Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر87 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:چوراسی)
{جزیرہ عرب : حصہ ہشتم}
(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں: حصہ دوم)
(مملکت سبا:حصہ اول)
مرور زمانہ سے مملکت معین پر کہنہ سالی کے آثار رونما ہونے لگے ان کے انحطاط کے دور میں سبا کے علاقہ میں ایک اور قوم نے انگڑائی لینا شروع کی اگرچہ اس کے عہد اقتدار کا آغاز ایک چھوٹی سی ریاست سے ہوا لیکن آہستہ آہستہ یہ قوم ترقی کے مراحل طے کرتی گئی اور اردگرد کے علاقوں کو بھی انہوں نے اپنا زیر نگین بنا لیا ان کی مدت حکومت نو سو پچاس قبل مسیح سے ایک سو پندرہ قبل مسیح تک ہے نو سو پچاس قبل مسیح سے چھ سو پچاس ق م تک معین اور سبا کی مملکتیں ساتھ ساتھ باقی رہیں لیکن چھ سو پچاس قبل مسیح میں مملکت معین کا چراغ گل ہو گیا اور ان کے تمام علاقوں کی سیادت مملکت سبا کو میسر آ گئی جس طرح پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اہل یمن کے اصلی باشندے یعرب بن قحطان کی اولاد سے تھے اس کی نسل پھیلی اور یمن کے وسیع و عریض علاقہ پر چھا گئے سب بھی یعرب کی اولاد میں سے ہے اس لئے یہ قحطانی نسل کا قبیلہ ہے ان کو عرب مستعربہ بھی کہتے ہیں، کیونکہ ان سے قبل جو لوگ وہاں آباد تھے ان کی زبان عربی تھی پھر شامت اعمال کی وجہ سے وہ تباہ و برباد ہو گئے انہیں العرب العاربہ یا العرب البائدہ کہا جاتا ہے قبیلہ سبا کے افراد کی مادری زبان عربی نہ تھی انہوں نے یہ زبان عرب عاربہ سے سیکھی اس لئے ان کو العرب المستعربہ کہا جاتا ہے، ان کا علاقہ معین اور قتبان کا درمیانی علاقہ ہے یہ لوگ بھی تجارت پیشہ تھے جنگوں اور فتوحات سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی ان کی ساری کوششیں اپنی تجارت کو ترقی دینے کے لئے وقف تھیں دور دراز علاقوں تک ان کا جو تسلط تھا وہ فوجی نوعیت کا نہیں تھا۔ بلکہ معاشی بالا دستی اور اپنی کاروباری قابلیت کی وجہ سے انہوں نے دور افتادہ علاقوں میں بھی اپنا اثر و نفوذ قائم کر لیا تھا۔ ڈاکٹر فلپ کے حِتی، تاریخ العرب میں لکھتے ہیں کہ یہ علاقہ گنجان آباد تھا اور اس کی زمینیں دنیا کی زرخیز زمینوں میں سے تھیں جہاں باغات کی کثرت تھی جہاں ایسے درخت بکثرت پائے جاتے تھے جن کی گوند سے مختلف خوشبودار بخور تیار ہوتے تھے جیسے مر، لوبان اور کرخہ ۔ ہٹی نے ایک پرانے یونانی مورخ ہیرو ڈیٹس کے حوالہ سے بتایا ہے کہ خوشبودار گوند پیدا کرنے والے ان درختوں کی حفاظت کے لئے قدرت نے یہاں ایسے سانپ بکثرت پیدا کر دیئے تھے جن کے قد چھوٹے تھے اور ان کے پر تھے وہ کثیر تعداد میں درختوں کی ٹہنیوں کے ساتھ لٹکتے رہتے تھے۔ یونان کا ایک دوسرا مورخ لکھتا ہے کہ ان سانپوں کا طول ایک بالشت کے برابر ہوتا تھا۔ ان کا رنگ زرد تھا۔ وہ زمین سے کود کر انسان کی کمر تک چھلانگ لگا کر اسے ڈستے اور اتنے زہریلے تھے کہ جس کو وہ ڈستے اس کا زندہ رہنا ممکن نہ تھا۔ (تاريخ العرب از حِتی، جلد اول، صفحه ۵۹) حِتی، یونانی مورخ سترابو کے حوالہ سے ان علاقوں کی دولت و ثروت کا ایک حیرت انگیز نقشہ کھینچتا ہے لکھتا ہے۔ وہاں شہر آباد تھے جن کے حسن و جمال میں خوبصورت عبادت گاہیں اور شاندار محلات اضافہ کر رہے تھے یہاں کے بسنے والے دنیا کے تمام قبائل سے زیادہ دولتمند تھے ان کے ہاں کھانے پینے کے ظروف اور چھری کانٹے سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہوتے ۔ ان کے پلنگ ان کے میز، ان کے مشروبات کے برتن بھی سونے اور چاندی سے مرصع ہوا کرتے، ان کے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں ہاتھی دانت، سونے چاندی کی تاروں اور قیمتی موتیوں کے نقش و نگار سے مزین و آراستہ ہوتیں زراعت و تجارت کے علاوہ معدنی ذخائر ان کی دولتمندی کا ایک اور بڑا سبب تھے خصوصاً یہاں کا سونا نہایت ہی صاف ستھرا ہوتا تھا اسے صاف کرنے کے لئے مزید گلانے کی صعوبت برداشت نہیں کرنا پڑتی تھی۔ 🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲
Scroll to Top