اس قدر یاد ہوتے کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہوتا “اصمعی” جو متاخرین میں ادب کا امام شمار کیا جاتا ہے وہ کہتا ہے کہ بالغ ہونے سے قبل مجھے اعراب بادیہ کے بارہ ہزار ارجوزے (قصیدے) یاد تھے، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کوئی قوم قوت حافظہ میں اہل عرب کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔فرانس کے وزیر تعلیم “در دی” نے اعتراف کیا ہے کہ عرب زبان میں جو وسعت ہے اور ہر چیز کے مختلف حالات اور مختلف صفات کے اعتبار سے الگ الگ نام ہیں ان کے ہاں مترادفات کی بھر مار ہے اس لئے ان کے شعر و سخن کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ان کے ہاں شہد کے اَسِّی نام ہیں، سانپ کے دو سو، شیر کے پانچ سو، اونٹ کے ایک ہزار ، تلوار کے بھی ایک ہزار اور آلام و مصائب کی تعبیر کے لئے چار ہزار الفاظ ہیں۔ وزیر موصوف لکھتے ہیں کہ ان تمام اسماء کو یاد کر لینا قوی حافظہ کے بغیر ممکن نہیں اہل عرب کو قدرت نے جو ذہانت اور قوت حافظہ عطا فرمائی تھی اس کا انکار ممکن نہیں۔ ان کے مشاہیر سے حماد نامی ایک راویہ تھا اس نے خلیفہ ولید کو کہا کہ وہ یہاں کھڑے کھڑے ایک سو قصیدہ زبانی سنا سکتا ہے اور ہر قصیدہ بیس سے سو اشعار پر مشتمل ہو گا۔
(بلوغ الارب، جلد 1، صفحہ 4039)
کلام کی اس وسعت اور ایک مادہ سے مختلف صیغوں کے اشتقاق کے قواعد نے اس لغت کو مزید وسعتیں بخش دی تھیں جس کی وجہ سے اہل عرب میں ما فی الضمیر کے اظہار اور بیان کی وہ قوت پیدا ہو گئی تھی جس کے باعث دنیا کی کوئی قوم ان کے ساتھ برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتی تھی۔
سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