Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر122 ابرہہ کا انجام

آپﷺ عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ یعنی ہاتھیوں والے سال میں، اس سال کو ہاتھیوں والا سال اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسی سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی تھی۔ آپﷺ کی پیدائش اس واقعہ کے کچھ ہی دن بعد ہوئی ۔ واقعہ کچھ اسطرح ہے کہ ابرہہ یمن کا عیسائی حاکم تھا، حج کے دنوں میں اس نے دیکھا کہ لوگ بیت اللہ کا حج کرنے جاتے ہیں، اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا: یہ لوگ کہاں جاتے ہیں؟ اسے جواب ملا: بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں، اس نے پوچھا: بیت اللہ کس چیز کا بنا ہوا ہے؟ اسے بتایا گیا: پتھروں کا ہے۔ اس نے پوچھا: اس کا لباس کیا؟ بتایا گیا۔ ہمارے ہاں سے جو دھاری دار کپڑا جاتا ہے اس سے اس کی پوشاک تیار ہوتی ہے۔ ابرہہ عیسائی تھا، ساری بات سن کر اس نے کہا : حضرت مسیح علیہ السلام کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا۔اس طرح اس نے سرخ ،سفید، زرد اور سیاہ پتھروں سے ایک گھر بنوایا، سونے اور چاندی سے اس کو سجایا اس میں کئی دروازے رکھوائے، اس میں سونے کے پترے جڑوائے، اس کے درمیان میں جواہر لگوائے، اس مکان میں ایک بڑا سا یاقوت لگوایا، پردے لگوائے ، وہاں خوشبوئیں سلگانے کا انتظام کیا، اس کی دیواروں پر اس قدر مشک ملا جاتا تھا کہ وہ سیاہ رنگ کی ہو گئیں۔ یہاں تک کہ جواہر بھی نظر نہیں آتے تھے۔ پھر لوگوں سے کہا: اب تمہیں بیت اللہ کا حج کرنے کے لیے مکہ جانے کی ضرورت نہیں رہی، میں نے یہیں تمہارے لیے بیت اللہ بنوا دیا ہے لہذا اب تم اس کا طواف کرو اس طرح کچھ قبائل کئی سال تک اس کا حج کرتے رہے، اس میں اعتکاف کرتے رہے، حج والے مناسک بھی یہیں ادا کرتے رہے۔عرب کے ایک شخص نفیل خشمی سے یہ بات برداشت نہ ہو سکی، وہ اس مصنوعی خانہ کعبہ کے خلاف دل ہی دل میں کڑھتا رہا آخر اس نے دل میں ٹھان لی کہ ابرہہ کی اس عمارت کو گندہ کر کے چھوڑے گا، پھر ایک رات اس نے چوری چھپے بہت سی گندگی اس میں ڈال دی، ابرہہ کو معلوم ہوا تو سخت غضب ناک ہوا کہنے لگا: یہ کاروائی کسی عرب نے اپنے کعبہ کے لیے کی ہے، میں اسے ڈھا دوں گا اس کا ایک ایک پتھر توڑ دوں گا۔

اس نے شاہ حبشہ کو یہ تفصیلات لکھ دیں، اس سے درخواست کی کہ وہ اپنا ہاتھی بھیج دیں، اس ہاتھی کا نام محمود تھا۔یہ اس قدر بڑا تھا کہ اتنا بڑا ہاتھی روئے زمین پر دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ جب ہاتھی اس کے پاس پہنچ گیا تو وہ اپنی فوج لیکر نکلا اور مکہ کا رخ کیا، یہ لشکر جب مکہ کے قرب و جوار میں پہنچا تو ابرہہ نے فوج کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے جانور لوٹ لیے جائیں، اس کے حکم پر فوجیوں نے جانور پکڑ لیے، ان میں حضرت عبدالمطلب کے اونٹ بھی تھے۔

نفیل بھی اس لشکر میں ابرہہ کے ساتھ موجود تھا اور یہ حضرت عبدالمطلب کا دوست تھا، حضرت عبدالمطلب اس سے ملے اونٹوں کے سلسلے میں بات کی، نفیل نے ابرہہ سے کہا: قریش کے سردار حضرت عبدالمطلب ملنا چاہتے ہیں یہ شخص تمام عرب کا سردار ہے۔ شرف اور بزرگی اسے حاصل ہے۔ لوگوں میں اس کا بہت بڑا اثر ہے۔ لوگوں کو اچھے اچھے گھوڑے دیتا ہے، انہیں عطیات دیتا ہے، کھانا کھلاتا ہے ۔ یہ گویا حضرت عبد المطلب کا تعارف تھا،ابرہہ نے انہیں ملاقات کے لیے بلا لیا۔ ابرہہ نے ان سے پوچھا: بتائیے آپ کیا چاہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میں چاہتا ہوں میرے اونٹ مجھے واپس مل جائیں۔ ان کی بات سن کر ابرہہ بہت حیران ہوا، اس نے کہا: مجھے تو بتایا گیا تھا کہ آپ عرب کے سردار ہیں، بہت عزت اور بزرگی کے مالک ہیں، لیکن لگتا ہے مجھ سے غلط بیانی کی گئی ہے۔ کیونکہ میرا خیال تھا آپ مجھ سے بیت اللہ کے بارے میں بات کریں گے جس کو میں گرانے آیا ہوں اور جس کے ساتھ آپ سب کی عزت وابستہ ہے۔لیکن آپ نے تو سرے سے اس کی بات ہی نہیں کی اور اپنے اونٹوں کا رونا لیکر بیٹھ گئے، یہ کیا بات ہوئی۔اس کی بات سن کر حضرت عبد المطلب بولے:آپ میرے اونٹ مجھے واپس دے دیں، بیت اللہ کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ اس لیے کہ اس گھر کا ایک پروردگار ہے۔ وہ خود ہی اس کی حفاظت کرے گا۔ مجھے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کی بات سن کر ابرہہ نے حکم دیا: ان کے اونٹ واپس دے دیے جائیں ، جب انہیں ان کے اونٹ واپس مل گئے تو انھوں نے ان کے سموں پر چمڑے چڑھا دیے، ان پر نشان لگا دیے، انہیں قربانی کے لیے وقف کر کے حرم میں چھوڑ دیا تاکہ پھر کوئی انہیں پکڑ لے تو حرم کا پروردگار اس پر غضب ناک ہو۔

پھر حضرت عبدالمطلب حرا پہاڑ پر چڑھ گئے، ان کے ساتھ ان کے کچھ دوست تھے۔ انہوں نے اللہ سے درخواست کی: اے اللہ ! انسان اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے، تو اپنے سامان کی حفاظت کر۔ اِدھر سے ابرہہ اپنا لشکر لے کر آگے بڑھا۔ وہ خود ہاتھی پر سوار لشکر کے درمیان موجود تھا۔ ایسے میں اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ ہاتھی بانوں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ اٹھا۔ انہوں نے اس کے سر پر ضربیں لگائیں۔ آنکس (وہ آنکڑا جس سے ہاتھی بان ہاتھی کو چلاتے اور مارے ہیں) چھوئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔ کچھ سوچ کر انہوں نے اس کا رخ یمن کی طرف کیا تو وہ فوراً اس طرف چلنے لگا۔ اس کا رخ پھر مکہ کی طرف کیا گیا تو پھر رک گیا۔ ہاتھی بانوں نے یہ تجربہ بار بار کیا۔ آخر ابرہہ نے حکم دیا، ہاتھی کو شراب پلائی جائے تاکہ نشے میں اسے کچھ ہوش نہ رہ جائے اور ہم اسے مکہ کی طرف آگے بڑھا سکیں۔ چنانچہ اسے شراب پلائی گئی، لیکن اس پر اس کا بھی اثر نہ ہوا۔ابرہہ کے ہاتھی کو اٹھانے کی مسلسل کوشش جاری تھی کہ اچانک سمندر کی طرف سے ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں کو بھیج دیا۔ وہ ٹڈیوں کے جھنڈ کی طرح آئیں، دوسری طرف حضرت عبد المطلب مکہ میں داخل ہوئے۔ حرم میں پہنچے اور کعبہ کے دروازے کی زنجیر پکڑ کر ابرہہ اور اس کے لشکر کے خلاف فتح کی دعا مانگی۔ ان کی دعا کے الفاظ یہ تھے۔اے اللہ! یہ بندہ اپنے قافلے اور اپنی جماعت کی حفاظت کر رہا ہے تو اپنے گھر یعنی بیت اللہ کی حفاظت فرما۔ ابرہہ کا لشکر فتح نہ حاصل کر سکے۔ ان کی طاقت تیری طاقت کے آگے کچھ بھی نہیں، آج صلیب کامیاب نہ ہو۔

