{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ اول}
حضور نبی کریم ﷺ کی حفاظت کا وعدہ خود رب العالمین نے فرمایا تھا۔
“وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ” ترجمہ:کہ لوگوں کے شر سے اللہ تعالیٰ آپﷺ کو بچائے گا۔
نیز آپﷺ کے چچا ابو طالب اور خاندان بنو ہاشم کے دیگر لوگ بھی حضور ﷺ کے دفاع کے لئے ہمیشہ مستعد رہا کرتے تھے۔ دیگر اعلیٰ خاندانوں کے افراد جو اسلام لائے تھے ان کے تحفظ کی ضمانت ان کے خاندان والوں نے دی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود کفار جب بھی ان کا بس چلتا۔ سرور عالم ﷺ اور ان با رسوخ صحابہ کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے لیکن اکثریت ان لوگوں کی تھی جو کافر آقاؤں کے غلام تھے۔ یا غریب اور نادار لوگ تھے جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ کفار کا رویہ ان لوگوں کے ساتھ انتہائی سنگدلانہ بلکہ وحشیانہ تھا۔ جن کا مختصر تذکرہ آپ ابھی پڑھ آئے ہیں۔ نیز آپ نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا ہے کہ کفار مکہ نے نضر بن حارث، عقبہ بن ابی معیط کو یثرب بھیجا تھا تا کہ وہاں کے یہودی علماء سے حضور ﷺ کے بارے میں دریافت کریں چنانچہ ان علماء نے حضور ﷺ کی صداقت کو پرکھنے کے لئے انہیں تین سوالات پوچھنے کی تلقین کی۔ اور بتایا کہ اگر وہ ان تینوں سوالات کا صحیح جواب دیں تو وہ سچے نبی ہیں اور اگر جواب نہ دے سکیں تو نبی نہیں تم جس طرح چاہو ان سے نبٹ سکتے ہو۔ یہ دونوں خوشی خوشی مکہ واپس آئے اور اپنے ہم وطنوں کو بتایا کہ ہم تمہارے پاس ایک فیصلہ کن معیار لے کر آئے ہیں۔ جس پر پرکھنے سے ان کی حقیقت واضح ہو جائے گی ان سوالات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف نازل فرمائی لیکن اہل مکہ جو اندھی عصبیت کا شکار تھے پھر بھی اپنے باطل عقائد سے دست بردار نہ ہوئے۔
البتہ اہل حق کے لئے اس سورت میں ان کے موجودہ مشکل حالات میں راہنمائی کا بڑا سامان تھا۔ ان کے پہلے سوال کے جواب میں اصحاب کہف کے حالات بڑی شرح و بسط سے بیان فرمائے گئے اس ضمن میں یہ بھی بتایا گیا کہ:
وَ اِذِ اعۡتَزَلۡتُمُوۡہُمۡ وَمَا یَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ فَاۡوٗۤا اِلَی الۡکَہۡفِ یَنۡشُرۡ لَکُمۡ رَبُّکُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِہٖ وَیُھَیِّئْٴۡ لَکُمۡ مِّنۡ اَمۡرِکُمۡ مِّرۡفَقًا﴿16﴾
ترجمہ:اور (ان نوجوانوں نے آپس میں کہا:) جب تم ان سے اور ان (جھوٹے معبودوں) سے جنہیں یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کنارہ کش ہو گئے ہو تو تم (اس) غار میں پناہ لے لو، تمہارا رب تمہارے لئے اپنی رحمت کشادہ فرما دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا فرما دے گا۔
(سورة الكہف، آیۃ :16)
سورہ الکہف کے بعد سورہ الزمر نازل ہوئی جس میں صراحتاً یہ بتا دیا گیا۔
قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ؕ اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجۡرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿10﴾
ترجمہ: (محبوب! میری طرف سے) فرما دیجئے: اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب کا تقوٰی اختیار کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اس دنیا میں صاحبانِ احسان ہوئے، بہترین صلہ ہے، اور اللہ کی سر زمین کشادہ ہے، بلاشبہ صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب انداز سے پورا کیا جائے گا۔ ( سورة الزمر، آیۃ:10)
اصحاب کہف کا واقعہ سنا کر ان ستم رسیدہ مسلمانوں کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی فرما دی۔انہیں بتایا کہ تم سے پہلے بھی بتوں کے پجاریوں اور باطل کے علم برداروں نے اہل حق کے لئے جینا حرام کر دیا تھا۔ جور و جفا کی ان آندھیوں سے اپنی شمع ایمان کو بچانے کے لئے انہوں نے بھی اپنے وطن عزیز کو خیر باد کہا تھا۔ سفر کی سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو فراموش نہیں کر دیا تھا۔ بلکہ اس کی رحمت کے سایہ نے ان کو اپنے دامن میں لے لیا۔ ان کی ساری پریشانیاں، راحت و آرام میں بدل گئیں اے مسلمانو! اگر تم بھی ان کی راہ پر گامزن ہو گے تو تمہارے ساتھ ان سے بھی بہتر سلوک کیا جائے گا سورہ الزمر کی اس آیت میں وضاحت سے بتا دیا کہ اللہ کی زمین بڑی کشادہ اور وسیع ہے۔ اگر یہاں یہ نا بکار تمہیں اپنے رب قدوس کا نام نہیں لینے دیتے اور آزادی سے اس کی عبادت نہیں کرنے دیتے تو قطعاً فکر مند نہ ہو کسی ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں آزادی سے تم اپنے معبود حقیقی کی عبادت کر سکو۔ یہ اندیشہ تمہیں ہر گز پریشان نہ کرے کہ پردیس میں تمہارا گزارا کیسے ہو گا ۔ یاد رکھو تمہارا پروردگار محسنین کو اس دنیا میں بھی اپنی لا محدود نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے اور جو لوگ مضبوطی سے صبر کا دامن پکڑے رہتے ہیں ان کو اتنا صلہ دیتا ہے جس کا کوئی حساب نہیں لگایا جا سکتا۔
