قسط نمبر 78 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ
{چین :حصہ چہارم}
(کانفیوشس : حصہ دوم)
کانفیوشس کے نظریات کا بہترین ترجمان اس کی وفات کے ایک سو سال بعد پیدا ہوا جس کا نام منسیس (MENCIUS) ہے ولادت 288 اور وفات 373 قبل مسیح ۔ وہ انسان کی نیک فطرت کے بارے میں یقین محکم رکھتا تھا۔ اور اس کی خفیہ صلاحیتوں کو نشوونما دینے کے لئے ایک مثالی قیادت کی ضرورت پر زور دیتا تھا۔ وہ اس پر مصر تھا کہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ انسان کی مادی زندگی کو بہتر سے بہتر بنایا جائے اسے اپنی زندگی میں اپنے نظریات کی کامیابی دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ لیکن اس کے بعد اس کے شاگردوں میں بڑے بڑے قابل لوگ پیدا ہوئے جو اعلیٰ مناصب پر فائز ہوئے انہوں نے اپنا اثر و رسوخ بادشاہوں کے درباروں میں بھی استعمال کیا۔ اور انہیں کانفیوشس کے نظریات سے آگاہ کیا حکمرانوں کو ان نظریات کی پیروی میں اپنی سلطنت کو مستحکم کرنے اور اپنی رعایا میں امن و امان برقرار رکھنے کے روشن امکانات نظر آئے۔ گزشتہ دو ہزار سال سے کانفیوشس کے نظریات جن میں اپنے اسلاف کی پرستش کا عقیدہ اور یہ عقیدہ کہ بادشاہ آسمان کا بیٹا ہوتا ہے اور وہ ان ارواح کے درمیان جو عالم بالا میں سکونت پذیر ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو اس عالم آب و گل میں زندگی بسر کر رہے ہیں، شفاعت کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ دونوں عقیدے ان کے ہاں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، اس لئے ان عقائد نے مل کر ایسی حکومتوں کو برقرار رکھنے میں مدد دی، جو غیر معمولی طویل عرصہ تک حکمرانی کرتی رہیں۔ مرور وقت کے ساتھ ساتھ کانفیوشزم میں کئی تغیرات رو پذیر ہوتے رہے۔ اور کانفیوشس کو ایک دیوتا کا درجہ دے کر اس کی پرستش کی جانے لگی ۔ اگر کانفیوشس خود زندہ ہوتا تو اس پرستش اور تعظیم بے جا کو اپنے لئے ہر گز پسند نہ کرتا۔
اس فلسفہ کے اثر سے ایسی مستحکم حکومتیں معرض وجود میں آئیں جن میں نیک نہاد حکام بالا اپنی فرمانبردار رعایا کے لئے بہت مفید اور نفع بخش منصوبے بناتے رہے اور ان کو عملی جامہ پہناتے رہے لیکن بسا اوقات اس نظریہ کی آڑ لے کر ظالم بادشاہوں نے ان لوگوں کے سر قلم کر دیئے جنہوں نے ان کے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تھی۔ کیونکہ ان بادشاہوں کا یہ پختہ نظریہ تھا کہ وہ آسمان کی اولاد ہیں یا اس کے نمائندہ ہیں۔ اس لئے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کی حاکمیت پر اعتراض کرے کانفیوشس تنہا ہی ایسا مرد حکیم نہیں جو چین کی سر زمین میں پیدا ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی ایک مرد دانا اس ملک میں پیدا ہوا تھا جس کے بارے میں روایت یہ ہے کہ چھ سو چھیاسٹھ قبل مسیح میں ایک رات کو ایک عورت “چو” خاندان کی حکومت میں اچانک چلا چلا کر حمد و ثنا کے گیت گانے لگی، جب اس نے دیکھا کہ ایک ستارہ ٹوٹ کر نیچے گر رہا ہے تو وہ اس وقت حاملہ ہو گئی۔ باسٹھ سال بعد اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کے بال سفید تھے وہ اچھی طرح گفتگو کر سکتا تھا جو لاؤزو (LAOTZU) کے نام سے مشہور ہے کچھ عرصہ بعد وہ اس وقت کے ظالم اور کمینہ فطرت حکمرانوں سے دلبرداشتہ ہو گیا۔ اور ایک سو ساٹھ سال کی عمرمیں گڈے پر سوار ہوا، جس میں سیاہ رنگ کا بیل جتا ہوا تھا اور مغرب کی طرف روانہ ہو گیا۔ زرد دریا کے ایک اہم مقام پر جو پہرہ دار متعین تھا اس نے جب دیکھا کہ ایک عقلمند آدمی اس دنیا کو الوداع کہہ رہا ہے تو اس نے اس مسافر سے درخواست کی کہ وہ رکے اور اپنے تخیلات اسے لکھنے کا شرف بخشے، اس موقع پر لاؤ زو نے ایک کتاب لکھی جو پانچ ہزار کرداروں پر مشتمل تھی یہی مجموعہ ٹاؤس مذہب کا صحیفہ اول ثابت ہوا۔ اگرچہ اس روایت میں افسانوی پہلو بہت نمایاں ہے لیکن اس نے چین کے لوگوں کو اور چین کی تاریخ کو بہت متاثر کیا ٹاؤازم ، ابتداء میں فلسفیانہ نظریہ کے طور پر زندہ رہا پھر اس نے مذہب کا روپ اختیار کر لیا اس میں کئی درجن دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ مشہور ٹاؤ چن (TSAOCHON) سب سے برگزیدہ دیوتا ہے اس کی تصویر چین کے لاکھوں کروڑوں گھروں میں اب بھی آویزاں ہے اسے چولہے کا خدا کہتے ہیں یہ دیوتا سال بھر اہل خانہ کی اخلاقیات کو دیکھتا رہتا ہے اور جب سال ختم ہوتا ہے تو شہنشاہ کے دربار میں جو چین کے تمام دیوتاؤں کا سربراہ اعلیٰ ہے رپورٹ پیش کرنے کے لئے جاتا ہے لیکن اس سے قبل کہ وہ اس گھر سے روانہ ہو گھر کا سردار خوشی کے جذبات سے سرشار ہو کر اس دیوتا کے منہ کو مٹھائی سے بھر دیتا ہے یا اس کو شراب سے آلودہ کر دیتا ہے۔ کسی کے منہ کو میٹھا کر دینا ایسا ہی ہے جس طرح کسی افسر کو رشوت دینا ہے۔ ایسا شخص بری بات اہل خانہ کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔ اس طرح وہ اس دیوتا کو اس قابل ہی نہیں چھوڑتے کہ بڑے خدا کے دربار میں ان کی کسی اخلاق باختگی کی شکایت کر سکے۔ اس طرح یہ خاندان ایک سال اور اطمینان و راحت کے ساتھ زندگی بسر کر سکتا ہے۔ اس فرقہ کے پروہت بیماروں کی بیماری دور کرنے کے لئے اور گناہگاروں کے گناہوں کی بخشش کے لئے مختلف قسم کی رسوم ادا کرتے۔
ان میں حفظان صحت کے کئی پر اسرار طریقے رائج تھے ان میں سے ایک یونین آف وٹل انرجی(Union of Vital Energy) (مرکزی قوت کا اتحاد ) کے نام سے مشہور ہے اس کے باعث کثیر تعداد میں لوگ ٹاؤ ازم میں داخل ہوئے اور اسی بنا پر کنفیوشس کے پیرؤوں نے اس کی بڑھ چڑھ کر مذمت کی۔ اس نظریہ کا مقصد یہ ہے کہ ” یانگ ” جو مذکر ہے ” ین” جو مونث ہے یہ ایک دوسرے کو پروان چڑھاتے ہیں اور اس کی وجہ سے لمبی زندگی نصیب ہوتی ہے چنانچہ جنسی زندگی کی تربیت اور راہنمائی لمبی زندگی کی کلید ہے۔ اس نظریہ کو ماننے والے اس اصول پر یقین محکم رکھتے ہیں۔
یہ دونوں مذہب کانفیوشسزم اور ٹاؤسٹ سر زمین چین کی پیداوار تھے۔ لیکن پہلی صدی عیسوی میں ہندوستان سے بدھ مت کے مبلغ وہاں پہنچے اور اس نئے مذہب کا بڑے جوش و خروش سے پرچار شروع کیا ایک اجنبی مذہب کے لئے آسان نہ تھا کہ وہ مقامی مذہبوں کی موجودگی میں مقبولیت حاصل کر لیتا۔ لیکن کیونکہ بدھ مت میں ہر طبقہ کے لئے نجات کا کوئی نہ کوئی پہلو تھا اس لئے اس خلا کو پر کرنے کے لئے لوگ اس مذہب کو بڑے شوق سے قبول کرنے لگے اور چھٹی صدی عیسوی تک بدھ مت چین کا سب سے بڑا مذہب بن گیا اہل چین کے لئے اس میں سکون واطمینان کا یہ پہلو تھا کہ ہندو تاریخ کے قائل تھے۔ ان کا یہ نظریہ تھا کہ اگر انسان نے اپنی پہلی زندگی میں اچھے اعمال کئے تھے تو وہ کسی راجہ، مہاراجہ یا کسی برہمن کے روپ میں ظاہر ہو گا۔ اور اسے ہر طرح کی عزتیں ، خوشیاں اور فارغ البالی نصیب ہوگی۔ اور اگر اس نے پہلے جنم میں گناہ کئے تھے تو اس کو کسی کتے، بلے یا شودر وغیرہ کے روپ میں بھیجا جائے گا۔ اور اس کی یہ زندگی غم و آلام کا مجموعہ ہوگی۔ ہندوؤں کے نزدیک تاریخ کا یہ چکر کبھی ختم نہیں ہو گا۔ لیکن گوتم بدھ نے بتایا کہ اگر انسان پوری طرح مادی لذتوں سے اجتناب کرے اور گھر بار کو چھوڑ کر جنگلوں میں مراقبہ کرتا رہے تو اسے جلد نروان نصیب ہو جائے گا۔ اور اس کے بعد وہ مرگ و زیست کے تسلسل کے عذاب سے نجات پا لے گا۔ اور جو لوگ اس درجہ کی ریاضت کرنے سے قاصر ہیں وہ اگر بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کریں گے تو دو تین جنموں کے بعد ان کو بھی نروان حاصل ہو جائے گا اور انہیں بھی اس مصیبت سے نجات مل جائے گی انسان جب تک جوان رہتا ہے وہ زندگی کی لذتوں اور مشاغل میں گم رہتا ہے اسے بہت کم فرصت ملتی ہے کہ مرنے کے بعد پیش آنے والے حالات کے بارے میں غور و فکر کر سکے ۔ لیکن جب عمر ڈھلتی ہے قویٰ مضمحل ہونے لگتے ہیں طرح طرح کی بیماریاں اسے اپنے حصار میں گھیر لیتی ہیں تو اسے ہر وقت موت کا خوف ڈرانے لگتا ہے۔ اور یہ سوچ اس پر غالب آ جاتی ہے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا اس اہم سوال کا جواب کیونکہ چین کے مقامی مذاہب دینے سے قاصر تھے اور بدھ مت نے اس کا ایک جواب انہیں مہیا کر دیا اس لئے وہ کثرت سے اس مذہب کو اختیار کرنے لگے۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