(شدید قحط اور بارانِ رحمت)
ابن عساکر علیہ الرحمۃ نے جلہمہ بن عرفطہ علیہ الرحمۃ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں مکہ گیا وہاں شدید قحط سالی تھی۔ عرصہ دراز سے بارش کی ایک بوند بھی نہیں ٹپکی تھی ایک شخص نے اہل مکہ کو کہا چلو لات و عزٰی کے پاس وہاں جا کر فریاد کرو۔ ایک اور بولا منات کے پاس بھی چلو۔ اس وقت ایک شیخ نمودار ہوا جو بڑا خوش اندام اور خوبرو تھا۔ اس کی رائے بھی بہت صائب تھی اس نے کہا کہ تم مارے مارے بھٹکتے پھر رہے ہو۔ جب کہ تمہارے پاس حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے خاندان کی یادگار موجود ہے لوگوں نے کہا۔ تمہارا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابو طالب کے پاس جائیں؟ اس بزرگ نے کہا بے شک ۔ سب لوگ کھڑے ہو گئے میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہم نے جا کر حضرت ابو طالب کا دروزاہ کھٹکھٹایا آپ باہر نکلے ۔ سب لوگ آپ کی طرف دوڑے عرض کی اے ابو طالب ! قحط سالی نے وادی کو جلا کر رکھ دیا ہے بال بچے بھوک سے بلک رہے ہیں تشریف لائیے اور بارش کے لئے دعا مانگئے ۔ حضرت ابو طالب، سب کے ہمراہ روانہ ہوئے ان کے ساتھ ایک نوخیز جوان بھی تھا (یعنی حضورﷺ ) یوں معلوم ہوتا تھا کہ مہر درخشاں ابھی بادلوں کی اوٹ سے باہر نکلا ہو حضورﷺ کے اردگرد کئی آپﷺ کے ہم عمر بھی تھے حضرت ابو طالب نے آپﷺ کو پکڑا اور آپﷺ کی پشت کعبہ کے ساتھ لگا دی اس نوجوان نے سراپا عجرو نیاز بن کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اس وقت آسمان پر بادل کا نام و نشان تک نہ تھا۔ آپﷺ کے مبارک ہاتھ اٹھتے ہی جگہ جگہ سے بادل کی ٹکڑے نمودار ہونے لگے اور چند لمحوں میں بادل امڈ کر آ گئے اور بارش برسنے لگی ایسی موسلا دھار بارش برسی کہ ساری وادیاں لبریز ہو گئیں۔ سارے میدان لبا لب بھر گئے۔ کچھ عرصہ بعد ہر طرف سبز گھاس لہلہانے لگی مرجھائے ہوئے درخت سر سبز و شاداب ہو گئے۔بعثت کے بعد جب کفار نے حضورﷺ کو اذیت پہنچانی شروع کی تو آپ نے اپنی قوم کو حضورﷺ کا وہ احسان یاد دلایا اور اس عظیم برکت کا ذکر کر کے انہیں ان اذیت رسانیوں سے باز آنے کی تلقین کرنے کے لئے ایک قصیدہ لکھا جس کے دو شعر آپ بھی ملاحظہ فرمائیے اور لطف اٹھائیے۔
وَاَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ لِوَجِیْهٖ
ثِمَالُ الۡيَتَامٰي وَ عِصۡمَةٌ لِلۡاَرَامِلٖ
ان کی رنگت سفید ہے ان کے رخ انور کا واسطہ دے کر بارش کی بھیک مانگی جاتی ہے وہ یتیموں کی پناہ ہیں اور بیواؤں کے عصمت کے محافظ ہیں۔
يَلُوۡذُ بِهِ الْهُلَّاكُ مِنْ اٰلِ هَاشِمٍ
فَهُمْ عِنْدَهٗ فِيۡ نِعْمَةٍ وَّ فَوَاضِلٖ
خاندان ہاشم کے مسکین، ہلاک ہونے سے اس کے دامن کرم میں پناہ لیتے ہیں پس وہ لوگ آپﷺ کے پاس ہر قسم کے انعامات اور احسانات سے مالا مال کر دئے جاتے ہیں۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ 89)
بعض کا خیال ہے کہ یہ اشعار حضرت عبدالمطلب کے ہیں آپ کے زمانے میں بھی اسی طرح شدید قحط پڑا تھا۔ آپ اپنی قوم کے ساتھ جبل ابی قبیس پر دعا مانگنے کے لئے گئے تھے حضورﷺ کی کمسنی کا عالم تھا آپ نے اپنے اس نور نظرﷺ کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا حضورﷺ کے واسطہ سے دعا مانگی جو فوراً قبول ہوئی اس واقعہ سے انکار نہیں لیکن یہ اشعار حضرت ابو طالب کے ہیں کیونکہ بخاری شریف کی حدیث سے اس کی تصدیق ہوتی ہے عہد نبوتﷺ میں بھی ایک مرتبہ شدید قحط پڑا۔ ایک اعرابی حاضر ہوا اور عرض کی۔ یا رسول اللہﷺ !
“يَا رَسُوۡلَ اللهِﷺ : هَلَكۡنَا وَ هَلَكَتْ مَوَاشِيۡنَا”
ترجمہ: خشک سالی کے باعث ہم بھی ہلاک ہو گئے اور ہمارے مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔
حضورﷺ نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ۔ اس سے پیشتر کہ دست مبارک نیچے آتے بارش شروع ہو گئی اور اس کی بوندیں ریش مبارک کو تر کر کے نیچے ٹپکنے لگیں۔ پورا ہفتہ بارش ہوتی رہی دوسرے جمعہ کو پھر اس اعرابی نے یا کسی دوسرے بدو نے بارش کی کثرت سے ہلاک ہونے کی شکایت کی۔ حضورﷺ نے اشارہ فرمایا اور اسی وقت بادل ہٹ گئے۔ بارش رک گئی۔
“وَضَحِكَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى بَدَتْ نَوَاجِذُهٗ ثُمَّ قَالَ لِلهِ دَرُّ اَبِيۡ طَالِبِِ لَوْ كَانَ حَيًّا لَّقَرَّتْ عَيْنَاهُ مَنْ يُّنْشِدُنَا قَوْلَهٗ”
ترجمہ:حضورﷺ تبسم فرمانے لگے یہاں تک کہ دندان مبارک ظاہر ہو گئے پھر فرمایا اگر ابو طالب زندہ ہوتے تو یہ منظر دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں کون ہے جو ان کا شعر سنائے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم نے عرض کی۔
“كَاَنَّكَ تُرَيۡدُ قَوۡلَهٗ وَ اَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ لِوَجِیْهٖ الخ”
کیا حضورﷺ کی مراد آپ کے یہ اشعار ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا بے شک اس روایت سے ثابت ہو گیا کہ یہ اشعار حضرت ابو طالب کے ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