Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 134حضورﷺ کا معصوم بچپن: حصہ ششم

(حضورﷺ کا والدہ ماجدہ کے ہمراہ سفر کے بعد مکہ کی جانب واپسی)


حضرت ام ایمن نے سیدہ آمنہ کو ابواء کے مقام پر دفن کیا یہ مقام مکہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان ہے، قدیم شاہراہ جو مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ جاتی ہے اس پر ایک گاؤں مستورہ کے نام سے سے آتا ہے، جہاں ہوٹل اور قہوہ خانے ہیں آنے جانے والی بسیں اور کاریں یہاں رکتی ہیں مسافر چائے پیتے ہیں کھانا کھاتے ہیں، یہاں سے مدینہ طیبہ جاتے ہوئے دائیں طرف چند میل کے فاصلہ پر ابواء کی بستی ہے۔ بستی سے باہر ایک اونچا ٹیلہ ہے ارد گرد جھاڑیاں اور کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں اس ٹیلہ پر سیدہ آمنہ کا مزار پر انوار ہے۔ مزار کیا ہے کالے پتھر توڑ کر ایک جگہ بے ہنگم سا ڈھیر لگا دیا گیا ہے اس کے ارد گرد چار دیواری ہے وہ بھی کالے پتھروں کو جوڑ کر بنا دی گئی ہے۔ بظاہر وہاں زیب و زینت اور رونق نام کی کوئی چیز نہیں، لیکن قلب و روح کو وہاں ایسا کیف نصیب ہوتا ہے کہ سبحان اللہ۔

بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ ابواء جہاں محبوب رب اللعالمینﷺ کی مادر مشفقہ آرام فرما ہیں کہاں واقع ہے۔ اور بہت ہی کم لوگوں کو وہاں حاضری کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ حضرت ام ایمن نے اس مقام پر سیدہ آمنہ کو دفن کیا پھر اپنے کریم مالک اور مہربان مالکہ کے در یتیمﷺ کو اپنی آغوش شفقت میں لیا، اس جان عالمﷺ کی آنکھوں سے موسلا دھار بارش کے قطروں کی طرح ٹپکنے والے آنسو پونچھے۔ اس کے دل درد مند کو تسلی دی۔ اس کی روح کو دلاسہ دیا جب انہوں نے چھ سالہ معصوم بچے کو اپنی ماں کی مرقد سے جدا کیا ہو گا تو دونوں پر کیا بیتی ہوگی۔ اسے صرف حضرت ام ایمن ہی جانتی ہیں۔ فطرت ، مقبولان بارگاہﷺ صمدیت کی تربیت کا خود انتظام فرماتی ہے۔ یہ انتظامات انسان کے طے کئے گئے انتظامات سے انوکھے ہوتے ہیں۔ مادر مشفق کا سایہ تو اٹھا لیا۔ لیکن اس کے عوض میں حضرت ام ایمن کی گود عطا فرما دی، بے پایاں محبت، بے مثل خلوص اور انتھک خدمت کے جذبات نے حضرت ام ایمن کو دوسری ماں کا درجہ دے دیا۔ سیدہ آمنہ نامور خاندان بنی زہرہ کا گل تھیں، ان کے دار فانی سے رخصت ہونے کے بعد اپنے محبوبﷺ کو ایک ایسی آغوش مرحمت فرمائی جہاں بے پایاں محبت بے مثل خلوص اور انتھک خدمت کے عمیق جذبات کے چشمے ابل رہے تھے۔ جس نے اس معصوم دل کے درد و آلام کو بہت حد تک کم کر دیا۔ اس حبشن خاتون کو تجویز کر کے یہ بتا دیا کہ انسانیت کی عالی قدریں صرف سفید فاموں کے لئے مخصوص نہیں۔ بلکہ قدرت کی فیاضیاں یہ خصائل حمیدہ ان دلوں اور روحوں کو بھی ارزانی فرما دیتی ہے۔ جن کی رنگت سیاہ ہے۔ اور جو مشک فام ہیں۔اس لئے انسانیت کو رنگ و روپ کی کسوٹی پر مت پرکھو ورنہ اکثر دھوکا کھا جاؤ گے ۔ بلکہ ان کمالات اور خوبیوں سے جانچو جو شرف انسانیت ہیں، جن میں عظمت و کرامت کا راز پوشیدہ ہے، خصوصاً وہ ہستی جس نے کالے اور گورے کے جھوٹے امتیازات کو ختم کرنا تھا اسے دو ماؤں کی محبت عطا فرمائی، اس لئے حضور نبی کریمﷺ نے اپنے ایک صحابی کو کسی کو عار دلاتے ہوئے یہ سنا۔ اے کالی ماں کے بیٹے تو حضورﷺ کو یارائے ضبط نہ رہا، بڑے جوش اور غضب سے فرمایا ۔ پیمانہ چھلک گیا ، کسی سفید رنگ والی ماں کے بیٹے کو کسی سیاہ رنگ والی ماں کے بیٹے پر کوئی فضیلت نہیں بجز تقویٰ کے ، پس محمدﷺ سفید رنگ والی ماں کا فرزند ہے، اس کی پرورش کالے رنگ والی ماں نے کی ہے، پس وہ ان دونوں کا بیک وقت بیٹا ہے۔
(خاتم النبیین ، امام محمد ابو زہرہ ، جلد اول ، صفحہ131)

