Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹

قسط نمبر 71 بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ

(حصہ: اڑسٹھ)
{ہندوستان : حصہ اٹھارہواں}
فرقہ بازی:

مسٹر آئی بی ہورنر لکھتے ہیں: بدھ مت کے ماننے والے بہت جلد اٹھارہ فرقوں میں منقسم ہو گئے۔ اگرچہ سب کی عقیدت کا مرکز گوتم بدھا کی ذات تھی لیکن ہر فرقہ نے اپنی عبادت گاہیں اور خانقاہیں الگ الگ بنا لی تھیں، گوتم بدھ کی موت کے چند ہفتوں بعد اس کے تربیت یافتہ پانچ سو شاگردوں کی ایک کونسل منعقد ہوئی یہ سب لوگ بدھا کے بلاواسطہ شاگرد تھے اس کونسل میں بدھ مت کے بنیادی اصول طے کئے گئے جن کی پابندی ہر اس مرد اور عورت پر لازمی قرار دی گئی جو اپنے آپ کو بدھ مت کا پیروکار شمار کرتا تھا۔ ایک سو سال بعد “وسال” کے مقام پر ایک اجتماع ہوا اور اس سلسلہ کا چھٹا اجتماع گوتم بدھ کی دو ہزار پانچ سو سالہ برسی منانے کے موقع پر 1956ء میں رنگون کے مقام پر منعقد ہوا۔ ان اجتماعات سے بجائے اس کے کہ ان کے باہمی انتشار پر قابو پا کر ایک پلیٹ فارم پر انہیں متحد و متفق کیا جا سکتا الٹا مزید اختلافات کا دروازہ کھلتا چلا گیا۔ بدھ مت کے ویسے تو بیشمار فرقے ہیں لیکن دو فرقوں کو زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ایک کو ہنایانا (HINAYANA) اور دوسرے کو ماہایانہ (MAHAYANA) کہتے ہیں پہلے فرقے کو بطور طنز اس نام سے موسوم کیا گیا کیونکہ اس کے ارکان اپنی ذات کی تکمیل کے لئے کوشاں رہتے ان کا کہنا تھا کہ یکے بعد دیگرے تین انسانی زندگیوں میں محنت کرنے سے نروان حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ فرقہ اس نظریہ کا قائل ہے کہ جو انسان نروان حاصل کر لے اس پر لازم ہے کہ دوسروں کو نروان سے ہمکنار کرنے کے لئے ان میں گوتم بدھ کی طرح بود و باش اختیار کرے تا کہ ان کی صحبت کے فیض سے دوسرے لوگ بھی خیر اعلیٰ تک پہنچنے کی سعادت حاصل کر سکیں اگرچہ اس فرقہ کا آغاز بڑا شاندار تھا۔ اور ایک عظیم مقصد کو انہوں نے اپنے پیش نظر رکھا تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس کی تعلیمات دوسرے مذاہب سے متاثر ہوتی گئیں پہلا فرقہ اپنی صحیح تعلیمات کے ساتھ لنکا میں اب بھی موجود ہے۔ تیسری صدی قبل مسیح میں اس مذہب کے مبلغین لنکا پہنچے وہاں سے برما اور تھائی لینڈ گئے وہاں کے عوام نے اس فرقہ کے عقائد و افکار کو قبول کر لیا۔ نظریاتی طور پر وہ لوگ اب بھی گوتم کو ایک انسان سمجھتے ہیں لیکن عملی طور پر ایک دیوتا کی طرح اس کی پوجا کی جاتی ہے اس پر پھول اور خوشبو نچھاور کی جاتی ہے۔ ان تمام تغیرات کے باوصف گوتم نے عدم تشدد یعنی اَہِنسَا کی جو تعلیم اپنے شاگردوں کو دی تھی۔ اس کا اثر اب بھی باقی ہے۔ بدھ مت کے دوسرے مشہور فرقہ مہایانہ نے نیپال، تبت، مشرقی ایشیاء میں مختلف روپ اختیار کر لئے۔ وہاں نہ صرف گوتم بدھا کی پوجا کی جاتی ہے بلکہ متعدد دیگر ان اشخاص کو بھی معبود کا درجہ دے دیا گیا ہے، جنہیں گوتم کا اوتار سمجھا جاتا ہے۔ گویا اس فرقہ نے بدھ مت کو ہندو مت کے رنگ میں رنگ دیا اور انہیں کے عقائد کے سانچے میں اپنے عقائد کو ڈھال لیا جن سے نجات حاصل کرنے کے لئے گوتم نے اپنا شاہی محل، اپنی جوان بیوی اور اپنے کمسن بچے کی جدائی برداشت کی تھی۔”انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا” کا مقالہ نگار مہایانہ فرقہ کے بارے میں اظہارِ رائے کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

