طہارت و نظافت اور بلند کردار
طہارت و نظافت اور بلند کردار: جسم کتنا حسین و جمیل ہو اگر وہ نظیف نہ ہو۔ اس سے بدبو آ رہی ہو۔ تو اس کا سارا حسن و جمال غارت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیبﷺ کو پیکر رعنا ارزانی فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی نظافت اور لطافت کا اہتمام بھی خود ہی فرما دیا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
“مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ وَلَا مِسْكًا وَلَا شَيْئًا اَطْيَبَ مِنْ رِيۡحِ رَسُوۡلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”
ترجمہ:کہ میں نے کوئی مشک اور عنبر ایسا نہیں سونگھا جس کی خوشبو حضور ﷺ کی مہک سے زیادہ عطر بیز ہو۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔
“اَنَّهٗ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ مَسَحَ خَدَّہٗ فَوَجَدۡتُّ لِيَدِهٖ بَرۡدًا وَ رِيۡحًا كَاَنَّمَا اَخْرَجَهَا مِنْ جُوۡنَةِ عَطَّارٍ”
ترجمہ:حضور ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا۔ میں نے اس کی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا ابھی حضورﷺ نے اپنے دست مبارک کو عطار کی عطر دانی سے باہر نکالا ہے۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ270)
صحابہ کرام فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جس کسی سے مصافحہ فرماتے دن بھر اس کے ہاتھوں سے خوشبو آتی رہتی تھی اور جب کسی بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتے تو اپنی مخصوص مہک کی وجہ سے وہ دوسرے بچوں سے ممتاز ہوا کرتا تھا اور اسے بآسانی پہچان لیا جاتا تھا کہ اس خوش نصیب کے سر پر آقائے دو جہاںﷺ نے اپنا دست شفقت رکھا ہے۔ حضور ﷺخوشبو لگاتے یا نہ لگاتے، خوشبو کی لپیٹیں مبارک ہاتھوں سے اٹھتی رہتیں۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیلولہ فرمایا۔ حضورﷺ کو پسینہ آ گیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ایک شیشی میں پسینہ کے قطرے جمع کرنے لگی تو حضورﷺ نے پوچھا۔ کیا کر رہی ہیں؟ عرض کی ان قطروں کو میں اپنی خوشبو میں ملاؤں گی اور یہ تمام خوشبوؤں سے بہترین خوشبو ہو جائے گی۔
امام بخاری علیہ الرحمۃ نے اپنی “تاریخ کبیر” میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریمﷺ جس راستہ سے گزرتے صحابہ کرام کو اس بھینی بھینی خوشبو کی وجہ سے پتہ چل جاتا تھا کہ یہاں سے ان کے آقا و مولاﷺ کا گزر ہوا ہے ۔
(خاتم النبیین، امام محمد ابو زہرہ، جلد اول، صفحہ270)
عنبر زمین عبیر ہوا مشک تر غبار
ادنی سی یہ شناخت تیری رہگذر کی ہے
