Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر105بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو دو)
{جزیرہ عرب : حصہ چھبیسواں}
(بتوں کے بارے میں کفار کا عقیدہ:حصہ اول)

اپنے بتوں کے بارے میں کفار کا جو عقیدہ تھا آیات قرآنی نے اسے جا بجا وضاحت سے بیان کر دیا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنے بتوں کو الٰہ مانتے تھے، یہ چیز ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ ایک ذات کائنات کے گونا گوں، ان گنت امور کا احاطہ کیونکر کر سکتی ہے ۔ نظام عالم کو چلانے کے لئے ان کے نزدیک یہ ضروری تھا کہ متعدد خداؤں کو تسلیم کریں، کوئی تخلیق و آفرینش کا کام کرے، کوئی رزق رسانی کی ذمہ داری سنبھالے، کوئی بیماروں کو صحت دے، کوئی مفلوک الحالوں کو غنی کرے، کوئی کمزوروں کو طاقت ور بنائے ۔ کسی کی ذمہ داری جنگوں کا فیصلہ کرنا، کسی کو شکست سے دو چار کرنا اور کسی کو فتح و کامرانی سے ہمکنار کرنا ہو، کوئی خدا بارش برسانے والا ہو، کوئی کھیت اگانے والا ،اور کوئی اولاد دینے والا، کوئی خدا زمین کے ہر لحظہ تغیر پذیر احوال پر نظر رکھنے والا ہو اور کوئی عالم بالا کے نظم و نسق کو بر قرار رکھنے والا ہو، ان کے نزدیک یہ بات عقل کے خلاف تھی کہ ایک ہی ذات ان متنوع اور متضاد قسم کی ذمہ داریوں اور فرائض کی انجام دہی سے عہدہ بر آ ہو سکتی ہے۔چنانچہ سوره “ص” میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ ہادی بر حقﷺنے جب کفار عرب کو دعوت توحید دی تو انہوں نے اپنی حیرت واستعجاب کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚۖ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عُجَابٌ ﴿5﴾
ترجمہ: کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔ (سوره ص،آیۃ: 5)

اب بھی اگر کوئی شخص کفار عرب کی طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی کو الٰہ تسلیم کرتا ہے ۔ خواہ وہ شخصیت کوئی جلیل القدر انسان ہو یا رفیع المرتبت فرشتہ ہو تو ایسا شخص عقیدہ توحید سے محروم اور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔قرآن کریم نے بار بار یہ تصریح کی ہے کہ کفار اپنے بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے بغیر کسی اور کی عبادت کرنا بھی شرک اور کفر کی ایک قبیح ترین صورت ہے جو کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتی آج بھی اگر کوئی کسی مقدس ترین ہستی کی خواہ وہ انسان ہو یا نوری فرشتہ اس کی عبادت کرتا ہے تو وہ مشرک ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ عبادت اور تعظیم دو الگ الگ چیزیں ہیں تعظیم و تکریم تو اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کی بھی کی جاسکتی ہے۔ بلکہ عین ایمان ہے لیکن اس کی ذات کے سوا کسی کی عبادت ہرگز روا نہیں کفار کا اپنے بتوں کو الٰہ کہنا اور ان کی عبادت کا اقرار بلکہ اس پر ان کا اصرار ان کے مشرک ہونے کی ناقابل تردید دلیل ہے اگر مزید دقت نظر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے یہ جوابات ان کے قلبی عقائد کی صحیح عکاسی نہیں کرتے بلکہ لاجواب ہونے کی صورت میں اپنی گلو خلاصی کے لئے وہ ان جوابات کی آڑ لیتے تھے ورنہ در حقیقت وہ ان بتوں کو ہی اپنا رازق اور اپنا مالک تصور کرتے تھے۔قرآن کریم میں ان سوالات اور جوابات کا ذکر متعدد مقامات پر کیا گیا ہے جن کے مطالعہ سے یہ حقیقت آشکارا ہو جاتی ہے کہ مشرکین کے یہ جوابات ان کے عقیدہ کی صحیح عکاسی نہیں کرتے۔ بلکہ وہ اپنی بے بسی اور لاجوابی کو چھپانے کے لئے یہ جوابات دیا کرتے تھے۔ ان میں سے چند سوالات و جوابات قارئین کے مطالعہ کیلئے پیش کئے جاتے ہیں۔
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿61﴾
ترجمہ: اور اگر آپ اِن (کفّار) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے تابع فرمان بنا دیا، تو وہ ضرور کہہ دیں گے: اللہ نے، پھر وہ کدھر الٹے جا رہے ہیں۔ (سورۃالعنکبوت،آیۃ : 61 )

