Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر130(حضورﷺ کا معصوم بچپن: حصہ دوم)

(رضاعت :حصہ اول)


سب سے پہلے حضرت سیدہ آمنہ نے اپنے نور نظر اور لخت جگرﷺ کو دودھ پلایا پھر یہ شرف حضرت ثویبہ کو نصیب ہوا۔ حضرت ثویبہ ابو لہب کی کنیز تھی اس نے ہی سب سے پہلے ابو لہب کو حضورﷺ کی ولادت کا مژدہ سنایا اور اس نے اپنے متوفی بھائی حضرت عبداللہ کے ہاں بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں اسے آزاد کر دیا اپنے بھتیجے کی پیدائش پر اس نے جو اظہار مسرت کیا اس کا صلہ چودہ صدیوں سے اسے مل رہا ہے ہر سوموار کو اس ابدی جہنمی کو ٹھنڈا پانی بھی پینے کو مل جاتا ہے اور اس کے عذاب میں بھی اس روز کچھ تخفیف کر دی جاتی ہے اور تا روز حشر ایسا ہوتا رہے گا۔ حضرت ثویبہ کے علاوہ اور متعدد خواتین نے بھی حضورﷺ کو دودھ پلانے کی سعادت حاصل کی حضرت خولہ بنت منذر ،حضرت ام ایمن،حضرت حلیمہ سعدیہ، اور بنی سعد کی ایک اور خاتون ان کے علاوہ ہیں لیکن سب سے زیادہ یہ شرف حضرت حلیمہ کے حصہ میں آیا انہوں نے لگا تار دو سال تک یہ خدمت انجام دی اس کی تفصیل جس پر جملہ سیرت نگار اور مؤرخین متفق ہیں ہدیہ قارئین ہے۔ قریش اور دیگر رؤسا عرب کے ہاں یہ رواج تھا کہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے والیوں کے حوالے کرتے تھے اس کی متعدد وجوہ تھیں۔

1) تاکہ ان کی بیویاں ان کی خدمت کے لئے فراغت پا سکیں۔
2) تا کہ ان کی اولاد صحرائی ماحول میں نشو و نما پائے اور انہیں فصیح عربی زبان میں مہارت حاصل ہو جائے۔
3) تا کہ صحرا کا پاک صاف ماحول میسر آئے اور وہ تندرست اور توانا ہوں۔ صحرائی زندگی کی جفاکشیوں اور مشقتوں کے وہ بچپن سے خوگر ہوں ۔
4) تاکہ ان کے جد امجد حضرت معد کی جسمانی قوت اور ہڈیوں کی مضبوطی اور اعصاب کی چگی کے اوصاف ان کو ورثہ میں ملیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کو یہ نصیحت کیا کرتے تھے: “تَمَعَّدَدُوۡا وَتَمَعَزَّزُوۡا وَاخۡشَوۡشَنُوۡا”
ترجمہ: اے مسلمانوں معد کا تن و توش پیدا کرو، مشقت طلبی کو اپنا شعار بناؤ اور اپنے جسم اور اعصاب کو سخت بناؤ۔

حضرت اقبال علیہ الرحمۃ نے شاید اس ارشاد فاروقی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی قوم کے نوجوانوں کو یہ نصیحت کی۔
رگ سخت چو شاخ آہو بیار
تن نرم و نازک بتیہو گزار
اپنے اعصاب کو ہرن کے سینگوں کی طرح مضبوط بناؤ نازک اور نرم جسم تمہیں زیب نہیں دیتا یہ چیزیں کبک(چکور) کو زیب دیتی ہیں مومن کے شایانِ شان نہیں۔

گویا اس وقت کے رؤساء قریش اور امراء عرب اپنے بچوں کو اپنی ماں کی نرم و گداز آغوش میں پلتے ہوئے دیکھنے کے بجائے اس کو پسند کرتے تھے کہ وہ صحرا نشین قبیلوں کے پاس اپنے بچپن کو گزاریں تاکہ اس کی ریت اور اس کی کھردری پتھریلی زمین کی رگڑوں سے ان کے جسم میں مضبوطی پیدا ہو۔ اور ان کی فصیح و بلیغ زبان سیکھ کر وہ بہترین خطیب اور قائد بن سکیں۔
ایک دن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! میں نے آپﷺ سے زیادہ کوئی فصیح نہیں دیکھا،حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔ “وَمَا يَمْنَعُنِيۡ وَاَنَا مِنْ قُرَيْشٍ وَاُرْضِعْتُ فِيۡ بَنِيۡ سَعْدٍ”
ترجمہ: ایسا کیوں نہ ہو کہ میں قبیلہ قریش کا فرزند ہوں اور میں نے اپنی رضاعت کا زمانہ بنی سعد قبیلہ میں گزارا ہے۔