بلندی کردار: اللہ تعالیٰ کی حکمت جب اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ اس کا کوئی نبی یا رسول بد صورت اور قبیح المنظر ہو یا اس کا لباس میلا، اس کا جسم غلیظ اور بدبو دار ہو تو اس کی حکمت یہ کیسے برداشت کر سکتی ہے کہ اس کا کوئی فرستاده بد سیرت و بد کردار ہو۔ چہرہ کی ساری بد صورتی دلوں کو اتنا متنفر نہیں کرتی جتنا سیرت کے دامن پر اخلاق باختگی کا چھوٹا سا داغ دلوں کو اس شخص سے متنفر کر دیتا ہے۔ کسی جھوٹے، کسی بد دیانت اور کسی بد عہد شخص کا دل سے احترام کرنے والا آپ کو کوئی نظر نہیں آئے گا اس لئے اللہ تعالیٰ کے انبیاء و رسل جس طرح جسمانی عیوب سے منزہ ہوتے ہیں اسی طرح اخلاقی نقائص سے بھی ان کا دامن یکسر پاک ہوا کرتا ہے۔ جس قدر کسی کی رسالت کی ذمہ داریاں گراں اور دائرہ نبوت وسیع ہوتا ہے۔ اتنا ہی اس کی سیرت، اس کی صورت کو خوب سے خوب تر کرنے کا اہتمام فرمایا جاتا ہے۔ جس آمنہ کے لال کو، جس عبد اللہ کے یتیم فرزند ﷺکو عالم انسانیت کی تا ابد راہنمائی کے لئے منتخب فرمایا جا رہا ہے نہ حسن صورت میں اس کا کوئی مثیل ہے اور نہ ارجمندی کردار میں اس کی کوئی نظیر، یوں معلوم ہوتا ہے کہ خود رب قدیر قدم قدم پر اس کی راہنمائی فرما رہا ہے زندگی کے ہر کٹھن موڑ پر اس کی دستگیری کی جا رہی ہے عرب کے بگڑے ہوئے معاشرہ میں آنکھیں کھولنے والے۔ نشو و نما پانے والے، فسق و فجور کی آندھیوں میں اپنی شمع فطرت کو فروزاں رکھنے والے کے بارے میں اس حقیقت کا اظہار مناسب وقت پر فرما دیا۔ “اَلَمۡ یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿6﴾”
ترجمہ: (اے حبیب!) کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر اس نے (آپ کو معزّز و مکرّم) ٹھکانا دیا۔ کیا اس نے آپ کو (مہربان) نہیں پایا پھر اس نے (آپ کے ذریعے) یتیموں کو ٹھکانا دیا۔
یہ سب کو معلوم ہے کہ حضورﷺ کے عالم آب و گل میں قدم رنجہ فرمانے سے پہلے ہی آپﷺ کے والد حضرت عبداللہ کا سایہ عاطفت اٹھا لیا گیا تھا۔ حضورﷺ پیدا ہوئے تو یتیم تھے اس وقت سے ہی مولا کریم کی ابدی نوازشات اور انعامات نے حضورﷺ کو اپنی گود میں لے لیا۔ اس لئے پیدائش کے دن سے لے کر شب بعثت تک جتنی زندگی حضورﷺ نے بسر فرمائی اس کا ہر لمحہ اس کی ہر گھڑی مکارم اخلاق کا مرقع زیبا تھی۔ عدالت، صداقت، امانت، سخاوت، شجاعت حق گوئی، غریب نوازی، یتیم پروری، صلہ رحمی، ہمسایوں کی پاسداری، اقربا اور اعزہ کی دلجوئی اور خدمت گزاری، مظلوموں کی داد رسی ،عفو و در گزر، ہیبت و رعب، شرم و حیا، جود و کرم، شفقت و رفعت، عفت و پاکیزگی، حضورﷺ کی وہ خوبیاں تھیں جن کا نہ کوئی انکار کر سکتا ہے اور نہ کسی میں ہمت ہے کہ وہ ان میں ہمسری کا دعویٰ کر سکے۔ اس وقت جب کہ کفر و شرک کی بیماری ایک وبا کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے اس برگزیدہ بندے کا دامن ہمیشہ مشرکانہ رسوم سے منزہ اور پاک رہا۔ کبھی کسی بُت کی عبادت یا اس کی تعظیم بجا لانے کا خیال تک بھی نہیں کیا۔ اس وقت بھی عبادت کی تو اپنے مالک حقیقی، کائنات کے سچے خالق کی اور سجدہ کیا تو اپنے معبود بر حق کو۔
مسٹر مار گولوس نے ایک افسوسناک جسارت کرتے ہوئے اس پاکیزہ دامن پر ایک داغ لگانے کی سعی مذموم کی ہے اس کے اس الزام سے اس دامن کی طہارت و پاکیزگی تو ہر گز متاثر نہیں ہوتی البتہ الزام لگانے والے کی کمینگی اور علمی بد دیانتی کا پردہ ضرور چاک ہو جاتا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا دونوں سونے سے پہلے (العیاذ باللہ) ایک بُت کی پرستش کر لیا کرتے تھے جس کا نام “عزیٰ” تھا۔ یہ دعوی بھی سراپا کذب و افتراء ہے لیکن اس کو ثابت کرنے کے لئے جو دلیل دی گئی ہے اس نے علم و دانش کی دنیا میں مار گولوس کی علمیت اور تقاہت کا جنازہ نکال دیا ہے اس نے مسند امام احمد بن حنبل کی ایک روایت سے استدلال کیا ہے ۔ روایت تحریر کی جاتی ہے۔ آپ خود اس میں غور فرمائیں اور خود ہی فیصلہ کریں کہ مارگولوس کا یہ استدلال کہاں تک قابل توجہ ہے۔
