( اہل عرب کی لغو عادات:حصہ دوم)
ان کی جاہلانہ رسوم میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ جب بارش برسنا بند ہو جاتی اور قحط سالی کا دور دورہ ہوتا تو وہ سلع اور عشر ( دو درختوں کے نام ) کی ٹہنیاں کاٹ کر ایک گائے کی دم کے ساتھ باندھ دیتے ان شاخوں کو آگ لگا دیتے اور اس گائے کو دشوار گزار پہاڑیوں میں لٹھ مار کر بھگا دیتے اور یہ خیال کرتے کہ ان کے اس طریقہ سے بادل امڈ کر آئیں گے بجلی چمکے گی اور موسلا دھار بارش برسے گی۔ ایک اعرابی اس لغو حرکت پر اظہار نفرین کرتے ہوئے کہتا ہے۔
شَفَعْنَا بِبَيْقُوۡرٍ اِلٰى هَاطِلِ الْحَيَا
فَلَمْ يُغْنِ عَنَّا ذَاكَ بَلْ زَادَنَا جَدْیَا
ہم نے اس گائے سے شفاعت طلب کی جس کی دم سے وہ شاخیں باندھ کر آگ لگا دی گئی تھی تاکہ موسلا دھار بارش برسے۔ لیکن اس چیز نے ہمیں کوئی نفع نہ پہنچایا بلکہ خشک سالی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
فَعُدۡنَا اِلٰى رَبِّ الْحَيَا فَاَجَارَنَا
وَصَيَّرَ جَدۡبَ الْاَرْضِ مِنْ عِنْدِہٖ خَصْبًا
ہم اس سے مایوس ہو کر بارش کے رب کی طرف متوجہ ہوئے اس نے ہمیں پناہ دی اور ہماری بنجر زمینوں کو زرخیز زمینوں میں تبدیل کر دیا ۔
ان کے ہاں ایک اور رواج تھا کہ اگر ایک اونٹ کو خارش کی بیماری لاحق ہوتی تو اس کے ساتھ جو صحت مند اونٹ ہوتا۔ تو اس کو آگ سے داغ لگائے جاتے اور وہ یہ خیال کرتے کہ اس طرح خارش زدہ اونٹ تندرست ہو جائے گا خارش زدہ اونٹ کو ” ذی العر ” کہا جاتا ان کی اس توہم پرستی سے شعرا نے اپنے اشعار میں بڑی نکتہ آفرینیاں کی ہیں ایک شعر آپ بھی ملاحظہ کیجئے۔
فَاَلْزَمْتَنِيۡ ذَنْبًا وَ غَيْرِىۡ جَرَّہٗ
حَنَانِيۡكَ لَا تَكۡوِ الصَّحِيۡحَ بِاَجْرَبَا
تو نے مجھ پر ایک گناہ کا الزام لگایا ہے حالانکہ اس کا ارتکاب میرے علاوہ ایک اور آدمی نے کیا ہے مجھ پر رحم کرو ایک خارش زدہ اونٹ کے بدلہ میں صحت مند اونٹ کو داغ مت لگاؤ ۔
ان کے ہاں اسی قسم کی ایک لغو رسم “بلیّہ” کے نام سے مروج تھی ان کا یہ دستور تھا کہ جب ان کا کوئی سردار مر جاتا تو اس کی اونٹنی یا اونٹ کو لے آتے اس کی گردن کو دوہرا کر دیتے اور اس کے سر کو پیچھے کی طرف موڑ دیتے اور ایک گڑھے میں اس کو چھوڑ دیتے۔ نہ اسے کچھ کھانے کے لئے دیتے اور نہ اسے پانی پلاتے یہاں تک کہ وہ بھوکی پیاسی تڑپ تڑپ کر جان دے دیتی اور اس کے مردہ کو نذر آتش کر دیا جاتا بسا اوقات اس کی کھال اتار لی جاتی اور اس کو “ثمامہ” نامی گھاس سے بھر دیا جاتا۔ ان کا یہ گمان تھا کہ اگر کوئی آدمی مر جائے اور اس کے لئے یہ بلیّہ کی رسم ادا نہ کی جائے تو قیامت کے روز جب وہ قبر سے اٹھے گا تو اس کو سواری نصیب نہیں ہوگی بلکہ اسے پیدل چلنا پڑے گا اور جس کے لئے یہ رسم ادا کی جائے تو اس کے لئے جو نہی وہ قبر سے نکلے گا ایک بہترین سواری پیش کی جائے گی چنانچہ حربیہ ابن لاشیم الفقسی اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کہتا ہے
