قسط نمبر 77 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین : حصہ سوم}
(کانفیوشس : حصہ اول)
قبل مسیح چین میں ایک مرد حکیم پیدا ہوا۔ جسے دنیا کانفیوشس کے نام سے جانتی ہے اس کا وطن ایک چھوٹی جاگیر دارانہ ریاست تھا۔ جسے لو (LU) کہتے تھے وہ ساری عمر چین میں اس لئے سیر و سیاحت کرتا رہا کہ اسے کوئی ایسا حکمران مل جائے جو اس کے بتائے ہوئے اصولوں پر خود بھی عمل کرے اور لوگوں کو بھی ان پر عمل کرنے کی دعوت دے ۔ اگرچہ وہ 479 قبل مسیح بہتّر سال کی عمر میں ناکامی کا داغ لئے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوا لیکن وہ اپنی تعلیمات کے ایسے گہرے نقوش چھوڑ گیا کہ دو ہزار سال بعد بھی چین کی وسیع و عریض مملکت میں اس کے اثرات محسوس کئے جاتے ہیں اس نے نہ پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا کہ اس کی تعلیمات کو آسمانی الہام سمجھا جائے اور نہ اس نے فلسفی کی حیثیت سے اپنے نظریات پیش کئے کہ انہیں منوانے کے لئے دلائل و براہین کی تائید حاصل کرے۔ اس لئے کانفیوشس کے نظریات و افکار کو مذہب کہنا ہرگز درست نہیں بلکہ یہ اخلاق اور سیرت کا ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جس پر اہل چین دو ہزار سال تک یعنی 1911ء کے انقلاب تک عمل پیرا رہے۔ بدھ مت نے بھی چین کو متاثر کیا اور اس کی کثیر آبادی نے اس کو بطور مذہب قبول کر لیا لیکن بدھ مت اور کانفیوشس کے افکار کے درمیان جو بیّن تفاوت ہے اس کو یُوئین (HU YIN) (1098 تا 1156ء) نے بڑے واضح انداز میں بیان کیا ہے۔
انسان ایک زندہ چیز ہے بدھ مت زندگی کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں کرتا۔ وہ صرف موت کے بارے میں اظہار خیال کرتا ہے۔ انسانی معاملات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور بدھ مت ان امور کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جو ظاہر نہیں بلکہ مخفی ہیں، جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کی روح باقی رہ جاتی ہے بدھ مت زندہ انسان کے بارے میں اظہار خیال نہیں کرتا بلکہ روحوں کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتا ہے جس چیز سے انسان کو مفر نہیں وہ اس کے روز مرہ کے معاملات ہیں لیکن بدھ مت حیرت انگیز اور ما فوق العادت امور کو اپنی بحث کا موضوع بناتا ہے۔ بدھ مت اخلاقی اصولوں کے بیان میں بھی خاموش ہے وہ اپنے ماننے والوں کو ان زریں اصولوں کی طرف راہنمائی نہیں کرتا جن کے مطابق زندگی بسر کر کے وہ اپنے انسانی معاشرہ کو راحت و شادمانی سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی اعلیٰ اخلاقی اقدار سے مزین کر سکتے ہیں وہ صرف خیالی چیزوں کے بارے میں ہی محو رہتا ہے۔ پیدا ہونے کے بعد اور مرنے سے پہلے ہمیں کیا کرنا چاہئے ہمیں اپنی قوتیں اور صلاحیتیں کن امور پر صرف کرنی چاہئیں۔ بدھ مت اس کے بارے میں کوئی راہنمائی نہیں کرتا وہ صرف اس عالم رنگ و بو میں قدم رکھنے سے پہلے اور یہاں سے رخت سفر باندھ کر چلے جانے کے بعد کی زندگیوں سے بحث کرتا ہے جن چیزوں کو ہم آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں نہ کانوں سے سن سکتے ہیں یا غور و فکر سے جن کا ادراک کر سکتے ہیں ان امور سے اسے کوئی واسطہ نہیں وہ فقط ان امور کو زیر بحث لاتا ہے جنہیں یہ کان سن سکتے ہیں نہ آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اور جہاں فکر و نظر کی بھی رسائی نہیں ہوتی۔