“قَالَ (عُرۡوَۃُ) حَدَّثَنِيۡ جَارٌ لِخَدِيۡجَةَ بِنْتِ خُوَيْلَدِ اَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُوۡلُ لِخَدِيۡجَةَ یَا خَدِيۡجَةُ وَاللَّهِ لَا اَعْبُدُ اللَّاتَ وَالْعُزّٰى وَاللَّهِ لَا اَعْبُدُ اَبَدًا قَالَ فَتَقُوۡلُ خَدِيۡجَةُ خَلِّ اللَّاتَ خَلِّ الْعُزّٰى قَالَ كَانَتْ صَنَمُهُمُ الَّتِيۡ كَانُوۡا يَعْبُدُوۡنَ ثُمَّ يَضْطَجِعُوۡنَ”
ترجمہ:حضرت عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے ایک ہمسایہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریمﷺ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہتے سنا اے خدیجہ ! بخدا میں لات اور عزیٰ کی کبھی پرستش نہیں کروں گا بخدا میں ان کی ہر گز پرستش نہیں کروں گا،حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لات کو رہنے دیجئے۔ عزیٰ کو رہنے دیجئے (ان کا نام بھی نہ لیجئے ) عروہ کہتے ہیں کہ لات و عزیٰ وہ بُت تھے جن کی پرستش اہل عرب سونے سے پہلے کر لیا کرتے تھے اس کے بعد وہ بستر پر لیٹتے تھے۔
(مسند احمد بن حنبل، جلد اول، صفحہ222)
عربی کا ایک مبتدی طالب علم بھی اگر اس روایت کو نیک نیتی سے پڑھے تو کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوتا سرکار دو عالمﷺ تو اپنے معبود بر حق کی بار بار قسم اٹھا کر فرما رہے ہیں کہ میں لات و عزیٰ کی ہر گز ہر گز پوجا نہیں کروں گا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی عرض کر رہی ہیں کہ ان منحوس بتوں کا نام ہی نہ لیجئے ان کے نام لینے کی ضرورت ہی کیا ہے، اور مار گولوس صاحب ہیں کہ اس حدیث سے یہ استدلال فرما رہے ہیں کہ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ کہ حضورﷺ لات و عزیٰ کی پرستش کرتے تھے۔ عروہ کے آخری جملہ میں بتایا گیا ہے کہ اہل عرب کا یہ دستور تھا کہ وہ سونے سے پہلے ان دو بتوں کی پوجا پاٹ کر لیا کرتے تھے اور اس میں تو کسی کو کلام نہیں کہ آفتاب نبوت کے طلوع ہونے سے قبل شرک و کفر کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اور بتوں کی پوجا عام کی جاتی تھی اس جملہ میں “کَانُوۡا” جمع کا صیغہ استعمال ہوا، جس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ اس کا فاعل اہل عرب ہیں یعنی اہل عرب کا یہ دستور تھا جو بت پرست تھے اگر اس کے فاعل حضور ﷺ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہوتے تو “کَانَا” تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوتا بیشک ہدایت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے وہ ہدایت نہ دے تو بڑے بڑے عالم فاضل دلائل کے ایسے ہی محلات تعمیر کر کے جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