رحمت عالمﷺ نے جب شمع توحید کے ان پروانوں پر کفر و شرک کے سرغنوں کے بے اندازہ مظالم دیکھے اور یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ ان مظالم میں آئے روز اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نہ ان سنگ دل ظالموں کو ذرا ترس آتا ہے اور نہ دوسرے لوگوں میں رحمت و شفقت کا جذبہ بیدار ہو کر ان کی نجات کا باعث بنتا ہے اور نہ خود مسلمانوں میں اتنی سکت ہے کہ وہ اپنے مظلوم بھائیوں کی داد رسی کر سکیں تو سرکار دو عالمﷺ نے اپنے جان نثار غلاموں کو اجازت دی کہ ظلم و ستم کی اس بستی سے ہجرت کر کے حبشہ چلے جائیں۔ کیونکہ وہاں کے بادشاہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بڑا رحم دل اور انصاف پسند ہے۔ نہ خود کسی پر ظلم کرتا ہے اور نہ کسی کو بے کسوں اور کمزوروں پر ظلم کی اجازت دیتا ہے۔ چنانچہ بعثت کے پانچویں سال ماہ رجب میں مہاجرین کا پہلا قافلہ اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر حبشہ جیسے دور افتادہ ملک کی طرف روانہ ہوا۔ تا کہ اس پر امن فضا میں وہ جی بھر کر اپنے رب کریم کی عبادت کر سکیں۔ اپنے عقیدہ کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکیں۔ یہ قافلہ بارہ مردوں اور چار خواتین پر مشتمل تھا ان کے قافلہ سالار حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے آپ کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ جو رحمۃ للعالمین کی لخت جگر تھیں آپ کے ساتھ تھیں۔ سرکار دو عالم ﷺ نے اس جوڑے کے بارے میں فرمایا۔
“اِنَّهُمَا اَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللَّهِ بَعْدَ اِبْرَاهِيۡمَ وَلُوۡطِِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ”
ترجمہ: یعنی حضرت ابراہیم اور لوط علیہما السلام کے بعد یہ پہلا گھرانہ ہے جس نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ۔
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی خدمت گزاری کے لئے حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی ساتھ گئیں۔ دوسرے مہاجرین کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ حضرت ابو سلمہ مع زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ، حضرت ابو حذیفہ مع اپنی زوجہ محترمہ سہلہ بنت سہیل ، حضرت عامر بن ابی ربیعہ مع زوجہ محترمہ لیلی عدویہ رضی اللہ عنہم ۔ جنہوں نے اکیلے بغیر اپنی اہلیہ کے ہجرت کی ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ،زبیر بن عوام، مصعب بن عمیر، عثمان بن مظعون، سہیل بن بيضاء، ابو سبرہ بن ابی رہم، حاطب بن عمرو، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین یہ قافلہ رات کی تاریکی میں چھپ کر مکہ سے روانہ ہوا۔ ایک کشتی حبشہ جا رہی تھی انہوں نے فی کس نصف دینار کرایہ ادا کیا۔ اور بغیر کسی تاخیر کے حبشہ روانہ ہو گئے قریش کو ان کے بارے میں پتہ چلا تو ان کے تعاقب میں دوڑے۔ ان کے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے اس بندر گاہ تک پہنچ گئے جہاں سے وہ کشتی پر سوار ہوئے تھے لیکن کشتی ان کے پہنچنے سے پہلے روانہ ہو چکی تھی اور یہ لوگ خائب و خاسر ہو کر لوٹے۔
(السيرة النبویۃ ، احمد بن زینی دحلان، جلد اول، صفحہ245)
جس بندر گاہ سے وہ کشتی پر سوار ہوئے اس کا نام شعیبیہ تھا جو جدہ سے تھوڑے فاصلہ پر جانب جنوب واقع تھی۔ اہل مکہ حبشہ وغیرہ کے لئے بحری سفر پر یہاں سے روانہ ہوتے تھے۔ اور جدہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں بندر گاہ بنایا گیا اور پھر شعیبیہ کے بجائے جہاز اور کشتیاں جدہ سے روانہ ہونے لگیں۔ علامہ یاقوت حموی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔
“هُوَ مَرْفَاُ السُّفُنِ مِنْ سَاحِلِ بَحْرِ الْحِجَازِ، وَهُوَ كَانَ مَرْفَا مَکَّةَ وَمَرْسٰى سُفُنِهَا قَبْلَ جَدَّةَ”
ترجمہ: شعیبیہ بحرِحجاز کے ساحل پر ایک بندر گاہ تھی۔ جدہ کے بندر گاہ بننے سے پہلے اہل مکہ کی کشتیاں یہاں آ کر لنگر انداز ہوتی تھیں۔
(معجم البلدان، جلد سوم، صفحہ351)
راہ حق کے یہ مسافر جب حبشہ پہنچے تو نجاشی نے انہیں بڑے احترام سے خوش آمدید کہا اور کے لئے ایک پر امن جگہ عطا فرمائی ۔ صحابہ کرام کہتے ہیں۔ ہم بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ نجاشی کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے لگے بڑی آزادی سے اپنے خالق حقیقی کی عبادت میں محو رہا کرتے یہاں نہ ہم پر کوئی آوازیں کستا اور نہ ہمیں اذیت پہنچا سکتا۔
🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