Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر127طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ:حصہ پنجم)

(ولادت سرور عالمﷺ:حصہ سوم آخری حصہ)

علامہ شبلی نعمانی اور قاضی سلیمان منصور پوری نے محمود پاشا کو مصر کا باشندہ لکھا ہے مفتی محمد شفیع صاحب انہیں مکی لکھتے ہیں۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی نے انہیں قسطنطنیہ کا مشہور ہیئت دان اور مُنجّم (ماہر فلکیات) بتایا ہے۔ ہمیں بڑی کوشش کے باوجود محمود پاشا فلکی کی کتاب یا رسالہ نہیں مل سکا۔ البتہ معلوم ہوا کہ پاشا فلکی کا اصل مقالہ فرانسیسی زبان میں تھا جس کا ترجمہ سب سے پہلے احمد زکی آفندی نے “نتائج الافہام” کے نام سے عربی میں کیا اس کو مولوی سید محی الدین خان جج ہائی کورٹ حیدر آباد نے اردو کا جامہ پہنایا اور 1898ء میں نولکشور پریس نے شائع کیا لیکن اب یہ ترجمہ نہیں ملتا۔ محمود پاشا فلکی نے اگر علم فلکیات کی مدد سے کچھ تحقیقات کی بھی ہیں صحابہ کرام، تابعین اور دیگر قدماء کی روایات کو جھٹلانے کے لئے ان پر انحصار کرنا کسی طرح مناسب نہیں کیونکہ سائنسی علوم کی طرح فلکیات کی بھی کوئی بات قطعی نہیں ہوتی ۔

اس سلسلہ میں غور طلب امر یہ ہے کہ سن ہجری کا استعمال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوا اور پہلی مرتبہ یوم الخمیس 20 جمادی الاولی 17ھ، 12 جولائی 638ء کو مملکت اسلام میں اس کا نفاذ ہوا۔ اس کے بعد کا تاریخی ریکارڈ ملتا ہے لیکن اس سے پہلے کا تقویمی ریکارڈ دستیاب نہیں اور بعثت نبویﷺ سے قبل عرب میں کوئی باقاعدہ کیلنڈر رائج نہیں تھا۔ عرب اپنی مرضی سے مہینوں میں رد و بدل کر لیا کرتے تھے اور بعض اوقات سال کے تیرہ یا چودہ مہینے بنا دیا کرتے تھے ۔” ضیاء القرآن” میں ہے قمری سال کے بارہ مہینوں میں کبیسہ پیسہ کا ایک اور مہینہ بڑھا دیا جاتا تھا ظاہر ہے کہ اعلان نبوت سے قبل نسِئی (اسلام کے متبرک مہینوں کے گھٹانے یا بڑھانے کا عمل) کی جاتی رہی لیکن ہمیں اس بات کا علم نہیں ہو سکتا کہ کس کس سال میں نسئی کی گئی۔
(ضیاء القرآن، جلد 1، صفحہ 202، حاشیہ 60 )

محمود پاشا سے قبل بھی کچھ لوگوں نے نجوم کے حسابات سے یوم ولادت معلوم کرنے کی کوشش کی۔ علامہ قسطلانی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں اہل زیچ کا اس قول پر اجماع ہے کہ آٹھ ربیع الاول کو پیر کا دن تھا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جو شخص بھی علوم نجوم اور ریاضی کے ذریعہ حساب لگا کر تاریخ نکالے گا مختلف ہو گی۔ پس ہمیں قدیم سیرت نگاروں محدثین ، مفسرین ، تابعین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی بات ماننا پڑے گی۔ مندرجہ بالا بحث سے ثابت ہو گیا کہ حضور پاک صاحب لولاک محمد مصطفی احمد مجتبیﷺ 12 ربیع الاول عام الفیل پیر کے دن صبح کے وقت اس جہان ہست و بود میں اپنے وجود عنصری کے ساتھ تشریف لائے۔
(ماخوذ ضیائے حرم میلاد النبی، نمبر 1410ھ ص 193 – 194)

علماء کرام کے ان اقوال کے نقل کرنے کے بعد میں قارئین کی خدمت میں مصر کے نابغہ روز گار عالم جو علم و فضل اور زہد و تقوی میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ان کا قول قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ قول فیصل ہے اور حق کے متلاشی کے لئے اس میں اطمینان اور تسکین ہے۔ امام محمد ابو زہرہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی سیرت کی کتاب “خاتم النبیین” میں اس مسئلہ کی یوں وضاحت فرماتے ہیں۔
“اَلۡجَمۡهَرَةُ الۡعُظۡمٰى مِنْ عُلَمَآءِ الرِّوَايَةِ عَلٰى اَنَّ مَوْلِدَہٗ عَلَيْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ فِيۡ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ مِنْ عَامِ الْفِيۡلِ فِيۡ لَيْلَةِ الثَّانِيۡ عَشَرَ مِنْهُ وَقَدْ وَافَقَ مِيۡلَادُهٗ بِالسَّنَةِ الشَّمْسِيَةِ نِيۡسَانِ (اُغُسۡطُسۡ)”
ترجمہ: علماء روایت کی ایک عظیم کثرت اس بات پر متفق ہے کہ یوم میلاد مصطفیٰ ﷺ عام الفيل،ماه ربیع الاول کی بارہ تاریخ ہے ۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ 115)

