(اہل عرب کی زندگی کا تاریک پہلو: حصہ دوم آخری حصہ)
عرب صرف ایک ہبل کی ہی پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ جزیرہ عرب کے اطراف و اکناف میں مختلف شکلوں کے بتوں کی پوجا شروع ہو گئی تھی بعض کسی مکان کی شکل میں، بعض درختوں کے جھنڈ کی شکل میں، بعض گھڑے ہوئے پتھر ۔ الغرض بت پرستی کی ایک وبا پھوٹ پڑی تھی یہاں تک کہ کعبہ کے ارد گرد تین سو ساٹھ بت نصب کر دیئے گئے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب کے سارے قبائل کعبہ کا حج کرنے کے لئے آیا کرتے تھے اس لئے قریش نے ان تمام قبائل کے معبودان باطل کے مجسمے یہاں یکجا کر دیئے تھے تاکہ کسی قبیلہ کا آدمی بھی حج کرنے کی نیت سے آئے تو اپنے معبود کے بت کو یہاں دیکھ کر اس کی عقیدت میں اور اضافہ ہو اور قریش کی ریاست کو تسلیم کرنے میں وہ کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔ ان میں سب سے پرانا بت “منات “کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے پجاری اپنے بیٹوں کے نام اظہار عقیدت کے لئے عبد منات ، زید منات وغیرہ رکھا کرتے تھے۔ یہ بت ساحل سمندر پر “قدید ” کے مقام پر نصب تھا جو مکہ اور یثرب کے درمیان ایک قصبہ تھا۔ ازد، اوس اور خزرج کے قبائل اس کی پوجا پاٹ کرتے یہ سلسلہ 8ھ تک جاری رہا۔ حضور نبی کریمﷺجب فتح مکہ کے لئے تشریف لائے تو حضورﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ منات کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دیں۔ ان کے معبودوں میں سے ایک بت کا نام “لات” تھا۔ اس کا اصل مجسمہ طائف میں نصب تھا یہ ایک مربع شکل کی چٹان تھی جس پر ایک مکان تعمیر کر دیا گیا تھا۔ بنی ثقیف اس بت کے خدمت گزار اور محافظ تھے ان کے بتوں میں سے ایک کا نام “عزیٰ” تھا یہ منات اور لات کے بعد بنایا گیا تھا۔ یہ وادی نخلہ میں درختوں کے ایک جھنڈ کی شکل میں تھا جب کوئی مسافر مکہ سے عراق کی طرف جاتا تو درختوں کا یہ جھنڈ اس کے دائیں جانب پڑتا۔ عرب ان بتوں کے ساتھ بھی اپنی قلبی عقیدت کے اظہار کے لئے اپنے بیٹوں کے نام زید لات، تیم لات، عبدالعزیٰ وغیرہ رکھا کرتے قریش جب کعبہ کا طواف کرتے تو بلند آواز سے یہ نعرہ لگاتے۔
“وَلَلَّاتَ وَالْعُزّٰى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى فَاِنَّهُنَّ الْغَرَانِيۡقُ الۡعُلٰى وَاِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجٰي”
ترجمہ: اور یہ لات، عزی اور ایک تیسری (دیوی) منات یہ بہت عالی مقام غرانیق ہیں (اونچی اڑان اور گردن والے پرندے) جن کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا۔
(بلوغ الارب، جلد2، صفحہ203)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النجم میں ان کی اس حماقت کا تذکرہ فرمایا ہے ۔
اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی﴿19﴾ وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الۡاُخۡرٰی ﴿20﴾ اَلَکُمُ الذَّکَرُ وَ لَہُ الۡاُنۡثٰی ﴿21﴾ تِلۡکَ اِذًا قِسۡمَۃٌ ضِیۡزٰی ﴿22﴾
ترجمہ: کیا تم نے لات اور عزٰی (دیویوں) پر غور کیا ہے؟اور اُس تیسری ایک اور (دیوی) منات کو بھی (غور سے دیکھا ہے؟ تم نے انہیں اللہ کی بیٹیاں بنا رکھا ہے؟)۔ (اے مشرکو!) کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اُس (اللہ) کے لئے بیٹیاں ہیں۔ (اگر تمہارا تصور درست ہے) تب تو یہ تقسیم بڑی ناانصافی والی ہے۔
(سورۃ النجم،آیۃ: 19 – 22)
ان کے دیگر مشہور معبودوں میں سے ایک کا نام “سُواع” تھا جو ینبع کی سرزمین میں تھا اور بنو محیان اس کے خدام تھے۔ بنی کلب نے دومۃ الجندل کے مقام پر “وَد” نام کا ایک بت نصب کر رکھا تھا۔ مذحج اور اہل جرش نے یغوث کو اہل خیوان نے “یعوق” کو، حمیر نے “نسر” کو اپنا اپنا خدا بنا رکھا تھا۔ یہ وہی بت ہیں جن کی پوجا حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے مشرکین کیا کرتے تھے۔
(بلوغ الارب، جلد 2، صفحہ 201 – 203) (تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، منقول از کتاب الاصنام لابن الکلبی، جلد1، صفحہ70 -71 )
