Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 179دعوتِ اسلام اور اس کے مختلف ادوار، حصہ: نہم}

(سب سے پہلے ایمان لانے والے، حصہ :نہم)
{حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ایمان}


وہ نفوس قدسیہ جنہوں نے دعوت اسلامیہ کو ابتدا میں قبول کیا اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا مردانگی سے مقابلہ کیا۔ ان میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا نام سر فہرست ہے آپ رضی اللہ عنہ کا نام جندب بن جنادہ تھا۔آپ رضی اللہ عنہ بنی غفار قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ طبعی طور پر کفر و شرک سے دل برداشتہ تھے بعثت نبوتﷺ سے تین سال قبل آپ رضی اللہ عنہ نماز پڑھا کرتے تھے جدھر اللہ تعالیٰ نے چاہا منہ کر کے کھڑے ہو جاتے اور اپنی عقل و فہم کے مطابق اپنے معبود بر حق کی تسبیح و تحمید کر کے اپنے دل بے قرار کی تسلی کا اہتمام کر لیا کرتے۔ انہیں اطلاع ملی کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے انہوں نے اپنے بھائی حضرت انیس رضی اللہ عنہ کو کہا کہ مکہ جا کر اس شخص سے ملاقات کرو۔ اور اس کی دعوت کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔ اور واپس آ کر مجھے بتاؤ کہ معاملہ کیا ہے۔

حضرت انیس رضی اللہ عنہ مکہ گئے۔ چند روز وہاں قیام کیا جب واپس آئے تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا سناؤ کیا دیکھ کر آئے ہو۔ حضرت انیس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا! کہ میں نے ایک شخص کی زیارت کی ہے جو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی راہنمائی کے لئے اسے رسول بنا کر بھیجا ہے وہ مکارم اخلاق کو اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

حضرت انیس رضی اللہ عنہ نے بتایا لوگ تو اسے شاعر، کاہن اور ساحر کہتے ہیں بخدا! وہ سچا ہے۔ لوگ جھوٹے ہیں۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کو کہا کہ میرے اہل و عیال اور کاروبار کا خیال رکھنا میں بذات خود اس ہستی کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت انیس رضی اللہ عنہ نے حامی بھر لی۔ اور ساتھ ہی اپنے بھائی کو نصیحت کی کہ اہل مکہ سے محتاط رہنا۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک توشہ دان میں کھانے کا سامان رکھا ہاتھ میں عصا تھاما اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ساری مسافت پیدل طے کر کے مکہ پہنچا۔ وہاں نہ میری جان نہ پہچان ۔ میں نے سیدھا حرم شریف کا رخ کیا۔ میں اس شخص کو نہیں جانتا تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور جس کی زیارت کا شوق کشاں کشاں مجھے یہاں لے آیا تھا۔ اور کسی سے حضورﷺ کے بارے میں پوچھنا بھی مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ مبادا کسی مشکل میں پھنس جاؤں میں انتظار کرتا رہا۔ یہاں تک کہ رات ہو گئی۔ میں وہیں لیٹ گیا۔ مجھے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ میں مسافر ہوں ۔ میرا یہاں کوئی ٹھکانہ نہیں اس لئے حرم شریف میں فرو کش ہو گیا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے پیچھے پیچھے چلنے کا اشارہ کیا۔ چنانچہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل پڑا۔ راستہ میں نہ آپ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ میں نے خود کچھ بتایا۔ رات آپ رضی اللہ عنہ کے ہاں بسر کی۔ صبح ہوئی تو اپنا توشہ دان اٹھایا اور حرم میں آ کر ڈیرہ ڈال دیا دوسرا دن بھی گزر گیا۔ حضورﷺ کی زیارت نصیب نہ ہوئی شام ہوئی تو چادر بچھا کر لیٹ گیا۔

حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا پھر گزر ہوا۔ مجھے کل کی طرح بے خانماں دیکھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ راستہ میں سکوت طاری رہا نہ انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ میں نے اپنے بارے میں از خود کچھ بتایا۔ دوسری رات بھی گزر گئی۔ صبح کا اجالا ہوا تو اپنا سامان اٹھا کر حرم میں آ گیا۔ جب تیسرے دن کا سورج بھی غروب ہو گیا اور شام کے دھند لکے نے اپنی چادر پھیلانی شروع کر دی اور میں فرش حرم پر آرام کرنے کی غرض سے لیٹنے کی تیاری کرنے لگا تو پھر شاہ مردان حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ آتے ہوئے دکھائی دیئے۔ میرے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ جب ہم منزل پر پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے مہر سکوت توڑتے ہوئے دریافت کیا کہ تمہارا یہاں کیسے آنا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی اگر آپ رضی اللہ عنہ میرے ساتھ پختہ وعدہ کریں کہ آپ رضی اللہ عنہ میرا راز فاش نہیں کریں گے اور میری راہبری کریں گے تو میں اپنی آمد کا مقصد بیان کرتا ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے راز داری کا یقین دلایا تو میں نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ میری بات سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ بیشک وہ اللہ تعالی کے سچے رسولﷺ ہیں۔ صبح میں تمہیں اپنے ساتھ ان کی خدمت میں لے جاؤں گا۔ صبح ہوئی تو حسب وعدہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے کر جانے کے لئے تشریف لائے ۔ مجھے فرمایا تم چپکے چپکے میرے پیچھے چلتے آنا۔ اگر مجھے کوئی خطرہ محسوس ہوا تو میں اس طرح کھڑا ہو جاؤں گا جس طرح میں لوٹے سے پانی بہا رہا ہوں ۔ یا اپنی جوتی کا تسمہ درست کر رہا ہوں ۔ اور اگر کوئی خطرہ نہ ہوا تو میرے پیچھے اطمینان سے چلے آنا۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے آگے چلتے رہے۔ میں آہستہ آہستہ ان کے پیچھے پیچھے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کی معیت میں میں حضور سرور کائناتﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ ! میرے سامنے اسلام پیش فرمائیں حضور پر نور ﷺ نے بڑے دلنشین پیرایہ میں اسلام کی حقیقت سے مجھے آگاہ کیا حضور ﷺکی ہر بات میرے دل میں اترتی چلی گئی۔ جب حضورﷺ کا ارشاد اختتام پذیر ہوا تو میرا بخت خفتہ بیدار ہو چکا تھا۔ میرے تاریک دل میں ایمان کی نورانی شمع جگمگانے لگی تھی ۔ شکوک و شبہات کا سارا غبار چھٹ گیا تھا۔ اسی وقت اور اسی جگہ حضور ﷺکے دست ہدایت بخش پر میں نے اسلام کی بیعت کی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی خدمت اقدسﷺ میں حاضر تھے۔ انہوں نے درخواست کی کہ حضورﷺ اپنے جان نثار غلاموں سمیت آج رات مرے قَلبِ حَزِیں میں رونق افروز ہوں اور ماحضر تناول فرمائیں۔ حضورﷺ نے اپنے عاشق صادق رضی اللہ عنہ کی اس درخواست کو قبول فرمایا۔ رات کا کھانا سرور کائناتﷺ، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور دیگر احباب نے کاشانہ صدیقی رضی اللہ عنہ میں تناول فرمایا۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں زندگی میں پہلی مرتبہ طائف کے زبیب ( خشک میوہ ) کھانے سے لطف اندوز ہوا ۔ مرشد کریم ﷺ نے اپنے نو آموز مرید رضی اللہ عنہ کو دو خصوصی نصیحتیں فرمائیں۔
“بَايَعَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ لَّا تَاْخُذَهٗ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَعَلٰى اَنْ يَّقُوۡلَ الْحَقَّ وَلَوْ كَانَ مُرًّا”
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ان باتوں پر ان سے بیعت لی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کریں گے نیز وہ حق بات کہیں گے خواہ وہ کتنی کڑوی ہو ۔
(السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد 1، صفحہ 191)

ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ یہاں (مکہ میں) ابھی اپنے ایمان کو ظاہر نہ کریں اور اپنے قبیلہ کے پاس واپس چلے جائیں اور انہیں اسلام کی دعوت دیں۔ جب ہمارے فتح یاب ہونے کی تمہیں اطلاع ملے تو پھر میرے پاس آ جانا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں تو مشرکین کے مجمع میں جا کر اپنے ایمان لانے کا اعلان کروں گا۔ چنانچہ ایک روز جب قریش کے قبائل حرم شریف میں اپنی اپنی مجلسیں جما کر بیٹھے ہوئے تھے۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ آئے اور پورے زور کے ساتھ اعلان کر دیا ۔ “اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوۡلُ اللہِ” حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں قریش یہ سن کر بھڑک اٹھے اور مجھ پر ہلہ بول دیا۔ جو چیز جس کسی کے ہاتھ میں آئی۔ لکڑی، ڈھیلا، ہڈی، پتھر وغیرہ اس سے مجھے زد و کوب کرنے لگے۔ یہاں تک کہ میں غش کھا کر گر پڑا۔ اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ آ گئے۔ انہوں نے مجھے جھک کر دیکھا تو پہچان لیا۔ اور انہیں جھڑکتے ہوئے کہا۔ کم بختو! یہ کیا کر رہے ہو۔ یہ قبیلہ غفار کا آدمی ہے۔ جسے مار مار کر تم نے ادھ موا کر دیا ہے۔ تمہیں خبر نہیں کہ تمہارے تجارتی قافلوں کا راستہ ان کے علاقہ سے گزرتا ہے۔ تب ان لوگوں نے مجھے چھوڑا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں اٹھ کر زمزم کے کنوئیں کے پاس گیا۔ اس کے پانی سے اپنے جسم پر لگا ہوا خون دھویا۔ جوں توں کر کے رات گزری۔ صبح ہوئی تو جنون عشق نے پھر مجبور کیا کہ کفار کے بھرے مجمع میں اپنے محبوبﷺ کی رسالت کا اعلان کروں ۔ اس کے جرم عشق میں پیٹا جاؤں ۔ اور میرے انگ انگ سے خون کی ندیاں رواں ہوں چنانچہ دوسرے روز قریش حسب دستور جب اپنی محفلیں جما کر بیٹھ گئے تو میں نے اپنے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے نعرہ لگایا: “اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوۡلُ اللہِ”
میں نے یہ اعلان کر کے گویا بھڑوں کے چھۃ میں پتھر مار دیا۔ یہ سنتے ہی سب بھر گئے اور غضبناک ہو کر مجھ پر ٹوٹ پڑے مکوں، گھونسوں، سوٹیوں اور پتھروں سے مجھے خوب مارا جگہ جگہ سے خون بہنے لگا غش کھا کر پھر گر پڑا حضرت عباس رضی اللہ عنہ پھر میرے لئے نجات کا فرشتہ بن کر آ پہنچے۔ ان کو خوب ڈانٹا اور انہیں بتایا کہ جس شخص پر تم یہ زیادتی کر رہے ہو یہ اس قبیلہ کا فرد ہے جس کے علاقہ سے تمہارے تجارتی کارواں گزرتے ہیں اس طرح مجھے ان سے چھٹکارا ملا۔ میں اپنے وطن واپس آ گیا۔ اپنے بھائی کو حضورﷺ کی بارگاہ اقدس میں شرف باریابی حاصل کرنے اور ایمان لانے کا واقعہ بتایا انہوں نے کہا میں تو پہلے ہی اس دین کو قبول کر چکا ہوں۔ دونوں بھائی اپنی والدہ کے پاس گئے انہیں حالات سے مطلع کیا وہ نیک بخت خاتون بھی پہلے ایمان لانے پر آمادہ ہو چکی تھی ان کی دعوت کی دیر تھی۔ کہ انہوں نے اس دعوت کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا پھر حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ غفار کے پاس گئے انہیں اس دین حنیف کو قبول کرنے کی تلقین کی۔ نصف قبیلہ نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا اور دوسرے نصف نے اس وقت اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا جب سرکار دو عالم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ رونق افروز ہو چکے تھے۔
(السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد 1، صفحہ 193)

مرشد کامل ﷺ نے اپنے اس صداقت شعار نیاز مند کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا۔
“مَا اَظَلَّتِ الْخَضَرَآءُ (السَّمَآءُ) وَلَآ اَقَلَّتِ الْغَبْرَآءُ (الْأَرْضُ) اَصْدَقُ مِنْ اَبِيۡ ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ”
ترجمہ: جن پر نیلگوں آسمان سایہ فگن ہے اور جنہیں گرد آلود زمین نے اٹھایا ہوا ہے ان میں سے سب سے زیادہ سچے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top