Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر103بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:سو)
{جزیرہ عرب : حصہ چوبیسواں}
(اہل عرب کی زندگی کا تاریک پہلو: حصہ اول)

وہ قوم جس کی ذہانت اور فراست، شجاعت اور سخاوت، ایفاء عہد اور غیرت، فصاحت و بلاغت کا آپ تفصیلی مطالعہ کر چکے ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جب ان گونا گوں خوبیوں اور کمالات سے متصف قوم کا تعلق نور نبوت سے منقطع ہو گیا۔ وحی الہیٰ کی روشنی سے انہوں نے استفادہ کرنا ترک کر دیا تو ان کمالات کے باوجود اس کا انجام کیا ہوا ۔ ان کی ساری خوبیاں اور کمالات ذلیل اور خسیس مقاصد کے لئے وقف ہو کر رہ گئے جادہ حق سے ان کے قدم ایسے پھسلے کہ پھر ان کی کوئی خوبی، ان کو قعر مذلت (انتہائی ذلت) میں گرنے سے نہ بچا سکی۔ ایسی ذہین قوم جو ایک لفظ سن کر مخفی اسرار اور پنہاں نکات کا کامیابی سے کھوج لگا لیتی تھی ان کو پتھر کے بنے ہوئے بتوں کی پرستش کرتے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ان کی وہ بلا کی فراست اور ذہانت کہاں گئی اس طرح ان میں جو اخلاقی انحطاط و زوال پیدا ہو گیا تھا ان کے بارے میں پڑھ کر قاری پر سراسیمگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ہم اس قوم کی فکری، نظری اور عملی زندگی کے تاریک گوشوں پر تبصرہ کرنے سے پہلے ان اسباب و علل کا جائزہ لینا ضروری سمجھتے ہیں جن کے باعث وہ اس گراوٹ کا شکار ہو گئے۔ عہد جاہلیت کے اہل عرب کے مورخین نے بڑی وضاحت سے لکھا ہے کہ عمرو بن لحی الخزاعی سے پہلے عدنانی اور قحطانی دونوں عربی قبائل خلیل الرحمن سیدنا ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی شریعت کے پابند تھے اور آپ علیہ السلام کی تعلیمات کے مطابق عبادات سر انجام دیتے تھے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کی ذات و صفات میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں وہ قادر مطلق ہے کائنات کی تخلیق، اس کی نشو و نما اور اس کی بقا کے لئے اسے کسی وزیر ، اور کسی مشیر کی امداد کی ضرورت نہیں۔ حیاة ، قدرت، ارادہ، علم، سمع، بصر اور کلام وغیرہ تمام صفات کمال سے وہ بذات خود متصف ہے۔ تمام خامیوں کمزوریوں ، اور عیوب سے مبرا اور منزہ ہے اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان کامل کے ساتھ ساتھ روز قیامت پر بھی ان کا محکم یقین تھا۔ وہ جانتے تھے کہ روز محشر آئے گا جب اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر زندہ مخلوق کو موت کا ذائقہ چکھانے کے بعد اور برزخ کی زندگی گزارنے کے بعد پھر زندہ کرے گا تمام انسان اس کی بارگاہ عالی میں حاضر ہوں گے اور وہ اپنے عدل، فضل و احسان کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرے گا دین ابراہیمی کی ہدایات کے مطابق وہ نمازیں پڑھتے ، روزے رکھتے، حج کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا برتاؤ کرتے۔ غریبوں، مسکینوں کی امداد اور مہمانوں کی عزت و تکریم ان کا شعار تھا لیکن جب عہد نبوت سے ان کا زمانہ بہت دور ہو گیا تو تعلیمات ابراہیمی کی روشنی مدہم پڑنے لگی جہالت اور نفس پرستی نے اپنے پنجے گاڑ دیئے احکام الٰہی کے بجائے وہ اپنی نفسانی خواہشات کے بندے بن گئے ان میں غلط افکار جڑ پکڑنے لگے اور باطل عقائد کو پذیرائی حاصل ہونے لگی اس اثناء میں عمرو بن لحی الخزاعی کا واقعہ پیش آیا جس نے ایک قیامت برپا کر دی۔ عمرو جب بالغ ہوا تو اس نے بنو اسماعیل کے ساتھ مل کر بنی جرہم کے ساتھ جنگ کی ان کو شکست فاش دی اور انہیں مکہ سے جلا وطن کر دیا اور خود خانہ کعبہ کا متولی بن گیا اسے کوئی سنگین نوعیت کا مرض لاحق ہو گیا۔ کسی نے اسے بتایا کہ ملک شام میں بلقاء کے مقام پر ایک گرم پانی کا چشمہ ہے اگر تم وہاں جا کر اس پانی سے غسل کرو تو تم شفا یاب ہو جاؤ گے۔ یہ بلقاء پہنچا اس چشمہ کے پانی سے غسل کیا اور صحت یاب ہو گیا وہاں کے رہنے والوں کو اس نے دیکھا کہ وہ بتوں کی پرستش کر رہے ہیں اس نے ان سے پوچھا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو۔ انہوں نے بتایا: “نَسْتَقِىۡ بِهَا الۡمَطۡرَ وَنَسْتَنْصِرُ بِهَا عَلَى الۡعَدُوِّ” ترجمہ: کہ ہم ان کے ذریعہ سے بارش طلب کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ سے دشمن پر فتح حاصل کرتے ہیں۔
اس نے کہا مجھے بھی ان بتوں سے چند ایک بت دو۔ انہوں نے اس کو چند بت دیئے وہ اس کو لے کر مکہ آیا اور خانہ کعبہ کے ارد گرد انہیں نصب کر دیا۔ اس روز سے اہل عرب میں بت پرستی کا آغاز ہوا۔

علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔
“عَمْرُو بْنُ لُحَيٍّ هُوَ اَوَّلُ مَنْ غَيَّرَ دِيۡنَ اِسْمٰعِيۡلَ وَ عَبَدَ الْاَوْثَانَ وَاَمَرَ الْعَرَبَ وَ بِعِبَادَتِهَا وَفِيۡهِ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاَيْتُ عَمَرَو بْنَ لُحَيٍّ يَجُرُّ قَصْبَهٗ فِي النَّارِ يَعْنِيۡ اَحْشَاءَهٗ”
ترجمہ: عمرو بن لحی وہ پہلا شخص ہے جس نے دین اسماعیل علیہ السلام کو تبدیل کیا اور بتوں کی پرستش شروع کی اور اہل عرب کو ان کی عبادت کا حکم دیا۔ اس کے بارے میں نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ میں نے عمرو بن لحی کو دیکھا کہ وہ آتش جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا۔ (ابن خلدون ، جلد 2، صفحہ 651)

علامہ علی بن برہان الدین علیہ الرحمۃ اپنی کتاب السیرۃ الحلبیۃ میں رقمطراز ہیں۔
“قَدْ تَضَافَرَتْ نَصُوۡصُ الْعُلَمَاءِ عَلٰى اَنَّ الْعَرَبَ مِنْ عَهْدِ اِبْرَاهِيۡمَ اِسْتَمَرَّتْ عَلٰى دِيۡنِهٖ اَيْ مَنْ رَفَضَ عِبَادَةَ الْاَصْنَامِ اِلٰى زَمَنِ عَمْرِو بْنِ لُحَيٍّ فَهُوَ اَوَّلُ مَنْ غَيَّرَ دِيۡنَ اِبْرَاهِيۡمَ وَ شَرَعَ لِلْعَرَبِ الضَّلَالَاتِ فَعَبَدَ الْاَصْنَامَ وَسَيَّبَ السَّائِبَةَ بَحۡرَ البَحِيۡرَةَ”
ترجمہ: اس بات پر علماء کرام کی بکثرت تصریحات ہیں کہ اہل عرب، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے لیکر عمرو بن لحی کے زمانہ تک آپ علیہ السلام کے عقائد پر ہی ثابت قدم رہے یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے دین ابراہیمی کو تبدیل کیا اور اہل عرب کے لئے طرح طرح کی گمراہیاں شروع کیں، اس نے بتوں کی پوجا کی، سائبہ اور بحیرہ کی بدعت کا آغاز کیا۔
(سيرة حلبيۃ، جلد1، صفحہ 10)

