Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 83 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: اسّی)
{جزیرہ عرب : حصہ چہارم}
(عربی قبائل : حصہ اول)

جزیرہ عرب کا حدود اربعہ اور اس کی طبعی تقسیمات کے بیان کے بعد اب ہم اختصار کے ساتھ عرب کے قبائل اور اس کے باشندوں کے بارے میں کچھ تفصیلات پیش کرتے ہیں۔ عرب کے مورخین نے اہل عرب کو ابتداء میں دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے جو العرب البائدہ اور العرب الباقیہ کے نام سے موسوم ہیں۔

العرب البائدہ: سے مراد وہ قبیلے اور خاندان ہیں جنہیں گردش لیل و نہار نے فنا کر دیا ہے ان کے بارے میں نہ صحیح تاریخی معلومات ہمارے پاس موجود ہیں اور نہ ان کے ایسے اثار موجود ہیں جن سے ان کی عظمت اور اقبال مندی کے بارے میں کچھ اندازہ لگایا جا سکے اب ان کی یادگار صرف ان کے نام رہ گئے ہیں جو آسمانی کتابوں میں یا عرب شعراء کے کلام میں کہیں کہیں موجود ہیں ان فنا ہو جانے والوں میں سے مشہور قبائل یہ ہیں عاد ، ثمود، طسم ، جدیس ، جرہم الاولیٰ ۔ لیکن بعض مورخین کا یہ خیال ہے کہ قدیم عرب قبائل بالکل فنا نہیں ہو گئے بلکہ ان کی نسل موجود ہے جنہیں تاریخ میں عمالقہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ان کی دو بڑی شاخیں تھیں ایک عراقی عمالقہ دوسرے مصری عمالقہ۔عراق کے عمالقہ نے عراق میں ایک عظیم مملکت قائم کی ایک کلدانی کاہن جس کا نام پیروسوس (PEROSSUS) تھا۔ جو چوتھی صدی قبل مسیح میں گزرا ہے اس نے عراق پر کلدانیوں کی حکومت کے بعد عربی حکومت کا ذکر کیا ہے جس نے دو سو پینتالیس سال تک یہاں حکمرانی کی اور جس کے نو سلاطین نے تخت شاہی پر جلوس کیا ان میں سے ایک حمورابی ہے جس نے سب سے پہلے ایک تحریری قانونی دستاویز تیار کی اور ماہرین آثارِ قدیمہ کو اس کی متعدد پتھر کی سلیں ملی ہیں جن پر اس کے قوانین کی متعدد دفعات اور آئین کی متعدد شقیں کندہ ہیں۔
(العرب قبل الاسلام، صفحہ 54 – 55)

اور مصری عمالقہ جو پہلے جزیرہ سینا اور اس کے اردگرد کے علاقہ میں رہائش پذیر تھے اور وہاں پر حکمران بھی تھے یہ لوگ قبائلی زندگی بسر کرتے تھے اور جب بھی موقع ملتا وہ مصر کے شہروں پر اور مصر کے تجارتی قافلوں پر حملہ کرتے اور ان کو لوٹ لیا کرتے تاریخ میں ان کو “شاسو” کہا جاتا ہے جنہیں یونان اور مصر کے مورخین ہیکسوس (HYKSOS) کے نام سے یاد کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اہل عرب عمالقہ یا العرب البائدہ کہتے ہیں۔
(العرب قبل الاسلام، صفحہ 54)

لیکن عرب مورخین نے اس بات کا انکار کیا ہے کہ عمالقہ عراق یا عمالقہ مصر عرب بائدہ کی نسل سے تھے کیونکہ العرب البائدہ سامی نسل سے ہیں اور ارم کی اولاد سے ہیں اس وجہ سے انہیں آرامیین کہا جاتا ہے، لیکن عمالقہ جنہوں نے عراق اور مصر میں حکومتیں قائم کیں یہ ارم کی اولاد نہ تھے بلکہ اس کے بھائی لاؤذ بن سام کی اولاد سے تھے۔ اس لئے صحیح قول یہ ہے کہ عرب بائدہ کے جملہ قبائل کی نسل ختم ہو گئی اور وہ نیست و نابود ہو کر رہ گئے۔
(العرب قبل الاسلام ،صفحہ 54 – 53)

