قسط نمبر 100 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ: ستانوے )
{جزیرہ عرب : حصہ اکیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ ہفتم)
(اہل عرب کی وفائے عہد کی شان:حصہ دوم)
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ ہفتم)
(اہل عرب کی وفائے عہد کی شان:حصہ دوم)
دوسرے دن نعمان اپنے دستور کے مطابق مسلح ہو کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اس جگہ پہنچا جہاں وہ اس روز پہلے نظر آنے والے شخص کو قتل کیا کرتا تھا۔ اس نے قراد کو کہا کہ سامنے آؤ اور جلاد کو اس کا سر قلم کرنے کا حکم دیا اس کے وزیروں نے کہا اے بادشاہ ! جب تک یہ پورا دن ختم نہ ہو جائے ۔ آپ اس کو قتل نہیں کر سکتے ۔ اس نے اسے شام تک مہلت دے دی نعمان دل سے یہ چاہتا تھا کہ قراد قتل ہو جائے اور حنظلہ جس نے اس ویرانے میں اس کی مہمان نوازی کی تھی وہ کسی طرح بچ جائے۔ سورج ابھی ڈوبنے کے قریب ہے قراد کے کپڑے اتار دیئے گئے ہیں اس نے صرف چادر باندھی ہوئی ہے اسے پکڑ کر نطع (چمڑے کا فرش جس پر مجرم۔قتل کیا جاتا ہے) پر کھڑا کر دیا گیا جلاد تلوار بے نیام کئے ہوئے اس کے پاس کھڑا ہے اور نعمان کے اشارہ ابرو کا منتظر ہے اسی اثناء میں دور سے ایک آدمی آتا ہوا نظر آیا۔ نعمان نے قراد کو قتل کرنے کا حکم دیا لیکن اسے کہا گیا کہ جب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ آنے والا شخص کون ہے۔ اس وقت تک تم اسے قتل نہیں کر سکتے جب وہ قریب آیا تو وہ حنظلہ تھا۔ نعمان نے جب اس کو دیکھا تو اس کو از حد پریشانی ہوئی اس نے کہا جب تم ایک بار قتل سے بچ کر نکل گئے تھے پھر تم واپس کیوں آئے ہو اس نے جواب دیا “اَلۡوَفَا” یعنی جو وعدہ میں نے کیا تھا اس کا پورا کرنا مجھ پر لازم تھا۔
تمہیں وفا کا یہ درس کس نے دیا نعمان نے پوچھا اس نے کہا میرے دین نے، پوچھا تیرا دین کیا ہے اس نے کہا نصرانیت، نعمان نے کہا اس کی تعلیمات میرے سامنے پیش کرو چنانچہ اس نے نصرانیت کی تعلیمات اس کے سامنے پیش کیں نعمان نے اس روز اس دین کو قبول کیا اور حیرہ کے تمام باشندوں نے اپنے بادشاہ کی اقتداء کرتے ہوئے نصرانیت اختیار کر لی ۔ اس دن سے نعمان نے اپنے اس طریقہ کار کو ختم کر دیا۔ اس نے قراد اور حنظلہ دونوں کو معاف کر دیا اور کہا۔
وَاللہِ مَا اَدْرِيۡ اَيَّكُمَا اَوْفٰى وَاَكْرَمُ
بخدا میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ تم دونوں میں سے زیادہ با وفا اور زیادہ کریم کون ہے ۔
کیا یہ شخص جو ایک مرتبہ قتل ہونے سے بچا اور پھر لوٹ کر آگیا یا وہ شخص جس نے اس کی ضمانت دی بہر حال میں ان دونوں سے زیادہ ذلیل اور خسیس نہیں بننا چاہتا اس وقت حنظلہ نے کہا۔
مَا كُنۡتُ اُخْلِفُ ظَنَّہٗ بَعْدَ الَّذِيۡ
اَسْدٰى اِلَىَّ مِنَ الْفِعَالِ الْحَالِيۡ
