Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر90 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستاسی )

{جزیرہ عرب : حصہ گیارہواں}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ پنجم)
(مملکت حمیر:حصہ دوم)

پانچ سو چونتیس کا یہ واقعہ ہے ان میں سے ایک آدمی کسی طرح جان بچا کر روم کے قیصر یستنیان کے پاس پہنچا اور اس کے ہم مذہبوں پر یمن کے بادشاہ نے جو ظلم روا رکھا تھا اس کی لرزہ خیز داستان اسے جا کر سنائی اور امداد کا طالب ہوا اس وقت حبشہ کا ملک سلطنت روم کا ایک صوبہ تھا۔ قیصر نے وہاں کے گورنر کو حکم دیا کہ وہ یمن پر حملہ کرے اور مسیحی آبادی کو وہاں کے ظالم حکمران کے پنجہ استبداد سے نجات دلائے اس کاروائی سے قیصر دو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا ایک تو وہ یمن پر قبضہ کر کے تجارتی کاروانوں کے خشکی کے اس راستہ کو اپنے قبضہ میں لینا چاہتا تھا تاکہ تجارت کے میدان میں وہ اپنے ایرانی رقیبوں کو مات دے سکے۔ اس کا دوسرا مقصد دینی تھا کہ اس علاقہ میں وہ عیسائیت کی بالا دستی اور غلبہ قائم کرے نجاشی نے اپنا لشکر اریاط نامی قائد کی قیادت میں یمن پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا اور ابرہہ کو اس کا نائب مقرر کیا ان دونوں کی آپس میں ٹھن گئی۔ اریاط قتل ہو گیا ابرہہ نے اس کی جگہ فوج کی کمان سنبھالی اس میں نجاشی کی اشیر باد بھی اسے حاصل تھی۔ اس جنگ میں ابرہہ کا ایک ہونٹ کٹ گیا اس لئے اس کو ابرہہ الاشرم کہتے ہیں یمن پر قبضہ کرنے کے بعد اس نے صنعاء میں ایک عظیم الشان گرجا تعمیر کیا اور تمام اہل عرب کو دعوت دی کہ وہ مکہ میں کعبہ کا حج کرنے کے بجائے صنعاء آئیں اور وہ گرجا جو فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے اس کے اردگرد طواف کریں اور مراسم حج ادا کریں جب اس کی اس دعوت پر کسی نے توجہ نہ دی تو مارے حسد کے یہ جل اٹھا اور اس نے عزم کر لیا کہ وہ مکہ کے اس کعبہ کو منہدم کر کے رہے گا تا کہ سب لوگ اس کے بنائے ہوئے اس کوٹھے کی طرف متوجہ ہوں۔

چنانچہ وہ جب اپنے لشکر سمیت مکہ مکرمہ کے قریب پہنچا تو وادی محسّر میں ابابیل کی ایک ٹکڑی نے اس کے لشکر پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں پھینکیں۔ اس کا سارا لشکر وہیں ڈھیر ہو گیا اس کے جسم میں جگہ جگہ ناسور پھوٹ پڑے وہاں سے بھاگا یمن پہنچا تو اس کی حالت ایک جاں بلب چوزے کی سی تھی اس کے جسم کے ٹکڑے کٹ کٹ کر اس سے گرتے چلے گئے یہاں تک عذاب الیم برداشت کرنے کے بعد وہ ہلاک ہو گیا اس کے بعد اس کا لڑکا یکسوم پھر اس کا بھائی مسروق یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوئے اور اہل یمن کو اپنے مظالم کا ہدف بنایا۔ سیف ذی یزن الحمیری اس جور و ستم کی فریاد کرنے کے لئے قیصر روم کے دربار میں پہنچا اور اس سے درخواست کی کہ وہ ان حبشیوں کو اس کے وطن یمن سے نکل جانے کا حکم دے اس نے یہ بھی کہا کہ وہ قیصر کو اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے لیکن قیصر نے اس کی یہ درخواست بڑی حقارت سے مسترد کر دی۔ سیف مایوس ہو کر نعمان بن منذر کے باپ منذر بن ماء السماء کے دربار میں حاضر ہوا جو حیرہ کا بادشاہ تھا اور یہ ریاست ایران کی باج گزار تھی۔

