Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر121 سو اونٹوں کی قربانی

حضرت عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا جب وہ اپنی منت بھول چکے تھے، پہلے خواب میں ان سے کہا گیا “منت پوری کرو” انھوں نے ایک مینڈھا ذبح کر کے غریبوں کو کھلا دیا ۔پھر خواب آیا ،اس سے بڑی پیش کرو اس مرتبہ انھوں نے ایک بیل ذبح کر دیا، خواب میں پھر یہی کہا گیا اس سے بھی بڑی پیش کرو، اب انھوں نے اونٹ ذبح کیا، پھر خواب آیا اس سے بھی بڑی چیز پیش کرو، انھوں نے پوچھا ، اس سے بھی بڑی چیز کیا ہے؟ تب کہا گیا: اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منت مانی تھی اب انھیں اپنی منت یاد آئی، اپنے تمام بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے منت کا ذکر کیا سب کے سر جھک گئے۔ کون خود کو ذبح کرواتا، آخر حضرت عبداللہ بولے: ابا جان آپ مجھے ذبح کر دیں۔ یہ سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے، سب سے خوبصورت تھے، سب سے زیادہ محبت بھی حضرت عبدالمطلب کو انہیں سے تھی لہذا انھوں نے قرعہ اندازی کرنے کا ارادہ کیا، تمام بیٹوں کے نام لکھ کر قرعہ ڈالا گیا، حضرت عبداللہ کا نام نکلا۔ اب انھوں نے چھری لی اور حضرت عبداللہ کو بازو سے پکڑا اور ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹا دیا۔ جونہی باپ نے بیٹے کو لٹایا، حضرت عباس سے ضبط نہ ہو سکا، فوراً آگے بڑھے اور بھائی کو کھینچ لیا۔ اس وقت یہ خود بھی چھوٹے سے تھے اِدھر والد نے حضرت عبداللہ کو کھینچا۔ اس کھینچا تانی میں حضرت عبد اللہ کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں ان خراشوں کے نشانات آخر وقت تک باقی رہے۔ اسی دوران بنو مخزوم کے لوگ آ گئے انھوں نے کہا: آپ اس طرح بیٹے کو ذبح نہ کریں، اس کی ماں کی زندگی خراب ہو جائے گی۔ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بیٹے کا فدیہ دے دیں۔

اب سوال یہ تھا کہ فدیہ کیا دیا جائے؟ اس کی ترکیب یہ بتائی گئی کہ ایک کاغذ پر دس اونٹ لکھے جائیں، دوسرے پر حضرت عبداللہ کا نام لکھا جائے، اگر دس اونٹ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ قربان کر دیئے جائیں، اگر حضرت عبداللہ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ کا اضافہ کر دیا جائے، پھر بیس اونٹ والی پرچی اور حضرت عبداللہ والی پرچی ڈالی جائے، اب اگر بیس اونٹ والی پرچی نکلے تو بیس اونٹ قربان کر دئے جائیں، ورنہ دس اونٹ اور بڑھا دئیے جائیں، اس طرح دس دس کر کے اونٹ بڑھاتے جائیں۔ حضرت عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا ہے۔ دس دس اونٹ بڑھاتے چلے گئے ، ہر بار حضرت عبداللہ کا نام نکلتا چلا گیا، یہاں تک اونٹوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی، تب کہیں جا کر اونٹوں والی پرچی نکلی، اس طرح ان کی جان کے بدلے سو اونٹ قربان کئے گئے۔ حضرت عبدالمطلب کو اب پورا اطمینان ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ کے بدلہ سو اونٹوں کی قربانی منظور کر لی ہے، انھوں نے کعبے کے پاس سو اونٹ قربان کئے اور کسی کو کھانے سے نہ روکا سب انسانوں، جانوروں اور پرندوں نے اس گوشت کو کھایا، امام زہری علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ حضرت عبدالمطلب پہلے آدمی ہیں جنہوں نے آدمی کی جان کی قیمت سو اونٹ دینے کا طریقہ شروع کیا، اس سے پہلے دس اونٹ دیے جاتے تھے، اس کے بعد یہ طریقہ سارے عرب میں جاری ہو گیا، گویا قانون بن گیا کہ آدمی کا فدیہ سو اونٹ ہے ، نبی کریمﷺ کے سامنے جب یہ ذکر آیا تو آپﷺ نے اس فدیہ کی تصدیق فرمائی، یعنی فرمایا کہ یہ درست ہے۔ اور اسی بنیاد پر نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: میں دو ذبیجوں یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت عبداللہ کی اولاد ہوں۔ حضرت عبداللہ قریش میں سب سے زیادہ حسین تھے ان کا چہرہ روشن ستارے کی مانند تھا قریش کی بہت سی لڑکیاں ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر حضرت عبداللہ کی حضرت آمنہ سے شادی ہوئی۔ حضرت آمنہ وہب بن عبد مناف بن زہرہ کی بیٹی تھیں شادی کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ یہ شادی کے لیئے اپنے والد کے ساتھ جا رہے تھے راستہ میں ایک عورت کعبہ کے پاس بیٹھی نظر آئی، یہ عورت ورقہ بن نوفل کی بہن تھی۔

