Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 188دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوارحصہ: اٹھارہواں}

{دعوت اسلام کا دوسرا دور : حصہ دوم}
(قریبی رشتہ داروں کو دعوت حق دینے کے لیے حکم الہٰی : حصہ دوم آخری حصہ)

اب تیسرے اجتماع کا حضورﷺ نے اہتمام فرمایا اس میں قریش کے سارے قبیلوں کو دعوت دی گئی اور صفا کی پہاڑی پر حضور ﷺ نے کھڑے ہو کر سب حاضرین کو خطاب فرمایا اور آغاز کلام اس سے کیا۔
حاضرین! اگر میں تمہیں کہوں کہ پہاڑ کی دوسری جانب سے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لئے بڑھتا چلا آ رہا ہے کیا تم میری بات تسلیم کرو گے ؟ سب نے جواب دیا بے شک تسلیم کریں گے آج تک آپﷺ کی زبان سے ہم نے کبھی ایسی بات نہیں سنی جو غلط ہو۔ پھر فرمایا اے گروہ قریش! اپنے آپ کو آگ کے عذاب سے بچاؤ ۔ کیونکہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ میں عذاب شدید سے پہلے تمہیں واضح طور پر بر وقت ڈرانے کے لئے بھیجا گیا ہوں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے۔ جیسے ایک شخص ہو جس نے دشمن کو دیکھ لیا ہو۔ پس وہ چل پڑے تا کہ اپنے رشتہ داروں کو دشمن کی آمد سے با خبر کر دے۔ پھر اسے یہ اندیشہ لاحق ہو جائے کہ دشمن کہیں اس سے پہلے ہی نہ پہنچ جائے۔ دور سے ہی زور زور سے یہ اعلان کرنا شروع کر دے۔
“یَا صَبَاحَاهۡ يَاصَبَاحَاهۡ اُتِيۡتُمۡ اُتِيۡتُمۡ” ترجمہ:جاگو ، جاگو، دشمن پہنچ گیا ،دشمن پہنچ گیا۔

امام بخاری علیہ الرحمۃ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، امام مسلم علیہ الرحمۃ نے امام قبیصہ بن المخارق علیہ الرحمۃ سے اور امام بلا ذری علیہ الرحمۃ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔
“وَ اَنۡذِرۡ عَشِیۡرَتَکَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ﴿214﴾”
ترجمہ:اور (اے حبیبِ مکرّمﷺ!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے۔

تو اللہ کے پیارے رسول ﷺ صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے اعلان کیا :
“یَا صَبَاحَاهۡ!” ترجمہ: میری فریاد سنو۔ میری فریاد سنو۔
لوگ کہنے لگے یہ کون بلا رہا ہے چنانچہ عرب کے رواج کے مطابق وہ لوگ اس صدا پر لَبَّیۡکَ کہتے ہوئے اس سمت میں دوڑے اور جو شخص خود نہ جا سکا اس نے صورت حال معلوم کرنے کے لئے اپنا کوئی نمائندہ بھیج دیا ابو لہب اور دیگر قریش بھی وہاں جمع ہو گئے حضورﷺ نے پوچھا اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ دشمن کے سواروں کا دستہ اس پہاڑ کے دامن سے نکل کر تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے کیا تم میری بات مانو گے؟ سب نے کہا بے شک ہم نے کبھی آپﷺ کو غلط بیانی کرتے نہیں سنا۔

اس کے بعد حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔
“قَالَ يَا بَنِيۡ كَعْبِ بْنِ لُوِىَّ اَنْقِذُوۡا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِيۡ مُرَّۃَ بِنۡ كَعْبِِ اَنْقِذُوۡا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِيۡ هَاشِمٍ اَنْقِذُوۡا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِيۡ عَبْدِ شَمْسٍ اَنْقِذُوۡا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِيۡ عَبْدِ مَنَافٍ اَنْقِذُوۡا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِيۡ زُهْرَةَ اَنْقِذُوۡا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِيۡ عَبْدِ الْمُطْلِبِ اَنْقِذُوۡا اَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ اَنْقِذِيۡ نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ يَا صَفْيَةُ عَمَّةُ مُحَمَّدٍ اَنْقِذِيۡ نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَاِنِّيۡ لَا اَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا اِلَّا اَنْ تَقُوۡلُوۡا لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ”
ترجمہ:اے کعب بن لوی کے بیٹو! آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔ اے مرہ بن کعب کے فرزندو! آتش جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔ اے بنی ہاشم! آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔ اے بنی شمس ! آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔ اے بنی عبد مناف ! آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔ اے بنی زہرہ! آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اے بنی عبد المطلب! آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ اے فاطمہ! آگ سے اپنے آپ کو بچا۔اے صفیہ (محمد رسول اللہﷺ کی پھوپھی ) آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں ۔مگر یہ کہ تم کہو: “لَا اِلٰہَ اِلَا اللهُ”
(السیرة الحلبیہ، جلد اول، صفحہ 271)

یہ سن کر ابو لہب بولا۔ “تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ اَ لِهٰذَا جَمَعْتَنَا” ترجمہ:تو برباد ہو! کیا اسی لئے ہمیں آج جمع کیا تھا ؟ اللہ کے محبوبﷺ نے تو اس گستاخی کا کوئی جواب نہ دیا اور اپنے بے پایاں حلم اور عالی ظرفی کے باعث سکوت اختیار فرمایا لیکن آپﷺ کے غیور رب نے اس وقت اس بد بخت اور گستاخ کی مذمت میں ایک پوری سورت نازل فرما دی تَبَّتۡ یَدَا اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ کہ ابو لہب کے وہ دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں جس کی ایک انگلی سے میرے محبوبﷺ کی طرف اشارہ کیا اور وہ خود بھی تباہ و برباد ہو جائے۔ حضورﷺ کے اس خطاب کا آخری جملہ یہ تھا۔
“يَا بَنِيۡ عَبْدِ الْمُطْلِبِ اِنِّيۡ وَاللَّهِ مَا اَعْلَمُ شَابًا مِنَ الْعَرَبِ جَاءَ قَوْمَهٗ بِاَفْضَلَ مَا جِئْتُ بِهٖ اِنِّيۡ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاَمْرِ الدُّنْيَا وَ الۡاٰخِرَةِ”
ترجمہ: اے فرزندان عبدالمطلب ! بخدا کوئی جوان اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر اور افضل چیز لے کر نہیں آیا جیسی میں تمہارے لئے لے آیا ہوں میں تمہارے پاس دنیا و آخرت کی فوز و فلاح لے کر آیا ہوں ۔
اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔
فَاصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿94﴾
ترجمہ:پس آپ وہ (باتیں) اعلانیہ کہہ ڈالیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اور آپ مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے۔
(سورۃ الحجر،آیۃ94)

کسی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں میری مدد اور نصرت آپ ﷺکے شامل حال ہے۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top