Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر115بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ایک سو بارہ)
{جزیرہ عرب : حصہ چھتیسواں}
(اہل عرب کی لغو عادات:حصہ دوم)

اسلام نے ان تمام خرافات کو نیست و نابود کر دیا اور اپنے ماننے والوں کو ایسی رسوم ادا کرنے سے منع کر دیا ان کے ہاں ایک اور عقیدہ بھی پھیلا ہوا تھا کہ جب کسی آدمی کو قتل کر دیا جاتا ہے تو اس کے سر سے روح ایک پرندہ کی شکل میں نکلتی ہے اور جب تک اس مقتول کا انتقام نہ لیا جائے اس وقت تک وہ اس کی قبر پر چکر کاٹتی رہتی ہے۔ اور کہتی ہے کہ: “اِسۡقُوۡنِیۡ فَاِنِّیۡ صَدِیَۃٌ” ترجمہ: مجھے پلاؤ میں سخت پیاسی ہوں۔ اس اعتقاد کے باعث ان کے ہاں اگر کسی آدمی کو قتل کر دیا جاتا۔ تو اس کے قریبی رشتہ داروں اور بیٹوں ، بھائیوں کے لئے اس کے خون کو معاف کرنا مشکل ہو جاتا تھا کیونکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ جب تک ہم مقتول کا بدلہ نہیں لیں گے اس وقت تک اس کی روح کو چین نہیں آئے گا۔ وہ اپنے مشتعل جذبات کو تو ٹھنڈا کر سکتے تھے لیکن اپنے مقتول باپ یا بھائی کی روح کی اس ابدی پریشانی اور اضطراب کو برداشت کرنا ان کے بس کا روگ نہ تھا۔ اس لئے وہ مجبور تھے کہ اپنے مقتول عزیز کا ہر قیمت پر انتقام لیں۔
ایک آدمی اپنے بیٹے کو وصیت کرتا ہے۔

لَا تَزْقُوۡنَ لِيۡ هَامَةً فَوْقَ مَرْقَبٍ
فَاِنَّ زُقَاءَ الْهَامِ لِلْمَرْءِ عَائِبُ
میری روح کو چیخنے چلانے پر مجبور نہ کرو کیونکہ روح کا چیخنا چلانا انسان کے لئے بڑی معیوب بات ہے ۔

تُنَادِيۡ : اَلَّا اِسْقُوۡنِيۡ! وَكُلُّ صَدَا بِہٖ
وَتِلْكَ الَّتِيۡ تَبْيَضُّ مِنْهَا الذَّوَائِبُ
وہ روح چیختی ہے میں پیاسی ہوں مجھے پلاؤ۔ اور اس کی ہر صدا ایک ایسی مصیبت ہے جو سیاہ بالوں کو سفید کر دیتی ہے۔

اسلام نے دوسری خرافات کی طرح اس توہم پرستی کی بھی بیخ کنی کر دی اور اہل عرب کو اس ناسور سے شفا بخشی جس سے ہر وقت خون رستا رہتا تھا اور قیامت برپا کرتا رہتا تھا۔ ان کی جاہلانہ رسوم میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ جب کوئی شخص کسی ایسے گاؤں میں داخل ہونے کا ارادہ کرتا جس میں کوئی وبا پھوٹی ہوئی ہوتی تو اس سے بچنے کے لئے اور وہاں کے جِن کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے وہ اس گاؤں کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا اور اندر قدم رکھنے سے پہلے گدھے کی طرح ہینگتا پھر خرگوش کا ٹخنہ اپنے گلہ میں باندھ لیتا اور یقین کر لیتا کہ اب نہ وبا مجھے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ یہاں کا جن مجھے کوئی اذیت پہنچا سکتا ہے اس ہینگنے کو وہ “تعشیر” کے لفظ سے تعبیر کرتے ۔ ایک شاعر کہتا ہے

وَلَا يَنْفَعُ التَّعْشِيۡرُ اِنۡ حُمَّ وَاقِعٌ
وَلَا زَعْزَعٌ يُغْنِيۡ وَلَا كَعْبُ اَرْنَبٖ
جب کوئی جنگ بھڑک اٹھتی ہے تو گدھے کی طرح ہینگنا کوئی نفع نہیں دیتا اور نہ اپنے مقام سے ادھر ادھر ہٹ جانا اور نہ خرگوش کے ٹخنے کو اپنے گلے میں لٹکانا سود مند ثابت ہوتا ہے۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ 315)

