Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 133(حضورﷺ کا معصوم بچپن: حصہ پنجم)

(حضورﷺ کا والدہ ماجدہ کے ہمراہ سفر یثرب)


حضرت عبد المطلب کے والد گرامی حضرت ہاشم نے یثرب کے بنی نجار خاندان کے رئیس عمرو بن لبید کی صاحب زادی سلمیٰ سے شادی کی جس کے بطن سے شیبہ ( عبد المطلب ) پیدا ہوئے، حضرت ہاشم ایک تجارتی سفر پر فلسطین گئے تھے کہ غزہ کے مقام پر انتقال فرمایا اور یہ بھی کہ حضرت عبداللہ شادی کے بعد کچھ عرصہ مکہ میں رہے، پھر بغرض تجارت شام گئے جب لوٹے تو ان کا گزر یثرب سے ہوا، چند روز کے لئے اپنے والد حضرت عبدالمطلب کے ننہال میں قیام کیا اس اثناء میں وہ بیمار ہو گئے۔ آپ کے دوسرے ساتھیوں نے چند روز انتظار کیا لیکن جب آپ کی طبیعت نہ سنبھلی تو وہ لوگ مکہ روانہ ہو گئے لیکن آپ رک گئے کہ صحت درست ہو تو سفر اختیار کریں۔ لیکن مشیت الہیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آپکی طبیعت بگڑتی چلی گئی یہاں تک کہ آپ نے یثرب میں ہی داعی اجل کو لبیک کہا۔

جب یہ خبر مکہ پہنچی ہو گی تو عبد المطلب کے خاندان پر بجلی بن کر گری ہو گی۔ حضرت عبد المطلب کو اپنے جواں سال اور فرخنده فال (خوش بخت) لخت جگر اور آپ کے بھائی بہنوں کو اپنے بلند اقبال بھائی کی وفات نے جس طرح تڑپایا ہو گا اس کا باسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن جب حضرت آمنہ کے معصوم دل پر اس جان کے صدمہ سے جو چوٹ لگی ہو گی اس کے درد کا کون اندازہ لگا سکتا۔ ابھی تو انہوں نے اپنے ماہ تمام کو جی بھر کے دیکھا بھی نہ تھا۔ کتنی آرزوئیں زندہ در گور ہو گئی ہوں گی، کتنی امنگیں ادھوری رہ گئی ہوں گی۔ ایک کامیاب اور ہر نوع کی سعادتوں سے مالا مال زندگی بسر کرنے کے سارے حسین خواب چور چور ہو گئے ہوں گے۔ سیدہ کے قلب حزیں نے کتنا چاہا ہو گا کہ اڑ کر یثرب چلی جائیں۔ اور اس مٹی کے تودے کو دیکھیں اور اس کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بنائیں ۔ جہاں ان کا قرار جاں استراحت فرما ہے۔ لیکن وہ امانت جس کا آپ کو امین بنایا گیا تھا، اس کی حفاظت کے احساس نے ان کے دل ناصبور (بے قرار) کو اپنے محبوب کے مرقد کی زیارت سے باز رکھا، یہاں تک کہ وہ نور حق محمدﷺ معصوم کے پیکر رعنائیں ظاہر ہوا۔ پھر حضورﷺ کی پرورش کا فرض اس شوق فراواں کی تعمیل میں حائل رہا۔ جب اس لخت جگر اور نور نظرﷺ کی عمر چھ سال ہو گئی اور آپﷺ سات آٹھ سال عمر کے بچوں سے بھی زیادہ توانا اور تندرست معلوم ہونے لگے اور غمزدہ ماں کو یقین ہو گیا کہ ان کے گلشن آرزو کا یہ گل رنگین اب یثرب کے طویل اور کٹھن سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرنے کے قابل ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنے سسر حضرت عبد المطلب سے اپنی اس دیرینہ آرزو کا ذکر کیا اور اجازت چاہی کہ آپ یثرب جا کر اپنے دولہا کی قبر کی زیارت کریں۔ سیدہ آمنہ اپنے فرزند کو لے کر یثرب روانہ ہوئیں۔ ان کے ساتھ ان کی کنیز ام ایمن تھی۔ اس خوش بخت خاتون کا نام برکت تھا اور اس کا تعلق حبشہ سے تھا۔ یہ حضورﷺ کو اپنے والد سے ورثہ میں ملی تھی۔ یہ مختصر سا قافلہ حضورﷺ کے جد امجد حضرت عبد المطلب کے ننہال بنو عدی بن نجار کے ہاں جا اترا اور ایک ماہ تک وہاں مقیم رہا۔ مہینہ بھر کے قیام کے دوران جو واقعات رو پذیر ہوئے، سرکار دو عالمﷺ ہجرت کے بعد جب یہاں تشریف فرما ہوئے تو بسا اوقات حضور ﷺ ان یادوں کو تازہ فرمایا کرتے تھے۔ جب اس مکان کو دیکھتے جہاں اپنی پیاری ماں کے ساتھ رہائش فرمائی تھی تو فرماتے اس مکان میں میں اپنی والدہ کے ساتھ اترا تھا اور میں نے بنی عدی بن نجار کے تالاب میں تیرنے میں مہارت حاصل کی تھی۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان ، جلد اول ، صفحہ25)

