Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 202دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: بتیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ چودہواں}
(پیکر حسن و جمالﷺ پر کفار کا ہولناک ظلم و تشدد : حصہ پنجم آخری حصہ)


زبیدی کا واقعہ: اراشی کے ساتھ جو گزری تھی اسی قسم کا ایک واقعہ زبیدی کو بھی پیش آیا۔ زبید یمن کا ایک شہر ہے۔ وہاں کا ایک آدمی اپنے تین اونٹ فروخت کرنے کے لئے مکہ لے آیا۔ ایک روز وہ حرم شریف میں آیا۔ جہاں جہاں قریش مجلسیں جمائے بیٹھے تھے۔ وہاں گیا ہر جگہ جا کر یہ فریاد کی کہ گروہ قریش ! اب کون تمہارے پاس سامان تجارت لے کر آیا کرے گا۔ کون دور دراز علاقوں سے خور و نوش کی چیزیں اونٹوں پر لاد کر تمہارے لئے آئے گا اور کون سا احمق تاجر ہے جو تمہاری منڈیوں میں اپنا سامان فروخت کرے گا۔ تمہاری یہ حالت ہے کہ تم حرم کا پاس بھی نہیں کرتے۔ جو شخص تمہارے پاس آتا ہے اس پر تم ظلم و تعدی کرنے سے باز نہیں آتے۔ وہ قریش کی تمام مجالس میں گیا لیکن کسی نے اس کی داد رسی کرنے کا دم نہ بھرا۔ سرکار دو جہاںﷺ بھی صحن حرم میں تشریف فرما تھے۔ حضورﷺ کے کئی غلام بھی حاضر خدمت تھے۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر یہاں پہنچا اور اپنی فریاد دہرائی ۔ رحمت عالمﷺ نے پوچھا: “مَنْ ظَلَمَكَ” ترجمہ: تجھ پر کس نے ظلم کیا ہے۔

اس نے اپنا ماجرا کہہ سنایا کہ میں فروخت کرنے کے لئے تین اونٹ اپنے ساتھ لے آیا تھا میرے اونٹ بہترین اونٹ تھے۔ ابو جہل نے میرے ساتھ سودا کرنا چاہا۔ اور ان اونٹوں کی صحیح قیمت سے ایک تہائی قیمت بتائی۔ میں نے اتنی کم قیمت پر اپنے اعلیٰ نسل اونٹ فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔ اب مجھے یہاں کئی دن گزر گئے ہیں۔ لیکن لوگ ابو جہل سے ڈرتے ہیں اور اس سے زیادہ قیمت دینے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے ابو جہل نے اتنی کم قیمت لگا کر میری اونٹوں کی قیمت گرا دی اور مجھ پر ظلم کیا۔ اس کی داستانِ الم سن کر حضورﷺ نے پوچھا تیرے اونٹ کہاں ہیں ؟ اس نے عرض کی یہ سامنے ” حزورة ” میں بندھے ہیں۔ حضورﷺ اپنے غلاموں کے ہمراہ ان کے پاس تشریف لے گئے انہیں دیکھا واقعی وہ بڑے اعلیٰ قسم کے اونٹ تھے۔ حضورﷺ نے زبیدی سے قیمت پوچھی۔ جو قیمت اس نے مانگی وہی اسے دے دی اور اسے خوش کر دیا۔ امور تجارت کے اس ماہر نبیﷺ نے ان میں سے دو اونٹ اتنی قیمت سے فروخت کر دیئے جتنی قیمت حضورﷺ نے تین اونٹوں کی دی تھی۔ ایک اونٹ زائد بچ گیا۔ وہ اونٹ فروخت کیا اس کی جو قیمت ملی اسے بنو عبد المطلب کے خاندان کی بیواؤں میں تقسیم فرما دیا۔ ابو جہل بازار میں ایک جگہ بیٹھا یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔ لیکن اسے تاب گفتگو نہ تھی۔ گویا اسے سانپ سونگھ گیا ہو پھر حضورﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اسے سرزنش کرتے ہوئے فرمایا۔
“يَا عَمۡرُو! اِيَّاكَ اَنْ تَعُوۡدَ اِلٰى مِثْلِ مَا صَنَعْتَ بِهٰذَا الْاَعْرَابِيَّ فَتَرٰى مِنْ مَّا تَكْرَهُ”
ترجمہ: اے عمرو ! خبردار ! اگر تم نے پھر ایسی حرکت کی تو تمہیں عبرتناک سزا ملے گی۔
حضورﷺ کا یہ فرمان واجب الاذعان سن کر اس دشمن خدا کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ وہ کوئی گستاخانہ جواب دے سکے ۔ بلکہ بڑی عاجزی سے عرض پرداز ہوا۔
“لَا اَعُوۡدُ يَا مُحَمَّدُ ﷺلَا اَعُوۡدُ يَا مُحَمَّدُﷺ”
ترجمہ: یعنی میں پھر ایسی حرکت نہیں کروں گا، ہر گز نہیں کروں گا۔

اس کے بعد حضورﷺ تشریف لے گئے۔ حضورﷺ کے چلے جانے کے بعد امیہ بن خلف اور دوسرے کفار اکٹھے ہو کر آ گئے اور ابو جہل کو کہنے لگے تو نے ہم سب کو محمد(ﷺ) کے سامنے ذلیل و رسواء کر دیا ہے۔ یا تو تو اس کی بیعت کرنا چاہتا ہے اور یا تو اس سے سخت مرعوب ہو گیا ہے کہ تیرے منہ سے بات تک نہ نکلی۔ اور بزدلوں کی طرح سر جھکائے اس کے سامنے بیٹھا رہا۔اس نے کہا یقین کرو میں کسی قیمت پر ان کا اتباع نہیں کروں گا۔ تم نے جس حالت میں مجھے دیکھا ہے اس کی وجہ اور تھی جب وہ میرے پاس آیا تو اس کے دائیں بائیں طاقتور نوجوانوں کے دستے تھے جنہوں نے ہاتھوں میں نیزے پکڑئے ہوئے تھے اور انہیں لہرا رہے تھے۔ اگر میں ان کی مخالفت کرتا تو فوراً وہ اپنے نیزے مجھے گھونپ دیتے۔ اور میرے پرزے پرزے اڑا دیتے۔ اس ڈر کی وجہ سے میں گربہ مسکین بنا بیٹھا رہا۔
(سبل الہدی والرشاد، جلد دوم، صفحہ552)

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top