يَا سَعْدُ اِمَّا اُهْلِكَنَّ فَاِنَّنِيۡ
اُوۡصِيۡكَ اِنَّ اَخَا الْوَصَاةِ الْاَقْرَبُ
اے سعد ! اگر میں ہلاک ہو جاؤں تو میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کیونکہ جس کو وصیت کی جائے وہ قریبی ہوتا ہے۔
لَا اَعْرِفَنَّ اَبَاكَ يَحْشُرُ خَلْفَكُمْ
تَعِبًا يَخِرُّ عَلَى الۡيَدَيْنِ وَيَنْكَبُ
میں نہ پاؤں تیرے باپ کو کہ حشر کے دن وہ تمہارے پیچھے پیچھے تھکا ماندہ چلا جا رہا ہو۔ اور ہاتھوں کے بل گر رہا ہو ۔
وَاحْمِلۡ اَبَاكَ عَلٰى بَعِيۡرٍ صَالِحٍ
وَ اتَّقِي الْخَطِيۡئَةَ اِنَّهٗ هُوَ اَصۡوَبُ
اپنے باپ کو بہترین اونٹ پر سوار کرنا اور خطا سے بچنا کیونکہ یہ ہی درست بات ہے ۔
(بلوغ الارب، جلد دوم، صفحہ307)
اس قسم کی بہت سی وصیتیں ہیں جو مرنے والے باپوں نے اپنے بیٹوں کو کی ہیں۔ ان کے ہاں یہ رسم بھی تھی کہ جب ان کا کوئی سرکردہ آدمی یا قبیلہ کا سردار مر جاتا تو وہ اس کی قبر پر ایک اونٹ لے آتے اور اس کی چاروں کونچیں کاٹ دیتے پھر اس کو تڑپتا ہوا چھوڑ دیتے اس سے بہنے والے خون سے قبر کو رنگین کرتے ان کے اس فعل کی کئی وجوہات ذکر کی گئی ہیں۔ یہ کہ میت کی تعظیم کے لئے وہ ایسا کرتے تھے جس طرح وہ اپنے بتوں کی تعظیم کے لئے جانور ذبح کیا کرتے۔ ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اونٹ مردوں کی گلی ہوئی ہڈیاں کھاتا ہے گویا اس طرح وہ اس سے انتقام لیتے تھے۔ ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اونٹ ان کے قیمتی اموال سے ہے، اس کو ذبح کر کے وہ یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ ہمارے اس سردار کا مرنا ہمارے لئے اتنا المناک سانحہ ہے کہ ہمارے نزدیک ہماری قیمتی چیزیں بھی اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہیں۔ زیاد اعجم، مغیرہ بن مہلب کا مرثیہ لکھتے ہوئے کہتا ہے۔
قُلْ لِلْقَوَافِلِ وَالْغُزَاةِ اِذَا غَزَوۡا
وَالْبَاكِرِيۡنَ وَ لِلْمَجْدِ الرَّائِحٖ
قافلوں اور غازیوں کو جب وہ لڑائی کے لئے جائیں اور صبح سفر کرنے والوں کو اور شام کو واپس آنے والوں کو کہو۔
اِنَّ الشُّجَاعَةَ وَالسَّمَاحَةَ ضُمَّنَا
قَبْرًا بِمَرۡوَ عَلَى الطَّرِيۡقِ الْوَاضِحٖ
بیشک شجاعت اور سخاوت دونوں کی دونوں اس قبر میں جمع کر دی گئی ہیں جو مرو میں ایک شاہراہ پر ہے۔
فَاِذَا مَرَرْتَ بِقَبْرِهٖ فَاعْقِرۡ بِهٖ
كُوْمَ الْجِلَادِ وَكُلَّ طَرْفِِ سَابِحٖ
جب تو اس کی قبر کے پاس سے گزرے تو ایسے اونٹوں کی کونچیں کاٹ دے جن کی کوہانیں بہت بڑی ہیں اور جو بڑے طاقتور ہیں اور ہر اصیل تیز رفتار گھوڑے کی کونچیں بھی کاٹ دے ۔
وَانْضَحۡ جَوَانِبَ قَبْرِهٖ بِدِمَاءِهَا
فَلَقَدْ يَكُوۡنُ اَخَادَمٍ وَ ذَبَائِحٖ
اور ان کے خون کو اس کی قبر کے اطراف پر چھڑک دے کیونکہ یہ شخص خود بھی اس طرح خون بہاتا تھا اور جانور ذبح کرتا تھا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر