Seerat~Ul~NabiﷺInternational Forum

🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹 🌹اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ○اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ🌹
عنوان: سیرت النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم قسط نمبر 215ہجرت حبشہ: حصہ ششم}

{حبشہ کی طرف پہلی ہجرت : حصہ ششم آخری حصہ}
(حبشہ سے واپس آنے والوں پر کیا بیتی)


حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے تھے جو مکہ لوٹ آئے تھے اور ولید بن مغیرہ نے انہیں پناہ دی تھی۔ دوسرے حضرات کو بھی کسی نہ کسی رئیس نے پناہ دی اور وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو گئے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کسی نے پناہ نہ دی۔ آپ بغیر کسی پناہ کے مکہ مکرمہ واپس آ گئے قلیل عرصہ یہاں قیام کیا پھر حبشہ چلے گئے۔ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو ولید بن مغیرہ نے پناہ دی تھی آپ امن و سکون کے ساتھ مکہ میں اپنے دن گزار رہے تھے کوئی کافر آپ کو کچھ نہیں کہتا تھا۔ لیکن آپ دیکھتے تھے کہ ان کے دوسرے دینی بھائیوں پر کفار بڑا تشدد کر رہے ہیں۔ ان کی ایمانی غیرت یہ برداشت نہ کر سکی کہ ان کے دینی بھائیوں پر تو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں اور وہ ایک کافر کی پناہ لے کر عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہوں چنانچہ انہوں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ ولید کی پناہ اس کو لوٹا دیں گے۔ تاکہ کفار ان کو بھی اسی طرح تشدد کا نشانہ بنائیں۔ جس طرح دوسرے مسلمانوں پر وہ جور و ستم کر رہے ہیں آپ رضی اللہ عنہ ولید کے پاس گئے اور کہا اے عبد شمس ! تو نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ لیکن اب میں تمہاری پناہ میں نہیں رہنا چاہتا اس لئے تمہاری پناہ کو واپس کرتا ہوں ۔ اس نے پوچھا بھانجے کیا بات ہے کیا کسی نے تجھ پر کوئی زیادتی کی ہے؟ آپ نے کہا۔
“لَا وَلٰكِنِّيۡ اَرْضٰى بِجَوَارِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا اُرِيۡدُ اَنْ اَسْتَجِيۡرَ بِغَيۡرِهٖ”
ترجمہ:نہیں مجھ پر کسی نے زیادتی نہیں کی لیکن میں صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ کو پسند کرتا ہوں اور اس کے سوا کسی غیر کی پناہ مجھے منظور نہیں ۔
ولید نے کہا پھر مسجد میں چلیے جس طرح میں نے مجمع عام میں آپ کو پناہ دی تھی آپ بھی مجمع عام میں اس کو واپس کرنے کا اعلان کریں۔ دونوں حرم شریف میں گئے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ ولید نے مجھے پناہ دی تھی۔
“صَدَقَ قَدْ وَجَدْتُّهٗ وَفِيًّا كَرِيۡمَ الْجَوَارِ وَلٰكِنِّيۡ قَدْ اَحْبَبْتُ اَنْ لَّا اَسْتَجِيْرَ بِغَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَ فَقَدْ رَدَدْتُّ عَلَيْهِ جِوَارَهٗ”
ترجمہ: اس نے اپنے وعدہ کو نبھایا۔ میں نے اس کو وعدہ پورا کرنے والا اور باعزت طور پر پناہ دینے والا پایا لیکن میں اس بات کو پسند نہیں کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے بغیر میں کسی اور کی پناہ میں زندگی بسر کروں اس لئے میں نے اس کی پناہ اسے لوٹا دی ہے۔
(سبل الہدیٰ والرشاد، جلد دوم، صفحہ489)