سیف ذی یزن نے منذر سے کہا کہ وہ اسے کسرٰی نوشیرواں(531 تا 572ء) کے دربار میں پیش کرے۔ سیف جب دربار میں پیش ہوا تو دربار کی ظاہری سج دھج اسے مرعوب نہ کر سکی۔ اس نے بڑی خود اعتمادی اور جرأت کے ساتھ کسرٰی سے گزارش کی کہ وہ اس کے وطن کو حبشیوں کی چیرہ دستیوں اور مظالم سے نجات دلائے۔ کسرٰی نے بھی اس کی طرف چندے التفات نہ کیا اور کہا کہ تمہارا ملک ہمارے ملک سے بہت دور ہے وہاں بھیڑوں اور اونٹوں کے علاوہ رکھا کیا ہے جس کے لئے ہم فوجی مہم بھیجیں اس لئے ہم اس سلسلہ میں تمہاری کوئی امداد نہیں کر سکتے کسرٰی نے سیف کو خلعت شاہی پہنائی اور دس ہزار درہم بھی عطا کئے۔ سیف غصہ سے بے قابو ہو کر اس کے دربار سے باہر آیا اور اس نے وہ سارے درہم زمین پر پھینک دیئے جن کو کسرٰی کے خدام نے چن لیا کسرٰی کو اس کا علم ہوا تو از حد برافروختہ ہوا سیف کو پکڑ کر لانے کا حکم دیا اور ارادہ کیا کہ اس کی اس بے ادبی پر اس کو عبرت ناک سزا دے۔ سیف جب کسرٰی کے پاس آیا تو کسرٰی نے کہا کہ تو نے میرے جیسے شہنشاہ کے عطیہ کو زمین پر بکھیر دیا ہے۔ سیف نے کہا کہ بادشاہ نے مجھے جو عطیہ دیا ہے اس کی مجھے ضرورت نہیں میری سر زمین کے پہاڑ سونے چاندی سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ سن کر کسرٰی کے منہ میں پانی بھر آیا بادشاہ نے وزراء اور امراء کی مجلس مشاورت طلب کی ایک مشیر نے رائے دی کہ اگر آپ ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اپنی فوج کو خطرہ میں نہ ڈالیں بلکہ قیدیوں کا ایک لشکر تیار کر کے ان کے ہمراہ بھیج دیں اگر وہ مارے گئے تو خس کم جہاں پاک اور اگر فتح حاصل کی تو آپ کا مقصد پورا ہو جائے گا۔

بادشاہ کو یہ رائے پسند آئی آٹھ سو قیدیوں کا ایک لشکر تیار کیا گیا اور ”وہرز“ کو جو ایک پیر فرتوت تھا اس لشکر کی کمان سونپی گئی آٹھ کشتیوں میں یہ لشکر یمن کی طرف روانہ ہوا دو کشتیاں راستہ میں غرق ہو گئیں چھ کشتیاں چھ سو قیدی سپاہیوں کو لے کر یمن پہنچیں۔ اہل یمن کو جب پتہ چلا کہ شہنشاہ ایران کی فوج ان کو حبشیوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے آ رہی ہے تو وہ دیوانہ وار ان کے استقبال کے لئے ساحل پر پہنچ گئے اور ایرانی لشکر میں شامل ہو کر حبشیوں کے خلاف جنگ کی اور ان کو شکست فاش دی۔ ’’وہرز“ نے کسرٰی کو اس کامیابی کی خوشخبری بھیجی کسرٰی نے اسے لکھا کہ تم سیف بن ذی یزن کو یمن کا تاج و تخت حوالے کر دو اس کے بدلے سیف ہر سال جزیہ ادا کرے گا نیز وہرز کو حکم دیا کہ وہ واپس چلا آئے سیف ذی یزن نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد یمن میں جتنے حبشی تھے سب کو تہ تیغ کر دیا ایک حبشی نے موقع پاکر اپنی قوم کے قاتل سیف ذی یزن کو موت کے گھاٹ اتار دیا کسرٰی کو علم ہوا تو اس نے وہرز کو چار ہزار شہسوار دے کر یمن پر حملہ کرنے کے لئے روانہ کیا وہرز نے آ کر یمن پر قبضہ کر لیا اور کسی حبشی کو زندہ نہ چھوڑا۔ کسرٰی نے یمن کی حکومت اس کے حوالے کر دی اس کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا ”مرزبان‘‘ تخت نشین ہوا اس کے بعد اس کا پوتا خرخسرہ بن البینجان بن مرزبان بن وہرز از خود وہاں کا بادشاہ بن بیٹھا اس وجہ سے کسرٰی اس سے ناراض ہو گیا اور اسے اپنے پاس بلایا تاکہ اس کا کام تمام کر دے لیکن ایک ایرانی سردار نے کسرٰی کے باپ کی تلوار اس کے اوپر رکھ دی کسرٰی نے اس کو معاف کر دیا اور باذان کو یمن کا والی مقرر کیا یہ وہ آخری والی ہے جو کسرٰی نے یمن کے لئے مقرر کیا۔ اس کے پاس سرکار دو عالمﷺ کا قاصد گرامی نامہ لے کر آیا اور وہ مشرف بہ سلام ہوا ۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، صفحہ30 تا32)

سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top