اس کے بعد انہوں نے دوسرے اقوال بھی ذکر کئے ہیں لیکن ان پر بدیں الفاظ تبصرہ فرمایا ہے۔
“وَلَوْلَا اَنَّ هٰذِهِ الرِّوَايَةَ لَيْسَتْ هِيَ الْمَشْهُوۡرَةُ لَاَخَذْنَا بِهَا وَلٰكِنۡ عِلْمَ الرِّوَايَةِ لَا يَدْخُلُ التَّرْجِيۡحُ فِيۡهِ بِالْعَقْلِ”
ترجمہ: کہ جمہور علماء کے قول کے مقابلہ میں یہ روایتیں مشہور نہیں ہیں، نیز علم روایت میں ترجیح کا دار و مدار عقل پر نہیں ہوتا بلکہ نقل پر ہوتا ہے۔

برصغیر ہند کے شیخ الحدیث شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق کتاب “مدارج النبوۃ ” میں تاریخ میلاد پر بحث کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
بدان کہ جمہور اہل سیر و تواریخ بر آنند کہ تولد آنحضرتﷺ در عام الفیل بود از چہل روز یا پنجاه و پنج روز و این قول اصح اقوال است مشہور آنست کہ در ربیع الاول بود و بعضے علماء دعوی اتفاق بریں قول نموده و دواز دہم ربیع الاول بود
خوب جان لو کہ جمہور اہل سیر و تواریخ کی یہ رائے ہے کہ آنحضرتﷺ کی پیدائش عام الفیل میں ہوئی اور واقعہ فیل کے چالیس روز یا پچپن روز بعد اور یہ دوسرا قول سب اقوال سے زیادہ صحیح ہے۔ مشہور یہ ہے کہ ربیع الاول کا مہینہ تھا اور بارہ تاریخ تھی۔ بعض علماء نے اس قول پر اتفاق کا دعوی کیا ہے۔ یعنی سب علماء اس پر متفق ہیں۔
(مدارج النبوة ،جلد دوم، صفحہ 15)

اس مسرت آگیں اور دل افروز اور روح پرور واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد آپ علیہ الرحمۃ نے چند نعتیہ اشعار موزوں کئے یا خود بخود موزوں ہو گئے آپ بھی انہیں پڑھئے اور ان سے اپنی دیدہ دل کو روشن کرنے کی کوشش کیجئے۔ آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔

شب میلاد محمد چہ شب انور بود
کز در مکہ الی الشام منور گردید
محمد مصطفیٰﷺ کی پیدائش کی رات کتنی روشن رات تھی کہ مکہ کے دروازوں سے لے کر شام تک کا سارا علاقہ جگمگانے لگا۔

مکہ و شام چہ باشد کہ از شرق تا غرب
ہمہ را گشت محیط و ہمہ جا در گردید
مکہ اور شام ہی نہیں بلکہ مشرق سے مغرب تک حضورﷺ کا نور ہر جگہ پھیل گیا۔

ہمہ آفاق ز انوار منور گشتہ
ہمہ اکناف ز اخلاق معطر گردید
اس جہاں کے سارے کنارے انوار رسالتﷺ سے منور ہو گئے اور حضورﷺ کے اخلاق سے کائنات کا گوشہ گوشہ مہک اٹھا۔

عاقبت بر فلک عز و علا جا دارد
ہر کہ از صدق و یقیں خاک بریس در گردید
انجام کار اس شخص کو عزت و بلندی کے آسمان پر جگہ ملتی ہے جو شخص صدق و یقین کے ساتھ اس در کی خاک بن جاتا ہے ۔

ہرگز از ہیچ سمومے پنزہر و خشکی
ہر گیا ہے کہ ز ابر کرمش تر گردید
کوئی باد سموم اس گھاس کو خشک نہیں کر سکتی جس کو اس کے ابر کرم نے تر کیا ہو۔

الله الحمد کہ از دنیا و دین حقی زا
ہمہ از دولت آن شاه میسر گردید
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ دنیا و دین کی ہر نعمت اس بادشاہ کے دولت خانہ سے حقی ( آپ کا تخلص ) کو نصیب ہو گئی۔
(مدارج النبوة ، جلد دوم، صفحہ 18)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top