جب انسان کا تعلق اپنے خالق حقیقی سے منقطع ہو جاتا ہے تو اس کی فطرت سلیمہ مسخ ہو جاتی ہے اس کی عقل و فہم پر پردے پڑ جاتے ہیں اس کی چشم بصیرت بینائی سے محروم ہو جاتی ہے۔ اپنی دانشمندی کے باوجود اس سے اس قسم کی حرکتیں سرزد ہوتی ہیں کہ احمق اور دیوانے بھی ان سے شرمندگی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اہل مکہ کے دو معبودوں کے نام “اساف “اور”نائلہ” تھے ان کا قصہ یہ ہے کہ اساف بنی جرہم کا ایک مرد تھا۔ جس کا پورا نام اساف بن یعلیٰ تھا اور نائلہ ایک عورت تھی اس کا پورا نام نائیلہ بنت زید تھا یہ بھی جرہم قبیلہ سے تھی یہ دونوں یمن میں رہتے تھے قافلہ کے ساتھ حج کرنے کے لئے یہ دونوں مکہ آئے اس اثناء میں کعبہ میں داخل ہوئے وہاں اور کوئی آدمی نہیں تھا۔ اس تنہائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے خانہ خدا میں بد فعلی کا ارتکاب کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو پتھر بنا دیا جب دوسرے لوگ کعبہ کے اندر گئے تو ان کو اس مسخ شدہ حالت میں دیکھ کر انہوں نے انہیں وہاں سے اٹھایا اور باہر رکھ دیا تاکہ ان کے دردناک انجام سے لوگ عبرت حاصل کریں لیکن کچھ عرصہ بعد ان دونوں کی بھی پوجا ہونے لگی۔ حج کے لئے آنے والے ان دو بدکاروں کی پوجا کرتے اور ان سے اپنی حاجتیں مانگتے ان کا مسخ شده ضمیر اس کمینگی پر انہیں ملامت بھی نہ کرتا۔ ان کے علاوہ اور بہت سے بت تھے جن کی وہ پرستش کیا کرتے ابن کلبی نے “کتاب الاصنام” میں ان کا تذکرہ تفصیل سے کیا ہے۔ نبی رحمت صلیﷺ نے جب مکہ کو فتح کیا اور بیت اللہ شریف کے اندر تشریف لے گئے تو اپنی کمان کے ایک کونے سے ان بتوں کو ضرب لگاتے اور زبان مبارک سے پڑھتے۔ “جَآءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوۡقًا” ترجمہ:حق آ گیا باطل بھاگ گیا۔ بیشک باطل بھاگنے والا ہی ہے۔ وہ بت سر کے بل گر پڑتے۔
(بلوغ الارب، جلد2 ، صفحہ 211)
حضورﷺ کے حکم سے انہیں مسجد حرام سے باہر پھینک دیا گیا اور انہیں جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا جو بت مکہ مکرمہ کے علاوہ دیگر مقامات پر تھے ان کی طرف ہادی برحقﷺ نے مختلف صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھیجا تا کہ وہ ان کو توڑ دیں۔ اور ان کا نام و نشان تک مٹا دیں۔ لات کا بت طائف میں تھا۔ اس کو توڑنے کے لئے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا انہوں نے اس کو توڑ کر گرا دیا اور نذر آتش کر دیا۔ عزٰی ، جو ان کا ایک عظیم الشان بت تھا اور جو وادی نخلہ میں درختوں کے ایک جھنڈ کی شکل میں موجود تھا ان کو جڑ سے اکھیڑنے کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور فرمایا کہ وادی نخلہ میں جاؤ وہاں تمہیں بیری کے تین درخت نظر آئیں گے اس میں سے پہلے کو کاٹ دو آپ رضی اللہ عنہ گئے اس بیری کے درخت کو کاٹ دیا جب واپس آ کر اطلاع دی تو حضورﷺ نے پوچھا کیا تم نے کوئی چیز دیکھی عرض کیا نہیں یا رسول اللہﷺ! حکم دیا دوسرے بیری کے درخت کو جا کر کاٹو تعمیل ارشاد کے بعد پھر بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے حضورﷺ نے پھر پوچھا تم نے کوئی چیز دیکھی عرض کیا نہیں یا رسول اللہﷺ! فرمایا جاؤ اب تیسرے بیری کے درخت کو بھی کاٹ دو۔ جب انہوں نے اس تیسرے درخت کو کاٹا تو اچانک ایک بد شکل عورت دیکھی جس نے اپنے بال بکھیرے ہوئے تھے اور اس کے دانت نکلے ہوئے تھے اس کے پیچھے پیچھے دبیہ سلمی تھا جب اس نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا تو کہا۔
فَيَا عِزُّ شَدِّىۡ شِدَّةً لَا تَكْذِبِيۡ
عَلٰى خَالِدٍ اَلْقِي الْخِمَارَ وَشَمِّرِىۡ
اے عزہ! حضرت خالد رضی اللہ عنہ پر اپنی قوت سے بھر پور حملہ کر ، اپنی اوڑھنی کو پھینک دے اور اپنی آستینوں کو چڑھا لے۔
فَاِنَّكِ اِنْ لَا تَقْتُلِي الْيَوْمَ خَالِدًا
تَبُوۡئِ بِذُلٍّ عَاجِلًا وَتُنَصَّرِىۡ
اگر آج تو حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو قتل نہیں کرے گی تو بہت جلد تجھے ذلیل و رسوا کر دیا جائے گا۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فی البدیہ جواب دیا۔
يَا عِزُّ كُفۡرَانَكِ لَا سُبْحَانَكِ
اِنِّيۡ رَاَيْتُ اللهَ قَدْ اَهَانَكِ
اے عزہ! میں تیری تسبیح بیان نہیں کرتا بلکہ میں تیری خدائی کا انکار کرتا ہوں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے ذلیل و رسوا کر دیا ہے۔
پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار سے اس پر وار کیا اور اس کے سر کو دو ٹکڑے کر دیا پھر وہ ایک جلے ہوئے کوئلہ کی طرح ہو گئی پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس درخت کو جڑ سے اکھیڑ دیا اور دبیہ کو بھی قتل کر دیا تعمیل ارشاد سے فارغ ہونے کے بعد بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہو کر سارا ماجرا بیان کیا۔
(بلوغ الارب، جلد2، صفحہ 204- 205)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