ان کے ہاں ایک قبیح رسم یہ تھی کہ جب کوئی شخص سفر پر جاتا تو ایک دھاگا کسی درخت کی ٹہنی کے ساتھ باندھ دیتا یا اس کے تنے کے ارد گرد لپیٹ دیتا۔ جب سفر سے واپس آتا تو اس دھاگے کو دیکھتا اگر وہ صحیح سلامت ہوتا تو وہ سمجھتا کہ اس کی بیوی نے اس کی غیر حاضری میں کوئی خیانت نہیں کی اور اگر وہ اسے ٹوٹا ہوا یا کھلا ہوا پاتا تو خیال کرتا کہ اس کی بیوی نے اس کی غیر حاضری میں بدکاری کا ارتکاب کیا ہے اس دھاگے کو “الرتم” کہتے۔ ان کی ایک رسم بد کے بارے میں ابن سکیت نے روایت کیا ہے کہ عرب کہتے تھے اگر کسی شریف آدمی کو قتل کر دیا جائے اور وہ عورت جس کا بچہ زندہ نہ رہتا ہو وہ اس مقتول کی لاش کو روندتی ہوئی اوپر سے گزرے تو اس کے بعد جو بچہ وہ جنے گی وہ زندہ رہے گا۔ ان کی ایک قبیح رسم یہ تھی کہ جب کوئی آدمی مر جاتا تو وہ اس پر نوحہ خوانی کرتے، روتے، اپنے چہروں پر طمانچے مارتے گریبان پھاڑتے اور سر منڈا دیتے بسا اوقات مرنے والا مرنے سے پہلے خود اپنے وارثوں کو اس امر کی تاکیدی وصیت کر جاتا۔ چنانچہ طرفہ بن عبد جو عرب کا ایک مشہور شاعر تھا وہ اپنی بھتیجی کو وصیت کرتا ہے۔

فَاِنْ مُتُّ فَانْعِيۡنِيۡ بِمَا اَنَا اَهْلُهٗ
وَشُقِّىَ عَلَىَّ الْجَيۡبَ يَا اِبْنَۃَ مَعْبَدٖ
اے معبد کی بیٹی! ( معبد اس کے بھائی کا نام تھا ) جب میں مر جاؤں تو شایان شان طریقہ پر میری موت کا اعلان کرنا اور میرے لئے اپنا گریبان چاک کر دینا۔
یہ ماتم اور نوحہ خوانی ہفتہ دس دن تک جاری نہ رہتی بلکہ ایک سال تک یہ محشر بپا رہتا۔ اور اس کے بعد گریہ و زاری اور ماتم گساری کا یہ سلسلہ کہیں جا کر اختتام پذیر ہوتا۔ لبید اپنی دونوں بیٹیوں کو وصیت کرتا ہے۔

فَقُوْمَا وَقُوۡلَا بِالَّذِيۡ تَعْلَمَانِهٖ
وَلَا تَخْمِشَا وَجۡهًا وَلَا تَحْلِقَا شَعۡرٖ
کہ میرے مرنے کے بعد تم دونوں کھڑی ہو جانا اور میرے محامد اور اوصاف جو تم جانتی ہو انہیں بیان کرنا نہ اپنے چہروں کو نوچنا اور نہ اپنے بالوں کو منڈانا ۔

فَقُولَا هُوَ الْمَرۡءُ الَّذِيۡ لَا صَدِيۡقَہٗ
اَضَاعَ وَلَا خَانَ الْاَمِيۡنَ وَلَا غَدَرَ
اور دونوں یہ کہنا کہ ہمارا باپ وہ تھا جس نے نہ کبھی اپنے دوست کو ضائع ہونے دیا اور نہ کبھی کسی امین کی خیانت کی اور نہ کسی کے ساتھ بد عہدی کی ۔

اِلَى الْحَوْلِ ثُمَّ السَّلَامُ عَلَيْكُمَا
وَمَنْ يَبْكِ حَوْلًا كَامِلَّا فَقَدِ اعْتَذَرَ
رونے دھونے کا یہ سلسلہ تم ایک سال تک جاری رکھنا پھر تم پر سلامتی ہو اور جو شخص مرنے والے پر پورا سال روئے۔ اس کے بعد اگر وہ رونا ترک کر دے تو اسے معذور سمجھا جائے گا۔

اسلام نے جاہلیت کی دیگر قبیح رسوم کے ساتھ ساتھ اس رسم کو ختم کر دیا۔ حدیث پاک میں ہے۔ “لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّطَمَ الْخُدُوۡدَ وَشَقَّ الۡجُيُوۡبَ وَدَعَا بِدَعۡوَى الْجَاهِلِيَّةِ” ترجمہ: کہ وہ آدمی جو اپنے رخساروں پر طمانچے مارے اور اپنے گریبانوں کو چاک کرے اور جاہلیت کے زمانہ کی لافیں مارے۔ وہ ہمارے گروہ میں سے نہیں۔
صحیحین میں ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا:
“اِنَّ رَسُوۡلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِیۡءٌ مِّنَ الصَّالِقَةِ وَ الْحَالِقَةِ وَالشَّاقَةِ”
ترجمہ: کہ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ نے ان تینوں سے بری الذمہ ہونے کا اعلان فرمایا صالقہ وہ عورت جو بلند آواز سے نوحہ کرے،
الحالقہ وہ عورت جو مصیبت کے وقت اپنا سر منڈا دے اور شاقہ وہ عورت جو اپنے گریبان کو چاک کر دے۔
(بلوغ الارب، جلد سوم ، صفحہ 11 – 12)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top