مختلف قبائل کی خواتین خاص خاص موسموں میں مکہ آیا کرتیں تا کہ متمول لوگوں کے بچوں کو لے جائیں ان کو دودھ پلائیں ان کی پرورش کریں اور جب مدت رضاعت ختم ہو تو ان کے والدین انہیں گراں قدر عطیات اور انعامات دے کر شاد کام کریں وہ اس وقت بھی مقررہ اجرت پر دودھ پلانا باعث عار سمجھتی تھیں ان کے ہاں یہ مقولہ تھا۔
“اَلۡحُرَّةُ لَا تَاْكُلُ مِنْ ثَدِيۡهَا”
ترجمہ: آزاد عورت اپنے پستانوں کے ذریعہ رزق نہیں کماتی لیکن بطور انعام اور عطیہ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے کی دودھ پلانے والی کو کچھ دیتا تو اسے وہ بخوشی قبول کر لیتیں۔

حضرت عبد المطلب بھی ایسی مرضعہ کی تلاش میں تھے تا کہ وہ اپنے جلیل القدر پوتے کو اس کے حوالے کر سکیں۔ صحرا کی کھلی فضا اور پاکیزہ ہوا میں وہ اس کی پرورش بھی کرے اور جوہر فصاحت کو بھی آب و تاب بخشے اسی اثناء میں بنی سعد کی چند خواتین بچے لینے کی غرض سے مکہ آئیں بنی سعد کا قبیلہ بنی ہوازن کی ایک شاخ تھا جو اپنی عربیت اور فصاحت میں اپنا جواب نہیں رکھتا تھا ان خواتین میں حضرت حلیمہ سعدیہ بھی تھیں جو اپنے خاوند حارث بن عبدالعزٰی کے ساتھ اس مقصد کے لئے مکہ آئی تھیں۔ حضرت سعدیہ خود سارا حال بیان کرتی ہیں آپ ان کی زبان سے سنیے فرماتی ہیں۔
یہ سال قحط اور خشک سالی کا سال تھا ہمارے پاس کچھ باقی نہ رہا تھا جس پر گزر اوقات کر سکیں میں ایک سبزی مائل رنگ والی گدھی پر سوار ہو کر اپنے قافلہ کے ساتھ نکلی ہمارے ساتھ ایک بوڑھی اونٹنی بھی تھی جس کی کھیری میں دودھ کا ایک قطرہ تک نہ تھا۔ میرا بچہ بھوک کی وجہ سے ساری ساری رات روتا رہتا اور ہمیں ایک پل کے لئے بھی سونا نصیب نہ ہوتا نہ میری چھاتیوں میں اتنا دودھ تھا جس سے وہ سیر ہو سکے اور نہ ہماری اونٹنی کی کھیری میں دودھ تھا جو ہم اس کو پلا سکتے۔ ہم اس امید پر جی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ احسان فرمائے گا بارش برسے گی اور خوشحالی کا زمانہ پھر لوٹ آئے گا میں اس گدھی پر سوار ہو کر اس قافلہ کے ساتھ روانہ ہوئی مارے بھوک کے وہ قدم بھی نہیں اٹھا سکتی تھی اس کی وجہ سے سارا قافلہ مصیبت میں تھا۔ نہ ہمیں چھوڑ کر وہ آگے جا سکتے تھے اور نہ یہ لاغر گدھی چلنے کا نام لیتی تھی بڑی مشکل سے ہم مکہ پہنچے۔ اور سب نے بچے تلاش کرنے کے لئے گھر گھر چکر لگانے شروع کئے بنی سعد کی عورتیں حضرت سیدہ آمنہ کے نو نہال کے پاس بھی گئیں لیکن جب انہیں پتہ چلتا کہ یہ یتیم ہے تو وہ واپس لوٹ آتیں یہ خیال کرتے ہوئے کہ اس کا باپ تو ہے نہیں جو ہماری خدمات پر ہمیں انعام و اکرام سے مالا مال کر دے بیوہ ماں اور بوڑھا دادا ہماری کیا خدمت کرے گا چند دنوں میں ہر عورت کو بچہ مل گیا ایک میں تھی جس کی گود خالی تھی میری غربت، تنگ دستی اور خستہ حالی کو دیکھ کر کوئی خاندان مجھے اپنا بچہ دینے کے لئے آمادہ نہ ہوا آخر میں نے اپنے خاوند کو کہا کہ بخدا میں خالی واپس گھر نہیں جاؤں گی میں اس یتیم بچے کو ہی لے آتی ہوں کم از کم خالی گود تو واپس نہیں جاؤں گی میرے شوہر نے کہا ٹھیک ہے جاؤ اور اس یتیم بچہ کو لے آؤ حضرت حلیمہ کہتی ہیں کہ میں گئی اور وہ بچہ لے آئی اور مجھے بھی کوئی اور بچہ مل جاتا تو شائد میں بھی ایک یتیم بچہ کو نہ اٹھاتی میرے لئے اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا سعی بلیغ کے باوجود مجھے کسی دوسری عورت نے اپنا بچہ دیا ہی نہیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top