The Mahayana is the acute Hinduizing of Buddhahism and in it Buddha is conceived of as The Supreme, boundless in power and wisdom and surrounded by Budhisativas just attaining Buddha-Hood. They (Jains) also adapted The Ramayana. All this shows how the sects were inclined to mingle with Hindus.

ترجمہ: بدھ ازم کو ہندو مت کے رنگ میں رنگنے کا دوسرا نام “مہایانہ ” ہے، اس فرقہ کے نزدیک بدھا کے بارے میں یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ وہ سب سے اعلیٰ ترین ہے اس کی قوت، دانشمندی کی کوئی حد نہیں۔ بدھا ویسے تو نروان بہت جلدی حاصل کر سکتا تھا لیکن انسانی مصائب سے شفقت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس نے اس مقام پر پہنچنے میں دانستہ تاخیر کی ” جین مت” کے بارے میں بھی یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے رامائنا کو اپنا لیا۔ اور اس کو اپنا مقدس مذہبی صحیفہ یقین کر لیا یہ تمام چیزیں اس بات پر شہادت دیتی ہیں کہ ان تمام فرقوں نے اس رغبت کا اظہار کیا کہ وہ اپنے آپ کو ہندوؤں کے عقائد میں مدغم کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔
(انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا، جلد 12، صفحہ 183)

راجہ ہرش (606 تا 647) کے زمانہ میں مشہور چینی سیاح ” ھیون سانگ ” ہندوستان کی سیاحت کے لئے آیا اور تقریباً پندرہ سال کا طویل عرصہ اس نے یہاں گزارا وہ خود بدھ مت کا پیرو تھا وہ اپنے سفر نامہ میں لکھتا ہے۔ “اس وقت ہندوستانیوں کی اکثریت بدھ مت کو اختیار کر چکی تھی اس وقت کابل، بدخشاں، بلخ میں بدھ مت اور بدھوں کی حکومت تھی۔ پنجاب، سندھ، گجرات، مالوا، متھرا، تھانیسر، قنوج، بنارس، پٹنہ، بنگال، کامروپ، اڑیسہ، کالنگہ (مدراس) انھرا، مہاکوشل(سی پی ) مہاراشٹر کوکن، مدورا ( ٹراون کور) غرض جہاں کہیں ھیون سانگ گیا اس کو بدھوں کی حکومت اور بدھ مت کا چرچا ہی نظر آیا ۔”
(مسلم ثقافت مولانا عبدالمجید سالک، صفحہ 16 – 17)

مولانا سالک لکھتے ہیں ہندوستان کا یہ مذہبی نقشہ ہرش کے زمانہ میں تھا یعنی محمد بن قاسم کے سندھ پر حملہ سے صرف اسی یا نوے برس پہلے یہ کیفیت تھی۔ ہرش کے آنکھ بند کرتے ہی خدا جانے کیا انقلاب آیا کہ یکدم ملک کے تمام حصوں میں راجپوتوں کی سلطنتیں قائم ہو گئیں اور بدھ مت اور جین مت کی خاک اڑ گئی۔
(مسلم ثقافت ،صفحہ 18)

گزشتہ صفحات کے مطالعہ سے آپ اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہوں گے کہ چھٹی صدی قبل مسیح سے ساتویں صدی عیسوی تک کا دور ہندوستان میں بدھ مت کے عروج اور اقتدار کا دور ہے برہمنوں کے لئے یہ دور واقعی بڑا صبر آزما تھا معاشرہ میں ان کو جو سب پر تفوق حاصل تھا۔ وہ بھی ختم ہو گیا اور ان کے معاشی ذرائع بھی یکے بعد دیگرے ان سے چھین لئے گئے۔ لیکن انہوں نے اس سیاسی زوال کے دور میں بھی اپنے علمی اور مذہبی وقار کو بحال رکھا جسکی تفصیل آپ پڑھ چکے ہیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top