(سب سے پہلے ایمان لانے والےحصہ :سوم)
《سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ و جہہ رضی اللہ عنہ》
آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ جناب ابو طالب کثیر العیال تھے۔ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح خوش حال نہ تھے مکہ میں قحط پڑا اس سے ان کی مالی حالت اور زیادہ کمزور ہو گئی۔ رحمت عالمﷺ سے آپ کی یہ تکلیف دیکھی نہ جا سکی حضورﷺ اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں اس بات کی ترغیب دی کہ ہمیں مل کر جناب ابو طالب کا بوجھ بانٹ لینا چاہیے ان کا ایک بیٹا میں لے لیتا ہوں ۔ اس کی کفالت میں کروں گا۔ ایک لڑکا آپ رضی اللہ عنہ لے لیں۔ اور اس کی کفالت آپ رضی اللہ عنہ اپنے ذمہ لے لیں اس طرح ان کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا چنانچہ دونوں جناب ابو طالب کے پاس گئے اور اپنی آمد کا مقصد بتایا۔ حضرت ابو طالب کے چار بیٹے تھے۔وہ سب ایک دوسرے سے دس دس سال چھوٹے تھے طالب، عقیل، جعفر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔ انہوں نے کہا کہ عقیل اور طالب کو آپ میرے پاس رہنے دیں اور باقی بچوں کے بارے میں جو آپ لوگوں کی مرضی ہو کریں چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جو سب سے کمسن تھے رحمت عالم ﷺ نے اپنی کفالت میں لے لیا اور جعفر کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعلان نبوت سے پہلے ہی آغوش نبوت میں پہنچا دیا۔ تاکہ یہ قطره، صدف احمدیﷺ میں پرورش پا کر در شہوار بنے اپنے علمی اور روحانی انوار ساطعہ سے تا قیامت اکناف عالم کو منور اور روشن کرتے رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد فرماتی ہیں۔ جب میرا یہ بچہ پیدا ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اس کا نام علی رکھا۔ اور اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا۔ اور اپنی زبان مبارک اس مولود مسعود کو چوسنے کے لئے اس کے منہ میں ڈالی جسے یہ بچہ چوستا رہا یہاں تک کہ سو گیا۔ (السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ182)
سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے۔
ایک روز آپ رضی اللہ عنہ کاشانہ نبویﷺ میں حاضر ہوئے۔ دیکھا کہ حضور نبی کریمﷺ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا دونوں نماز پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟
“فَقَالَ رَسُوۡلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيۡنُ اللَّهِ الَّذِيۡ اِصْطَفَاهُ لِنَفْسِهٖ وَبَعَثَ بِهٖ رُسُلَهٗ فَاَدْعُوۡكَ اِلَى اللَّهِ وَحْدَہٗ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ وَ اِلٰى عِبَادَتِهٖ وَ اِلَى الْكُفْرِ بِاللَّاتِ وَالْعُزّٰى”
ترجمہ:رسول اللہﷺنے فرمایا کہ یہ اللہ کا دین ہے جسے اس نے اپنے لیے پسند کیا ہے اور اس کی تبلیغ کے لیے رسول مبعوث کئے ہیں۔ پس میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لاؤ اور اس کی عبادت کرو۔ اور لات و عزیٰ کے ساتھ کفر کرو۔
