عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
قسط نمبر126(طلوع آفتاب مطلعِ نبوت و رسالتﷺ:حصہ چہارم)
(تاریخ ولادت باسعادت سرور عالمﷺ:حصہ دوم)
امام الحافظ ابو الفتح محمد بن محمد بن عبدالله بن محمد بن یحیی بن سید الناس الشافعی الاندلسی علیہ الرحمۃ اپنی سیرت کی کتاب “عیون الاثر ” میں تحریر فرماتے ہیں۔
“وُلِدَ سَيِّدُنَا وَنَبِيُّنَا مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الۡاِثْنَيْنِ لِاِثْنَتَىۡ عَشَرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرِ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ عَامَ الْفِيۡلِ قِيۡلَ بَعْدَ الْفِيۡلِ بِخَمْسِيۡنَ يَوْمًا”
ترجمہ: ہمارے آقا اور ہمارے نبی محمد رسول اللہﷺ سوموار کے روز بارہ ربیع الاول شریف کو عام الفیل میں پیدا ہوئے ۔ بعض نے کہا ہے کہ واقعہ فیل کے پچاس روز بعد حضورﷺ کی ولادت ہوئی۔
(عیون الاثر، جلد اول، صفحہ 26)
اس کے بعد انہوں نے ربیع الاول کی دو اور آٹھ تاریخ کے قول نقل کئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ جو علوم تفسیر، حدیث اور تاریخ میں اپنی نظیر آپ تھے وہ “السیرۃ النبویۃ” میں اس موضوع پر یوں داد تحقیق دیتے ہیں۔
“وُلِدَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَامُهٗ يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ بِمَا رَوَاهُ مُسْلِمُ فِيۡ صَحِيۡحِهٖ مِنْ حَدِيۡثِ غَيْلَانِ بْنِ جَرِيۡرٍ عَنْ اَبِيۡ قَتَادَةَ اَنَّ اَعْرَابِيًّا قَالَ يَا رَسُوۡلَ اللَّهِ ﷺمَا تَقُوۡلُ فِيۡ صَوْمِ يَوْمِ الۡاِثْنَيْنِ فَقَالَ ذَاكَ يَوْمٌ وَلِدۡتُّ فِيۡهِ وَاُنْزِلَ عَلَىَّ فِيۡهِ”
ترجمہ: حضورﷺ کی ولادت با سعادت سوموار کے روز ہوئی ۔ امام مسلم علیہ الرحمۃ نے اپنی صحیح میں غیلان بن جریر کے واسطہ سے حضرت ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک اعرابی نے عرض کی یا رسول اللہﷺ سوموار کے روزے کے بارے میں حضورﷺ کیا فرماتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی ۔ یہ وہ دن ہے جس میں مجھ پر وحی نازل ہوئی ۔
اس کے بعد علامہ ابن کثیر علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے۔
رسول اللہﷺ کی ولادت بھی سوموار کے دن ، بعثت بھی سوموار کے دن ، مکہ سے ہجرت بھی سوموار کے دن ، مدینہ طیبہ میں تشریف آوری بھی سوموار کے دن اور دار فانی سے انتقال بھی سوموار کے دن اور جس روز حضور ﷺنے حجر اسود اٹھا کر دیوار کعبہ میں رکھا تھا وہ بھی سوموار کا دن تھا۔ پھر فرماتے ہیں کہ جنہوں نے تاریخ ولادت بروز جمعہ سترہ ربیع الاول بتائی ہے وہ بالکل غلط اور بعید از حق ہے۔
“ثُمَّ الۡجَمۡهُوۡرُ عَلٰى اَنَّ ذٰلِكَ كَانَ فِيۡ شَهْرِ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ”
ترجمہ: کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ولادت با سعادت ماہ ربیع الاول میں ہوئی۔
بعض نے اس ماہ کی دو تاریخ ۔ بعض نے آٹھ تاریخ اور بعض نے دس تاریخ بتائی ہے آٹھ تاریخ کا قول ابن حزم علیہ الرحمۃ سے منقول ہے اور الحافظ الکبیر محمد بن موسی الخوارزمی علیہ الرحمۃ نے اس کی تصحیح کی ہے۔ بعض نے اس ماہ کی بارہ تاریخ کو متعین کیا ہے حضرت ابن اسحاق علیہ الرحمۃ نے یہی قول لکھا ہے۔ حضرت ابن ابی شیبہ علیہ الرحمۃ نے اپنی مصنف میں یہی تاریخ روایت کی ہے۔
“رَوَاهُ اِبْنُ اَبِيۡ شَيْبَةَ فِيۡ مُصَنَّفِهٖ عَنْ عَفَّانَ عَنْ سَعِيۡدِ بْنِ مِيۡنَآءَ عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّهُمَا قَالَا وُلِدَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيۡلِ يَوْمَ الۡاِثْنَيْنِ الثَّانِيۡ عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِيۡعِ الْاَوَّلِ وَفِيۡهِ بُعِثَ وَفِيۡهِ عُرِجَ بِهٖ اِلَى السَّمَآءِ وَفِيۡهِ هَاجَرَ وَفِيۡهِ مَاتَ وَهٰذَا هُوَ الْمَشْهُوۡرُ عِنْدَ الْجَمْهُوۡرِ وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ”
ترجمہ: حضرت جابر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ عام الفیل روز دو شنبہ بارہ ربیع الاول کو پیدا ہوئے اور اسی روز حضورﷺ کی بعثت ہوئی۔ اسی روز معراج ہوا اور اسی روز ہجرت کی۔ اور جمہور اہل اسلام کے نزدیک یہی تاریخ بارہ ربیع الاول مشہور ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(سیرت ابن کثیر، جلد اول، صفحہ 199)
اس کے پہلے راوی ابو بکر بن ابی شیبہ علیہ الرحمۃ ہیں ان کے بارے میں ابو زُرعَہ رازی علیہ الرحمۃ مُتَوَفّیٰ 264ھ کہتے ہیں کہ میں نے ابو بکر بن شَیبَہ علیہ الرحمۃ سے بڑھ کر حافظ حدیث نہیں دیکھا۔ محدث ابن حِبَّان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں ابو بکر علیہ الرحمۃ حافظ حدیث تھے۔ دوسرے راوی عفان علیہ الرحمۃ ہیں ان کے بارے میں محدثین کی رائے ہے کہ عفان علیہ الرحمۃ ایک بلند پایہ امام ثقہ صاحب ضبط و اتقان ہیں تیسرے راوی سعید بن میناء علیہ الرحمۃ ہیں ان کا شمار بھی ثقہ راویوں میں ہوتا ہے ۔ یہ صحیح الاسناد روایت دو جلیل القدر صحابہ حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ مرفوع روایت کی موجودگی میں کسی مؤرخ یا ماہر فلکیات کا یہ کہنا کہ بارہ ربیع الاول تاریخ ولادت نہیں۔ ہرگز قابل تسلیم نہیں۔
مولانا سید عبدالقدوس ہاشمی عالم دین ہونے کے علاوہ فن تقویم میں بھی یدِ طولی (کمال مہارت) رکھتے تھے انہوں نے اس فن پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام “تقویم تاریخی” ہے ان کے نزدیک بھی صحیح تاریخ ولادت بارہ ربیع الاول ہے۔
اہل حدیث کے مشہور عالم نواب سید محمد صدیق حسن خان لکھتے ہیں کہ ولادت شریف مکہ مکرمہ میں وقت طلوع فجر روز دو شنبہ شب دواز دہم ربیع الاول عام الفیل کو ہوئی جمہور علماء کا یہی قول ہے ابن جوزی علیہ الرحمۃ نے اس سے اتفاق کیا ہے۔
(الشماعۃ العنبریہ مولد خیر البریہ، صفحہ 7)
علماء دیوبند کے مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع “سیرت خاتم الانبیاء” میں رقمطراز ہیں۔
الغرض جس سال اصحاب فیل کا حملہ ہوا اس کے ماہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کے انقلاب کی اصل غرض “آدم” اولاد آدم کا فخر، کشتی نوح کی حفاظت کا راز ، ابراہیم کی دعا۔ موسیٰ و عیسیٰ کی پیش گوئیوں کا مصداق یعنی ہمارے آقائے نامدار محمد رسول اللہ ﷺ رونق افزائے عالم ہوتے ہیں۔
(سیرت خاتم الانبیاء ،صفحہ 18)
برصغیر پاک و ہند کے بعض سیرت نگاروں نے محمود پاشا فلکی کے حوالے سے لکھا ہے کہ بارہ ربیع الاول کو پیر کا دن نہیں تھا بلکہ پیر کا دن نو ربیع الاول کو بنتا ہے ۔ لہٰذا نو تاریخ صحیح ہے۔ لیکن دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ ان لوگوں کو محمود پاشا کے اصلی وطن کا بھی حتمی علم نہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