اس شفیق خادمہ نے اپنے ساتھ اونٹ پر سوار کیا۔ یہ مختصر قافلہ جو اب صرف دو افراد اور دو اونٹوں پر مشتمل تھا مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان مسافروں نے یہ مسافت کتنے دنوں میں طے کی اور وہ مکہ کب پہنچی ہوں گی اور گھر والوں نے سیدہ آمنہ کو نہ پایا ہو گا تو حضرت عبد المطلب پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو گا۔ حضرت عبد المطلب تو پہلے ہی حضورﷺ کو دیکھ کر اپنے بڑھاپے کے دن گزار رہے تھے۔ سیدہ آمنہ کے انتقال پُر ملال کے بعد تو حضورﷺ سے ان کی الفت نے ایک طوفان کی صورت اختیار کر لی۔ کبھی ان کی انگلی پکڑے پکڑے حرم کی طرف جا رہے ہیں، کبھی انہیں اپنے کندھوں پر اٹھائے کعبہ کے گرد طواف کر رہے ہیں، اپنے فرزند دل بند کی درازی عمر اور بخت ارجمند کے لئے مصروف دعا ہیں، کبھی اس چاند سے چہرے کو دیکھ کر سو جان سے تصدق ہو رہے ہیں۔ کھانا کھاتے ہیں تو انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر، سوتے ہیں تو رات کو اپنے پہلو میں سلاتے ہیں۔ ایک لمحہ کے لئے بھی جدا کرنا گوارا نہ تھا۔ حضرت عبد المطلب جب حرم شریف میں حاضری کے لئے جاتے تو ظل کعبہ میں ان کے لئے مخصوص نشست گاہ بنائی جاتی، کسی بڑے سے بڑے آدمی کی مجال نہ تھی کہ اس پر قدم رکھ سکے، حتیٰ کہ ان کے فرزندان گرامی قدر بھی از راه ادب اس نشست گاہ سے دور ہٹ کر بیٹھتے لیکن جب حضورﷺ تشریف لاتے تو بے جھجک اپنے ذی وقار دادا جان کی نشست پر بیٹھنے کے لئے آگے بڑھ جاتے، حضورﷺ کے چچا آپﷺ کو ایسا کرنے سے روکتے تو حضرت عبد المطلب اپنے بیٹوں کو فرماتے کہ میرے بچے کو مت روکو اس کو آگے آنے دو، بخدا اس کی بڑی شان ہوگی۔ ہمیشہ حضورﷺ کو اپنے ساتھ بٹھاتے، آپﷺ کی پشت پر پیار سے ہاتھ پھیرتے، حضورﷺ کی معصوم ادائیں دیکھتے اور خوشی سے پھولے نہ سماتے۔
(السيرة النبویہ، ابن ہشام ، جلد اول ، صفحہ 195)

اپنے عظیم دادا کی بے پایاں شفقتوں اور محبتوں کے گھنے اور خنک سایہ میں حضورﷺ کے دو سال بسر ہو گئے۔ عمر مبارک آٹھ سال ہو گئی۔ تو قدرت خداوندی نے اپنی دور رس حکمتوں کے پیش نظر حضرت عبدالمطلب کو بھی اس دنیا سے اٹھا لیا۔ وفات سے پہلے آپ نے اپنے بیٹے حضرت ابو طالب کو بلایا اور حضورﷺ کی نگہداشت اور خدمت ان کے سپرد کی۔ کیونکہ آپ حضرت عبداللہ کے سگے بھائی تھے۔ دونوں فاطمہ بنت عمرو بن عائد کے بطن سے تولد ہوئے تھے۔ حضورﷺ کی عمر مبارک جب آٹھ سال ہو گئی تو حضرت عبد المطلب اس دار فانی سے دار بقا کو سدھارے۔
(السيرة النبویۃ، ابن کثیر ، جلد اول ، صفحہ 241)

آپ کی عمر اس وقت ایک سو چالیس سال اور دوسری روایت کے مطابق ایک سو دس سال تھی آپ کو اپنے جد اعلی قصی کی قبر کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان ، جلد اول ، صفحہ 387)

آپ کی وفات پر کئی دنوں تک بازار بند رہے اور منڈیوں میں کاروبار معطل رہا، آپ کی چھ بیٹیاں تھیں ہر ایک نے اپنے عظیم باپ کی وفات پر مرثیے لکھے۔ جن میں آپ کے محلد و کملات ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عمیق حزن و ملال کا اظہار کیا، جب آپ کا جنازہ اُٹھا تو لوگوں نے آپ کے آٹھ سالہ کمسن پوتےﷺ کو بھی دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان ، جلد اول صفحہ88)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top