(السيرة النبویہ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ182)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا یہ عجیب بات ہے اس کے بارے میں، میں نے آج تک نہیں سنا۔ جب تک میں اپنے والد سے مشورہ نہ کر لوں میرے لئے کوئی فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا اے علی ! اگر تم اسلام نہیں لانا چاہتے تو کم از کم اس راز کو افشا نہ کرنا۔ ایک رات یوں ہی گزر گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو نور ایمان سے روشن کر دیا وہ صبح سویرے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور حضورﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔ سوموار کا دن تھا۔ جب حضرت علیﷺ نے حضور ﷺکو مع ام المؤمنین نماز پڑھتے دیکھا منگل کے روز آپ رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر آٹھ سال تھی۔ ایک روایت میں آپ رضی اللہ عنہ کی عمر دس سال بیان کی گئی ہے اگرچہ آپ رضی اللہ عنہ بالغ نہیں ہوئے تھے۔ لیکن سن تمیز کو پہنچ چکے تھے ابتداء میں آپ رضی اللہ عنہ نے ایمان کو اپنے والد کے خوف سے پوشیدہ رکھا۔ آخر یہ راز فاش ہو گیا۔ انہوں نے اپنے فرزند حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امام الانبیاءﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا۔ پوچھا اے بیٹے یہ کیسا دین ہے جو تو نے اختیار کیا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔
“يَا اَبَتِ اٰمَنْتُ بِاللهِ وَبِرَسُوۡلِ اللَّهِ ﷺوَصَدَّقْتُ بِمَا جَآءَ بِهٖ وَ صَلَّيْتُ مَعَهٗ لِلَّهِ وَاتَّبَعْتُهٗ قَالَ لَهٗ اَمَّا اَنَّهٗ لَمْ يَدْعُكَ اِلَّا اِلٰى خَيْرٍ فَاَلْزِمۡهٗ”
ترجمہ:اے میرے والد! میں اللہ پر اور اللہ کے رسولﷺ پر ایمان لے آیا ہوں اور جو دین لے کر یہ آئے ہیں اس کی میں نے تصدیق کی ہے اور آپﷺ کی معیت میں اللہ کے لئے نماز پڑھی ہے اور آپﷺ کی پیروی کی ہے۔ حضرت ابو طالب نے فرمایا اے علی! انہوں نے تمہیں خیر کی طرف بلایا ہے ان کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہنا۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام، جلد اول، صفحہ 265)
حضور سرور عالمﷺ جب نماز کا وقت قریب آ جاتا تو مکے کی کسی وادی میں تشریف لے جاتے حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی حضورﷺ کے ہمراہ ہوتے اور وہاں مل کر نماز ادا کرتے اور شام کے وقت واپس آ جاتے ایک روز جناب ابو طالب وہاں اچانک پہنچ گئے اور دونوں کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو حضور کریمﷺ کو کہنے لگے میرے بھتیجے! یہ کیا دین ہے جو آپﷺ نے اختیار کر رکھا ہے؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔
“اَیۡ عَمِّ!هٰذَا دِيۡنُ اللهِ وَدِيۡنُ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَدِيۡنُ رُسُلِهٖ وَدِيۡنُ اَبِيۡنَا اِبْرَاهِيۡمَ بَعَثَنِيَ اللهُ رَسُوۡلًا اِلَى الْعِبَادِ وَاَنْتَ اَيۡ عَمِّ اَحَقُّ مَنْ بَذَلْتُ لَهُ النَّصِيۡحَةَ وَ دَعَوْتُهٗ اِلَى الْهُدٰى وَاَحَقُّ مَنْ اَجَابَنِيۡ اِلَيْهِ وَاَعَانَنِيۡ عَلَيْهِ”
ترجمہ: اے محترم چچا! یہ اللہ کا دین ہے۔ اس کے فرشتوں کا دین ہے۔ اس کے رسولوں کا دین ہے۔ اور ہمارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر اپنے بندوں کی طرف مبعوث کیا ہے اور اے محترم چچا! آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ میں آپ کو نصیحت کروں اور ہدایت کی دعوت دوں اور آپ سب سے زیادہ حقدار ہیں کہ میری اس دعوت کو قبول کریں۔ اور اس سلسلہ میں میری مدد کریں۔ جناب ابو طالب نے جواب دیا میرے بھتیجے! میں (سرِدست ) اپنے آباء کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن بخدا کوئی شخص تیرے قریب نہیں آ سکتا کہ تمہیں تکلیف پہنچائے جب تک میں زندہ ہوں۔
(السيرة النبویہ ابن ہشام ، جلد اول، صفحہ265)
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