Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر117بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سوچودہ)
{جزیرہ عرب : حصہ اڑتیسواں}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ چہارم)
(چرا گاہوں پر اجارہ داری، بحیرہ و سائبہ)
[5:16 AM, 3/27/2024] Seraat Form Web: چراگاہوں پر اجارہ داری: آپ کو معلوم ہے کہ عرب کے بادیہ نشین قبائل کا ذریعہ معاش ریوڑ پالنا تھا۔ وہ چشموں چراگاہوں کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے جہاں ان کی بھیڑ، بکریوں کے لئے پینے کا پانی اور چرنے کے لئے گھاس بآسانی دستیاب ہوتا۔ اس پر ان کی معاشی خوشحالی کا دار و مدار تھا۔ لیکن اس سلسلہ میں بھی طاقتور رؤساء ایسی حرکتیں کرتے تھے جن سے عوام الناس کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جہاں بھی کسی قبیلہ کا کوئی طاقتور سردار پہنچتا تو وہ اپنا ایک کتا اونچی جگہ پر کھڑا کرتا اور اس کو بھونکاتا اور جہاں جہاں تک اس کتے کے بھونکنے کی آواز پہنچتی وہاں تک وہ چراگاہ اس ایک شخص کی مقبوضہ بن جاتی۔ اس کے ریوڑ کے علاوہ کسی اور کا ریوڑ ادھر کا رخ نہ کر سکتا۔ نہ اس محدود علاقہ کے چشموں سے کوئی پانی پی سکتا۔ یہ ایک صریح ظلم تھا بسا اوقات عوام جب گونا گوں صعوبتوں سے دو چار ہوتے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے قاعدہ کے مطابق اس ظالم سردار کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ کلیب بن وائل جو اپنے زمانہ میں ربیعہ کا سردار تھا۔ اس کی ہیبت اور رعب کا یہ عالم تھا کہ جس چراگاہ کو وہ اپنے لئے مخصوص کر لیتا کوئی دوسرا اس کے قریب نہ پھٹک سکتا۔ جن شکاری جانوروں کو وہ پناہ دے دیتا کوئی دوسرا شخص ان کا شکار کرنے کی بجائے خود انہیں اپنے ٹھکانہ سے خوفزدہ کر کے نکالنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا تھا جب وہ کسی باغ کے پاس سے یا تالاب کے پاس سے گزرتا جو اسے پسند آ جاتا تو وہ اونچی جگہ پر اپنے کتے کو کھڑا کر کے بھونکاتا اور جہاں تک اس کے بھونکنے کی آواز پہنچتی کسی دوسرے کی مجال نہ ہوتی کہ وہاں دم مار سکے۔ اس کی عزت و احترام کی یہ کیفیت تھی کہ اس کی آگ کے قریب کوئی دوسری آگ نہ جلائی جاتی پانی کے گھاٹ سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی پانی لینے کے لئے نہیں جا سکتا تھا اس کی محفل میں کوئی گفتگو نہ کر سکتا تھا لوگ اس کے ظلم و ستم سے بہت تنگ آ گئے یہاں تک کہ انہوں نے موقع پا کر اس کو قتل کر دیا۔ عباس بن مرداس، اپنے قصیدہ میں کہتا ہے۔ كَمَا كَانَ يَبْغِيْهَا كُلَيۡبٌ بِظُلْمِهٖ مِنَ الْعِزِّ حَتّٰى طَاحَ وَهُوَ قَتِيۡلُهَا عَلٰى وَائِلٍ اِذْ يَتْرُكُ الْكَلْبَ نَابِحًا وَاِذْ يُمْنَعُ الْاَفْنَاءُ مِنْهَا حُلُوۡلُهَا جس طرح کلیب نے اپنے ظلم سے وہ عزت حاصل کر لی تھی کہ جہاں اس کا کتا بھونکتا تھا کوئی دوسرا قبیلہ اس طرف کا رخ نہیں کر سکتا تھا یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا گیا۔ اس کا بھائی مہلہل، اس کا مرثیہ لکھتے ہوئے کہتا ہے۔ نُبِئۡتُ اَنَّ النَّارَ بَعۡدَكَ اُوۡقِدَتَ وَاسْتَبَّ بَعْدَكَ يَا كُلَيۡبُ الۡمَجۡلِسُ مجھے بتایا گیا ہے کہ تیرے مرنے کے بعد مہمانوں کی ضیافت کے لئے تیری آگ کے بغیر اور آگ بھی جلائی گئی اور تیرے بعد اے کلیب کئی مجلسیں آراستہ کی گئیں۔ وَتَكَلَّمُوۡا فِيۡ اَمْرِ كُلِّ عَظِيۡمَةٍ لَوۡكُنۡتَ شَاهِدَهُمْ بِهَا لَمْ يَنْبِسُوۡا انہوں نے ہر بڑی بات میں گفتگو شروع کر دی اور اگر تو موجود ہوتا تو کوئی زبان کو حرکت بھی نہ دیتا۔ (بلوغ الارب، جلد سوم ، صفحہ 32) بحیرہ و سائبہ: آپ پڑھ چکے ہیں کہ اہل عرب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت حنیفیہ پر کار بند تھے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ان کا محکم یقین تھا۔ عمرو بن لحی خزاعی، بلقاء سے چند بت لے آیا۔ اور یہاں ان کی پرستش کو مروج کیا اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسی خرافات تھیں جن کا اس نے آغاز کیا بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام وغیرہ کے بارے میں نئے نئے قوانین نافذ کئے جن کو اہل عرب نے آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا اور اس پر کار بند ہو گئے بحیرہ سائبہ، وصیلہ اور حام کی تشریح میں کوئی متفقہ قول نہیں بلکہ ان کی توضیح مختلف اقوال سے کی گئی ہے ممکن ہے ہر قبیلہ نے ان الفاظ کو مخصوص معانی میں استعمال کیا ہو۔ اور اسی وجہ سے ایک لفظ کی تشریح میں علماء لغت نے متعدد اقوال نقل کئے ہوں ۔ بہر حال ہم ان اقوال میں سے قوی اور احسن قول سے ان الفاظ کی تشریح کرتے ہیں۔ بَحِیْرَہ: اس کا وزن فعیلہ ہے یہ مفعول کے معنی میں مستعمل ہے یہ بحر سے مشتق ہے بحر کا معنی چیرنا ہے۔ اس کے بارے میں متعدد اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ اونٹنی جو دس بچے جنتی اس کا کان چیر دیا جاتا اور اس کو آزاد چھوڑ دیا جاتا وہ جہاں پھرے چرے اسے منع نہ کیا جاتا۔ وہ جہاں سے بھی پانی پئے اسے روکا نہ جاتا۔ سائبہ: یہ سیبۃ کے مادہ سے فعل ثلاثی مجرد کا اسم فاعل ہے اس کا معنی تَرَکْتُہُ وَ اَہْمَلْتُہُ ہے، یعنی میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ اگر اونٹ ہو تو اس کو سائب اور اونٹنی ہو تو اسے سائبہ کہتے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے اسکی تشریح یوں منقول ہے ۔ “هِيَ الَّتِيۡ تُسَيَّبُ لِلْاَصْنَامِ وَتَقطىٰ لِلسَّدَنَةِ وَلَا يُطْعِمُ مِنْ لَبْنِهَا اِلَّا اَبْنَاءُ السَّبِيۡلِ وَنَحۡوُهَا” ترجمہ: یعنی یہ وہ اونٹنی ہے جو بتوں کے لئے چھوڑ دی جاتی ہے اور ان بتوں کے خدمتگاروں کو دے دی جاتی ہے اس کا دودھ مسافروں اور ضرورتمندوں کے بغیر اور کوئی نہیں پی سکتا۔ اس کو پانی اور گھاس سے بھی نہ روکا جاتا۔ اس پر سواری بھی نہ کی جاتی اور بوجھ بھی نہ لادا جاتا نہ اس کی اون کاٹی جاتی۔ وصیلہ: یہ اس بھیڑ کو کہا جاتا جو سات مرتبہ دو دو مادہ بچے جنتی اور آخری مرتبہ ایک مادہ اور ایک نر جنتی تو کہا جاتا۔ “وَصَلَتۡ اَخَاھَا.” ترجمہ: کہ اس نے اپنے بھائی کو ملا دیا ہے۔ اس کی ماں کا دودھ صرف مرد پی سکتے تھے عورتیں نہیں پی سکتی تھیں اس کو بھی سائبہ کی طرح آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ جہاں چاہے چرے جہاں سے چاہے پانی پئے۔ الحام: یہ حمیٰ سے مشتق ہے جس کا معنی روکنا، منع کرنا ہے۔ فراء نے اس کا معنی یہ بتایا ہے کہ وہ نر اونٹ جس کا بچہ جفتی کے قابل ہو جائے تو کہتے ہیں: “قَدۡ حَمَا ظَھۡرَہٰ” ترجمہ: اس نے اپنی پشت کو محفوظ کر لیا ہے۔ اس کو بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا اس کو چرنے اور پانی پینے سے کسی جگہ بھی روکا نہ جاتا۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے اس کی تشریح یوں منقول ہے۔ “اِنَّهُ اَلۡفَحۡلُ يُوۡلَدُ مِنۡ ظَهۡرِہٖ عَشَرَةُ اَبۡطُنِِ” ترجمہ: وہ نر جس کی پشت سے دس بچے پیدا ہوتے عرب کہتے اس نے اپنی پیٹھ کو محفوظ کر لیا ہے۔ اس پر نہ سواری کی جائے گی نہ بوجھ لادا جائے گا نہ کہیں اسے چرنے اور پانی پینے سے روکا جائے گا۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲 ﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺﷺ
Scroll to Top