صلیب کا لفظ اس لیے بولا کہ ابرہہ عیسائی تھا اور صلیب کو عیسائی اپنے نشان کے طور پر ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اب انہوں نے اپنی قوم کو ساتھ لیا اور حرا پہاڑ پر چڑھ گئے، کیونکہ ان کا خیال تھا وہ ابرہہ کا مقابلہ نہیں کر سکیں گےاور پھر اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے۔ یہ پرندے چڑیا سے قدرے بڑے تھے۔ ان میں سے ہر پرندے کی چونچ میں پتھر کے تین تین ٹکڑے تھے۔ یہ پتھر پرندوں نے ابرہہ کے لشکر پر گرانے شروع کیے۔ جونہی یہ پتھر ان پر گرے اُن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، بالکل اسی طرح جیسے آج کسی جگہ اوپر سے بم گرایا جائے تو جسموں کے ٹکڑے اڑ جاتے ہیں۔ ابرہہ کا ہاتھی محمود البتہ ان کنکریوں سے محفوظ رہا۔ باقی سب ہاتھی تہس نہس ہو گئے۔ سب کے سب کھائے ہوئے بھوسے کے مانند ہو گئے۔

جیسا کہ سورۃ الفیل میں آتا ہے۔
اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصۡحٰبِ الۡفِیۡلِ ؕ﴿1﴾ اَلَمۡ یَجۡعَلۡ کَیۡدَہُمۡ فِیۡ تَضۡلِیۡلٍ ۙ﴿2﴾ وَّ اَرۡسَلَ عَلَیۡہِمۡ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿3﴾ تَرۡمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۪ۙ﴿4﴾ فَجَعَلَہُمۡ کَعَصۡفٍ مَّاۡکُوۡلٍ ٪﴿5﴾
ترجمہ: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔کیا اس نے ان کے مکر و فریب کو باطل و ناکام نہیں کر دیا۔ اور اس نے ان پر (ہر سمت سے) پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے۔جو ان پر کنکریلے پتھر مارتے تھے۔پھر (اللہ نے) ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح (پامال) کر دیا۔
(سورۃ الفیل،آیۃ:1-5)

ابرہہ اور اس کے کچھ ساتھی تباہی کا یہ منظر دیکھ کر بری طرح بھاگے۔ لیکن پرندوں نے ان کو بھی نہ چھوڑا۔ ابرہہ کے بارے میں طبقات میں لکھا ہے کہ اس کے جسم کا ایک ایک عضو الگ ہو کر گرتا چلا گیا۔ یعنی وہ بھاگ رہا تھا اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ الگ ہو کر گر رہا تھا۔ دوسری طرف حضرت عبد المطلب اس انتظار میں تھے کہ کب حملہ ہوتا ہے، لیکن حملہ آور جب مکہ میں داخل نہ ہوئے تو وہ حالات معلوم کرنے کے لیے نیچے اترے۔ مکہ سے باہر نکلے، تب انہوں نے دیکھا، سارا لشکر تباہ ہو چکا ہےخوب مالِ غنیمت ان کے ہاتھ لگا۔ بے شمار سامان ہاتھ آیا، مال میں سونا چاندی بھی بے تحاشا تھا۔ لشکر میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو واپس نہیں بھاگے تھے۔ یہ مکہ میں رہ گئے تھے ان میں ابرہہ کے ہاتھی کا مہاوت (ہاتھی بان) بھی تھا جو محمود کو آگے لانے میں ناکام رہا تھا۔ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰﷺ اس واقعہ کے چند دن بعد پیدا ہوئے۔ آپﷺ جس مکان میں پیدا ہوئے، وہ صفا پہاڑی کے قریب تھا۔ حضرت کعب الحبار رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش مکہ میں ہوگی، حضرت کعب رضی اللہ عنہ پہلے یہودی تھے، اس لیے تورات پڑھا کرتے تھے۔دنیا میں آتے ہی حضور اکرمﷺ روئے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ کہتی ہیں کہ جب حضرت آمنہ کے ہاں ولادت ہوئی تو میں وہاں موجود تھی۔ آپﷺ میرے ہاتھوں میں آئے۔ یہ غالباً دایہ تھیں، ان کا نام شفا تھا فرماتی ہیں: جب آپﷺ میرے ہاتھوں میں آئے تو روئے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top