میں اس کے اس ظن کو جو میرے بارے میں اسے تھا غلط ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا۔
وَلَقَدْ دَعَتْنِيۡ لِلْخِلَافِ ضَلَالَتِيۡ
فَاَبَيْتُ غَيْرَ تَمَجُّدِيۡ وَفِعَالِيٌ
میری گمراہی نے مجھے دعوت دی کہ میں وعدہ خلافی کروں لیکن میں نے اسکی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اپنے شرف و کرامت پر حرف نہیں آنے دیا۔
اِنِّيۡ اِمْرُوۡءٌ مِنِّي الْوَفَاءُ سَجِيَّةٌ
وَجَزَاءُ كُلِّ مَكَارِمَ بَذَّالِيۡ
میں وہ شخص ہوں ، وعدہ کو پورا کرنا جس کی فطرت ہے اور میں ہر احسان کا بدلہ دینے کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے تیار ہوں۔
ہر قیمت پر وعدے کا ایفا اور عہد کی پابندی اہل عرب کا طرہ امتیاز رہا ہے اس کی چند مثالیں آپ پہلے ملاحظہ فرما چکے ہیں لیکن اپنے وعدہ کا پاس کرتے ہوئے اپنے لخت جگر کو قربان کر دینا یہ بھی اہل عرب کا ہی شیوہ تھا۔ چنانچہ ایک مشہور واقعہ جس کو اہل عرب بڑے فخر و ناز سے پیش کرتے ہیں سموؤل بن حبان کا ہے۔
امرؤ القیس جب قیصر کی ملاقات کے لئے اپنے وطن سے روانہ ہوا تو اس نے اپنی زرہیں سموؤل کے پاس بطور امانت رکھیں امرؤ القیس مر گیا۔ تو شام کے کسی بادشاہ نے سموؤل پر چڑھائی کر دی۔ سموؤل قلعہ نشین ہو گیا اور اپنے قلعہ کے دروازے مضبوطی سے بند کر دیئے سوء اتفاق سے اس کا ایک لڑکا قلعہ سے باہر رہ گیا۔ اس حملہ آور بادشاہ نے اس لڑکے کو گرفتار کر لیا۔ اور بلند آواز سے سموؤل کو ندا دی سموؤل نے قلعہ کے اوپر سے جھانکا تو اس بادشاہ نے کہا یہ دیکھو تمہارا بیٹا میرے قبضہ میں ہے اور تمہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ امرؤ القیس میرے چچا کا بیٹا تھا میرے قبیلہ کا فرد تھا اور میں اس کی میراث کا دوسروں سے زیادہ حقدار ہوں اگر تو اس کی زرہیں میرے حوالے کر دے تو فبہا ورنہ میں تیرے اس بیٹے کو ذبح کر دوں گا سموؤل نے اس سے مہلت طلب کی اور اپنے اہل خانہ اور خواتین کو اکٹھا کیا۔ صورت حال سے انہیں آگاہ کیا اور ان سے رائے پوچھی ان حالات میں اسے کیا کرنا چاہئے سب نے یہی مشورہ دیا کہ تم زرہیں اس کے حوالے کر دو اور اپنے بیٹے کی جان بچاؤ ۔ جب صبح ہوئی تو اس نے قلعہ کی فصیل سے جھانک کر کہا۔
لَيْسَ اِلٰى دَفْعِ الدُّرُوۡعِ سَبِيۡلٗ
فَاصْنَعۡ مَا اَنْتَ صَانِعٗ
اے بادشاہ ! میں کسی قیمت پر وہ زرہیں تمہیں نہیں دے سکتا اب جو تیرا جی چاہے کر لو۔
(بلوغ الارب، جلد 1، خلاصہ صفحہ130 تا 133)
اس نے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بیٹے کے گلے پر چھری چلا دی اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا بادشاہ زرہیں حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اور اسے نامراد واپس آنا پڑا۔ سموؤل وہ زرہیں لے کر امرؤ القیس کے اہل خانہ کے پاس گیا اور وہ امانت اس کے ورثا کے سپرد کر دی اس کے یہ شعر ہیں۔