اسی سورت کی آیت نمبر 63 کا مطالعہ فرمائیں۔
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِہَا لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ﴿63﴾
ترجمہ:اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے اتارا پھر اس سے زمین کو اس کی مُردنی کے بعد حیات (اور تازگی) بخشی، تو وہ ضرور کہہ دیں گے: اللہ نے، آپ فرما دیں: ساری تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر (لوگ) عقل نہیں رکھتے۔
(سورۃالعنکبوت،آیۃ :63 )

عقیدہ توحید کے انکار کے علاوہ وہ دیگر عقائد اسلام کا بھی انکار کرتے تھے جو ضروریات دین میں سے ہیں۔ اور جن پر ایمان لائے بغیر کوئی انسان دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا مثلاً حضور فخر موجوداتﷺ کی نبوت کا انکار، قرآن کریم کے کلام الہٰی ہونے کا انکار ، قیامت کے وقوع پذیر ہونے کا انکار وغیرہ، سب سے بڑا اعتراض انہیں قیامت کے برپا ہونے پر تھا وہ کہتے کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہو جائیں گے اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں صدیاں بیت جائیں گی اور ہوا کے جھونکے ہماری خاک کے ذروں کو بھی عالم کی وسعتوں میں بکھیر کر رکھ دیں گے تو پھر ان کو جمع کرنا پھر ان میں روح پھونکنا پھر ان کو جوابدہی کے لئے اپنے سامنے پیش کرنا کیا عقل سلیم ان اَنہونی باتوں کو تسلیم کر سکتی ہے اور جو شخص ان محال باتوں پر ایمان لانے کی ہمیں دعوت دیتا ہے کیا ہم اس کو اپنا راہبر تسلیم کر لیں ؟ نا ممکن۔

اہل مکہ میں بلکہ سارے جزیرہ عرب میں بت پرستی کی وبا اس طرح عام تھی کہ ہر اہل خانہ کا الگ بت ہوا کرتا۔ جسے وہ اپنے گھر میں ایک محترم جگہ پر سجا دیا کرتے اور جس کی وہ پوجا پاٹ کیا کرتے ان میں سے اگر کوئی شخص سفر کے لئے جاتا تو اپنے بال بچوں کو الوداع کہنے کے بعد آخری کام وہ یہ کرتا کہ گھر سے نکلنے سے قبل وہ اس بت کو برکت حاصل کرنے کے لئے چھوتا اور جب سفر سے واپس آتا تو سب سے پہلا کام یہ کرتا کہ اس بت کی خدمت میں حاضر ہو کر آداب بندگی بجا لاتا۔ اثناء سفر اگر وہ کسی جگہ قیام کے لئے اترتا تو ارد گر د بکھرے ہوئے پتھروں میں سے چار پتھر چن کر لاتا ان میں سے جو پتھر خوبصورت ہوتا اس کو اپنا رب بنا لیتا اور تین پتھروں سے اپنا چولہا تیار کرتا۔ وہ ان بتوں کے لئے ان بتوں کے نام لے کر جانور ذبح کرتے اور ان جانوروں کو ذبح کر کے ان بتوں سے تقرب کے امید وار ہوتے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر

Scroll to Top