ورقہ بن نوفل قریش کے ایک بڑے عالم تھے۔ ورقہ بن نوفل سے ان کی بہن نے سن رکھا تھا کہ وقت کے آخری نبیﷺ کا ظہور ہونے والا ہے اور انکی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہو گی کہ ان کے والد کے چہرے میں نبوت کا نور چمکتا ہو گا۔ جونہی اس نے حضرت عبداللہ کو دیکھا فورا اس کے ذہن میں یہ بات آئی، اس نے سوچا ہو نہ ہو یہ وہی شخص ہے جو تشریف لانے والے نبیﷺ کے والد ہوں گے۔ چنانچہ اس نے کہا: اگر تم مجھ سے شادی کر لو تو میں بدلہ میں تمہیں اتنے ہی اونٹ دوں گی جتنے تمہاری جان کے بدلے میں ذبح کئے گئے تھے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا: میں اپنے والد کے ساتھ ہوں انکی مرضی کے خلاف میں کچھ نہیں کر سکتا اور نہ ان سے الگ ہو سکتا ہوں۔ میرے والد با عزت آدمی ہیں، اپنی قوم کے سردار ہیں۔ بہر حال انکی شادی حضرت آمنہ سے ہو گئی۔ آپ قریش کی عورتوں میں نسب اور مقام کے اعتبار سے افضل تھیں۔ حضرت آمنہ ، حضرت عبداللہ کے گھر آئیں۔ آپ فرماتی ہیں: جب میں ماں بننے والی ہوئی تو میرے پاس ایک شخص آیا، یعنی ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا۔ اس وقت میں جاگنے اور سونے کے درمیانی حالت میں تھی (عام طور پر اس حالت کو غنودگی کہا جاتا ہے)۔

اس نے مجھ سے کہا: تمہیں معلوم ہے، تم اس امت کے سردار اور نبیﷺ کی ماں بننے والی ہو؟ اس کے بعد وہ پھر اُس وقت آیا جب نبیﷺ اس دنیا میں تشریف لانے والے تھے۔ اس مرتبہ اس نے کہا: جب تمہارے ہاں پیدائش ہو تو کہنا، میں اس بچے کے لیے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں، ہر حسد کرنے والے کے شر اور برائی سے، پھر تم اس بچے کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ ان کا نام تورات میں احمد ہے اور زمین اور آسمان والے ان کی تعریف کرتے ہیں، جب کہ قرآن میں ان کا نام محمد ہے، اور قرآن ان کی کتاب ہے۔ ایک روایت کے مطابق فرشتے نے ان سے یہ کہا: تم وقت کے سردارﷺ کی ماں بننے والی ہو، اس بچے کی نشانی یہ ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک نور ظاہر ہو گا، جس سے ملک شام اور بصریٰ کے محلات بھر جائیں گے، جب وہ بچہ پیدا ہو جائے گا تو اس کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ تورات میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں، اور انجیل میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں اور قرآن میں ان کا نام محمد ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ)

حضرت عبداللہ کے چہرے میں جو نور چمکتا تھا، شادی کے بعد وہ حضرت آمنہ کے چہرے میں آ گیا تھا۔ امام زہری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں، حاکم نے یہ روایت بیان کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور نبی کریمﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتائیے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، اپنے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور خوشخبری ہوں، جب میں اپنی والدہ کے شکم میں آیا تو انہوں نے دیکھا، گویا ان سے ایک نور ظاہر ہوا ہے جس سے ملک شام میں بصریٰ کے محلات روشن ہو گئے۔حضرت آمنہ نے حضرت حلیمہ سعدیہ سے فرمایا تھا: میرے اس بچے کی شان نرالی ہے، یہ میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کوئی بوجھ اور تھکن محسوس نہیں ہوئی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ آخری پیغمبر ہیں جنہوں نے آپﷺ کی آمد کی خوشخبری سنائی ہے، اس بشارت کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔
وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰۃ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَھُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿6﴾
ترجمہ: اور (وہ وقت بھی یاد کیجئے) جب عیسٰی بن مریم (علیہما السلام) نے کہا: اے بنی اسرائیل! بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں، اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اُس رسولِ (معظّمﷺکی آمد) کی بشارت سنانے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لا رہے ہیں جن کا نام (آسمانوں میں اس وقت) احمد (ﷺ) ہے۔
(سورۃ صف،آیۃ:6)

اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ بشارت سنا چکے تھے، اس لیے ہر دور کے لوگ آپﷺ کی آمد کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے، اِدھر آپﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللہ انتقال کر گئے۔ سابقہ کتب میں آپﷺ کی نبوت کی ایک علامت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ آپﷺ کے والد کا انتقال آپﷺ کی ولادت سے پہلے ہو جائے گا۔ حضرت عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے، اس دوران بیمار ہو گئے اور کمزور ہو کر واپس لوٹے ، قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا تو حضرت عبداللہ اپنی ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے۔ ان کی والدہ بنو نجار سے تھیں، ایک ماہ تک بیمار رہے اور پھر اس کے بعد آپ انتقال فرما گئے۔ انہیں یہیں دفن کر دیا گیا۔ تجارتی قافلہ جب حضرت عبد اللہ کے بغیر مکہ مکرمہ پہنچا اور حضرت عبد المطلب کو پتا چلا کہ ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بیمار ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں اپنی ننھیال میں ہیں تو انہیں لانے کے لیے حضرت عبدالمطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا۔ جب یہ وہاں پہنچے تو حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ مطلب یہ کہ آپﷺ اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد تشریف لائے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top