Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 196دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: چھبیسواں}

{دعوت اسلام کا تیسرا دور : حصہ ہشتم}
(قرآن کریم کی اثر آفرینی :حصہ دوم آخری حصہ)


قریش کے رئیسوں کا چھپ چھپ کر قرآن پاک سننا: سچ تو یہ ہے کہ بہت سے کافر ایسے تھے۔ جن کے دلوں کو قرآن کے حسن اعجاز نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ وہ یہ مانتے تھے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلام نہیں لیکن انہیں حسد اور بغض اجازت نہ دیتا تھا کہ وہ اسلام کو قبول کرنے کا اعلان کریں۔ آیات قرآنی کی تلاوت سننے کا شوق صرف معمولی قسم کے لوگوں تک محدود نہ تھا۔ بلکہ وہ لوگ بھی اس کے سننے کے متوالے تھے جو دنیائے کفر کے رکن رکین تھے۔ چنانچہ امام ابن ہشام علیہ الرحمۃ نے اپنی سیرت کی شہرہ آفاق کتاب میں ایک حیران کن واقعہ قلم بند کیا ہے۔

حضور نبی کریمﷺ رات کے وقت تنہائی میں قرآن کریم کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ایک رات اس روح پرور تلاوت کو سننے کے شوق میں حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ آئے اور چپکے سے ایک کونہ میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ پھر ابو جہل رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضورﷺ کی جاں نواز تلاوت کو سننے کے لئے اس مجلس میں آیا اور ایک گوشہ میں چپ کر کے بیٹھ گیا۔ تلاوت قرآن کریم سننے کی کشش ایک اور کافر اخنس بن شریق کو بھی کشاں کشاں اس محفل میں لے آئی وہ بھی دبک کر کہیں بیٹھ گیا، تینوں افراد قرآن سننے کے شوق میں یہاں بیٹھے تھے۔ انہیں ایک دوسرے کا کوئی علم نہ تھا۔ رات بھر یہ نورانی تلاوت نور برساتی رہی۔ یہ لوگ کیف و مستی میں ڈوبے بیٹھے رہے یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی سب حاضرین اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے راستہ میں ان تینوں کی ملاقات ہو گئی، لگے ایک دوسرے کو ملامت کرنے اور ایک دوسرے کو منع کیا کہ ایسی محفل میں شرکت کرنے سے باز آئیں اگر سادہ لوح لوگوں کو پتہ چل گیا کہ ہم بھی رات بھر چھپ چھپ کر قرآن سنتے ہیں تو ان کا عقیدہ متزلزل ہو جائے گا۔ خبر دار پھر ایسی حرکت نہ کرنا۔

جب دوسری رات آئی تو ان تینوں سے صبر نہ ہو سکا۔ تلاوت سننے کی بے قراری ہر ایک کو پھر وہاں کھینچ لائی ہر ایک یہی سمجھ رہا تھا کہ صرف وہی آیا ہے اور کوئی نہیں آیا کیف و سرور میں ڈوبی ہوئی رات پل بھر میں بیت گئی۔ صبح کا اجالا پھیلنے لگا۔ سب اٹھے اور گھروں کو روانہ ہوئے ۔ راستہ میں پھر اچانک ایک دوسرے کا سامنا ہو گیا پھر ایک دوسرے کو مطعون کرنے لگے اور پھر تاکید کی کہ آئندہ یہ غلطی نہ کرنا ورنہ بے وقوف لوگ گمراہ ہو جائیں گے۔

تیسری رات نے جب اپنے پر پھیلائے ساری کائنات ظلمت شب میں ڈوب گئی شوق کی چنگاری پھر سلگنے لگی۔ بے قابو اور بے اختیار ہو کر پھر اُدھر کا رخ کیا۔ جہاں سے اللہ تعالیٰ کے محبوبﷺ کا دلکش لحن سنائی دے رہا تھا۔ یہ رات بھی بہت جلد صبح آشنا ہو گئی۔ وہ بھی اٹھے اور گھروں کو روانہ ہوئے، راستہ میں تینوں کی مڈ بھیڑ ہو گئی۔ فرط خجالت سے ایک دوسرے سے آنکھیں ملانے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے آج پختہ عہد کیا کہ آئندہ نہیں آئیں گے۔
“لَا نَبۡرَحُ حَتّٰى نَتَعَاهَدَ اَنْ لَّا نَعُوۡدَ”
ترجمہ: ہم یہاں سے رخصت نہیں ہوں گے جب تک پھر یہاں واپس نہ آنے کا پکا عہد و پیماں نہ کر لیں۔

