Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر93 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ ( حصہ: نوے )
جزیرہ عرب : حصہ چودہواں}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ ہشتم آخری حصہ)
ملوک غسان: بنی جفنہ کا سب سے پہلا امیر جو عظمت و شوکت میں لاثانی تھا اس کا نام حارث بن جبلہ تھا۔ شہنشاہ جستینان کے زمانہ میں یہ غساسنہ کا حکمران بنا۔ اس کا سلسلہ نسب جفنہ بن عمرو تک پہنچتا ہے قیصر جستینان نے حارث کو ملک یعنی بادشاہ کا مرتبہ بخشا بلاد شام میں جتنے عرب قبیلے آباد تھے ان سب کا اسے فرمانروا مقرر کیا اس کا مقصد یہ تھا کہ حیرہ کے بادشاہ کا مد مقابل ایک ایسا عرب امیر مقرر کیا جائے جو قوت و سطوت میں اس کا ہم پلہ ہو ۔ اس سے پہلے کسی عرب کو رومیوں نے کبھی کوئی باعزت منصب نہیں سونپا تھا۔ مورخین کا اس بات میں اختلاف ہے کہ غسانیوں اور رومیوں کے درمیان باہمی امداد کا معاہدہ کب ہوا معاہدہ یہ تھا کہ اگر غسانیوں سے عرب جنگ کریں گے تو رومی تیس چالیس ہزار کے لشکر سمیت ان کی امداد کریں گے اس کے عوض غسانیوں نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر ایرانیوں اور رومیوں میں جنگ چھڑے تو یہ اپنے بیس ہزار جنگ جو بہادروں کے ساتھ رومیوں کی امداد کریں گے۔ حارث غسانی اور منذر امیر حیرہ کے درمیان اس علاقہ کے بارے میں جھگڑا شروع ہوا جو اس راستہ کے دونوں طرف تھا جو تدمر سے دمشق جاتا ہے پانچ سو اکتالیس میں جنگ شروع ہوئی 544ء میں پھر لڑائی ہوئی اور اس جنگ میں حارثہ کے ایک لڑکے کو منذر نے جنگی قیدی بنالیا۔ جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک 554ء میں حارث بن جبلہ نے اپنے مد مقابل کو شکست فاش دی اور مکمل کامیابی حاصل کر لی ۔ یہ جنگ قنسرین کے قرب میں ہوئی اس میں حیرہ کا بادشاہ منذر قتل ہوا اس کے بعد حارث 563ء میں قسطنطنیہ گیا تا کہ قیصر روم کے ساتھ اس بات پر گفت و شنید کرے تاکہ اس کے بعد اس کی اولاد میں سے کسی کو سوریا کا بادشاہ بنایا جائے۔ حارث جب قسطنطنیہ پہنچا تو اس نے وہاں عیش و عشرت کی فراوانی اور وسائل کی ارزانی دیکھی اس سے وہ بہت متاثر ہوا ۔570ء میں حارث مر گیا اور اس کا بیٹا منذر اس کا جانشین بنا اس نے زمام حکومت ہاتھ میں لیتے ہی حیرہ کے عربوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ کیونکہ اس کے باپ کے مرنے کے بعد ان لوگوں نے سوریا پر یلغار کی تھی۔ اس نے ان کے ساتھ جنگ کی اور قابوس بن منذر نے ان کے ملک پر قبضہ کر لیا پھر غسان اور روم کے درمیان تعلقات خوشگوار نہ رہے رومیوں نے تین سال تک ان کی امداد سے ہاتھ کھینچے رکھا۔ حیرہ کے عربوں نے اس فرصت کو غنیمت سمجھا اور سوریا پر حملہ کر دیا۔ رومیوں نے مجبور ہو کر پھر غسانیوں کی امداد شروع کر دی۔ پھر قیصر روم اور غسانیوں کے حکمران منذر کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا لیکن قیصر کو اس کی وفاداری پر یقین نہ تھا۔ اس نے منذر کو صقلیہ کی طرف جلا وطن کر دیا۔ منذر طویل عرصہ تک جلا وطن رہا جس کی وجہ سے اس کے چاروں بیٹے قیصر کے خلاف مشتعل ہو گئے اور انہوں نے رومی حکومت کی فرمانبرداری کا معاہدہ توڑ دیا۔ پھر وہ اپنے بڑے بھائی نعمان کی قیادت میں صحرا میں دور تک نکل گئے جب بھی انہیں فرصت ملتی رومیوں کی مملکت پر شب خون مارتے اور حملے کرتے۔ لیکن رومیوں کا قائد نعمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس کو 583ء میں قسطنطنیہ کی طرف ہانک کر لے گئے۔ یوں عربوں کی وحدت کا شیرازہ بکھر گیا۔ جب منذر کو قسطنطنیہ لے جایا گیا تو ہر قبیلہ نے اپنا الگ الگ سردار مقرر کیا بعض قبائل نے ایرانیوں کے ساتھ معاہدہ کر لیا 613ء میں ایرانیوں نے شام پر حملہ کیا اور بنی جفنہ کی حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا ان کے بعض امراء بلاد روم میں بھاگ کر چلے گئے اور بعض نے صحراؤں میں پناہ لی ایرانیوں کے رعب سے شامیوں کے دل کانپ اٹھے انہوں نے رومی حکام کو وہاں سے نکال دیا لیکن 628ء میں پھر رومی ایرانیوں پر غالب آ گئے اور انہوں نے شام کے کھوئے ہوئے علاقے واپس لے لئے ہمارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ہرقل نے شام کو فتح کرنے کے بعد بنی جفنہ کے کس امیر کو شام کا والی مقرر کیا ہو ۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ غسانیوں نے رومیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا بڑی شد و مد سے مقابلہ کیا ان کا آخری بادشاہ جبلہ بن ایہم تھا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں شکست کھانے کے بعد اس نے اسلام قبول کیا لیکن پھر مرتد ہو گیا اور اپنا وطن چھوڑ کر قسطنطنیہ میں جا کر سکونت اختیار کر لی۔ غسانی قبائل صدیوں رومیوں کے زیر اثر رہے۔ اس وجہ سے انہوں نے اپنی عربی تہذیب و تمدن کو ترک کر کے رومی تہذیب و تمدن کو اپنا لیا۔ غسانیوں نے اپنے علاقہ میں بڑے بڑے گرجے تعمیر کئے اور رومی کنیزوں کو اپنے حرموں میں داخل کر لیا ان کی عمارتوں میں سفید رنگ کا پتھر استعمال ہوتا تھا کیونکہ وہ عرصہ دراز سے رومیوں کے حلیف بن کر ایرانیوں سے بر سر پیکار رہے تھے اس لئے فنون جنگ میں ان کو کمال حاصل ہو گیا وہ دفاع کے طریقوں سے پوری طرح واقف تھے۔ سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top