کانفیوشس کا تعلق سوسائٹی کے درمیانی طبقہ سے تھا، وہ اس وقت پیدا ہوا جب اس کا باپ بوڑھا ہو چکا تھا۔ وہ ایک شریف سپاہی تھا جس کا نام کونگ (K,UNG) تھا اس کا خاندان امیر نہیں تھا۔ لیکن باوجود غربت کے لوگ اس خاندان کو عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جب اس کی عمر اکیس سال کی تھی تو اس نے اپنے نوجواں دوستوں کو اپنی درسگاہ میں کھینچنا شروع کیا اس کی درسگاہ میں داخلہ کے لئے کسی خاص قبیلہ کا فرد ہونا یا کسی اعلیٰ منصب پر فائز ہونا شرط نہیں تھا بلکہ اس کا دروازہ خاص و عام سب کے لئے کھلا رہتا تھا۔ اس کی عام فہم اور سادہ تعلیمات نے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنا شروع کیا اور بڑے قلیل عرصہ میں اس کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی پچاس سال کی عمر میں اس نے ڈیوک آف لیو کے دربار میں ایک منصب قبول کر لیا۔ لیکن اس نے اس وقت اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا جب کہ ڈیوک مذکور کو رقص کرنے والی لڑکیوں کے ایک طائفہ نے راہ راست سے بھٹکا دیا۔ کانفیوشس کو یقین ہو گیا کہ وہ یہاں رہ کر اپنے افکار و نظریات کی نشر و اشاعت نہیں کر سکتا۔ یہ ڈیوک اس کے افکار پر نہ خود عمل کرے گا اور نہ لوگوں کو ان پر عمل کرنے کی دعوت دے گا۔ چنانچہ دل برداشتہ ہو کر وہ وہاں سے چلا گیا اور ملک کی مختلف ریاستوں کے حکمرانوں کے پاس جا کر ان سے ملاقات کی۔ لیکن اسے کوئی بھی ایسا حکمران نہ ملا جس نے یہ کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی اور قدر دانی کی ہو کہ وہ اس کے اصولوں کو خود بھی اپنائے گا اور لوگوں کو بھی ان پر عمل کرنے کی دعوت دے گا آخر مایوس ہو کر وہ اپنے وطن واپس آ گیا اور بہتّر سال کی عمر میں اس نے وفات پائی اس کے نظریات کا خلاصہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نزدیک ریاست ایک قدرتی ادارہ ہے جس کا فرض عوام کی خوشحالی اور افراد کی مکمل نشوونما ہے اس کے نزدیک ریاست انسان کی خدمت کے لئے ہے نہ کہ انسان ریاست کی خدمت کے لئے اخلاقی لحاظ سے اپنے دوستوں کے ساتھ ہمدردی نیک برتاؤ، باہمی تعاون اور ہمدردی کے جذبات کی نشوونما پر زور دیتا اخلاق حسنہ کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور بڑھتے بڑھتے انسان کے حلقہ احباب کا احاطہ کر لیتا ہے۔ وہ انسانی تعلقات میں سے ان پانچ بنیادی تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔
(۱) حاکم اور رعایا
(۲) باپ اور فرزند
(۳) بڑا بھائی اور چھوٹا بھائی
(۴) شوہر اور بیوی
(۵) دوست اور دوست
وہ اس بات پر خاص طور پر زور دیتا ہے کہ پہلے انسان کو اپنی برادری اور طبقہ کا قابل فخر رکن بننا چاہئے، تب اسے عالمی انسانی برادری کی رکنیت کے بارے میں سوچنا چاہیئے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