جب صبح ہوئی۔ اخنس بن شریق نے عصاء پکڑا اور اس پر ٹیک لگاتا ہوا حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر آیا اور انہیں کہا۔
“اَخْبِرْنِيۡ يَا اَبَا حَنْظَلَةَ عَنْ رَاَیۡكَ فِيۡمَا سَمِعْتَ عَنْ مُحَمَّدٍ (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)”
ترجمہ: اے ابو حنظلہ (حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی کنیت) مجھے بتاؤ جو کلام تم نے محمدﷺ سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔
“فَقَالَ يَا اَبَا ثَعْلَبَةَ وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ اَشْيَاءَ اَعْرِفُهَا وَاَعْرِفُ مَا يُرَادُ بِهَا وَسَمِعْتُ اَشْيَاءَ مَا عَرَفْتُ مَعْنَاهَا وَمَا يُرَادُ بِهَا”
ترجمہ: حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا! اے ابو ثعلبہ (یہ اخنس کی کنیت ہے) بخدا بعض چیزیں جو میں نے سنی ہیں ان کو میں جانتا تھا اور ان کا مفہوم بھی مجھے معلوم ہے۔ لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن کو نہ میں جانتا تھا اور نہ مجھے ان کا مفہوم معلوم ہے۔
اخنس نے کہا۔ اس ذات کی قسم جس کی تم نے قسم کھائی ہے میرا بھی یہی حال ہے۔ یہاں سے فارغ ہو کر اخنس ابو جہل کے گھر گیا اور اس سے پوچھا۔
“يَا اَبَا الْحَكَمَ مَا رَاَيْكَ فِيۡمَا سَمِعْتَ مِنْ مُّحَمَّدٍ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ)”
ترجمہ: اے ابو الحکم! جو تم نے محمد (ﷺ) سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ ابو جہل نے کہا۔
“مَا ذَا سَمِعْتُ ؟ تَنَازَعْنَا نَحْنُ وَبَنُوۡ عَبْدِ مَنَافِ الشَّرۡفَ اَطْعَمُوۡا فَاَطْعَمْنَا وَحَمَلُوۡا فَحَمَلْنَا وَاَعْطُوۡا فَاَعْطَيْنَا حَتّٰى اِذَا تَجَاذَيْنَا علَى الرَّكْبِ وَكُنَّا كَفَرْسَيْ رِهَانٍ قَالُوۡا مِنَّا نَبِيٌّ يَاْتِيۡهِ الْوَحْىُ مِنَ السَّمَآءِ فَمَتٰى نُدْرِكُ مِثْلَ هٰذِهٖ وَاللَّهِ لَا نُؤْمِنُ بِهٖ اَبَدًا وَلَا نُصَدِّقُهٗ”
ترجمہ: میں نے کیا خاک سنا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اور بنو عبد مناف کا جھگڑا اس بات پر تھا کہ قوم کا سردار کون ہے۔ اس شرف اور سیادت کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے بھی اپنے دستر خواں کو وسیع کیا اور ہر غریب مسکین کو کھانا کھلایا اور ہم نے بھی ان سے بازی لے جانے کے لئے دستر خوان کو وسعت دی اور ہر غریب مسکین کی ضیافت کا اہتمام کیا انہوں نے بھی لوگوں کے بوجھ اٹھائے اور ہم نے بھی بوجھ اٹھائے۔ انہوں نے بھی اپنی فیاضی سے مانگنے والوں کی جھولیاں بھریں۔ ہم نے بھی اس بات میں ان سے سبقت لے جانے کی کوشش میں اپنی سخاوت کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ اور جب ہم مقابلہ کے دو گھوڑوں کی مانند ہو گئے تو انہوں نے اچانک اعلان کر دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو نبوت ملی ہے اور اس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔ ہم یہ دعویٰ کیسے کر سکتے تھے۔ بخدا ہم تو اس پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے۔
(السيرة النبویۃ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 337 -338)

یہ سن کر اخنس اٹھا اور اس کو خشم ناک حالت میں بڑیں ہانکتے ہوئے چھوڑ کر چلا گیا۔ قرآن کریم کا حسن بیان اور زور استدلال ہر سننے والے کو اندر ہی اندر سے متاثر کر رہا تھا۔ وہ سچائیاں جو اس کتاب مجید نے بیان کی تھیں۔ ان کی وہ تردید نہیں کر سکتے تھے وہ دلائل جن سے اس فرقان حمید کے صفحات جگمگا رہے تھے ان کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top