Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 136نبی کریمﷺ کا عہد شباب اور کسب معاش کا دور: حصہ اول)

(حضرت ابو طالب کے ہمراء سفر شام:حصہ اول)


کسب معاش کا دور: حضرت ابو طالب کی مالی حالت تسلی بخش نہ تھی اہل و عیال کی کثرت نے اس کمزوری کو مزید تکلیف دہ بنا دیا تھا اس لئے جب حضورﷺ نو، دس سال کے ہوئے تو آپﷺ نے بعض لوگوں کے ریوڑ اُجرت پر چرانے شروع کر دیئے تاکہ اپنے محترم چچا کا ہاتھ بٹائیں۔

امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اپنی صحیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
“قَالَ قَالَ رَسُوۡلُ اللهِﷺ مَا بَعَثَ اللهُ نَبِيًّا اِلَّا رَاعِيَ غَنَمٍ وَّ قَالَ لَهٗ اَصْحَابُهٗ وَاَنْتَ يَا رَسُوۡلَ اللهِ ﷺ؟قَالَ وَ اَنَا رَعَيْتُهَا لِاَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيۡطِ”
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا مگر انہوں نے بکریوں کو چرایا ہے۔ اصحاب نے عرض کی۔ یا رسول اللہﷺ کیا آپﷺ نے بھی؟ فرمایا کہ میں بھی “قَرَارِيۡطٌ” کے عوض اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ “قِيۡلَ رُبُعُ سُدُسِ الدِّيۡنَارِ وَقِيۡلَ نِصۡفُ عَشَرِ الدِّيۡنَارِ” ترجمہ: قَرَارِيۡطٌ، قیراط کی جمع ہے اور یہ دینار کے چھٹے حصے کی چوتھائی کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ دینار کے بیسویں حصہ کو قیراط کہتے ہیں۔
(المنجد)

لیکن شیخ ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ایک مفہوم بیان کیا ہے لکھتے ہیں۔
“اَلْقَرَارِيۡطُ هِيَ حِصَّةٌ مِّنَ اللَّبَنِ كَانَ يَتَغَذّٰى بِهٖ مَعَ اَوْلَادِ اَبِیۡ طَالِبٍ”
ترجمہ: بکریوں کے دودھ کا حصہ، جو حضورﷺ اُجرت کے طور پر لیا کرتے تھے اور جو حضرت ابو طالب کے اہل و عیال کے ساتھ بطور غذا استعمال فرمایا کرتے۔

علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ نے “عمدۃ القاری” میں ابراہیم حربی علیہ الرحمۃ کے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ قَرَارِیۡطٌ ایک مقام کا نام ہے جو اجیاد کے قریب تھا۔ قریش کا آبائی پیشہ تجارت تھا۔ یمن کی بندرگاہوں پر مشرق اور مشرق بعید کے ممالک سے درآمد کئے ہوئے مال کو لے کر قریش شام کی منڈیوں میں پہنچاتے تھے اور وہاں سے مغربی ممالک یونان، فلسطین مصر وغیرہ سے آیا ہوا مال لے کر یمن کی بندر گاہوں پر پہنچاتے تاکہ اس مال کو مشرقی ممالک کو بر آمد کیا جائے۔

سفر شام: جب رحمت عالمﷺکی عمر مبارک بارہ سال کے قریب پہنچی تو حضرت ابو طالب نے اپنے تجارتی مقاصد کے لئے شام کے سفر کی تیاری شروع کر دی۔ علامہ ابن خلدون علیہ الرحمۃ نے عمر کے بارے میں تیرہ سال اور سترہ سال کے دو قول لکھے ہیں۔
(تاریخ ابن خلدون، جلد دوم، صفحہ 712)

جب آپ روانہ ہونے لگے تو رحمت عالمﷺ نے اپنے چچا کے اونٹ کی نکیل پکڑی اور اصرار کیا کہ مجھے بھی اپنے ہمراہ لے جائیں۔
“مَسَكَ بِزِمَامِ نَاقَةِ اَبِيۡ طَالِبٍ وَقَالَ يَا عَمِّ اِلٰى مَنْ تَكِلُنِيۡ لَا اَبَ لِيۡ وَلَا اُمَّ”
ترجمہ:حضورﷺ نے آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑ لی اور فرمایا اے میرے چچا! آپ مجھے کس کے سپرد کر کے جا رہے ہیں میرا نہ باپ ہے اور نہ ماں۔

چنانچہ حضرت ابو طالب آپﷺ کو ساتھ لے جانے پر تیار ہو گئے اور آپﷺ کو اپنی اونٹنی پر اپنے ساتھ سوار کر لیا کئی دنوں کی مسافت کے بعد جب یہ قافلہ بصریٰ پہنچا تو وہاں عیسائی راہبوں کی ایک خانقاہ کے نواح میں شب بسری کے لئے قیام کیا اس خانقاہ میں ایک عیسائی راہب عرصہ دراز سے سکونت پذیر تھا۔ اس کا نام جرجیس تھا لیکن بُحَیرَیٰ (المنجد میں اس لفظ کی املا یوں ہے بحیرا لیکن اسلامی کتب میں اس کی املا بحیریٰ ہے یعنی باء مفتوح حا مجرور یا ساکن آخر میں “یاء” اس پر الف علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ کی “سیرت” میں اسی طرح لکھا ہے ،اصفہانی کی “دلائل نبوۃ” میں اس کی املا بَحِیرَاءُ ہے۔) کے نام سے مشہور تھا۔ بحیریٰ سریانی لفظ ہے اس کا معنی عبقری اور نابغہ ہے یعنی از حد دانشمند اور علامہ روز گار۔
(نظرة جديدۃ فی السيرة ،صفحہ 16)

کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کو جو خصوصی علوم عطا کئے گئے تھے وہ نسلاً بعد نسل چلے آتے تھے اور اس زمانہ میں ان علوم کا امین ہی بحیری راہب تھا۔ قریش کے تجارتی کارواں ہمیشہ اس راستہ سے گزرا کرتے تھے لیکن اس نے کبھی ان کی پروا نہیں کی تھی وہ ان سے گفتگو کرنے کا روادار بھی نہ تھا لیکن اس دفعہ جب یہ قافلہ اس کی وادی میں داخل ہوا تو اس نے اپنی خانقاہ سے دیکھا کہ ایک نو خیز بچے پر بادل کا ایک ٹکڑا سایہ فگن ہے وہ بچہ جدھر جاتا ہے بادل کا ٹکڑا اس کے ساتھ ساتھ جاتا ہے پھر اس نے اس امر کا بھی مشاہدہ کیا کہ جب یہ قافلہ ایک درخت کے سایہ میں اُترا اور یہ بچہ جب وہاں پہنچا تو درخت کے سایہ میں کوئی جگہ نہ رہی تھی اس لئے مجمع سے باہر ہی وہ بچہ دھوپ میں بیٹھ گیا اور درخت نے فوراً جھک کر اپنا سایہ اس بچہ پر پھیلا دیا۔ بحیریٰ نے جب اپنی خانقاہ کے دریچہ سے یہ منظر دیکھا اسے خیال آیا کہ جس نبی صادق و امین کے ہم منتظر ہیں اور جس کی علامات ہماری کتب میں مرقوم ہیں کہیں یہ جوان وہی تو نہیں اسے قریب سے دیکھنا چاہئے تاکہ ان کی نشانیوں کے بارے میں پورا وثوق ہو جائے اس نے اس کے لئے یہی تجویز مناسب سمجھی کہ سارے قافلہ کی ضیافت کی جائے وہ نوجوان بھی آئے گا اسے قریب سے دیکھ کر دل کو مطمئن کر لوں گا چنانچہ خلافِ معمول وہ اپنی خانقاہ سے نکل کر ان قافلہ والوں کے پاس آیا اور کہا کہ آج آپ کے قافلہ کے تمام افراد کو میں دعوت دیتا ہوں کہ آج مَا حَضَرَ (جو کچھ حاضر ہے) میرے ہاں تناول فرمائیں اس کے اس طرز عمل سے سارا قافلہ سراپا حیرت بنا ہوا تھا۔ آخر ایک شخص سے نہ رہا گیا اور اس نے پوچھ ہی لیا کہ اے بحیریٰ! آپ کے طرز عمل نے ہمیں حیران کر دیا ہے پہلے بھی ہم یہاں سے با رہا گزرے ہیں لیکن آپ نے ہماری طرف کبھی توجہ تک نہ کی۔ اس دفعہ آپ خلاف معمول اپنی خانقاہ سے چل کر ہمارے پاس آئے اور ہمیں کھانے کی دعوت دے کر ہماری عزت افزائی فرمائی آپ کے طریقہ کار میں یہ بیِّنْ تفاوت کیوں؟ بحیریٰ نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا کہ بے شک آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن آخر کار آپ ہمارے مہمان ہیں اپنے مہمانوں کی عزت کرنا اور ان کی ضیافت کا شرف حاصل کرنا ہمارا فرض ہے جب مقررہ وقت آیا تو قافلے کے سارے افراد بحیریٰ کے ہاں گئے اس نے بڑے اہتمام سے ان کا خیر مقدم کیا لیکن جس جان عالمﷺ کے لئے وہ بڑی بے تابی سے اپنی آنکھیں فرش راہ کئے ہوئے تھا وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس نے پوچھا آپ میں سے کوئی رہ تو نہیں گیا؟ انہوں نے بتایا کہ تمام لوگ آگئے ہیں صرف ایک بچہ پیچھے رہ گیا ہے اسے ہم اپنے خیموں اور اونٹوں کی حفاظت کے لئے چھوڑ آئے ہیں۔ اس نے اصرار کیا کہ اسے بھی ضرور بلاؤ اس قافلے کا کوئی فرد چھوٹا ہو یا بڑا، غلام ہو یا آزاد پیچھے نہ رہے۔ چنانچہ آپﷺ کے چچا حارث بن عبد المطلب گئے اور حضورﷺ کو بلا کر لے آئے اس پیکر نور و سعادتﷺ کے آنے سے بحیریٰ کے دل بے قرار کو قرار آگیا اور وہ حضورﷺ کو پہچاننے کے لئے ٹکٹکی باندھ کر رخ انورﷺ کو دیکھنے میں محو ہو گیا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top