قسط نمبر 79 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین : حصہ پنجم آخری حصہ}
(کانفیوشس : حصہ سوم آخری حصہ)
ایک عجیب و غریب بات ایسی ہے جس میں اہل چین بالکل منفرد ہیں۔ دنیا کی شاید ہی کوئی دوسری قوم اس معاملہ میں ان کے ساتھ مماثلت رکھتی ہو۔ وہ یہ کہ چینی بیک وقت کئی مذہبوں کے پیروکار ہوتے تھے، وہ اگر بدھ مت قبول کرتے ہیں تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ کانفیوشس یا ٹاؤ ازم سے اپنا تعلق پہلے منقطع کریں پھر یہ نیا مذہب اختیار کریں، بلکہ بیک وقت وہ تینوں مذہبوں سے اپنی عقیدت کا رشتہ استوار رکھتے ہیں اور زندگی کے مختلف مراحل میں جس مذہب کی تعلیمات کو وہ اپنے لئے مفید پاتے ہیں اس کو اپنا لیتے ہیں۔ میگزین لائف کی ورلڈ لائبریری نے چین پر جو کتاب شائع کی ہے اس میں اس کے ایڈیٹر لکھتے ہیں۔ چینی جب تک اپنے منصب پر فائز ہوتا ہے تو وہ کانفیوشس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتا ہے اور جب وہ اپنے عہدہ سے معزول ہوتا ہے تو وہ ٹاؤ ازم کے اصولوں کو اپنانے لگتا ہے۔ اور جب وہ بڑھاپے کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو وہ بدھ ازم کے سایہ میں آکر پناہ لیتا ہے۔ ایڈیٹر نے مثال دیتے ہوئے ماوزے تنگ اور چیانگ کائی شک کا حوالہ دیا ہے کہ ماؤ، پہلے بڑا مخلص بدھ تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی کانفیوشس کی کتابوں کے حوالے بھی دیا کرتا تھا جب اس نے بدھ مت کو چھوڑ کر مارکس ازم کا نظریہ قبول کر لیا۔ تو پھر بھی وہ شانگ صوبہ میں جایا کرتا جہاں کانفیوشس کی قبر تھی اور جو منسس کی جائے پیدائش بھی تھی وہاں جا کر وہ ان کی زیارت کیا کرتا۔
چیانگ کائی شک نے ایک بدھ ماں کی گود میں پرورش پائی تھی۔ وہ کئی سال تک کانفیوشس کے لٹریچر کا مطالعہ کرتا رہا 1927ء میں اس نے دوسری شادی کی تو عیسائی پروٹسٹنٹ فرقہ کے میتھو ڈزم (METHO DISM) یعنی غیر مقلدوں کے گروہ کا عقیدہ اختیار کر لیا۔ جب اس کی ماں مر گئی تو اس نے 1931ء میں اپنی ماں کی یادگار کے طور پر بدھ مذہب کا ایک مندر تعمیر کرا دیا چیانگ کو جب کوئی مشکل مرحلہ در پیش ہوتا تو وہ کسی پہاڑی جگہ پر چلا جاتا یا سمندر کے ساحل پر پہنچ جاتا وہاں کافی دیر تک مراقبہ میں بیٹھا رہتا، اس کے بعد وہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرتا۔ اس کی مثالیں چین کی قدیم تاریخ میں بھی نایاب نہیں ہیں، چانگ چنگ (443 ءتا 497ء) نے اپنی ملازمت کی زندگی ایک شہزادے کے سیکرٹری کی حیثیت سے شروع کی وہ ویت نام میں اپنے حکومتی منصب کا چارج لینے کے لئے جار ہا تھا کہ راستہ میں قزاقوں نے اسے گرفتار کر لیا انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ اس کا سر قلم کر دیں چانگ بڑے سکون کے ساتھ بیٹھ کر اپنی ایک نظم لکھنے میں مصروف ہو گیا اس کے غیر معمولی سکون کی کیفیت کو دیکھ کر قزاق بڑے متاثر ہوئے اور انہوں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
چانگ نے اپنی ساری زندگی ایک مشہور شاعر اور شاہی خاندان کے وفادار ملازم کی حیثیت سے بسر کی۔ لیکن وہ آخرت کے خیال سے بھی غافل نہ تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے کہا کہ کانفیوشس کی ایک کتاب اور ٹاؤ ازم کی ایک کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں پکڑا دیں اور اس کے دائیں ہاتھ میں بدھا کی ایک کتاب پکڑا دیں اس طرح اس کو سپرد خاک کر دیں یہ طریقہ کار صرف چند لوگوں تک محدود نہ تھا۔ بلکہ تقریباً تمام اہل چین اسی طریقہ کار پر کار بند تھے وہ بیک وقت کئی مختلف اور متضاد مذاہب پر عقیدہ رکھتے تھے۔ ہندوستان جہاں گوتم پیدا ہوا اور اپنے مذہب کی تبلیغ کی وہاں تو بدھ مت ناکام ہو گیا لیکن انہیں سالوں میں اس نے چین کے وسیع و عریض رقبہ پر اپنا پرچم لہرا دیا۔ بدھا نے جو تعلیمات اپنے شاگردوں کو سکھائی تھیں۔ ان میں جو تغیرات رونما ہوئے اس کے بارے میں آپ پڑھ آئے ہیں بدھا خود کسی خدا کا قائل نہیں تھا۔ لیکن اس کے معتقدین نے اسے ہی خدا بنا لیا اور اس کی پوجا پاٹ شروع کر دی اور ملک کے گوشہ گوشہ میں ایسے مندر تعمیر ہو گئے جہاں بدھا کے بتوں کی دھوم دھام سے پوجا ہوتی تھی اس کی تفصیل ہم ہندوستان کے حالات کے ضمن میں بیان کر چکے ہیں وہی بگڑا ہوا اور تحریف شدہ بدھ مت چین میں آیا تو اس نے اپنے نئے اور پر جوش معتقدین کے قلوب و اذھان پر جو اثرات ڈالے ہوں گے ان کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