Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 161بعثت مبارکہ: حصہ سوم)

(آثار بعثت کا ظہور:حصہ سوم)


جب تک حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے صرف اِقْرَاْ کہا تو جواب ملا: مَا اَنَا بِقَارِيٍ ( میں پڑھنے والا نہیں ہوں )
جب چوتھی بار انہوں نے اللہ تعالیٰ کا نام ساتھ ملا کر کہا:
“اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ”
ترجمہ:اے مصطفی کریمﷺ ! اپنے رب کا نام لے کر پڑھیے جس نے ساری کائنات کو پیدا فرمایا ہے وہی آپﷺ کے سینہ کو علم و معرفت کے انوار سے منور کرنے والا ہے وہی آپ ﷺکے اُمتی ہونے کے باوجود آپﷺ کی زبان اقدس پر کلمات حکمت کو جاری کرنے والا ہے اس کے نام سے پڑھیے تو پھر حضورﷺ نے پڑھنے سے انکار نہیں کیا بلکہ فوراً آیات طیبات کی تلاوت شروع کر دی۔

علامہ سہیلی علیہ الرحمۃ نے الروض الانف میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ شیخ محمد ابراہیم العرجوان علیہ الرحمۃ نے بڑی پیاری بات کہی ہے۔
“لُبَابُ الْمَعْنَى كُنْ قارِئًا اِعْجَازًا وَلَوْ لَمْ تَكُنْ مِنَ الْقَارِئِيْنَ تَعَلُّمًا اِقْرَاْ مُسْتَعِیْنًا بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ اَعَدَّکَ بِتَرْبِیَّتِہٖ مُعَلِّمًا لِلدُّنْیَا”
ترجمہ: خلاصہ کلام یہ ہے: اے حبیبﷺ! آپﷺ بطور معجزہ ان کی قرأت کریں اگرچہ آپﷺ علم قرأت پڑھنے والے نہیں۔ آپﷺ اپنے اس رب کے نام سے مدد طلب کرتے ہوئے قرأت کریں جس نے آپﷺ کی تربیت فرما کر آپﷺ کو سارے عالم کے لئے استاد تیار کیا ہے۔
(محمد رسول الله، جلد اول، صفحہ243)

اب ہم اس روایت کا وہ حصہ ہدیہ قارئیں کرتے ہیں جن میں نزول وحی کے بعد حضورﷺ کی گھر واپسی اپنی رفیقہ حیات رضی اللہ عنہا سے اپنے بارے میں اندیشوں کا تذکرہ اور اس کے جواب میں ام المومنین رضی اللہ عنہا کی تسلی آمیز اور اطمینان بخش گفتگو ہے۔
“وَ رَجَعَ بِھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ یَرْجِفُ فُؤَادُهٗ وَ دَخَلَ عَلٰى خَدِيْجَةَ بِنْتِ خُوَيْلَدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ زَمِّلُوْنِيْ ، زَمِّلُوْنِيْ فَزَمَّلُوْهُ حَتّٰى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ لِخَدِيْجَةَ وَاَخْبَرَهَا الْخَبْرَ لَقَدْ خَشِيْتُ عَلٰى نَفْسِيْ فَقَالَتْ خَدِيْجَةُ كَلَّا واللہُ مَا يُخْزِيْكَ اللَّهُ اَبَدًا اِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحْمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِيْنُ عَلٰى نَوَائِبِ الْحَقِّ”
ترجمہ: پس ان آیات کو سن کر اور دل میں محفوظ کر کے رسول اللہﷺ واپس گھر تشریف لائے، حضورﷺ کا دل کانپ رہا تھا۔ ام المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ اور فرمایا مجھے چادر اوڑھاؤ ۔ مجھے چادر اوڑھاؤ۔ پس انہوں نے حضورﷺ پر چادر ڈال دی۔ یہاں تک کہ وہ ہراس دور ہو گیا۔ حضورﷺ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سارا ماجرا سنایا اور فرمایا مجھے اپنے بارے میں ڈر لگ رہا ہے آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کی ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ کبھی آپﷺ کو بے آبرو نہیں کرے گا۔ آپﷺ قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں اور نا توانوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ جو مفلس نادار ہو اس کو اپنی نیک کمائی سے حصہ دیتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ حق کی وجہ سے کسی پر کوئی مصیبت آ جائے تو آپﷺ اس کی مدد کرتے ہیں اور دستگیری فرماتے ہیں ہے اور جس شخص میں یہ خوبیاں ہوں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ ایسے شخص کو بے آبرو اور ذلیل نہیں کرتا بلکہ اس کی عزت و آبرو کا خود نگہبان ہوتا ہے۔