اس مختصر قیام کے دوران ایک یہودی نے حضورﷺ کو دیکھا تو پوچھا اے بچے! تمہارا نام کیا ہے میں نے کہا میرا نام احمد ہے۔ پھر اس نے میری پیٹھ کی طرف دیکھا پھر میں نے اس کو یہ کہتے سنا کہ یہ اس امت کا نبی ہے۔ پھر وہ اپنے یہودی علماء کے پاس گیا اور انہیں جاکر یہ بتایا۔ میری والدہ کو بھی اس کا پتہ چل گیا، ان کے دل میں یہود کی طرف سے طرح طرح کے اندیشے اندر پیدا ہونے لگے۔حضرت ام ایمن کہتی ہیں کہ میں نے ان یہودیوں کو جو حضورﷺ کو دیکھنے کے لئے یکے بعد دیگرے آتے تھے یہ کہتے سنا کہ یہ اس امت کی نبی ہیں اور یہ جگہ ان کی دار ہجرت بنے گی۔

ان اندیشوں کے باعث حضرت آمنہ نے یہاں مزید ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا۔ اور مکہ جانے کی تیاری شروع کر دی۔ ہم مدینہ سے روانہ ہوئے اور جب ابواء کے مقام پر پہنچے تو آپ کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ علامہ ابو نعیم نے “دلائل النبوۃ “میں اسماء بنت رحم سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا کہ میری ماں حضرت آمنہ کی وفات کے وقت حاضر تھی۔ آپ نے اپنی بالین کے قریب اپنے فرزند کو دیکھا تو یہ اشعار پڑھے۔

یعنی میں نے جو خواب میں دیکھا ہے اگر وہ صحیح ہے۔ تو آپﷺ تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجے جائیں گے، سب جگہ آپﷺ نبی ہوں گے، آپﷺ کو اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین اسلام پر مبعوث کیا جائے گا۔ میں آپﷺ کو بتوں سے خدا کا واسطہ دے کر روکتی ہوں کہ آپﷺ دوسری قوموں کے ساتھ مل کر ان کی دوستی نہ کریں۔

اس کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ہر زندہ موت کا مزہ چکھے گا۔ ہر نئی چیز پرانی ہو جائے گی اور ہر بڑی چیز فنا ہو جائے گی۔ میں تو مر رہی ہوں لیکن میرا ذکر ہمیشہ باقی رہے گا۔ میں نے ایک پاکباز بچہ جنا ہے۔

علامہ زرقانی علیہ الرحمۃ “شرح مواہب اللدنیہ” میں ان اشعار کو نقل کرنے کے بعد علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ یہ اشعار اس بات پر صراحی دلالت کرتے ہیں کہ حضرت آمنہ موحدہ تھیں۔انہوں نے دین ابراہیمی کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ آپ کا فرزند اسلام کے ساتھ اللہ کی طرف سے مبعوث ہو گا اور بتوں کی دوستی سے اپنے فرزند کو منع فرمایا۔ کیا یہ توحید نہیں؟ کیا ان عقائد کے علاوہ توحید کسی دوسری چیز کا نام ہے؟ اور یوں حضرت آمنہ کو ابواء کے مقام پر ہی دفن کر دیا گیا، ابواء مکہ سے مدینہ منورہ جانے والی قدیم شاہراہ پر واقع ہے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top