وہاں سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور لبید بن ربیعہ ( مشہور شاعر ) اکٹھے چل کر قریش کی ایک محفل میں آئے۔ لبید نے یہ مصرعہ پڑھا۔
“اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٗ” ترجمہ:کہ بے شک ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سوا فنا ہونے والی ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تو نے سچ کہا ہے۔ پھر لبید نے کہا۔
“كُلُّ نَعِيۡمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلٗ” ترجمہ:کہ ہر نعمت یقینا مٹنے والی ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔
“كَذِبْتَ نَعِيۡمُ الْجَنَّةِ لَا يَزُوۡلٗ” ترجمہ: تم نے جھوٹ کہا جنت کی نعمتیں زائل نہیں ہوں گی ۔
لبید کو یہ بات سخت ناگوار گزری اس نے کہا اے گروہ قریش! پہلے تو تمہارے ہم نشین کو ایسا تلخ اور گستاخانہ جواب نہیں دیا جاتا تھا۔ اپنے مہمان کی دل آزاری کا یہ طریقہ تم نے کب سے اپنایا ہے ایک شخص بولا ۔ اے لبید ! ناراض نہ ہو۔ یہاں کچھ لوگوں کی ایک جماعت ہے جو ہمارے خداؤں کے منکر ہیں یہ شخص انہیں میں سے ایک ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اس کو جواب دیا۔ تلخ کلامی بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ اس آدمی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی آنکھ پر زور سے طمانچہ دے مارا ۔ چوٹ سے وہ سوج گئی ولید بن مغیرہ بھی پاس بیٹھا تھا۔ اس نے سب کچھ دیکھا اور بطور طنز بولا اے عثمان! جب تک تم میری پناہ میں تھے کسی کی مجال نہ تھی کہ ایسا کرتا اب مزا چکھو میری پناہ کو مسترد کرنے کا۔ حضرت عثمان بن مظعون نے فرمایا۔
“بَلْ وَاللَّهِ اِنَّ عَيْنِي الصَّحِيۡحَةَ لَفَقِيۡرَةٌ اِلٰى مِثْلِ مَا اَصَابَ اُخْتَهَا فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاِنِّيۡ لَفِيۡ جَوَارِ مَنْ هُوَ اَعَزُّ مِنْكَ وَاَقْدَرُ يَا اَبَا عَبْدِ شَمْسٍ”
ترجمہ: بخدا! میری درست آنکھ بھی چاہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اسے بھی ایسا ہی طمانچہ لگے اور اے ابا عبد شمس! میں اب اس ذات کی پناہ میں ہوں جو تجھ سے زیادہ معزز اور تجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔
(سبل الہدیٰ والرشاد، جلد دوم، صفحہ 490 )

ولید نے کہا میرے بھتیجے! اب بھی اگر تم میری پناہ میں آنا چاہو تو آ سکتے ہو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ہر گز نہیں۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بھی ان مہاجرین میں سے تھے جو مکہ لوٹ آئے تھے ان کو حضرت ابو طالب نے پناہ دی تھی۔ ان کے قبیلہ بنو مخزوم کے چند آدمی حضرت ابو طالب کے پاس آئے اور اعتراض کیا کہ آپ نے ہمارے اس آدمی کو کیوں پناہ دی ہے آپ نے فرمایا یہ میرا بھانجا ہے اس نے مجھ سے پناہ مانگی میں کیسے انکار کر سکتا تھا۔ اگر میں اپنے بھانجے کو پناہ نہیں دے سکتا تو پھر اپنے بھتیجے کو کیونکر پناہ دے سکوں گا۔

🌹سیرت النبی ﷺ کی یہ قسط پڑھنے کا شکریہ¤اسے دوسروں تک پہنچا کر صدقہ جاریہ کا حصہ بنئیے🙏غلطی کے لیے معزرت خواہ ہیں¤اصلاح کے لیے شکر گزار ہیں¤دعاوں کے طلب گار ہیں~جزاک اللہ خیر🤲

Scroll to Top