Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 72 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: انہتر)
{ہندوستان : حصہ انیسواں}
برہمنوں کا دوبارہ عروج اور اس کے اثرات:

جب تک ہرش جیسے طاقتور اور بالغ نظر حکمران موجود رہے برہمنوں نے بدھوں کے خلاف کوئی سیاسی بغاوت نہیں کی اور مناسب وقت کا انتظار کرتے رہے۔ جب چندر گپتا کا آخری حکمران ہرش مر گیا تو انہیں موقع ملا کہ وہ اپنی کمین گاہوں سے نکل کر ملک کی زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں راجپوت، راجے مہاراجے ، گویا ان کے اشارے کے منتظر تھے حالات کو موافق پاتے ہوئے انہوں نے بدھ مذہب کے خلاف بغاوت کر دی۔ سیاسی اقتدار کی باگ ڈور حسبِ سابق راجپوتوں نے سنبھال لی۔ اور مذہبی اقتدار کی باگ ڈور برہمنوں نے اپنے ہاتھ میں تھام لی اس طرح اپنا کھویا ہوا وقار برہمنوں نے واپس لے لیا۔ برہمنوں نے انسانی مساوات کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے ذات پات کا پہلا نظام نافذ کر دیا جانوروں کی قربانیاں دوبارہ دی جانے لگیں۔ اس کے ذریعہ ان کی آمدنی کے بند دروازے از سر نو کھل گئے۔ اگرچہ بدھ مت کا اقتدار ختم ہو چکا تھا لیکن بدھ مت کے ماننے والے ابھی یہاں مختلف مقامات پر موجود تھے ان کو اپنے میں ضم کرنے کے لئے ہندوؤں نے بدھ کو اپنے دیوتاؤں میں شامل کر لیا۔ اور اس عقیدہ کی زور شور سے تبلیغ شروع کر دی کہ برہما کا نانواں اوتار بدھ کے روپ میں ظاہر ہوا تھا۔ اس دور کو ہندوؤں کے سنہری دور سے تعبیر کیا جانے لگا۔ گپتا خاندان (320 تا 600 عیسوی) کے مہاراجے وشنو کے مسلک کے بڑے پر زور حامی تھے چندرا گپتا اول اور اس کے جانشین سمندرا گپتا کا دور حکومت بہت ہی اہم تھا۔

اگرچہ بعد میں یہ خاندان کمزور ہوتا چلا گیا لیکن اس کو یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ ان کا دور حکومت ہندوؤں کا سنہری زمانہ کہلاتا ہے۔ اس دور کی خوبی یہ ہے کہ مختلف مذہبی طبقے متحد ہو گئے اور سب وشنو کی پرستش کرنے لگے۔ اور دوسرا دیوتا جس کی اب دھوم دھام سے پرستش ہونے لگی وہ شیوا تھا۔ شیوا دیوتا میں مختلف عناصر مجتمع ہو گئے تھے۔ وہ محبت اور عزت کا دیوتا بھی شمار کیا جاتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ویدوں کے عہد کے اندرا دیوتا کی صفات کا بھی وہ وارث تھا۔ یعنی وہ طوفانوں کا بھی خدا تھا اور تباہ و برباد کرنے والا بھی تھا۔ جنگ کا میدان بھی اب اس کے تصرف میں تھا اس طرح مرگھٹ پر بھی اسی کا قبضہ تھا۔ یہی وہ دیوتا ہے جو کالپا کے اختتام پر دنیا کو تباہ و برباد کر دے گا اس کے ساتھ ساتھ یہ اپنے جوگی طرز کے مراقبہ کے ذریعہ ساری کائنات کو سلامت رکھے ہوئے ہے۔ یہ زرخیزی کا بھی دیوتا ہے درندوں کا بھی آقا ہے اور افزائش نسل کا بھی سرپرست ہے۔ گپتا خاندان کے عہد سے ہندو مت کا شعار انسانی عضو تناسل ہے اس کا مسلک کشمیر میں اور جنوبی ہند میں یعنی اندھرا پردیش، میسور، مدراس، کریالہ میں بہت طاقتور ہے جنوبی ہند میں اس کی خاص طور پر اس لئے عبادت کی جاتی ہے کہ وہ بڑا مہربان اور بہت سخی ہے ہر قسم کی زندگی کی حفاظت کرتا ہے۔ گپتا کے عہد میں ہندو مت کی ایک اور خصوصیت ظاہر ہوئی کہ ان دو دیوتاؤں ( وشنو اور شیوا) کے ساتھ دو دیویاں بھی ظہور پذیر ہو گئی ہیں وشنو کی دیوی کو سری یا لکشمی کہا جاتا ہے جسے کاروبار خدائی میں وشنو کا شریک سمجھا جانے لگا ہے اور شیوا کی دیوی کو پاراوتی، کالی اور درگا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے جو حالات اب تک بیان کئے گئے ہیں مطالعہ کرنے والے کے لئے ان میں کافی مواد ہے جس سے وہ وہاں کے سیاسی، اخلاقی، معاشرتی اور معاشی حالات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ بایں ہمہ قارئین کی آسانی کے لئے ہم ہر عنوان کے نیچے مختصر اشارات ذکر کر دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی معلومات کو منظم طور پر ذہن نشین کر سکیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top