العرب الباقيہ: دوسری قسم العرب الباقیہ کے نام سے موسوم ہے اس کی پھر دو مشہور شاخیں ہیں ایک شاخ کو العرب العاربۃ اور دوسری شاخ کو العرب المستعربہ اور العرب المتعربہ کہا جاتا ہے۔ العرب العاربۃ کا مشہور شعب (بڑا قبیلہ) قحطان تھا اور ان کا وطن یمن تھا۔ ان کے دو مشہور قبیلے ہیں جرہم اور یعرب، اور یعرب کی اولاد میں سے کہلان اور حمیر تھے۔ جن سے بیشمار قبائل اور خاندان معرض وجود میں آئے اور حمیر کے مشہور بطن کا نام قضاعہ ہے اور قضاعہ کی شاخوں میں یہ قبیلے مشہور ہیں بلیٰ، جہینہ، کلب، بہرہ، بنو نہد اور جرحم۔ بنو کہلان کی نسل سے مشہور قبائل یہ ہیں۔ ازد، جو اوس، خزرج اور جفنہ کا جد اعلیٰ تھا۔ جفنہ کی اولاد ہی غسّانی کہلائی جن میں سے شام کے کئی حکمران ہوئے۔ طے، مزحج، ہمدان وغیره۔ اہل یمن نے تہذیب و تمدن میں بڑی ترقی کی اور کئی سلطنتیں یہاں قائم ہوئیں جن میں سے معین، سبا اور حمیر کی سلطنتیں بہت مشہور ہیں۔ ملوک سبا نے یمن کو سیراب کرنے کے لئے ایک بہت بڑا ڈیم تعمیر کیا جو بعد میں غضب الہٰی کا نشانہ بنا اور وہ ٹوٹ گیا جس سے تمام علاقہ میں تیز رو پانی کی طغیانی آگئی تمام بستیاں، آبادیاں، قصبے اور دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ تمام باغات اور کھیت تباہ و برباد ہو گئے وہاں سے قبیلہ ثعلبہ بن عمرو نے حجاز کی طرف رخ کیا اور مدینہ منورہ تک پہنچے اور وہاں کے اصلی باشندوں پر جن کی اکثریت یہودی تھی، فتح پائی اور وہاں قابض حکمران بن گئے اور قبیلہ حارثہ بن عمرو جنہیں خزاعہ کہا جاتا ہے انہوں نے مکہ کی طرف رخت سفر باندھا وہاں پہنچ کر مکہ کے پہلے باشندوں کو جن کا تعلق جرہم ثانیہ سے تھا ان کو جلا وطن کر دیا اور مکہ مکرمہ پر قبضہ کر لیا اور قبیلہ عمران بن عمرو، عمان کی طرف چلا گیا اور وہاں جا کر اقامت گزین ہو گیا انہیں کو ارد عمان کہتے ہیں اور قبیلہ جفنہ بن عمرو شام کی طرف روانہ ہوا اور ایک ایسے چشمے پر جا کر خیمہ زن ہوا جو غسان کے نام سے مشہور تھا اس لئے اسی نسبت سے وہ غسانی کہلائے ۔ اور انہیں میں بادشاہ پیدا ہوئے جو ملوک غساسنہ کے نام سے مشہور ہیں۔ اور لخم بن عدی کا قبیلہ حیرہ کی طرف منتقل ہو گیا وہاں سکونت اختیار کی ان میں سے نصر بن ربیعہ ہے جو مناذرہ خاندان کے بادشاہوں کا باپ تھا۔ بنی طے کا قبیلہ وہاں سے چل کر اجاء اور سلمٰی دو پہاڑوں کے درمیان خیمہ زن ہو گیا کیونکہ وہ وادی بڑی زرخیز تھی یہ دونوں پہاڑ اس قبیلہ کے لئے بڑے دفاعی قلعے ثابت ہوئے اس کی وجہ سے وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ بنی قضاعہ کی ایک شاخ کلب بن وبرہ ، صحراء سماوہ کی طرف منتقل ہو گئے۔ العرب الباقیہ کی دوسری شاخ کو العرب المستعربہ نیز المتعربہ کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے جد اعلیٰ کی مادری زبان عربی نہیں تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مادری زبان عبرانی یا سریانی تھی جب بنی قحطان کا قبیلہ جرہم، مکہ میں وارد ہوا وہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ پہلے سکونت پذیر تھے اس قبیلہ نے وہاں ہی سکونت اختیار کی اور آپ کی شادی بھی بنی جرہم کی ایک خاتون سے ہوئی اسی قبیلہ سے آپ نے اور آپ کی اولاد نے عربی زبان سیکھی اسی وجہ سے ان کو العرب المستعربہ کہا جاتا ہے۔ جزیرہ عرب کے درمیانی علاقوں میں اور حدود حجاز سے لے کر بادیہ شام تک جتنے عرب ہیں ان کی اکثریت عرب مستعربہ سے ہے یا وہ لوگ جو یمن سے اس تباہ کن سیلاب کے بعد ترک وطن کر کے یہاں آکر آباد ہوئے جس کا اجمالی تذکرہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔
(تاریخ الاسلام از حسن ابراہیم، خلاصہ صفحہ 8 – 11)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top