(قبل از اسلام جزیرہ عرب میں آزاد ریاستیں : حصہ ہفتم)
(مملکت حیرہ:حصہ دوم)
مملکت سبا: دوسری روایت میں ہے کہ وہ اسے لے کر عین التمر پہنچا وہاں اس نے اس کے ساتھ شب عروسی گزاری پھر اسے خیال آیا کہ وہ بد فطرت عورت ہے جس نے اپنی قوم اپنے وطن اور اپنے باپ کے ساتھ غداری کی ہے اس نے اپنے ایک سپاہی کو ایک سرکش اور منہ زور گھوڑے پر سوار ہونے کا حکم دیا اور نضیرہ کی مینڈھیوں کو گھوڑے کی دم سے باندھا سوار کو کہا کہ گھوڑے کو ایڑ لگائے چنانچہ وہ گھوڑا ہوا ہو گیا۔ نضیرہ اس کے پیچھے گھسٹتی چلی گئی یہاں تک اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور سننے والوں کے لئے اس واقعہ میں ایک درس عبرت ہے کہ جو شخص اپنی قوم اور وطن کے ساتھ غداری کرتا ہے اس کا یہ حشر ہوتا ہے۔ نعمان جب تیس سال تک حکومت کر چکا تو ایک روز خورنق کی چھت پر اس کی محفل جمی ہوئی تھی اس نے ارد گرد کے علاقہ پر نظر ڈالی وہاں کھیت لہلہا رہے تھے کھجوروں کے اونچے اونچے درخت جھوم رہے تھے باغات میں پھلوں سے لدے ہوئے پیڑ دعوت نظارہ دے رہے تھے پھر اس نے فرات کے مشرق کی طرف نظر دوڑائی وہاں کا روح پرور منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہیں سر سبز مرغزار ہیں، کہیں کھیتوں میں بل کھاتی ہوئی ندیاں رواں دواں ہیں، کہیں چرواہے اونٹ چرا رہے ہیں، کہیں ہرنوں کا شکار ہو رہا ہے، کہیں خرگوش پکڑے جارہے ہیں، فرات میں ملاح کشتی رانی کر رہے ہیں، غوطہ زن غوطے لگا رہے ہیں، مچھلیوں کے شکاری جال پھینک رہے ہیں۔ پھر حیرہ نے شہر کی طرف نظر ڈالی اس کو مال و دولت کے ذخائر سے بھرا ہوا پایا یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد اسے خیال آیا کہ کل جب میں نہیں ہوں گا ان تمام چیزوں کا مالک کوئی اور ہو گا یہ خیال آتے ہی دنیا کی بے وفائی اور تاج و تخت کی بے ثباتی کے تصور نے اس کے قلب و ذہن کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے اپنے محل کے دروازے پر جو پہرہ دار تھے انہیں چلے جانے کا حکم دے دیا اور رات کی تاریکی میں ایک کمبل اوڑھا اور غائب ہو گیا پھر اس کو کسی نے نہ دیکھا۔ عدی بن زید ، نعمان بن منذر کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔
تَدَبَّرَ رَبُّ الْخَوْرِنَقِ اِذْ
اَشْرَفَ يَوْمًا وَّلَلْهُدٰى تَفْكِيۡرٗ
سَرَّہٗ حَالُهٗ وَكَثْرَةُ مَا
يَمْلِكُ وَالْبَحْرُ مَعْرِضًا وَّسٰدِيۡرٗ
فَارْعَوَى قَلْبُهٗ وَقَالَ وَمَا
غِبْطَةُ حَيٍّ اِلَى الْمَمَاتِ يَصِيۡرٗ
ثُمَّ بَعْدَ الْفَلَاحِ وَالْمُلْكِ
وَالْاَمَةِ وَارَتۡهُمْ هُنَاكَ الْقَبُوۡرٗ
ثُمَّ اَضْحَوْا كَاَنَّهُمۡ وَرَقٌ
جَفَّ فَاَلۡوَتۡ بِهَا الصَّبَا وَالدَّبُوۡرٗ
ترجمہ: خورنق کے مالک نے ایک روز دائیں بائیں پھیلی ہوئی اپنی مملکت پر نظر ڈالی پھر اس میں غور و فکر کیا اور غور و فکر میں ہی ہدایت ہوا کرتی ہے۔ اس کو اس کی حالت نے اور اس کے اموال کی کثرت نے مسرور کر دیا درآں حال سمندر اور سدیر سامنے تھے پس چونک اٹھا اس کا دل اور کہا اس زندہ کو خوش ہونے کا کیا حق ہے جس کا انجام موت ہے پھر کامیابی، بادشاہی اور نعمتوں کے طویل دور کے بعد قبروں نے ان کو اپنی آغوش میں چھپالیا۔ پھر وہ خشک پتوں کی طرح ہو گئے جنہیں صبح اور شام کی ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں ۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، جلد 1، صفحہ37)
نعمان کے بعد منذر 520ء میں تخت نشین ہوا یہ نوشیرواں کا ہم عصر تھا۔ روم میں اس وقت قیصر جستینان حکمران تھا۔ غسان کا رئیس حارث بن ابی شمر تھا، منذر کے بعد نعمان 580ء میں بادشاہ بنا اس کو کسرٰی پرویز نے 602ء میں قتل کر دیا آہستہ آہستہ اس خاندان میں ضعف کے آثار نمودار ہونے لگے آپس میں حسد، نفاق اور دشمنی کے شعلے سلگنے لگے اور آل ساسان جو ان کے سرپرست تھے ان میں بھی کمزوری نمودار ہونے لگی۔ بیت لخم کے بادشاہ منذر بن ماء السماء کو حارث غسانی نے شکست دی۔ پھر اس کے بیٹے کو حارث کے بیٹے منذر نے 570 ءمیں شکست دی اور قتل کر دیا ان اکابر کے پے در پے قتل ہونے سے مناذرہ کے شاہی خاندان میں افراتفری پیدا ہو گئی اور جانشینی کے جھگڑے شروع ہو گئے۔ نعمان کے قتل کے بعد کسرٰی نے ایاس بن قبیصہ کو اس کا قائم مقام مقرر کیا کیونکہ یہ شاہی خاندان کا فرد نہیں تھا۔ اس لیئے اس کی امداد کے لئے ایک ایرانی کو بھی شریک حکم کر دیا جس کا نام “نخیر جان” تھا نعمان کے قتل کے بعد یہاں کی حکومت کمزور ہو گئی ایاس بن قبیصہ اور عرب قبائل کے درمیان جنگ ذی قار کا آغاز ہوا اس میں عربوں کو فتح ہوئی۔ حیرہ کے امیر اور ایرانی لشکر کو شکست ہوئی پھر حیرہ کے تخت پر ” آزاذ بن یابیان الہمدانی” متمکن ہوا جس نے سترہ سال حکومت کی اس کے بعد نعمان کا بیٹا منذر تخت نشین ہوا جس نے صرف اٹھارہ ماہ حکومت کی یہاں تک کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حیرہ کو فتح کیا۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، جلد1، صفحہ 39)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