Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
قسط نمبر101بعثت نبویﷺ سے قبل ترقی یافتہ ممالک کی گمراہیوں کا لرزہ خیز تذکرہ (حصہ:اٹھانوے)
{جزیرہ عرب : حصہ بائیسواں}
(اہل عرب کی خصوصیات: حصہ ہشتم)
(اہل عرب کی غیرت و حمیت:حصہ اول)

عرب کے یہ بادیہ نشین دیگر صفات حمیدہ سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ غیرت کے جذبہ سے بھی سرشار تھے یہ اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے لئے خون کے دریا بہا دینا اور کشتوں کے پشتے لگا دینا اپنا اہم ترین فریضہ سمجھتے تھے۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ ان کی ناموس کی طرف بری نگاہ سے دیکھ سکے اور وہ اسے خاموشی سے برداشت کر لیں اسی جذبہ سے سرشار ہونے کے باعث وہ اپنے نسب کی حفاظت کیا کرتے تھے اور اپنے شجرہ نسب کو یاد رکھا کرتے تھے اور ہر وہ شخص جس میں شرافت و فضیلت کا ادنیٰ سا بھی حصہ پایا جاتا ہو۔ وہ لازمی طور پر غیرت مند ہوتا ہے۔ اور وہ قوم جو شجاعت، سخاوت، اور پاس عہد میں اس بلند درجہ پر فائز تھی وہ بھلا اپنی عصمت، ناموس کی حفاظت میں کیونکر سہل پسندی کا مظاہرہ کر سکتی تھی۔ ان کی بڑی بڑی جنگوں کے پس منظر میں اکثر اسی قسم کے واقعات ہوا کرتے تھے۔ کسی بڑے سے بڑے سردار نے اگر کسی شخص کی ماں کو کوئی ایسی خدمت بجا لانے کا حکم دیا جو اس کے مرتبہ سے فرو تر ہوتی تو وہ خاتون اس تذلیل پر آتش زیر پا ہو جاتی اور اپنے خاوند ، بھائیوں فرزندوں کو للکارتی ۔ ایک عورت کی للکار پر سینکڑوں تلواریں بے نیام ہو جاتیں اور آن واحد میں خون کے دریا بہنے لگتے ان کا جذبہ غیرت بھی ان کی شجاعت اور ان کی مروت کا ایک مظہر تھا۔ وہ قوم بزدل ہو جایا کرتی ہے جس میں مروت کا جذبہ موت کی نیند سو جایا کرتا ہے۔ وہاں غیرت بھی دم توڑ دیتی ہے جو چاہے ان کی عصمتوں کے ساتھ کھیلا کرے جو چاہے ان کی بچیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنائے۔ غیرت کی بجھی ہوئی اس راکھ میں کوئی چنگاری ایسی نہیں ہوتی جو چٹخے اور اس رسوائی پر شعلہ جوالہ (گرنے والا شعلہ) بن کر ٹوٹے ۔ اور قوم کے گوہر عصمت کو لوٹنے والوں کو جلا کر خاک سیاہ بنا دے ۔ اس لئے ان کے شرفاء اور نُجَباء اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ایسی بیویوں کا انتخاب کیا کرتے تھے جن کا دامن عصمت فسق و فجور کے بد نما داغوں سے پاک صاف ہوتا۔ وہ ظاہری حسن و جمال پر اس امر کو ترجیح دیتے کہ وہ خاتون جس نے ان کی اولاد کی ماں بننا ہے یا ان کی ہونے والی بہو، رنگ و روپ میں اگر کسی سے کم ہو تو ہو لیکن شرافت اور عفت میں اس کا معیار بہت ہی بلند ہونا چاہئے۔اکیم بن صیف جو عہد جاہلیت کے حکماء اور دانشوروں میں ایک ممتاز مقام پر فائز تھا جس کی دانائی اور عقلمندی سے متاثر ہو کر کسریٰ نوشیرواں نے یہ کہا تھا۔ “لَوۡ لَمْ يَكُنۡ لِلْعَرْبِ غَیۡرَہٗ لَکَفٰی” ترجمہ: اگر اہل عرب میں اس کے بغیر کوئی اور مرد دانا نہ ہوتا تو یہ ایک بھی ان کے لئے کافی تھا۔
اس نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔

“يَا بُنَيَّ لَا يَحْمِلَنَّكُمْ جَمَالُ النِّسَاءِ عَنْ صَرَاحَةِ النَّسۡبِ فَاِنَّ الْمَنَاكِحَ الۡلَئِيۡمَةَ مُدْرِجَةٌ لِلشَّرَفٖ”
ترجمہ:اے میرے بیٹو! عورتوں کا ظاہری حسن و جمال تمہیں نسب کی پاکیزگی سے غافل نہ کر دے کیونکہ کمینہ صفت اور بد کردار بیویاں خاندانی شرف کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔
(بلوغ الارب، جلد 2، صفحہ 21)

ابو الاسود الدوئلی نے اپنے بیٹوں کو کہا۔
“قَدْ اَحْسَنْتُ اِلَيْكُمْ صِغَارًا وَكِبَارًا وَقَبْلَ اَنْ تُوۡلَدُوۡا قَالُوۡا كَيْفَ اَحْسَنْتَ اِلَيْنَا قَبْلَ اَنْ نُوْلَدَ ؟قَالَ اِخْتَرْتُ لَكُمْ مِنَ الْاُمَّهَاتِ مَنْ لَا تُسَبُّوۡنَ بِهَا”
ترجمہ: میں نے تم پر احسان کیا جب تم چھوٹے تھے اور جب تم بڑے ہوئے اور اس سے پہلے بھی کہ تم پیدا ہوتے ۔ انہوں نے پوچھا کہ ہماری پیدائش سے پہلے آپ نے ہم پر کیا احسان کیا ہے؟ تو اس نے کہا میں نے تمہارے لئے ایسی پاک دامن مائیں چنی ہیں جن کی وجہ سے تمہیں کوئی گالی نہیں نکال سکتا۔

الریاشی ایک عرب شاعر اپنے بچے کو کہتا ہے۔
فَاَوَّلُ اِحْسَانِيۡ اِلَيْكُمۡ تَخَيُّرِيۡ
لِمَاجِدَةِ الْعِرَاقِ بَادٍ عَفَافُهَا
پس میرا پہلا احسان تم پر یہ ہے کہ میں نے تمہارے لئے ایسی ماں پسند کی جو عراق میں مجدد شرف کی مالک تھی اور اس کی پاک دامنی ظاہر تھی۔

رشتہ ازدواج کی اہمیت کے پیش نظر زمانہ جاہلیت کی زیرک مائیں اپنی بچیوں کی شادی کے بعد انہیں رخصت کرتے وقت جو پند و نصائح کرتی تھیں انہیں پڑھ کر ان کی ذہانت و فراست پر حیرت ہوتی ہے آج جب کہ علم نفسیات اپنے عروج پر ہے اور اس کے ماہرین نفسیات انسانی کو پیش نظر رکھتے ہوئے مختلف لوگوں کو مختلف حالات سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے بڑے قیمتی مشورے اور زریں ہدایات دیا کرتے ہیں۔ ہم ایک عرب ماں کی نصیحت آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جو اس نے اپنی بچی کی شادی کے موقع پر اسے رخصت کرتے ہوئے کی آپ اسے غور سے پڑھیں ازدواجی زندگی کے نازک ترین مسائل کے بارے میں ایک بدو عورت کی دِقّت نظر کو دیکھ کر آپ یقینا ششدر ہو کر رہ جائیں گے۔ اس کے ذکر میں طوالت ضرور ہے۔ لیکن اس کی افادیت اور اہمیت کے پیش نظر یہ طوالت ہر گز گراں نہیں گزرے گی۔ موجودہ دور کی مائیں اس میں ایسا قیمتی مواد پائیں گی جس سے وہ اپنی بچیوں کے مستقبل کو درخشاں بنا سکتی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں میاں بیوی کے تعلقات کی کشیدگی کی شکایت عام ہے لیکن اگر ان ہدایات پر عمل کیا جائے تو اس کشیدگی اور بیگانگی کو محبت و الفت میں بآسانی بدلا جا سکتا ہے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر

Scroll to Top