Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 96 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:ترانوے)

{جزیرہ عرب : حصہ سترہواں}
(اہل عرب کی خصوصیات : حصہ سوم)
(اہل عرب کی سخاوت و فیاضی:حصہ اول)

جزیرہ عرب کا اکثر حصہ لق و دق صحراؤں اور ریگستانوں پر مشتمل تھا۔ بارش بھی بہت کم مقدار میں برستی تھی معیشت کے دیگر ذرایع کا بھی فقدان تھا۔ اس لئے اہل عرب کی معاشی حالت اس وقت بڑی نا گفتہ بہ تھی۔ لیکن اس غربت و ناداری کے باوجود اللہ تعالیٰ نے سخاوت و فیاضی کی جو صفت ان کو مرحمت فرمائی تھی اس کی تفصیلات پڑھ کر انسان حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ ان کے اشعار کا بہترین حصہ وہ ہے جن میں انہوں نے اپنی فیاضیوں کا ذکر کیا ہے ان کا یہ دستور تھا کہ رات کو اونچے ٹیلوں پر آگ روشن کر دیتے تاکہ اگر رات کے وقت کسی مسافر کا وہاں سے گزر ہو تو وہ اس آگ کو دیکھ کر ان صحرا نشین بدووں کے خیموں تک پہنچ سکے اور جب کوئی بھٹکا ہوا مسافر آدھی رات کے وقت ان کے ہاں پہنچ جاتا تو اس کی خاطر و مدارات کی وہ حد کر دیتے۔ ایک شاعر اپنے غلام کو کہتا ہے ۔

اَوْقِدْ فَاِنَّ اللَّيْلَ لَيْلٌ قَرّٗ
وَ رِيۡحٌ يَا وَاقِدُ رِيۡحٌ صِرّٗ
لَعَلَّ يَرٰى نَارَكَ مَنْ يَمُرّٗ
اِنْ جَلَبَتْ ضَيْفًا فَانْتَ حُرّٗ
اے واقد! اونچے ٹیلے پر آگ کو جلا کیونکہ رات بہت ٹھنڈی ہے اور سرد ہوائیں چل رہی ہیں شاید کوئی گزرنے والا تیری آگ کو دیکھ لے اگر اس آگ نے کسی مہمان کو اپنی طرف کھینچ لیا تو تو آزاد ہو گا۔
(بلوغ الارب، جلد 1، صفحہ 78)

وہ صرف اونچی جگہوں پر آگ ہی نہیں جلایا کرتے تھے بلکہ اس خیال سے کہ شاید رات کا مسافر بینائی سے محروم ہو اور وہ آگ کو نہ دیکھ سکے ۔ اس لئے وہ خوشبودار بخور آگ پر چھڑک دیتے تھے جس کی خوشبو دور دور تک پھیل جایا کرتی تھی۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ اندھا مسافر اگر آگ کو دیکھنے سے قاصر ہے تو خوشبو سونگھ کر ہی وہ ان کے پاس پہنچ جائے۔ اس کے علاوہ وہ کتے پالا کرتے تھے اپنے ریوڑوں کی حفاظت کے علاوہ ان کتوں کے پالنے کا یہ مقصد بھی تھا کہ وہ رات کے سناٹے میں بھونکیں ان کی آواز دور دور تک پہنچے گی۔ اور رات کے صحرا نورد مسافر ان کے خیموں تک بآسانی پہنچ جائیں گے۔

ایک شاعر اپنے کتے کے بارے میں اپنے بیٹے کو وصیت کرتا ہے۔
اُوۡصِيۡكَ خَيْرًا بِهٖ فَاِنَّ لَهٗ
خَلَائِقًا لَا اَزَالُ اَحْمَدُهَا
يَدُلُّ ضَيْفِيۡ عَلَىَّ فِيۡ غَسَقِ اللَّيْلِ
اِذَا النَّارُ نَامَ مُوۡقِدُهَا
اے بیٹے ! میں تجھے اس کتے کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ تم اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا کیونکہ اس میں ایسی خوبیاں ہیں جن کو میں بہت پسند کرتا ہوں ۔ یہ رات کی تاریکی میں میرے مہمان کو اس وقت میرے پاس لے آتا ہے جب آگ کے جلانے والا سو جایا کرتا ہے۔
(بلوغ الارب، جلد 1، صفحہ 70)

ان کی سخاوت کے چند واقعات بھی ملاحظہ فرمائیں۔
سالم بن قحفان کے پاس اس کی بیوی کا بھائی آیا۔ تو اس نے اپنے اونٹوں سے اسے ایک اونٹ دیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ جاؤ رسی لے آؤ تاکہ وہ اس اونٹ کو اپنے اونٹوں کی قطاروں کے ساتھ باندھ دے پھر اس کو اس نے دوسرا اونٹ دیا اور اپنی بیوی سے رسی طلب کی۔ پھر تیسرا دیا اس کے لئے بیوی سے رسی طلب کی یہاں تک کہ بیوی نے کہا میرے پاس تو اب کوئی رسی نہیں ہے تو سالم نے کہا :
“عَلَیَّ الۡجَمَالِ وَ عَلَیۡکِ الۡحِبَالُ” کہ اونٹ دیتے چلے جانا میرا کام ہے، اور اونٹوں کے لئے رسیاں مہیا کرنا تیرا کام ہے۔

اس کی بیوی نے اوڑھنی اتار کر اس کی طرف پھینکی اور کہا کہ اس کو پھاڑ پھاڑ کر رسیاں بناتے جاؤ ۔ تو سالم نے فی البدیہہ یہ اشعار کہے۔