حدیث پاک کے اس حصہ میں دو باتیں ایسی ہیں جو آپ قارئین کی خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ نزول وحی کے بعد خوف و ہراس کی یہ کیفیت کیوں رو پذیر ہوئی؟ دوسری غور طلب بات ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تسلی آمیز جواب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ہر امتی پر لازم ہے کہ وہ اپنے نبی کی نبوت پر ایمان لائے اسی طرح ہر نبی پر بھی ضروری ہے کہ وہ بھی اپنی نبوت پر ایمان لے آئے اگر نبی کو اپنی نبوت پر یقین محکم نہ ہو گا تو وہ دوسروں کو کیونکر اپنی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دے سکے گا۔ ارشاد الہیٰ ہے۔ “اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ”
ترجمہ: رسول بھی ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا اور مومن بھی ایمان لے آئے۔
(سورة البقرۃ،آیۃ :285 )

امتیوں کو تو یہ ایمان اپنے نبی کی دعوت اس کے دلائل سن کر نیز اس کے پیش کئے ہوئے معجزات دیکھ کر حاصل ہوتا ہے لیکن نبی کے دل میں اپنی نبوت کا عرفان منجانب اللہ پیدا ہو جاتا ہے وہ کسی دلیل اور معجزہ کا محتاج نہیں ہوتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس سے اپنے اہل و عیال سمیت اپنے وطن مصر واپس جا رہے تھے وادی سینا میں پہنچے رات کا وقت تھا۔ سخت سردی تھی، آپ علیہ السلام نے دور سے آگ جلتی دیکھی وہاں گئے تاکہ آگ لے آئیں خود بھی تاپیں اور ان کے اہل و عیال بھی اس سے حرارت حاصل کریں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
“فَلَمَّا اَتَاهَا نُوْدِيَ يَا مُوْسٰى(11) اِنِّيْ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى(12) وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى(13)”
ترجمہ:پس جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو ندا کی گئی اے موسیٰ ! بلاشبہ ہم تیرے پروردگار ہیں پس تو اتار دے اپنے جوتے ۔ بے شک تو طوٰی کی مقدس وادی میں ہے۔ اور ہم نے پسند کر لیا ہے تجھے ( رسالت کے لئے ) سو خوب کان لگا کر سن جو وحی کیا جاتا ہے۔
(سورۃ طہ،آیۃ :11-13)

اس آواز کے سننے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اپنے نبی ہونے کے بارے میں یقینی علم پیدا ہو گیا جس میں شک و شبہ کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ یقینی علم جو دلائل و براہین کے بغیر دل میں پیدا ہو جائے اسے علم ضروری اور بدیہی کہتے ہیں۔اچانک یہ آواز سننے سے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اپنی نبوت کے بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا تو وہ ذات اقدس جس کو نزول وحی سے پہلے کئی علامات اور نشانات دکھانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا۔ انہیں اپنی رسالت کے بارے میں کیونکر کوئی شائبہ ہو سکتا تھا۔ مکہ سے باہر جاتے ہیں وادیوں سے گزرتے ہیں تو دائیں بائیں شجر و حجر اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ کہہ کر اپنی نیاز مندی کا نذرانہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر رات جو خواب دیکھتے ہیں وہ صبح کی روشنی کی طرح دوسرے دن اس کی تعبیر ہو بہو سامنے آ جاتی ہے۔ ایسی ذات پر جب ایسا مقدس کلام نازل ہوا ہو گا تو روح کو جو تازگی اور قلب کو جو مسرت ہوئی ہوگی اس کا صحیح اندازہ حضور ﷺ کے بغیر اور کون لگا سکتا ہے۔پھر یہ خوف و ہراس کیسا؟ پھر یہ سراسیمگی اور حیرانگی کیسی؟ اس کے بارے میں علماء کرام نے بڑی طویل بحثیں کی ہیں اور داد تحقیق دی ہے۔ لیکن اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے اتنا ہی غور فرمائیے کہ وہ فرقان حمید جس کی جلالت شان کا یہ عالم ہے کہ

“لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللهِ”
ترجمہ:پہاڑ اس کی ہیبت سے ریزہ ریزہ ہونے لگتے ہیں تو جب اس کا نزول اس حساس قلب پر ہوا ہو گا جس کو اس کلام کی جلالت شان اور زہرہ گداز ذمہ داریوں کا سب سے زیادہ احساس تھا تو کیا وہ قلب لطیف لرز لرز نہ گیا ہو گا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top