اس کی ضلالت کی مقبولیت کی وجہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں۔
“صَارَ عَمْرٌو لِلْعَرَبِ رَبًّا لَا يَبْتَدِعُ لَهُمْ بِدْعَةََ اِلَّا اتَّخَذُوۡهَا شِرْعَةً لِاَنَّهٗ كَانَ يُطْعِمُ النَّاسَ وَيَكْسُوۡهُمْ فِي الۡمَوۡسَمُ وَ رُبَّمَا نَحَرَ لَهُمۡ فِي الۡمَوۡسَمِ عَشَرَةَ اٰلَافٍ بُدْنۃََ وَکَسَا عَشْرَۃَ اَلَفِِ حُلَّةَ عَشْرَۃَ اَلَفِ حُلَّةََ وَهُوَ اَوَّلُ مَنْ غَيَّرَ دِيۡنَ اِبْرَاهِيۡمَ”
ترجمہ: عمرو اہل عرب کیلئے رب بن گیا۔ دین میں جس نئی بات کا وہ آغاز کرتا تھا لوگ اسے دین سمجھ لیتے تھے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ موسم حج میں لوگوں کو کھانا کھلایا کرتا اور انہیں لباس پہنایا کرتا اور بسا اوقات وہ موسم حج میں دس ہزار اونٹ ذبح کرتا اور دس ہزار ناداروں کو لباس پہناتا یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کو بدلا۔
(سيرة حلبيۃ، جلد1، صفحہ 10)

“عَاشَ عَمۡرَو مُذ 340 سَنَةِ وَ رَاٰی مِنَ وَلَدِ وَ وَلَدِہٖ وَلَدِهِ اَلْفَ مَقَاتِلَ وَمُدَّةَ مُلْكِهِمْ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ”
ترجمہ: یہ عمرو تین سو چالیس تک زندہ رہا۔ اس نے اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں سے ایک ہزار جنگ جو لڑکوں کو دیکھا اس خاندان کی حکمرانی کی مدت پانچ سو سال ہے۔
(سيرة حلبيۃ، جلد1، صفحہ 10)

قصی بن کلاب نے 440 عیسوی میں بنی خزاعہ کو شکست دے کر مکہ سے نکال دیا اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔ پھر یہ مرض ایسا پھیلا کہ ہر قبیلہ نے اپنا اپنا الگ خدا بنا لیا ہر ہر گھر میں اپنے اپنے خداؤں کی پوجا پاٹ ہونے لگی۔ اور عرب کے عوام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین حنیف اور ملت حنیفہ کو ترک کر کے بت پرستی کو اپنے مذہب کے طور پر اختیار کر لیا۔ قبیلہ قریش کے اپنے مخصوص بت تھے ان میں سے کچھ کعبہ کے اندر رکھے ہوئے تھے اور بعض کو کعبہ کے باہر نصب کر دیا گیا تھا۔ قریش کے تمام بتوں میں بڑا بت ہبل تھا۔ یہ سرخ عقیق کا بنا ہوا تھا اس کی صورت انسان کی تھی۔ اس کا دایاں ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا۔ قریش نے اس کی جگہ سونے کا ہاتھ بنا کر اس کے ساتھ پیوست کر دیا تھا۔ ہبل کے بت کو سب سے پہلے خزیمہ بن مدرکہ نے نصب کیا تھا اس لئے اس کو ہبل خزیمہ کہتے تھے عہد جاہلیت میں اہل عرب کی یہ عادت تھی کہ اگر وہ کسی کام کا ارادہ کرتے تو عملی قدم اٹھانے سے قبل وہ ان تیروں کے ذریعہ فال نکالتے جو ایک بوری میں رکھے ہوئے تھے اگر ایسا تیر نکلتا جس پر ” نَعَمۡ ” یعنی ہاں لکھا ہوتا تو وہ اس کام کو کرنے کے لئے عملی اقدام کرتے اور اگر ایسا تیر نکلتا جس پر ”لَا ” یعنی نہیں لکھا ہوتا تو اس کام کا ارادہ ترک کر دیتے۔ ابن الکلبی سے مروی ہے کہ ہبل کعبہ شریف کے اندر تھا اس کے سامنے فال نکالنے والے سات تیر تھے ایک پر صریح کا لفظ تھا اور دوسرے پر ملصق یعنی زبردستی ملایا گیا۔ اگر انہیں کسی بچہ کے نسب پر شک ہوتا تو وہ ہبل کے سامنے ہدیہ پیش کرتے اور پھر فال نکالتے ۔ اگر وہ تیر نکلتا جس پر صریح کا لفظ لکھا ہوتا تو اس مولود کو اس کے باپ کی طرف منسوب کرتے اور اگر ایسا تیر نکلتا جس پر ملصق کا لفظ ہوتا تو اس کو مسترد کر دیتے اور اس کو حرامی قرار دیا جاتا اس طرح میت کے لئے بھی تیر تھے اور شادی کے بارے میں فال نکالنے کے تیر تھے تین تیر ایسے تھے جن کی حقیقت کے بارے میں مورخین لا علمی کا اظہار کرتے ہیں۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، جلد 1، صفحہ 69- 70)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top