لَا تَعْذِلِيۡنِيۡ فِي الْعَطَاءِ وَيَسِّرِيۡ
لِكُلِّ بَعِيۡرٍ جَاءَ طَالِبُہٗ حَبْلًا
تو مجھے بخشش اور عطاء میں ملامت نہ کرنا اور اونٹ کا طلب کرنے والا جب بھی کوئی آئے تو اس کے لئے رسی مہیا کرنا ۔

فَاِنِّيۡ لَا تَبْكِيۡ عَلَىَّ اِفَالُهَا
اِذَا شَبِعَتْ مِنْ رَوۡضِ اَوْطَانِهَا بَقَلًا
کیونکہ اونٹوں کے بچے جب تک انہیں چرنے کے لئے سبز گھاس ملتا رہے میری موت پر نہیں روئیں گے۔

فَلَمْ اَرَ مِثْلَ الْاِبِلِ مَالًا لِمُقْتَنٍ
وَلَا مِثْلَ اَيَّامِ الْحُقُوۡقِ لَهَا سُبُلًا
میں اونٹوں کی مانند کوئی دوسرا مال نہیں دیکھتا جس کو بچا کر اپنے پاس رکھا جائے اور جب حق ادا کرنے کا وقت آئے تو ان سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

اس کی بیوی بھی سخاوت اور فصاحت میں اپنے خاوند سے کم نہ تھی یہ شعر سن کر اس کی شاعری کی حس بھی بیدار ہوئی اور اس نے فی البدیہہ جوابًا یہ شعر کہے۔

حَلَفْتُ يَمِيۡنًا يَا ابْنَ قَحْفَانَ بِالَّذِيۡ
تَكَفَّلَ بِالْاَرْزَاقِ فِي السَّهْلِ وَالْجَبَلۡ
اے قحفان کے فرزند! میں اس ذات کی قسم کھاتی ہوں جس نے میدانوں اور پہاڑوں میں ہر چیز کی رزق رسانی کا ذمہ لیا ہوا ہے۔

تَزَالُ حِبَالٌ مُحْصَدَاتٌ اُعِدُّهَا
لَهَا مَا مَشٰى مِنْهَا عَلٰى خُفِّهٖ جَمَلۡ
جب تک اونٹ اپنے پاؤں پر چلتے رہیں گے میں رسیاں بٹ کر تیار کرتی رہوں گی۔

فَاعْطِ وَلَا تَبْخَلۡ لِمَنْ جَاءَ طَالِبًا
وَعِنْدِيۡ لَهَا خُطۡمٌ وَقَدْ زَاحَتِ الْعِلَلۡ
تم دیتے چلے جاؤ اور جو مانگنے کے لئے آئے اس کے سامنے بخل کا مظاہرہ نہ کرو میرے پاس ان اونٹوں کے لئے رسیاں موجود پاؤ گے اور ساری علتیں دور ہو جائیں گی۔
(بلوغ الارب، جلد 1، صفحہ 51 – 52)

ایک اور عجیب و غریب واقعہ: ابو ریاش لکھتا ہے کہ عمیلہ فزاری ابن عنقاء فزاری کے پاس سے گزرا وہ اپنی بکریوں کے لئے گھاس کاٹ رہا تھا ۔ عمیلہ نے پوچھا اے ابن عنقاء تمہاری یہ حالت کیسے ہوئی اس نے جواب دیا گردش زمانہ ، بھائیوں کی معذرت اور تیرے جیسے لوگوں کے بخل کے باعث میری یہ حالت ہے یہ سن کر عمیلہ نے جواب دیا۔ بخدا کل سورج طلوع ہونے سے پہلے تم ہماری طرح ہو جاؤ گے۔ اس کے بعد دونوں اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دیئے عمیلہ اس وقت نوجوان تھا ابھی ابھی اس کی مونچھیں بھیگ رہی تھیں ابن عنقاء نے ساری رات بستر پر پہلو بدلتے گزار دی اور اسے ایک لمحہ کے لئے بھی نیند نہ آئی وہ ساری رات عمیلہ کی بات پر غور کرتا رہا۔ ابن عنقاء کی بیوی نے اس بے قراری کی اس سے وجہ پوچھی اس نے سارا واقعہ اسے کہہ سنایا بیوی نے اسے کہا۔ تم دیوانے ہو گئے ہو۔ تمہاری عقل جاتی رہی ہے تم نے اس نو خیز نوجوان کی بات کو اپنے پلے باندھ لیا ہے۔ رات یونہی گزر گئی جب صبح ہوئی تو ابن عنقاء کی بیٹی نے اسے کہا کہ اگر تم عمیلہ کے پاس چلے جاتے تو بہتر تھا۔ اس نے تمہارے ساتھ مال بانٹنے کا وعدہ جو کیا تھا۔ ابن عنقاء نے کہا بیٹی! وہ نوجوان اس وقت مدہوش تھا۔ اسے خبر ہی نہیں کہ اس نے اپنی زبان سے کیا کہا ہے باپ بیٹی ابھی یہ گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک سامنے سے رات کی طرح اونٹوں، بکریوں، گھوڑوں کا جم غفیر انہیں آتا ہوا دکھائی دیا، جب یہ ساری چیزیں وہاں پہنچ گئیں تو عمیلہ نے بآواز بلند کہا اے ابن عنقاء ادھر آؤ یہ میرا سارا مال ہے آؤ آپس میں برابر برابر بانٹ لیں چنانچہ اس نے نصف اونٹ، نصف گھوڑے، نصف بکریاں، نصف غلام لونڈیاں اپنے پاس رکھ لیں اور دوسرا نصف ابن عنقاء کے حوالے کر دیا۔ یوں برابر برابر تقسیم کر کے واپس چلا گیا۔
(بلوغ الارب، جلد1، صفحہ 53)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top