وَفَيْتُ بِاَدْرُعِ الْكِنْدِيۡ اِنِّيۡ
اِذَا مَا خَانَ اَقْوَامٌ وَفَيْتُ
میں نے امرؤ القیس کندی کی زرہیں اس کے وارثوں کو پہنچا دیں جن حالات میں دوسری قومیں خیانت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں میں ان حالات میں بھی اپنا وعدہ پورا کرتا ہوں ۔
وَقَالُوۡا اِنَّهٗ كَنۡزٌ رَغِيۡبٌ
وَلَا وَاللہِ اَغْدِرُ مَا مَشَيْتُ
وہ کہتے ہیں یہ خزانہ بڑا قیمتی اور دلکش ہے لیکن بخدا میں دھوکا نہیں کروں گا جب تک میں اس زمین پر چلتا رہوں گا۔
بَنٰي لِيۡ عَادِيًا حِصْنًا حَصِيۡنًا
وَبِئۡرًا كُلَّمَا شِئْتُ اِسْتَقَيْتُ
میرے دادا عادیہ نے میرے لئے ایک مضبوط مستحکم قلعہ تعمیر کر دیا ہے اور ایسا کنواں کھودا ہے جس سے جس وقت میں چاہتا ہوں پانی پیتا ہوں۔
اسی سموؤل کا ایک قصیدہ ہے جو اپنی سلاست بیان، براعت اسلوب میں عربی ادب میں بڑا ممتاز درجہ رکھتا ہے اگرچہ یہ سارا قصیدہ یاد کرنے کے قابل ہے اور اس میں ہم سب کے لئے وعظ و نصیحت کا قیمتی ذخیرہ موجود ہے۔ بطور مثال چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
اِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَدۡنَسۡ مِنَ اللَّوْمِ عِرْضَهٗ
فَكُلُّ رِدَاءٍ يَرْتَدِيۡهِ جَمِيۡلٗ
جب تک کسی شخص کی عزت کو خست اور کمینگی کا داغ نہ لگے اس وقت تک جو لباس بھی وہ پہنے وہی اسے خوبصورت لگتا ہے ۔
تُعِيۡرُنَا اَنَّا قَلِيۡلٌ عَدِيۡدُنَا
فَقُلْتُ لَهَا اِنَّ الۡكِرَامَ قَلِيۡلٗ
میری زوجہ مجھے عار دلاتی ہے کہ ہماری تعداد بہت کم ہے میں اسے کہتا ہوں کہ بیشک شرفاء کی تعداد قلیل ہوتی ہے۔
وَمَا قَلَّ مَنْ كَانَتْ بَقَايَاهُ مِثْلُنَا
شَبَابٌ تُسَامٰى فِي الْعُلٰى وَكُهُوۡلٗ
جن لوگوں کی اولاد ہم جیسی ہو وہ قلیل نہیں ہوا کرتے جن کے جواں اور عمر رسیدہ لوگ بلندیوں میں ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہیں انہیں کون قلیل کہہ سکتا ہے۔
وَمَا ضَرَّنَا اَنَّا قَلِيۡلٌ وَجَارُنَا
عَزِيۡزٌ وَجَارُ الْاَكْثَرِيۡنَ ذَلِيۡلٗ
تعداد کی قلت ہمارے لئے قطعاً نقصان دہ نہیں جب کہ ہمارے پڑوسی عزت کی زندگی بسر کر رہے ہیں حالانکہ اکثر لوگوں کے پڑوسی ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔
وَ اَيَّامُنَا مَشْهُوۡرَةٌ فِيۡ عَدُوِّنَا
لَهَا غُرَرٌ مَّعْلُوۡمَةٌ وَ حَجُوۡلٗ
ہمارے دن ہمارے دشمنوں کے نزدیک بھی مشہور و معروف ہیں ہمارے زریں کارناموں کے باعث ان دنوں کی پیشانیوں پر بھی سفید نشان ہیں اور ان کے پاؤں بھی روشن ہیں۔
(بلوغ الارب، جلد 1، خلاصہ صفحہ130 تا 133)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