Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 211ہجرت حبشہ: حصہ دوم}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ دوم}


ہجرت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ: جب اہل مکہ کو معلوم ہوا کہ اہل اسلام کا ایک قافلہ ہجرت کر کے حبشہ روانہ ہو گیا ہے تو ان کے غیظ و غضب کی کوئی حد نہ رہی۔ پہلے بھی وہ بے کس مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے۔ لیکن اب تو انہوں نے مظالم کی انتہا کر دی۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جیسے با رسوخ اور متمول تاجر کے لئے بھی مکہ میں رہنا مشکل ہو گیا۔ آپ بھی مجبور ہو گئے کہ اس بستی سے نقل مکانی کر جائیں جس بستی کے رہنے والے ظلم ڈھانے میں درندوں کو بھی مات کر گئے ہیں۔ چنانچہ ایک روز آپ بھی حبشہ جانے کے لئے مکہ سے روانہ ہو گئے ۔ جب آپ “برك الغماد ” ( ایک بستی ) پہنچے جو مکہ سے پانچ دن کی مسافت پر ہے تو آپ کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوئی یہ قبیلہ قارہ کا سردار تھا۔ بنو قارہ بنو زہرہ قبیلہ کے حلیف تھے۔ ابن الدغنہ نے پوچھا اے ابو بکر! آپ کدھر جارہے ہیں آپ نے جواب دیا۔ کہ میری قوم نے مجھے مکہ سے نکال دیا ہے میں اب زمین میں سیر و سیاحت کیا کروں گا۔ اور اپنے رب کی عبادت کروں گا۔اس نے کہا۔
“مِثْلُكَ يَا اَبَا بَكْرٍ لَا يُخْرَجُ لَا يُخْرَجُ” ترجمہ:اے ابو بکر ! تیرے جیسے آدمی کو نہیں نکالا جانا چاہئے نہیں نکالا جانا چاہئے۔
پھر آپ رضی اللہ عنہ کے خصائل حمیدہ کا ذکر کرتے ہوئے ابن الدغنہ نے کہا۔
“اِنَّكَ تَكْسِبُ الْمَعْدُوۡمَ وَتَصِلُ الرَّحْمَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِى الضَّيْفَ وَتُعِيۡنُ عَلٰى نَوَآئِبِ الْحَقِّ فَاَنَا لَكَ جَارٌ وَارْجِعۡ وَاعْبُدۡ رَبَّكَ بِبَلَدِكَ”
ترجمہ:اے ابو بکر ! آپ تو مفلس اور نادار کے لئے مال کماتے ہیں صلہ رحمی کرتے ہیں۔ لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں۔ اور جو لوگ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائیں ان کی آپ مدد کرتے ہیں۔ میں آپ کو پناہ دیتا ہوں آپ اپنے شہر میں لوٹ جائیے اور آزادی سے اپنے رب کریم کی عبادت کیجئے۔

چنانچہ ابن الدغنہ آپ کو ہمراہ لے کر مکہ آیا۔ تمام مکہ کے سرداروں کے پاس گیا اور انہیں کہا ۔ کہ ابو بکر جیسی ہستی کو جو اخلاق حمیدہ اور صفات عالیہ سے متصف ہے اپنے شہر سے نکالنا بڑی زیادتی ہے میں نے انہیں پناہ دے دی ہے اب کوئی شخص ان کو اذیت پہنچانے کی جرأت نہ کرے۔ سب نے اس کی پناہ کو تسلیم کر لیا۔ اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تکلیف نہیں پہنچائیں گے لیکن اس کے لئے ایک شرط عائد کی کہ وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کہے کہ وہ اپنے گھر کے اندر عبادت کیا کرے جتنا چاہے قرآن پڑھے جیسا چاہے نماز ادا کرے۔ لیکن یہ سب کچھ اپنے گھر کی چار دیواری میں۔ بلند آواز سے تلاوت نہ کرے اس طرح ہمیں خطرہ ہے کہ ہماری عورتیں اور بچے کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر امن زندگی بسر کرنے لگے۔ کچھ عرصہ تک ایسا ہی کرتے رہے پھر اپنے گھر کے صحن میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی ۔ جس میں نماز ادا کرتے اور قرآن کریم کی تلاوت کرتے آپ بڑے خوش آواز تھے آپ کی تلاوت سننے کے لئے عورتوں اور مردوں کا جم غفیر اکٹھا ہو جاتا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب عبادت کرتے تو آپ کو کثرت سے رونا آتا۔ مشرکین کو یہ بات بڑی ناگوار گزری۔ انہوں نے ابن الدغنہ کی طرف آدمی بھیجا وہ آیا تو انہوں نے شکایت کی کہ ہم نے تمہارے کہنے پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پناہ دی تھی۔ شرط یہ تھی کہ وہ اپنے گھر کے اندر نماز اور قرأت کیا کریں گے لیکن اب انہوں نے ایک مسجد تعمیر کرلی ہے اس میں اعلانیہ اب وہ قرأت کرنے لگے ہیں ہمیں خطرہ ہے کہ ہماری عورتیں اور بچے کہیں گمراہ نہ ہو جائیں۔ اگر وہ معاہدہ کے مطابق اپنے گھر کے اندر عبادت اور قرأت کیا کریں تو بہتر ورنہ انہیں کہو کہ تمہاری پناہ وہ واپس کر دیں ہم نہیں چاہتے کہ لوگ کہیں کہ ہم نے تمہاری پناہ کو مسترد کر دیا ہے ابن الدغنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو معلوم ہے کہ کن شرائط پر آپ کی قوم سے میرا معاہدہ ہوا تھا۔ یا تو آپ اس معاہدہ کی پابندی کریں یا میری پناہ سے دست بردار ہو جائیں میں نہیں چاہتا کہ لوگ کہیں کہ ابن الدغنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پناہ دی تھی لیکن ان کی قوم نے اس پناہ کو ٹھکرا دیا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مومنانہ جرأت سے اسے جواب دیا فرمایا۔ “فَاِنِّيۡ اَرُدُّ عَلَيْكَ جَوَارَكَ وَاَرْضٰى بِجَوَارِ اللَّهِ تَعَالٰى”
ترجمہ:میں تیری پناہ تجھے لوٹا دیتا ہوں میرے لئے میرے اللہ کی پناہ کافی ہے۔

آپ حیران ہوں گے کہ جن صفات سے ام المؤمنين حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا نے رحمت عالم ﷺ کی توصیف کی تھی۔ بعینہ انہیں صفات بلکہ انہیں کلمات سے ابن الدغنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اخلاق حمیدہ کی تصویر کشی کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ اور حضور ﷺ کے یار غار کی صفات و عادات، اخلاق و شمائل، افکار و نظریات میں کامل درجہ کی مشابہت تھی اور یہی فطری یکسانیت، باہمی محبت و مودت، پھر بعثت کے بعد رفاقت و صداقت کی وہ محکم اساس تھی جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ247)
“صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَعَلٰى رَفِيۡقِهٖ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ وَصَاحِبِهٖ فِي الْقَبْرِ وَالْمَحْشَرِ وَسَلَّمَ”

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top